Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
52 - 120
ایضا صفحہ ۴۶ :
فی البزازیۃ عن المحیط لو ابراء احد الورثۃ الباقی ثم ادعی الترکۃ وانکر لاتسمع دعواہ وان اقروابالترکۃ امروابالرد علیہ ۱؎۔
بزازیہ میں محیط سے منقول ہے اگر ایک وارث نے باقی ورثاء کو بری کردیا اور پھر بعد میں اس نے ترکہ کا دعوٰی کردیا اور باقی ورثاء انکار کردیں تو اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا اور ورثاء اقرار کریں تو ان کو ترکہ واپس کرنے کا حکم ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ العقود الدریہ    کتاب الاقرار    ارگ بازار قندہرار افغانستان    ۲ /۵۴)
ابھی ردالمحتارسے گزرا :
لواقربہ الخصم یلزمہ ۲؎
 (اگر فریق مخالف اس کا اقرار کرے اس کو لازم ہوجائے گا۔ ت)
(۲؎ردالمحتار     مسائل شتی        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۷۴)
سابعا ان بیانات سے روشن ہوا کہ دعوٰی شرم خاتون شرعا دیانۃ اور قضاء ہر طرح مسموع ہے، اب رہا نہی سلطانی کا شبہ، اگر قانون ریاست بہاولپور میں مسئلہ تمادی جب تو ظاہر کہ وہاں کے قضاۃ ہر گز ممنوع عن السماع نہیں ا ورا گر ہے لیکن بحال وجوداقرار مدعی علیہ موثر نہیں جیسا کہ حکم شرعی ہے جب بھی اسے یہاں سے تعلق نہیں کما تقدم۔
ردالمحتارجلد ۴ص۵۳۱ :
نقل فی الحامدیۃ فتوی ترکیۃ عن المولٰی ابی السعود وتعریبہا اذا اترکت دعوٰی الارث بلاعذر شرعی خمس عشرۃ سنۃ فھل لاتسمع الجواب لاتسمع الااذا اعترف الخصم بالحق ونقل مثلہ شیخ مشائخنا الترکمانی عن فتاوی علی اٰفندی مفتی الروم ونقل مثلہ ایضا شیخ مشائخنا ا لسائحانی عن فتاوی عبداﷲ افندی مفتی الروم ۳؎۔
حامدیہ میں مولٰی ابی السعود کاترکی فتوٰی نقل کیا ہے جس کا عربی ترجمہ یہ ہے جب شرعی عذر کے بغیر پندرہ سال تک وراثت کادعوٰی نہ کیا ہو تو کیا اب قابل سماعت نہ ہوگا۔ الجواب،فریقن مخالف کے اعتراف کے بغیر قابل سماعت نہ ہوگا، اسی کی مثل مفتی روم علی آفندی کا فتوٰی ہمارے مشائخ کے شیخ ترکمانی سےنقل کیا ہے اور مفتی روم عبداللہ آفندی کا فتوٰی ہمارے مشائخ کے شیخ سائحانی نے بھی اس کی مثل نقل کیاہے۔ (ت)
 (۳؎ردالمحتار   کتاب القضاء فصل فی الحبس    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۴ /۳۲۳)
ایضاً ص ۵۳۲  :
عدم سماع القاضی لہا انما ہوعندانکار الخصم فلو اعترف تسمع ۱؎۔
(۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء   فصل فی المحبس    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۳۴۳)
اور اگر وہاں مطلقا ممانعت ہے کہ مثلا ۱۲ سال کے بعد کوئی دعوٰی نہ سناجائے گا اگرچہ مدعا علیہ کا اقرار موجود ہو تو البتہ وہاں کے قاضی نہ سن سکیں گے کہ وہ قدر تولیت سے زائد میں معزول وکاحد من الناس ہیں مگر خود رئیس پر فرض ہوگا کہ آپ سنے یا کسی کوسننے کی اجازت دے کہ حق ضائع نہ ہو، 

درمختارقبیل التحکیم :
القضاء یتخصص بزمان ومکان وخصومۃ حتی لو امراالسلطان بعد سماع الدعوٰی بعد خمسۃ عشرسنۃ فسمعہالم ینفذ ۲؎۔
زمان، مکان اور واقعہ کی وجہ سے قضا کا تخصص ہوسکتاہے حتی کہ اگر حاکم پندرہ سال بعد دعوٰی کی سماعت سے منع کردے تو قاضی کی کاروائی کے باوجود نافذ ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب القضاء    فصل فی المحبس    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۸۱)
خیریہ ج ۲ ص ۱۰۲ شامی ج ۴ ص ۷۸۱:
لانہ معزول عنہ بتخصیصہ فالتحق فیہ بالرعیۃ نص علیہ ذٰلک علمائنا رحمہم اﷲ تعالٰی ۳؎۔
کیونکہ قاضی اس میں بے اختیار ہوجاتاہے تو رعیت ہوجانے کی بناء پر قاضی پابند ہوجاتاہے ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالٰی نے اس پر نص کی ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی خیریہ     کتاب الھبۃ    دارالمعرفۃ بیروت        ۲ /۱۱۲)
غمز العیون ص ۲۲۳ :
  یجب علیہ عدم سماعہا لان امر السلطان یصیر المباح واجبا ولکن یجب السلطان ان یسمعہا کذا فی معین الفتوی ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قاضی پر سماعت نہ کرنا لازم ہوجاتاہے کیونکہ حاکم کےحکم سے مباح چیز واجب ہوجاتی ہے تاہم حکم پر لازم ہے کہ خود سماعت کرے۔معین المفتی میں یوں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ غمز عیون البصائر    الفن الثانی کتاب القضاء والشہادت الخ        ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۳۶۹)
Flag Counter