فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
56 - 120
ہدایہ میں ہے :
ولاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حتی الورثۃ ۲؎ (باختصار)
اورہبہ تہائی مال سے زائد جائزنہیں کیونکہ وہ ورثاء کاحق ہے (باختصار)۔ (ت)
(۲؎ الہدایہ کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۱)
نتائج الافکار جلد ۸ص ۴۲۱ میں ہے :
واوضحہ صاحب الکافی بان قال ولانہ انعقد سبب زوال املاکہ عنہ الی غیرہ لان المرض سبب الموت وبالموت یزول ملکہ لاستغنائہ عنہ ولو تحقق السبب لزال من کل وجہ فاذا انعقدت ثبت ضرب حق ۳؎ اھ۔
اور اس کو صاحب الکافی نے مزید واضح فرمایا کہ مریض کے املاک کادوسروں کو منتقل ہونے کاسبب پایا گیا ہے اس لئے کہ یہ مرض موت کا سبب ہے اور موت سے اس کی ملک زائل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ ملک سے مستغنی ہوجاتاہے اور جب یہ سبب پایا جائے تو مکمل طور پر اس کی ملک زائل ہوجاتی ہے اور جب سبب متحقق ہوگیا تو ایک طرح سے ورثاہ کا حق ہوگیا۔ اھ (ت)
(۳؎ نتائج الافکار تکمہ فتح القدیر کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹ /۳۴۶)
درمختارجلد ۴ ص ۶۱۵ میں ہے :
ووقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۴؎۔
مریض کی اپنے وارث سے بیع باقی ورثاء کی اجازت پرموقوف ہوگی۔ (ت)
(۴؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱ و ۳۲)
ردالمحتارمیں ہے :
ای ولوبمثل القیمۃ وھذا عندہ ۵؎۔
یعنی اگرچہ وہ بیع مثلی قیمت پر ہو اور یہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ہے۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۹)
عالمگیری ج ۳ ص ۵۲ :
ومن الموقوف اذا ماباع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذٰلک المرض ولم تجز المورثۃ بطل البیع ۱؎۔
بیع موقوف کی ایک صورت یہ ہے کہ جب مریض اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو اپنے مال میں سے کسی عین چیز کی بیع کرے اگر تندرست ہو جائے تو بیع جائز ہے اور اگر اس مرض میں فوت ہوجائے اور باقی ورثاء اجازت نہ دیں تو باطل ہوجائے گی۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴)
عالمگیری ج ۴ ص ۱۴۱:
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان برئمت من مرضہا صح وان ماتت من ذٰلک المریض فان کانت مریضۃ غیر مرض الموت فکذلک الجواب وان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۲؎۔
مریضہ نے اپنے خاوند کو مہر ہبہ کیااور اگر وہ تندرست ہوگئی تو جائز ہے اوراگر اس مرض میں فوت ہوجائے تو وہ مرض اگر موت کاباعث نہ ہو تو پھر بھی یہی حکم ہے اگر وہ مرض الموت ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر ہبہ صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۲)
بحر ج ۷ ص ۳۱۴:
وان وھب مالہ کلہ لواحد جاز قضاء وھواٰثم کذا فی المحیط ۳؎۔
اگر کسی نے اپنا تمام مال ایک شخص کو ہبہ کردیا تو قضاء جائز ہے جبکہ وہ گنہ گارہوگا، محیط میں یوں ہے۔ (ت)
ولووھب مالہ کلہ لواحد جازقضاء واٰثم والمختار التسویۃ بین الذکر والانثی فی الھبۃ ۱؎۔ وفی الخانیۃ لاباس بتفضیل بعض الاولاد علی البعض فی المحبۃ لان المحبۃ عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ یسوی بینہم یعطی البنت کالابن عند الثانی وعلیہ الفتوٰی ولووھب فی صحتہ کل المال للولد جازواثم انتہت ۲؎ (ملخصا)
اگر ایک ہی کو تمام مال ہبہ کردیا تو صحیح ہے اور گنہ گار ہوگا، اور مختار یہی ہے کہ مرد وعورت کو مساوی ہبہ دے، اور خانیہ میں ہے اولاد میں سے بعض کو محبت میں فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہےکیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے او یوں ہی عطیہ میں بشرطیکہ کسی دوسرے کو ضرر پہنچانا مقصود نہ ہو، اگر ضرر کی صورت ہو تو پھر لڑکی اور لڑکے کو مساوی دے،یہ امام ابویوسف کا مذہب ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اور اگر تمام مال بیٹے کو دینی صحت میں دے دے تو جائز ہے مگر گنہگار ہوگا (ت)
(۱؎ فتح المعین علی شرح الکنز لملا مسکین کتاب الھبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۲۱)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ھبۃ الوالد لولدہ نولکشور لکھنؤ ۵/۶۔ ۷۰۴)
خلاصۃ الفتاوی :
ولواعطی بعض ولدہ شیئا دون البعض لزیادۃ رشدہ لاباس بہ وان کان سواء لاینبغی ان یفضل ولوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف بمالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیۃ ولو کان ولدہ فاسقا لایعطی لہ اکثر من قوتہ انتہت ۳؎ وان کان بعض اولادہ مشتغلابالعلم دون الکسب لاباس بان یفضلہ علی غیرہ وعلی جواب المتأخرین لاباس بان یعطی من اولادہ من کان عالما متاد باولایعطی منہم من کان فاسقا فاجرا ولوکان ولدھا فاسقا فاراد صرف مالہ فی الخیر فحرمانہ ھذا خیر من ترکہ لانہ فیہ اعانۃ علی المعصیۃ۔
اگر اولاد میں سےبعض کو دے اور بعض کو نہ دے اگر زیادہ نیک ہونے پر ایساکیا تو کوئی حرج نہیں اور اگر تمام مساوی ہوں تو ایسانہ کرے، اگر بیٹافاسق ہو تو چاہے کہ اپنا تمام مال خیرات میں کردے اورفاسق کو محروم رکھے تو مال کو باقی رکھنے کے بجائے یہ بہتر ہے کیونکہ مال ترکہ چھوڑنے میں فاسق کی معصیت میں اعانت ہوگی اور اگر بیٹا فاسق ہوتو اس کو وقت کی خوراک سے زیادہ نہ دے، اھ اور اولاد میں سے بعض علم میں مشغول ہوں اور کسب نہ کریں تو اسکو دوسروں پر فضیلت دینے میں حرج نہیں ہے، اور متاخرین کے قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کہ جوعالم اور تربیت والا ہو اس کو دے اور جو فاسق فاجر ہو اس کو نہ دے، اور اگر بیٹا فاسق ہو اورچاہے کہ تمام مال خیر میں صرف کردے تو اس طرح فاسق کو محروم کرنا بہتر ہے کیونکہ ترکہ چھوڑنے میں معصیت میں اعانت ہوگی۔ (ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الھبۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۰)
غنیہ ص ۵۱۴ میں ہے :
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۱؎۔
بدعقیدہ شخص اعتقادی فاسق ہے اور یہ عمل فسق سے زیادہ شدید ہے۔ (ت)
( ۱؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴)
تنویر الابصار جلد ۴ ص ۲۴۵ میں ہے :
الدعوی ھی قول مقبول یقصد بہ طلب حق قبل غیرہ اودفعہ عن حق نفسہ ۲؎۔
دعوٰی، ایسا مقبول قول ہے جس کے ذریعہ غیر سے اپنا حق طلب کیا جائے یا اپنے حق کا دفاع کیا جائے۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۴)
تنویر الابصار ج۴ ص ۴۵۹:
القضاء ھوفصل الخصومات وقطع المنازعات ۳؎۔
قضاء، منازعات کا فیصلہ اور جھگڑوں کو ختم کرنے کا نام ہے۔ (ت)
(۳؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱)
درمختار ج ۴ ص ۵۰۲ و ۵۰۳
تحت قول الماتن اذا رفع الیہ حکم قاض نفذہ
(جب اس کو قاضی کا فیصلہ مل جائے تو نافذ کرے۔ ت) فرمایا:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضر والاکان افتاء ۴؎۔
ایک فریق کا صحیح دعوٰی مخالف حاضر فریق پر ہو ورنہ وہ فتوٰی ہوگا۔ (ت)
(۴؎درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۸)
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی البحر اول کتاب القضاء فان فقد ھذا الشرط لم یکن حکما وانما ھو افتاء صریح بہ امام السرخسی ۱؎۔
بحرکی کتاب القضاء کے ابتداء میں فرمایا اگر یہ شرط مقصود ہوجائے تو یہ فیصلہ اورحکم نہ ہوگا وہ صر ف افتاء ہوگا،امام سرخسی نے اس کی تصریح کی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب ا لقضاء فصل فی الحبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴ /۳۲۶)
درمختار صفحہ ۴۷۳ و ۴۷۴ :
فی ایمان البزازیۃ المفتی یفتی بالدیانۃ والقاضی یقضی بالظاھر ۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ بزازیہ کی کتاب الایمان میں ہے مفتی دیانت پر فتوٰی دے گا اور قاضی ظاہر پر فیصلہ کرے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎درمختار کتاب ا لقضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳)