Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
53 - 120
مسئلہ ۱۳۲: از موضع گھرپیا تحصیل وڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ مسماۃ افضل بیگم ۲ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی نیازعلی کی بیوی منکوحہ قضائے الٰہی سے وفات ہوئی، اس نے اپنا ایک بیٹا محمد ولی خان چھوڑا، جب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں نے دوسری بیوی کرنا چاہی تو قبل زوجہ ثانیہ کے کرنے سے نیاز علی خان نے اپنی کل جائداد اپنے لڑکے  محمد ولی خاں کے نام  اسٹام پرتحریر کرادی اور اس کے بعد نکاح ثانی افضل بیگم کے ساتھ کیا لیکن وقت نکاح نیاز علی خان نے یہ امر افضل بیگم سے پوشیدہ بھی نہیں رکھا تھا، صاف ظاہر کردیا تھا کہ جائداد جو کچھ ہے وہ محمد ولی خاں کے نام تحریر ہے میرے پاس صرف ہاتھ پیر ہے تمھاراد ل چاہے نکاح کرو یا مت کرو۔ لیکن افضل بیگم نے نکاح کرنا اسی حالت میں قبول کیا اور نکاح ہوگیا، اب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں فوت ہوگیا ہے تو اب مسماۃ افضل بیگم نے لڑکے محمد ولی خاں سے اپنا مہر چاہنے کی خواہش کی بلکہ دعوٰی کچہری میں داخل کردیا اورمحمد ولی خاں وہ اسٹام جو قبل نکاح نیاز علی تحریر کرچکا ہے اس کو پیش کرتاہے کہ جائداد میری ہے نیاز علی خاں کی نہیں کہ میں مہر ادا سکوں، فریقین نے اس امر کو پنچائت پر قبول کیا ہے، پنچ فیصلہ خلاف حکم شرع شریف نہیں کرنا چاہتی، اس لئے خلاصہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ بحالت مذکورہ بالا افضل بیگم اپنا دین مہر محمد ولی خاں پسر نیاز علی خاں متوفی سے پانے کی مستحق ہے یانہیں؟ مطابق حکم شرع شریف خلاصہ احکام سے آگہی بخش جائے، دیگر یہ بھی کہے کہ تحریر اسٹام سے اور نیاز علی خاں کے فوت ہونے تک کمی بیشی اس جائداد کی ہوئی ہے، اس میں جو مناسب ہوتحریر فرمایا جائے۔
الجواب : اگر جائداد کسی کی شرکت میں نہ تھی خالص نیازعلی کی تھی اور اس نے بیٹے کے نام لکھ کر اپنے قبضہ سے بالکل خالی کرکے بیٹے کا قبضہ کرادیا تھا تو وہ کل جائداد محمد ولی کی ہوگئی، افضل بیگم کا اس پر دعوٰی باطل ہے، اور اگر اس میں کوئی جائداد دوسرے کی شرکت میں تھی کہ نیاز علی کا حصہ جدا تقسیم شدہ ممتاز نہ تھا یا کسی جائداد سے اپنا قبضہ نہ اٹھایا مثلا مکان تھا بیٹے کانام اسٹامپ میں کرادیا اور خود ایک آن کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے اسباب سے خالی نہ کیا یا نام کرادیا اور بیٹے کا قبضہ نیاز علی کی زندگی تک نہ ہوا، تو ان صورتوں میں ایسی جائدادیں نیاز علی ہی کی  ملک ہیں اور افضل بیگم کا دعوٰی مہران پر بجا ہے اس کا مہر اورپہلی بی بی کا مہر باقی ہو تو وہ بھی اور جو کچھ نیاز علی پر دین ہو وہ سب ایسی جائدادوں سے پہلے ادا کیا جائےگا اگر کچھ نہ بچے گا ان جائدادوں سے محمد ولی کچھ نہ پائے گا، اور جو جائداد تینوں شرطوں کے ساتھ محمد ولی کونیازعلی کی زندگی میں مل چکی وہ محمد ولی کی ہے اس پر کسی کا دعوٰی نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: از فریدآباد ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ نوراحمد افریدی سجادہ نشین فریدآباد ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی واحد بخش نے مرنے سے ایک ماہ پہلے بحالت بیماری بدرستی ہوش حواس وسلامتی عقل برضاورغبت خود بروئے گواہان کہا کہ میری کل جائداد کا مالک قابض میرا پتر حقیقی مسمی غلام احمد ہے اور اس نے قبول کرکے ایک ماہ تک اس کی حیات میں حسب قولش ایسا ہی کیا کہ مالک قابض متصرف جائداد پر اور بخانہ اش مقیم رہاہے، اراضیات کی کلبہ رانی کاشت برداشت وتدارک آبادی وغیرہ بھی کرتارہا ہے، ایک ماہ کے بعد واحدبخش فوت ہوا اور خرچ اخراج تجہیز وتکفین تدفین وغیرہ مناسب اسی نے کی ہیں تیسرے روز قل خوانی پر حسب قول متوفی سب برادری وغیرہ نے دستاربندی اسی غلام احمد کی کرائی ہے کیونکہ واحد بخش کی اولاد نرینہ یہی تھی اسی لئے مرنے سے ایک ماہ پیشتر برضائے خود غلام احمد کو مالک قابض متصرف بناکر دارالبقا کو چلا گیا ہے بلکہ یہ بھی اس وقت اس نے کہا تھا کہ میری ہر دو دختران کی شادی کرانے کا بھی یہی مالک ہے، واحد بخش کے اہل وراثت حسب ذیل موجود ہیں ذوی الفروض سے دو زوجہ مسماۃ غلام فاطمہ وجامل اور دودختران مسماۃخیران وامیران اوراقرب العصبات سے چار بنوعم مسمیان غلام احمد مذکور واحدبخش خدا بخش غلام رسول موجود ہیں، بعد توفیت واحد بخش کے دو ماہ دیگر بھی یعنی کل تین ماہ تک برضائے کل مالک قابض ومتصرف رہا ہے، پھر غلام فاطمہ جواس کی درونی ناخواہ تھی اس کو گھر سے نکال دیا ہے اور ایسا نہیں چاہئے الاقبضہ غلام احمد کا اراضیات پر تاحال بدستور موجود ہے خیران کانکاح مسمی لعل سے اور امیران کا نکاح غلام احمد مذکور سے شرعی طور پر ہوچکا ہے پس اب شرعا دریافت طلب امریہ ہے کہ آیا یہ قول واحد بخش کا غلام احمد کے لئے ہبہ ہوسکتاہے یاکیونکر،
فتاوٰی قاضیخان میں ہے :
رجل قال جمیع مااملکہ لفلان یکون ھبۃ حتی لایجوز بدون القبض ۱؎۔
ایک شخص نے ''میری تمام مملوکہ فلاں کے لئے ہے'' کہا تو ہبہ قرار پائے گا حتی کہ قبضہ کے بغیر جائز نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الھبۃ        نولکشور لکھنؤ        ۴ /۶۹۶)
اور فتاوٰی عالمگیریہ مترجم جلد سوم میں ہے کہا :
وھبت ھذا الشیئ لک اوملکتہ منک
یعنی یہ شے تجھے ہبہ کی یا تجھے اس کا مالک کیا اور جعلتہ لک او ھذالک یا میں نے تیرے واسطے کردی یا یہ شے تیرے واسطے ہے اواعطیتک اونحلتک یا میں نے تجھے عطا کی یا نحلہ دی فہذا کلہ ھبۃ (یہ تمام صورتیں ہبہ کی ہیں۔ ت)۱؎
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ مترجم    کتاب الھبۃ باب اول    حامد اینڈ کمپنی لاہور    ۷/ ۷۳)
اورنیز فتاوٰی عالمگیری مترجم مذکور میں ہے ''کتاب الاصل میں مذکور ہے کہ مریض کاہبہ یا صدقہ جائز نہیں ہے مگر جبکہ اس پر قبضہ ہوجائے اور جب قبضہ ہوگیا تو تہائی مال سے جائز ہے اور اگر سپرد کرنے سے پہلے واہب مرگیا تو ہبہ باطل ہوگیا'' ۲؎۔
(۲؎فتاوٰی ہندیہ مترجم  کتاب الھبۃ  باب دہم       حامد اینڈ کمپنی لاہور    ۷/ ۱۲۲)
اور جاننا چاہئے کہ مریض کاہبہ کرنا قصدا ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور تہائی مال اس کا اعتبار کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ وصیت ہے بلکہ اس واسطے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال سے متعلق ہوتاہے اور اس نے ہبہ کردینے میں احسان کیا تو اس کا احسان اس قدر مال سے ٹھہرایاجائےگا جتنا شرع نے اس کے واسطے قرار دیا ہے یعنی ایک تہائی اور جب یہ تصرف عقد ہبہ ٹھہرا یا گیاتو جو شرائط ہبہ کے ہیں وہ مرعی ہونگے، اور از انجملہ ایک شرط یہ ہے کہ واہب کے مرنے سے پہلے موہوب لہ اس پرقبضہ کرلے، یہ محیط میں ہے

 اور درمختار میں ہے :
یمنع الرجوع فیہا حروف دمع خزقہ ۳؎۔
ہبہ سے رجوع کرنے سے یہ حروف ''دمع خزقہ'' بین الورثہ شرعا منقسم ہونگی
 (۳؎ درمختار        باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
الجواب

مرض الموت میں ہبہ اگر چہ حقیقۃ ہبہ ہے فلہذا قبضہ شرط ہے اور مایقسم میں مشاع ناجائز مگر حکما وصیت ہے ولہذا بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہیں اور وارث کے لئے بے اجازت دیگر ورثہ باطل۔ 

عالمگیری میں تاتارخانیہ سے ہے :
وھب الرجل فی مرضہ غلاما لابنہ ولابنہ علی ھذا الغلام دین فان صح فہو جائز وان مات فصار للورثۃ عاد دینہ ۱؎۔
ایک شخص نے اپنی مرض موت میں اپنے بیٹے کو غلام ہبہ کیا جبکہ اس بیٹے کا غلام پر دین تھا اگر صحیح ہوجائے تو جائز ہے اور اگراس مرض میں فوت ہوجائے تو غلام واپس اس کے ورثاء کی ملکیت بن جائے گا اور بیٹے کاغلام پر قرض بحال ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ   کتاب الھبۃ الباب العاشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۰۱)
اسی میں جامع المضمرات سے ہے :
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۲؎۔
مریضہ نے خاوند کو اپنا مہر ہبہ کیا اگر مرض الموت میں ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ         کتاب الھبۃ الباب العاشر    نورانی کتب خانہ پشاور   ۴ /۴۰۲)
عبارات مذکورہ سوال کابھی یہی مطلب ہے دوماہ بعد تک برضاء کل قابض متصرف رہنے سے اگریہ مراد ہے کہ بقیہ ورثہ نے اس کے نام اس ہبہ کو جائز کردیاا ور اس پر اپنی رضا کی تصریح کردی تو بلاشبہ غلام احمد مالک مستقل ہوگیا جبکہ باقی سب ورثہ عاقل بالغ اہل اجازت ہوں اور اب ان کو اس اجازت سے رجوع کا اختیار نہیں، اوراگر ان کے مجرد سکوت وعدم منازعت کو رضا قرار دیا ہے تو اتنی قلیل مدت تک سکوت دلیل رضانہیں ان میں کل یا بعض جواجازت نہ دے چکا ہو منازعت کرسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۴: از شہر بریلی ۲۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ڈیڑھ سوروپیہ کی ڈیڑھ سوگز زمین خرید کراپنی عورت کے نام کردی اس پر عملہ بھی شوہر نے بنوایا، بیاہتا عورت فوت ہوگئی، اس کی اولاد ایک لڑکا ایک لڑکی جن کے تمامی حقوق سے ادا کرچکا، اب دوسری شادی کرلی ہے اس سے دولڑکے ہیں اب وہ شخص چاہتاہے کہ میری زندگی میں فیصلہ ہوجائے تاکہ بعد میرے مرنے کے جھگڑا نہ ہو توآیا پہلی عورت کی جو اولاد ہے ایک لڑکا ایک لڑکی ان کو اس جائداد سے کیا پہنچتا ہے اور جو دوسری عورت سے دو لڑکے ہیں ان کو اس جائداد سے کیا حق پہنچتاہے، تعداد جائداد کی ایک ہزار روپیہ ہے۔
الجواب

پہلی عورت کا مہر اور وہ زمین کہ اس کے نام کردی تھی جبکہ اسے پورا قبضہ دے دیا ہو اور وہ عملہ بھی جبکہ اسی کے لئے بناہو اس عورت کے وارثوں کا ہے جن میں شوہر بھی اور عورت کے پسر ودختر، اوراگر مادرپدر ہوں تو وہ بھی، اوراگر وہ زمین عورت کے نام نہ خریدی نہ خود خرید کر اسے دے کر اس کا پورا قبضہ کرایا تو زمین شوہر کی ہے اور عملہ بھی اسی کا ہے،
لان ان وھب البناء قبل ان یبنی فھبۃ معدوم اوبعدہ فہبۃ متصل وہی کھبۃ مشاع کما اوضحہ فی العقود الدریۃ ۱؎ وبیناہ علی ہامشہا وفی الخیرالرملی علی جامع الفصولین شجر اوبناء فی ارض الاٰخر وھبہ لمن الارض بیدہ لاتجوز الھبۃ ۲؎ اھ وفی الدرر تجوزھبۃ البناء دون العرصۃ اذا اذن الواھب فی نقضہ ۳؎۔
کیونکہ اگر تعمیر سے قبل عمارت کا ہبہ ہو تویہ مقدوم چیز کا ہبہ ہوا اور اگر تعمیر کے بعد ہبہ کیا تو یہ اپنی ملکیت سے متصل چیز کا ہبہ ہوگا جو کہ مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوا جیسا کہ عقود الدریہ میں اس کی وضاحت کی ہے اورہم نے اس کے حاشیہ پر بیان کردیا ہے اورجامع الفصولین پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں ہے دوسرے کی زمین میں اس کے درخت یا عمارت ہوں اور وہ اس کو زمین کے قابض کو ہبہ کردے تو یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا اھ دررمیں ہے کہ اگر واہب اکھاڑلے جانے کی اجازت دے دے تو زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ جائز ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ العقود الدریہ    کتاب الھبۃ        ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲ /۹۵۔ ۹۴)

(۲؎العقود الدریہ بحوالہ الرملی    کتاب الھبۃ   ارگ بازار قندہار افغانستان       ۲ /۹۴)

(اللآلی الدریۃ الفوائد الخیریہ حاشیہ جامع الفصولین     الفصل الثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۵۸)

(۳؎ الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام        کتاب الھبۃ    میرمحمد کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۲۱)
پہلی صورت میں کہ زمین عورت کی تھی عملہ اس کا ہونے نہ ہونے کے لئے یہ معلوم ہونا درکار ہے کہ عملہ شوہر نے بطور خود بنایا، اورکیا کہہ کر بنایا کہ اپنے لئے بناتاہوں یا عورت کے لئے یا کچھ نہ کہا یا عورت کے کہنے سے بنایا اور عورت نے کیا کہا یہ کہ میرے لئے بنالے، یا کچھ نہ کہا، اوربنانے کے لئے روپیہ عورت نے دیا یا شوہر کا تھا عورت نے دیا تو کہا کہہ کردیا۔

بہرحال وہ کل مکان یا صرف عملہ اور زمین کا حصہ یا دونوں کا حصہ جو کچھ ملک شوہر ٹھہرے اورایسے ہی اس کے اور املاک ان میں اسی کی حیات میں کسی کا دعوٰی نہیں، ہاں وہی تقسیم کرنا چاہئے توچاروں بیٹے بیٹی کو برابر دینا چاہئے۔ پہلے جوان کے خرچ خوراک یا تعلیم یا شادی میں لگاچکا وہ اس حسے میں مجرا نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵: از بمبئی ڈاکخانہ نمبر ۹ ائسکریم ہوٹل مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب ۵ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے منگنی کے وقت کچھ زیور وغیرہ اس عورت کےلئے دیا جس کے ساتھ اس کی منگنی قرار پائی، چند ماہ بعد عقد نکاح کے لئے آیا تو کچھ کپڑے بھی پیش کئے بعد ازاں اس کا عقدا سی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد اسی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے مالک بنادیا تھا اب کچھ عرصہ بعد اس نے عورت کو طلاق دے دی اور زیور کپڑے جو چڑھائے تھے وہ سب چھین لئے، پس یہ واپسی جائز ہے یانہیں، اکثر کتب فقہیہ میں ہے کہ قبل از عقد جو کچھ دیا ہے اس کی واپسی کا شوہر کو اختیار ہے بعد از عقد جو چاہے وہ نہیں لے سکتا۔
الجواب:  فی الواقع بعد نکاح جو کچھ تملیکا دیا اس سے رجوع نہیں کرسکتا اور قبل نکاح جو کچھ دیا اسے بے مرضی زن واپس لینا گناہ ہے اورخود چھین لینے کا ہرگز اختیار نہیں بلکہ عورت نہ دے، نالش کرکے بحکم قاضی لے سکتا ہے اور گناہگاراس میں بھی ہوگا کہ صحیح حدیث میں فرمایا :
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء ۱؎۔
یعنی بُری مثال مسلمان کے شایاں نہیں دے کر لینے والا کتے کی طرح ہے کہ قے کرکے پھر چاٹ لیتاہے۔
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الحیل باب فی الھبۃ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۰۳۲)
درمختارمیں دربارہ موانع رجوع ہے :
والزوجیۃ وقت الھبۃ فلووھب لامرأۃ ثم نکحہا رجع ولو وھب لامرأتہ لا ۲؎۔
ہبہ کے وقت منکوحہ بیوی ہونا، لہذا اگر کسی عورت کوھبہ کرکے بعد میں اس سے نکاح کیا تو ہبہ میں رجوع کرسکے گا اور اگر بیوی کوہبہ کیا رجوع نہ کرسکے گا۔ (ت)
(۲؎ درمختار    کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ   مجتبائی دہلی  ۲ /۱۶۳)
اسی میں ہے :
لایصح الرجوع الابتراضیہما اوبحکم الحاکم ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
باہمی رضامندی سے یاحاکم کے حکم سے ہی رجوع صحیح ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ    مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۴)
Flag Counter