Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
54 - 120
مسئلہ ۱۳۶: از اودے پور میواڑ راجپوتانہ اسٹیٹ محلہ افیم کاکانٹہ برمکان محمد حیات صاحب انجئیر مسئولہ نیاز الحسن صاحب ۶ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں موافق مذہب حنفی کے کہ زید کے دولڑکے ہیں بکر وعمرو، اب زید نے اپنی جائداد عمرو کو ہبہ کرکے اس پر عمرو کا قبضہ کرادیا اور بعد وفات زید کے عمرو نے جائداد موہوبہ اپنی زوجہ مسماۃ امیرن کو بالعوض مہر بخشش کردی اور بعد وفات امیرن کے عمرو نے اپنے بھائی بکر کو ایک خط لکھا جس میں یہ لکھا ہے کہ جائداد مذکورہ کے تم مالک ہو اورعمرو کے امیرن کے بطن سے دو لڑکے ہیں خالد و ناصر اب بکر مدعی ہے کہ جائداد کا مالک میں ہوں، اورخالد وناصر مدعی ہیں کہ مالک ہم ہیں، شرعا مالک و وارث کون قرار دیاجاسکتاہے۔
الجواب: جب زید نے عمرو کو ہبہ کرکے قابض کردیا اور عمرو نے امیرن کے مہر میں دے دی امیرن مالک ہوگئی، عمرو کو کوئی اختیارنہ رہا کہ  اپنے بھائی کو اس کا مالک کردے، جائداد بقدر حصہ خالد وناصر کی ہے، ہاں چہارم عمرو کوحصہ شوہری میں ملی اسے اپنے بھائی کو یا جسے چاہے ہبہ کرسکتاہے مگر ابھی نہیں بلکہ بعد تقسیم اپنا چہارم الگ متمیز کراکر ہبہ کرسکے گا ورنہ اس کا ہبہ بھی باطل۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: از رائے بریلی یونانی دواخانہ کبیر گنج مسئولہ محمد عظیم عطار ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے جو اس کے ذاتی دو مکان تھے اور اس کی ایک لڑکی اور ایک لڑکا تھا، منجملہ دو قطعہ مکان کے ایک مکان خورد لڑکی کواور مکان کلاں لڑکے نرینہ مع کل اسباب وغیرہ کے اپنی حیات میں ہبہ کرکے رجسٹری کرادی اور یہ الفاظ بھی رجسٹری میں تحریر کئے کہ چونکہ لڑکی مؤنث اور داماد میری خدمت گزاری کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اورحق شرع بھی قریب قریب اسی کے ہوتا بخیال دور اندیشی واقع متنازع آئندہ کے ہبہ کرتی ہوں اور قبضہ بھی دیتی ہوں لیکن بوجہ جھگڑا فساد کے کچھ عرصہ تک قیام کرکے لڑکی اپنے دوسرے ذاتی مکان میں اٹھ گئی اورنیز برادران نے زبردستی جبرکرکے مؤنث سے ایک ہبہ نامہ بھائی کو لکھوا لیا اور (عہ/)خرچ رجسٹری وغیرہ برادران نے دلوادیا بوجوہ اب تک لڑکی خامو ش رہی، لیکن اب وہ مکان لینا چاہتی ہے آیا شرعا جائز ہے یانہیں؟ لڑکی عرصہ تک اس مکان پر قابض رہی اور ماں بھی اس مکان میں رہتی رہی۔ بینوا توجروا
الجواب: ماں اگر اسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات  اور اپنے  کل اسباب سے بالکل خالی کرکے لڑکی کوقابض نہ کردیا تھا جب تولڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہوا، ہندہ اگر زندہ ہے تو اپنے مکان کی وہ خود مالک ہے، اور اگر مرچکی ہے تو لڑکی اس مکان میں سے تہائی لے سکتی ہے، اور اگر ہندہ نے مکان بالکل خالی کرکے پورا قبضہ لڑکی کو دے دیا تھا وہ اس کی مالک ہوگئی پھر اہل برادری کے اصرار سے بغیر شرعی مجبوری کے اس نے بھائی کے نام ہبہ کردیا اور اپنی ذات اور اسباب سے بالکل خالی کرکے بھائی کو قبضہ دے دیا تو بھائی مالک ہوگیا اب لڑکی کو اس سے واپس لینے کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واقعی اس کو مجبورشرعی کرکے بالجبر ہبہ نامہ لکھوایا یا لڑکی نے کچھ دیر کے لئے بھی مکان اپنی ذات اور بالکل اپنے اسباب سے خالی کرکے بھائی کو قبضہ نہ دیا تو لڑکی اس مکان کی مالک ہے جب چاہے بھائی سے واپس لے سکتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۸: از میرتہ سٹی ضلع جودھپور مسئولہ فخرالدین شاہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نہ اولاد ہے نہ بھائی حقیقی ، نہ بیٹا ہے، وہ اگر اپنا ورثہ مال یتیم کو دےدے تو جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: جس کا کوئی وارث شرعی نہ ہو وہ اپنا کل مال یتیم کو دے سکتاہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: از سنبھل محلہ دیپاسرائے ضلع مراد آباد        مرسلہ حافظ عبدالرؤف

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ زید کے لڑکے لڑکا پیدا ہوا، زید کی ہمشیرہ ہندہ نے بوجہ خوشی زیدکے لڑکا پیدا ہونے کے زید کے لڑکے کو موافق رواج کے ہنسلی کھنڈوے چڑھائے جن کی قیمت ۶ روپے تھی، زید اپنی بہن ہندہ کو اپنے لڑکے کی پیدائش کی خوشی ہنسلی کھنڈوے کے صلہ میں دو بھینسیں دیں، ایک بھینس ہندہ نے فروخت کرکے اس کی قیمت سے اپنے شوہر کے روپے میں ملاکر غلہ کی تجارت کی اور نفع ہوا، دوسری بھینس کا بچہ ہندہ نے اپنے گھر رکھا اور بھینس کو بیچ کر  کچھ اور روپیہ شوہر کے روپیوں میں سے ملاکر اور بھینس شوہر سے خرید والی جو اب مع بچہ کے موجود  ہے، غرض فی الھال دو بھینسیں اور ایک بچہ موجود ہے، مگر گوت یعنی چارہ وغیرہ کا خرچ بھینسوں کا شوہر کے ذمہ رہا، بلا کسی شرط کے اور گھی دودھ وغیرہ میاں بی بی دوونوں کے تصرف میں ہوتا رہا۔ اور یہ معلوم نہیں ہنسلی کھنڈوے ہندہ کے روپیہ کے تھے یا شوہر کے داموں سے بنوائے گئے تھے، صورت مسئولہ میں اس مال تجارت مع نفع اور ان تینوں جانوروں کا مالک شوہر ہوگا یا ہندہ؟
الجواب : وہ خریداری ہندہ نے اگر اپنے لئے کی ہے، مالک صرف ہندہ ہے اگرچہ قیمت میں شوہر کا روپیہ بھی شریک ہے، پھر ی روپیہ اگر شوہر نے ھبۃ دیا فبہا ورنہ اس قدر روپیہ ہندہ سے واپس لے سکتاہے، اور اگر قیمت میں شوہر کا روپیہ شامل کر نے سے اس شے میں شرکت مراد تھی تو وہ مال زن و شوہر دونوں میں مشترک ہے، زوج زوجہ میں ابنساط کامل ہونے کے سبب یہ نہ دیکھا جائے گا کہ چارہ کس نے دیا اور دودھ دہی کس کے کام آیا، ہنسلی کڑے کسی کے روپیہ سے ہوں، وہ بھینسیں کہ بھائی نے بہن کو دیں بہن کی ملک ہوئیں، بہنوئی کا کچھ حق نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: از سیتا پور محلہ عالم نگر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالقادر صاحب طالب علم ۴ ۱ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کچھ جائداد کو بعد انتقال اپنے لڑکے کے اس کے دوصغیر بچوں کے نام ہبہ کرکے تاحیات بحیثیت متولی قابض رہا، بعد وفات واہب عمرو مدعی ابنیت زید دعوی فسخ ہبہ وعدم جواز بنا بر مشاعیت موہوب وعدم قبضہ بذات خود صغیرین کرتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر شخص نے اپنی جائداد بلا تقسیم وتفریق حصص بینھما مسلم دوموضع جس میں واہب نے اپنا کسی قسم کا کچھ قبضہ وشرکت باقی نہیں رکھی، ہبہ کرکے بحیثیت متولی، کیونکہ یہ یتیم بچے اس کی پرورش میں تھے قابض رہے، یہ ہبہ جائز ہے یاناجائز بالاتفاق یا باختلاف ، ا ور فتوی کس کے قول پر ہے ، اور قبضہ واہب منجا نب صغیرین  ان کا قبضہ برائے جوازہبہ متصور ہوگا یانہیں؟ اور قول مشہور ہے کہ وقت  اختلاف ائمہ ثلثہ معاملات میں قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالٰی مفتی بہ ہوتاہے اس کی کیا اصل ہے ؟ بوضاحت مع حوالہ کتب جواب باصواب سے مشرف وممتاز فرمائیے گا۔
الجواب :اگر وہ دونوں بچے فقیر تھے اپنے باپ یا اور کسی سے ارثا یا ھبۃ کسی مال بقدر نصاب کے مالک نہ تھے تویہ جائداد کہ دادا نے بعد وفات پسرانھیں مشترکا ہبہ کی اور اپنا کوئی حصہ اس میں نہ رکھا یہ ہبہ

بلا شبہ صحیح وتام ولازم ہوگیا، نہ مشاع ہونا اس کی صحت کو مضر، نہ موہوب لھما کا قبضہ ہونا اس کی تمامی کوضرور  کہ جب وہ دونوں مالک نصاب نہ تھے  تو ان کے لئے ہبہ صدقہ ہوا اور ایسا شیوع صحت صدقہ کا مانع نہیں اور جبکہ وہ یتیم ونابالغ ہیں تو دادا کا قبضہ بعینہٖ ان کا قبضہ ہے، ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوگیا،

 درمختارمیں ہے:
(او وھبہا لفقیرین صح) لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یرادبہا وجہ اﷲ وھو واحد فلا شیوع ۱؎
(یامشاع چیز دو فقیروں کوہبہ کرے تو صحیح ہے) کیونکہ فقیر کو ہبہ کرنا صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اللہ تعالٰی کی رضا جوئی کےلئے ہوتاہے جبکہ وہ وحدہ، لاشریک ہے، تو شیوع نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار، کتاب الھبۃ، مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
اسی میں ہے :
وھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقدۃ لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ او فی ید مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۲؎۔
اوربچے کے والی کا بچے کو ہبہ کرنا عقد سے تام ہوجاتاہے بشرطیکہ موہوب چیز معلوم ہو اور ولی کے قبضہ میں ہویا اس کی امانت والے کے قبضہ میں ہو، کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کے قبضہ کے قائم مقام ہوگا، اور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایک شخص فریقین کی طر ف سے ولی بن سکتاہو تو ایسے عقد میں صرف ایجاب کافی ہوا ہے) (ت)
(۲؎درمختار    کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۰)
ہاں اگر وہ دونوں یتیم یا ایک غنی ومالک نصاب تھا تو سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک یہ ہبہ صحیح نہ ہوا اور موت واہب سے باطل ہوگیا، 

تنویر الابصار میں ہے :
وھب اثنان دارا لواحد صح وبقلبہ لا ۳؎۔
دو افراد نے ایک شخص کو مشاع چیز ہبہ کی  تو جائز ہے اور اگر عکس ہوتو ناجائز ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
ردالمحتارمیں ہے:
اطلق ذٰلک فافادانہ لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحدھما کبیرا والاخرصغیرا وفی الاولین خلافھما ۱؎۔
اس کو مطلق بیان کیا تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایک بالغ اورایک نابالغ ہو پہلی دو صورتوں میں صاحبین کا خلاف ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۱۴)
اور فتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہوتاہے
کما حققناہ فی رسالتنا اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام
جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ ''اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام'' میں کی ہے (ت)

امام اجل برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں:
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ بکل حال ۲؎۔
   میرے نزدیک واجب  ہے کہ ہر حال میں فتوٰی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر دیا جائے۔ (ت)
(۲؎ التجنیس والمزید)
یہ کہیں نہیں ہے کہ معاملات میں فتوٰی قول امام ابی یوسف پر ہے، ہاں مسائل وقف وقضا میں ایسا کہا گیا وہ بھی نہ کلیہ ہے نہ اعطائے قاعدہ کہ ائمہ ترجیح کافتوٰی دیکھو یا نہ دیکھو مسائل کتاب القضا وکتاب الوقف میں قول ابی یوسف پر فتوٰی سمجھ لو ایسا نہیں بلکہ بلحاظ کثرت بیان واقع ہے ان دونوں کتابوں کے خلافیات میں مشائخ نے بہت جگہ قول ابی یوسف اختیار کیا ہے یہ فتوٰی انھیں مواضع پر مقتصر رہے گا،
کما افادہ فی ردالمحتار ولا یمتری فیہ من لہ ممارثۃ بالفقۃ
 (جیساکہ افادہ ردالمحتار میں کیا اور جس کو فقہ میں ممارثت ہے وہ اس میں شک نہ کریگا۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter