فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
55 - 120
مسئلہ ۱۴۱: از شہر کانپور محلہ انور گنج مرسلہ سید محمد باقر حسین پسر سید علی حسین خاں بہادرمرحوم ۱۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے کاروبار کے بہی کھاتے میں بدفعات وبتواریخ سنہ وسال مختلف کبھی اپنے بڑے بیٹے اور کبھی چھوٹے بیٹے اور کبھی مشترکہ دونوں تینوں کے ناموں سے بھی کھاتہ جات میں اکثرر سومات مثل نقد یا آمدنی کمیشن یا منافع تجارت وغیرہ کو بمد جمع اندراج کرتا رہتاتھا اور بعد اندراج جملہ رقومات کو اپنے قبضہ تصرف میں رکھتا تھا چونکہ اسی درمیان میں زید دو لڑکے اور دولڑکیاں چھوڑکر انتقال کرگیا لہذا اب جس قدر مال ومتاع ہے اس میں سے نمبر ۱ ونمبر ۲ ونمبر۳ کے ناموں سے جو رقومات بمد جمع اندراج بہی کھاتہ جات ہیں تو کیا وہ رقومات جن کے ناموں سے زید نے اندراج بہی کھاتہ جات کئے ہیں وہ انھیں کی خاص سمجھی جائیں گی جبکہ ان رقومات پر متوفی خود ہی قابض ودخیل تھا اوراپنے کاروبار می ں لگائے ہوئے تھا ورنہ خاص ان رقومات کا کوئی منافع علیحدہ کرتا تھا، یا جملہ رقومات شرعا زید کے کل ورثہ کا حق ترکہ قرار پائے گا
الجواب : ان میں اگر اس کا کوئی بیٹا اس وقت نابالغ تھا تو اس کے نام سے جو رقم مندرج کی وہ اس بیٹے کی ٹھہرے گی باقی جو رقم کسی بالغ کے نام مندرج کیں اور اسے قبضہ نہ دیا، یا دو کے نام مشترکا درج کیں خواہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ، یا ایک بالغ ہو اور ایک نابالغ ان چاروں صورتوں میں وہ اندراج بے اثر محض ہے، اور ایسی جملہ رقوم متروکہ زید ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: مرسلہ مولوی سید سلیمان اشرف صاحب علی گڑھ کالج ۲۴ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی کوئی اولاد صلبی نہیں ہے ایک دختر زادی ہے ایک زوجہ، ونیز علاتی بھائی ہیں، وہ شخص عاقل بالغ ہے وہ اپنی جائداد دختر زادی کے نام بوجہ محبت ذاتی کے، اور زوجہ کے نام بوجہ خدمات اور ادائے حقوق زوجیت کے منتقل کرنا چاہتاہے، یہ شخص اس قسم کے تصرفات کا مستقل طور پر مجاز ہے یانہیں؟
دوسرے یہ کہ دوسرے ورثاء اس کے حین حیات اس کاروائی میں کسی قسم کے عذر اور مزاحمت کرنے کے مجاز ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: صورت مستفسرہ میں شخص مذکور کوشرعا اختیار ہے،اپنی جائداد اپنی بی بی اور نواسی کو خواہ جسے چاہے دے دے اس کے بھائی وغیرہم کسی کو اصلا حق مزاحمت نہیں، اگر مزاحمت کریں باطل ونامسموع محض ہے، ملک ایک اختصاص حکمی ہے کہ انسان کو اس کے مال میں اطلاق تصرف کا ثمرہ دیتاہے کسی مالک کا اسکی ملک میں تصرف ممنوع النفاذ ہونا دوہی طور پر معقول ہے، یا تو اس کی اہلیت میں قصور ہو
جیسے مجنون یا صبی لایعقل کہ ان کے تصرفات مطلقا باطل یا معتوہ یاصبی عاقل کہ ان کے تصرفات ضارہ باطل اور دائر بین النفع والضرر اجازت ولی پر موقوف قول صاحبین پر سفیہ بھی اسی کے ساتھ ملتحق ہے وہ کہ اپنا مال فضول ولغو باتوں میں برباد کرے گا امام محمد کے نزدیک بنفس سفہ اورامام ابویوسف کے نزدیک بعد حجر حاکم وھوالراجح۔ یا اہلیت تو کاملہ ہے مگر حق غیر متعلق ہے یہ حق اگر بعینہٖ اس شے سے متعلق ہے جس میں تصرف کرنا چاہتاہے جب تو منع نفاذ ظاہر ہے، جیسے راہن شے مرہون میں بے اذن مرتہن تصرف نہیں کرسکتا، یا مواجر شے مواجر میں بے اذن مستاجر جب تک رہن واجارہ باقی ہیں، بخلاف رعایت کہ وہ محض اس کی طرف سے تبرع ہے حق مستعیر اس سے متلق نہیں اور اگر عین شیئ سے تعلق حق نہ ہو تو منع نفاذ حجر حاکم پر موقوف ہے مثلا زید مدیون ہے اور دین اس کے جائداد کو مستغرق ہے، تو قبل حکم حجر اگر وہ اپنی جائداد کسی کو ہبہ کردے، یقینا یہ تصرف نافذ ہوجائے گا کہ دین عین سے متعلق نہ تھا، بلکہ اس کے ذمہ پر ہاں اگر دائنوں نے درخواست دی کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ یہ جائداد تلف کردے گا تو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی کے نزدیک اب بھی اسے تصرف سے منع نہ کیا جائے گا کہ وہ مالک ہے اپنی ملک میں جو چاہے تصرف کرے اس خیال سے کہ شائد تلف کردے دائنوں کا ضرر محتمل ہے، اور اسے ممنوع التصرف کردینے میں اسے اہلیت سے خارج اور بہائم سے ملتحق کردینا اس کا شدید ضرر حاضر ہے، ایک ضرر خفیف موہوم سے بچنے کے لئے دوسرے کو بالفعل ضرر شدید پہنچانا متقضائے عدل وحکمت نہیں، مگر صاحبین بنظر فساد زمانہ حاکم کو اس صورت میں اجازت حجر دیتے ہیں یعنی اس کے ممنوع التصرف ہونے کاحکم کردے، اس حکم سے پہلے وہ بالاجماع ممنوع التصرف نہ ہوگا۔ اور امام کے نزدیک بعد حکم حاکم بھی، بلکہ یہ حکم ہی باطل ہوگا اسی تعلق حق غیر سے صورت مرض الموت ہے کہ مریض کے دو ثلث مال سے شرعا حق ورثہ بایں معنی متعلق ہوجاتاہے کہ وہ نہ اسے ہبہ کرسکتاہے نہ کسی ایک وارث کے ہاتھ بیع، اگرچہ ثمن مثل کو ہو، اور اگر کسی نے حالت مرض میں ایک وارث یا اجنبی کو اپنا کچھ مال یا کل ہبہ کردیا اور قبضہ دے دیا اور پھر وہ اچھا ہوگیا اگرچہ چند روز کے بعد مرگیا، تواب وہ تصرف بالاجماع صحیح ونافذ ہوگیا، تنہا موہوب لہ اس مال کا مالک قرار پائے گا اور ورثہ کو ا س پر کچھ دعوٰی نہ پہنچے گا،کہ دو ثلث مال سے ان کے حق کا تعلق بحال مرض الموت تھا جب وہ اچھا ہوگیا ظاہر ہوا کہ وہ مرض الموت نہ تھا، اور تندرست کو اختیار ہے کہ اپنا کل مال ایک وارث خواہ راہ چلتے کو دے دے کوئی اس سے مزاحمت نہیں کرسکتا نہ کوئی حاکم ایسا دعوٰی سن سکتاہے نہ اس کے ممانعت کاحکم دے سکتا ہے، او اگر دے گا تو بالاجماع باطل ہوگا کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی کے نزدیک حق عاقل بالغ پر حجر ہوسکتاہی نہیں اگرچہ سفیہ ہو اگرچہ مدیون ہو اور صاحبین رحمھما اللہ تعالٰی کے طور پرحجر ہے تو بوجہ سفہ یا دین اور یہاں دونوں مفقود توحجر محض باطل ومردود، یہ حکم قضا ہے، رہا حکم دیانت اس کا تعلق آخرت سے ہے قاضی اس میں دست اندازی نہیں کرسکتا اور دیانۃ بھی بعض ورثہ کو محروم کرنا اس حالت میں منع ہے جبکہ محض بلاوجہ شرعی ہو، اگر ایسا کرے گا گنہ گار ہوگا، حدیث میں فرمایا: ''جو اپنے وراث کے میراث سے بھاگے اللہ تعالٰی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا''والعیاذ باللہ۔ (رواہ ابن ماجہ ۱؎ وغیرہ)
(۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸)
ورنہ اگر وہ وارث مسرف ہے کہ مال فضول تباہ وبرباد کرے گا یا فاسق ہے کہ مال ملنے سے اس کے فسق وفجور کو مدد پہنچے گی یا بدمذہب ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے بد ترہے اور اسے مال ملنے سے دین پر احتمال ضرر ہے تو ان صورتوں میں دیانۃ بھی وہ ایسے وارثوں کو محروم کرسکتاہے۔
بہرحال کچھ بھی ہو کوئی دوسرا اس کے تصرف میں رکاوٹ نہیں کرسکتا، نہ کسی مدعی کو دعوی پہنچتا ہے نہ کسی حاکم کو حکم کہ وہ اپنے خاص ملک میں متصرف ہے ان کہ نہ ملک ہے نہ حق پھر مزاحمت کیا معنی، بشیر بن الخصاصیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے صاحبزادہ نعمان رضی اللہ تعالٰی کو ایک غلام ہبہ کیا اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت انورمیں حاضرہوئے کہ ان کی ماں رضی اللہ تعالٰی عنھا چاہتی ہیں کہ حضور اس پر گواہ ہوجائیں ارشاد فرمایا:
اکل بنیک نحلت مثل ہذا
کیا تم نے سب بیٹوں کو ایسا ہی ہبہ کیا ہے؟ عرض کی: نہ۔ فرمایا:
لا تشہد نی علی جور ۲؎
مجھے جور پر گواہ نہ کر، یہ حکم دیانت کی طرف اشارہ تھا اسے قضاسے کوئی تعلق نہیں کہ نہ کوئی مدعی تھا نہ تنازع ا ورقضا بے خصم حاضر ناممکن ہے۔
(۲؎ سنن النسائی کتاب النحل نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۵)
(مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۶۸)
بالجملہ اس کا روائی پر کسی کواختیار دعوٰی ومزاحمت اصلا نہیں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
الاشباہ ص ۲۶۳:
قال فی الفتح القدیر الملک قدرۃ یثبتہا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل اہ وینبغی ان یقال الالمانع کالمحجور علیہ فانہ مالک ولا قدرۃ لہ علی التصرف والمبیع المنقول مملوک للمشتری ولاقدرۃ لہ علی بیعہ قبل قبضہ وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز وانہ حکم الاستیلاء ۱؎۔
فتح القدیرمیں ہے : ملک ایسی قدرت ہے جس کو شارع نے ابتداء تصرف کے لئے ثابت کیا ہو تو اس سے وکیل خارج ہوگیا اھ ''بغیر مانع''کی قید لگانا مناسب ہے جیسا کہ محجور شخص کہ مالک ہے لیکن تصرف کی قدرت نہیں، اور وہ مبیع جو منقولہ چیز ہو تو مشتری اس کا مالک ہوتا ہے لیکن قبضہ سے قبل فروخت کا تصرف نہیں کرسکتا اور حاوی قدسی میں اس کی تعریف یوں ہے وہ ایسا اختصاص ہے جو دوسرے کے دخل کو روک سکتاہے اوروہ غالب کردیتاہے۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۲۰۲)
جوہرہ نیرہ جلد اول :
ولایجوز تصرف المجنون المغلوب علی عقلہ بحال والصبی والمجنون لایصح عقودھما ولا اقرار ھما لانہ لاقول لھما اماالنفع المحض فیصح منھما مباشرتہ مثل قبول الھبۃ والصدقۃ ۲؎۔
مجنون مغلوب العقل اور بچے کا تصرف جائز نہیں اور ان دونوں کا عقد صحیح نہیں ہے اورنہ ہی ان کا اقرار صحیح ہے کیونکہ ان کا قول معتبر نہیں ہے لیکن خالص نفع والے معاملہ کو اپنا نا ان کو جائز مثلا ہبہ اور صدقہ کو قبول کرنا۔ (ت)
(۲؎ الجوہرۃ النیرۃ کتاب الحجر مکتبہ امدایہ ملتان ۱ /۹۳۔ ۲۹۲)
درمختار جلد ۵ ص ۱۲۸:
وتصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام صح بلااذن وان ضارا کالطلاق لا وان اذن وماتردد توقف ۳؎ (اختصار)۔
بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کو سمجھتے ہوں اگر ن کا تصرف خالص فائدہ مند رہے جیسا اسلام قبول کرنا تو پھر ان دونوں کا تصرف صحیح ہے اور ان کے لئے وہ مضرہو تو ولی کی اجازت سے بھی جائز نہیں اور اگر نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہو تو اجازت ولی پر موقوف ہوگا۔ مضر کی مثال طلاق ہے۔ (اختصار) (ت)
(۳؎ درمختار کتاب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳)
بدائع ج ۷ ص ۱۶۹:
واختلف ابویوسف ومحمد فی السفیہ قال ابویوسف لایصیر محجورا الابحجر القاضی وقال محمد ینحجر بنفس السفہ ۱؎ (باختصار)
بیوقوف کے متعلق امام ابویوسف اورامام محمد رحمھما اللہ تعالٰی کا آپس میں اختلاف ہے، امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں وہ محجور نہ بنے گا مگر قاضی محجور بنائے تو محجور ہوگا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ سفاہت وبیوقوفی پائے جانے سے خود بخود محجور قرار پائے گا (باختصار)۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الحجر والحبس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/۱۶۹)
ردالمحتار میں ہے:
وظاھر کلامہم ترجیحہ علی قول محمد ۲؎۔
فقہاء کا ظاہر قول امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کی ترجیح میں ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۹۳)
انقرویہ جلد ۲ ص ۲۸۲:
بخلاف ما اذاکان فی یدالغاصب اوفی ید المرتھن اوفی یدالمستاجر حیث لاتجوز الھبۃ لعدم قبضہ لان کل واحد منہم قابض لنفسہ وعامل لنفسہ ۳؎۔
جب چیز غاصب یا مرتہن یا مستاجر کے قبضہ میں ہو تو اس کا ہبہ ان کا جائز نہیں کیونکہ موہوب لہ کا قبضہ نیا نہیں بلکہ پہلا قبضہ ہے جو ان کو اپنے حق کی وجہ سے ہے نیز وہ ہبہ کا قبضہ کریں بھی تو خود اپنے لئے عامل قرار پائیں گے۔ (ت)
یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایھب مالہ ولایتصدق بہ فالقاضی یحجر علیہ عندھما ویعمل حجرہ حتی لا تصح ھبتہ ولاصدقۃ بعد ذٰلک لکن یشترط علم المحجور علیہ بعد الحجر حتی ان کل تصرف باشرہ قبل العلم بہ یکون صحیحا ۱؎ (باختصار)۔
ایک شخص پر اتنا قرض ہوگیا جس میں اس کا تمام مال مستغرق ہوگیا تو قرض خواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ مقروض پر پابندی عائد کردے تاکہ وہ ہبہ یا صدقہ نہ کرے تو صاحبین رحمھماللہ تعالٰی کے نزدیک قاضی اس پر پابندی نافذ کردے تو وہ مؤثر ہوگی حتی کہ اس کا ہبہ اورصدقہ صحیح نہ ہوگا بشرطیکہ اس کو پابندی کاعلم ہوجائے لہذا اگر علم سے پہلے اس نے کوئی تصرف کیا تو صحیح ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۱)
ایضا : وقال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ لااحجر علی السفیہ اذ اکان حوابالغاعاقلا والسفیہ خفیف العقل الجاھل بالامور الذی لاتمیزلہ العامل بخلاف موجب الشرع وانما لم یحجر علیہ اند ابی حنیفہ لانہ مخاطب عاقل ولان فی سلب ولایتہ اھدار آٰدمیتہ والحاقہ بالبہائم وذٰلک اشد علیہ من التبذیر فلا یحتمل الاعلی لدفع الادنی ۲؎۔
اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا میں بیوقوف کو پابند نہ کروں گا بشرطیکہ وہ آزاد عاقل بالغ ہو، اورامام صاحب کے نزدیک یہ حکم اس لئے ہے کہ وہ عاقل مخاطب ہے اوراس لئے کہ اس پابندی سے اس کی ولایت ختم ہوجانے سے اس کی آدمیت کو ضائع کرنا اور اس کو حیوانات سے ملحق کرنا لازم آتاہے اور یہ چیز اس کی فضول خرچی سے زیادہ شدید ہے لہذا ادنی کی وجہ سے اعلی سزا کا احتمال نہیں ہوگا اور سفیہ خفیف العقل امور سے ناواقف معاملات کی تمیز نہ رکھنے اور شریعت کے خلاف عمل کرنے والے کوکہا جاتاہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۱)
بدائع جلد ۷ ص ۱۶۹ :
ولو حجر القاضی علی السفیہ ونحوہ لم ینفذ حجرہ عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی حتی لو تصرف بعد الحجر ینفذ تصرفہ عندہ ۱؎۔
اگر قاضی سفیہ کو تصرف سے روک دے تو پابندی نافذ نہ ہوگی کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اگر قاضی کی پابندی کے بعد وہ شخص کوئی تصرف کرے تو اس کا تصرف نافذ قرار پائے گا۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الحجر والحبس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۶۹)