فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
51 - 120
عالمگیریہ جلد ۴ ص ۳۷۸ ذخیرہ سے :
الشیوع من الطرفین فیما یحتمل القسمۃ مانع عن جواز الھبۃ بالاجماع ۱؎۔
دونوں طرف سے شیوع ہو تو وہ قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے بالاتفاق جواز ہبہ کے لئے مانع ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۸)
ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ سوال صورت ثالثہ ہے کہ صالح قسمت میں غیر منقسم ہبہ کیا ہے تو باجماع امام و صاحبین ناجائز ہے۔
ثانیا روایت ظاہرہ اصل مذہب میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک ہبہ مشاع کہ ناجائز ہے اور بعد قبض بھی مفید ملک نہیں ہوتا بلکہ شے بدستور ملک واہب پر رہتی ہے ہاں بعض مشایخ کے نزدیک ملک فاسد خبیث حاصل ہوجاتی ہے، اسے بھی خلاف امام وصاحبین سے کچھ علاقہ نہیں، بعض مشائخ کا خلاف ہے اورصحیح ومعتمد اول کہ وہی قول اما م بلکہ قول ائمہ ثلثہ اور وہی ظاہر الروایہ مصححہ ومرجحہ ہے تو اس سے عدول جائزنہیں اگرچہ بعض اس کے خلاف کوبہ یفتی (اسی پر فتوٰی ہے۔ ت)کہیں،
فتاوٰی خیریہ میں ج ۲ ص ۱۰۱ :
لاتصح ہبہ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولو صدق الوارث علی صدورھا من المورث فیہ لان تصدیقہ لایصیر الفاسد صحیحا وکما لاتصح ھبتہ من الاجنبی لاتصح من الشریک کما فی اغلب الکتب ولاعبرۃ بمن شذ بمخالفتہم ولاتفید الملک فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی لو سلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحطاوی وقاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ وذکر عصام انہا تفید الملک وبہ اخذ بعض المشائخ ۱؎ انتہی،
قابل تقسیم مشاع چیز ہو توھبہ صحیح نہ ہوگا اگرچہ وارث تصدیق کرے کہ مورث نے یہ ہبہ کیا ہے کیونکہ اس کی تصدیق فاسد کو صحیح نہیں بنا سکتی اور جس طرح اجنبی کے لئے صحیح نہیں ہے اس طرح شریک کے لئے بھی صحیح نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے اور جو ان کی مخالفت میں اکیلاہو تو اس کا اعتبار نہیں اور ظاہر روایت میں یہ مفید ملک نہ ہوگا، زیلعی نے فرمایا اگرشیوع کی حالت میں قبضہ دیا تو ملک نہ بنے اس لئے اگر تصرف کرے تو نافذ نہ ہوگا اور موہوب لہ کو ضمان دینا ہوگا۔ واہب کا تصرف اس میں نافذ رہے گا، یہ طحطاوی اورقاضیخاں نے ذکر فرمایاہے اور ابن رستم سے اس طرح روایت ہے اور عصام نےذکر کیا ہے کہ یہ مفیدملک ہوگا، اور بعض مشائخ نے اس کو اپنا یاہے۔ (ت)
(۱؎ فتوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۱۲)
ردالمحتارمیں ہے فتوٰی مذکورہ علامہ خیرالدین رملی کوھبہ مشاع مفید ملک موہوب لہ نہیں ذکرکرکے فرمایا ج ۴ ص ۷۸۱ :
وافتی بہ فی الحامدیۃ ایضا والتاجیۃ وبہ جزم فی الجوہرۃ والبحر ونقل عن المبتغی بالغین المعجمۃ انہ لو باعہ الوھوب لہ لا یصح وفی نور العین عن الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض ولایثبت الملک فیھا الاعند اداء العوض نص علیہ محمد فی المبسوط و ھو قول ابی یوسف اھ وذکر قبلہ ھبۃ المشاع فیمایقسم لاتفید الملک عند ابی حنیفۃ وفی القھستانی لاتفید اللملک وھوالمختار کما فی المضمرات وھذا مروی عند ابی حنیفۃ وھوالصحیح اھ فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظہرانہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ ۲؎۔
اس پر حامدیہ وتاجیہ نے بھی فتوٰی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم کیا ہے، اور مبتغی (غین کے ساتھ) سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ کے نے اسے فروخت کردیا تو صحیح نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول کہ فاسد ہبہ قبضہ کی وجہ سے مضمون ہوگااوراس میں ملکیت عوض کی ادائیگی کے بغیر ثابت نہ ہوگی، اس پر امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے اور یہی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے اھ اور اس سے قبل ذکر فرمایا کہ قابل تقسیم مشاع کا ہبہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک مفید ملک نہیں ہے،اور قہستانی میں ہے کہ وہ مفید ملک نہیں ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ مضمرات میں ہے اور یہ امام صاحب سے مروی ہے اور وہی صحیح ہے اھ) تو جب معلوم ہوگیا کہ یہ ظاہر الروایت ہے اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کی اس پر نص ہے اور انھوں نے یہ امام صاحب سے روایت کیا ہے تو یہ صحیح ہے اگرچہ تصریح کی گئی ہو کہ اس کے خلاف پر فتوی ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
ثالثا بعض کے نزدیک اگر چہ مفید ملک ہو مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ واہب کو اس پر دعوٰی نہ رہا۔ نہیں نہیں بلکہ اسے دعوٰی پہنچتا ہے اور بالاجماع رجوع کرسکتاہے اگر چہ یہ ہبہ ذورحم محرم کو کیا ہو حالانکہ وہ مانع رجوع ہے اور جس طرح واہب کودعوٰی پہنچتاہے اگر وہ مرجائے اس کا وارث دعوٰی کرسکتاہے حالانکہ موت احدالعاقدین بھی مانع رجوع ہے اور اگر شیئ موہوب، موہوب لہ کے پاس تلف ہوجائے اس کا تاوان واہب کو دے حالانکہ موہوب بھی مانع رجوع ہے اور وجہ وہی ہے کہ ان بعض کے نزدیک بھی یہ ملک صحیح نہیں بلکہ خبیث ہے اور عقد فاسد وواجب الرد ہے،
فتاوٰی خیریہ ج ۲ ص۱۰۲ بعد عبارت مذکورہ :
ومع افادتھا اللملک عندھذا البعض اجمع الکل علی ان للواہب استرداداھا من الموھوب لہ ولو کان ذارہم محرم من الواھب قال فی جامع الفصولین رامز الفتاوٰی الفضی ثم اذا ھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذا الفاسدۃ مضمونۃ علی مامرۃ ذاکانت مضمونۃ بالقیمۃ بعد الہلاک کانت مستحققۃ الرد قبل الھلاک انتہی وکما یکون للواھب الرجوع فیھا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونھا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاک کالبیع الفاسد اذا مات احد المتبایعین فلورثتہ نقضہ لانہ مستحق الرد ومضمون بالھلاک ۱؎۔
اس کے باوجود کہ بعض کے نزدیک یہ ہبہ مفید ملک ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وھب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگر چہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہو، جامع الفصولین میں فتاوٰی فضلی کی رمز سے فرمایا کہ پھر اگر ہلاک ہوجائے تو میں نے فتوٰی دیا کہ محرم کو فاسد ہبہ دینے ہیں واہب کو رجوع کا حق ہے کیونکہ فاسد ہبہ مضمون ہوتاہے جیسا کہ گزرا تو جب ہلاک ہوجانے پر قیمت برابر ضمان ہے تو ہلاک ہونے سے قبل واپس لینے کا حق ہے اھ اور جیسے واہب کو رجوع کا حق ہے تو اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو رجوع کا حق ہوگا کیونکہ وہ قابل واپسی ہے او ایسا ہوجانے پر اس کا ضمان دینا ہوگا جیسا کہ فاسد بیع میں کوئی فریق فوت ہوجائے تو ا س کے ورثاء کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ قابل واپسی ہے اورہلاک ہوجانے پر مضمون ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۱۲)
ولہذا ردالمحتار ص ۷۸۱ میں بعد عمارت مذکورہ بحال تنزل بقول دیگر اس کا محض نامفید ہونا یوں ظاہر فرمایا :
خصوصا خبیث ملکیت ہوجیسا کہ عنقریب آئیگا اور مضمون ہوجیسا کہ تو معلوم کرچکا ہے، تو وہ موہوب لہ کو مفید نہیں ہے، اسے غنیمت سمجھو۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
رابعا مسئلہ ابراء عن الاعیان اگر یہاں سے متعلق ہوتا تو اس کا اثر صرف قضا پر تھا دیانۃ اپنی مملوکہ عین سے سو بار ابراء کرے ملک زائل نہ ہوگی اورجب ملے لے سکے گا،
درمختار اوائل الصلح۔
قولھم الابراء عن الاعیان بطل معناہ لم یصر ملکا للمدعی علیہ ولذالو ظفر بتلک الاعیان حل لہ اخذھا لکن لاتسمع دعواہ فی الحکم ۲؎۔
ان کافرمانا کہ عین موجود چیز سے بری کرنا باطل ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ملک نہ بنے گا لہذا دینے والااگر قابو پاکر اسے لے لے تو لینا جائز ہوگا لیکن قاضی کے ہاں اس کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۲)
ردالمحتار ج ۴ ص ۷۲۷:
نقل الحموی عن حواشی صدرالشریعۃ للحفید معنی قولنا البرأۃ عن الاعیان لاتصح ان العین لاتصیر ملکا للمدعی علیہ لاان یبقی المدعی علی دعواہ الخ ابوالسعود وھذا اوضح مما ھنا قال السائحانی و الاحسن ان یقال الابراء عن الاعیان باطل دیانۃ لاقضاء ۳؎۔
حموی نے صدرالشریعۃ کے پوتے کے لئے حواشی سے نقل کیا، اعیان اشیاء سے براءت صحیح نہیں ہمارے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ عین چیز مدعی علیہ کی ملک نہ بنے گی، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مدعی کا دعوٰی قائم ہے الخ ابو السعود نے کہا یہاں پر سائحانی نے جو فرمایا اس سے یہ زیادہ واضح ہے اور یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اعیان اشیاء سے بری کرنادیانۃ باطل ہے قضاء باطل نہیں۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۷۵)
مگر صورت مسئولہ میں کوئی ابراء ابتداء نہیں بلکہ اس ہبہ ناجائز پر مبنی ہے جس پر اس کی یہ عبارت شاہد ہے کہ بعد الیوم سے مظہرہ وورثائے مظہرہ کا بابت کل حصص یعنی جمیع جائداد کے کوئی دعوٰی ودخل نہیں ورنہ ہوگایہ وہی عبارت ہے جو بیعنامہ کے آخر میں لوگوں نے معمول کرلی ہے کہ آج سے میرا مبیع اور مشتری کا زرثمن میں کوئی دعوٰی نہ رہا، یہ اسی بیع پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ کوئی ابرائے ابتدائی اگر بیع با طل ثابت ہو تو بلاشبہ مبیع وثمن واپس دئیے جائیں گے، اور وہ الفاظ کہ دعوٰی نہ رہا کچھ خلل انداز نہ ہوگا، بعینہٖ یہی حالت یہاں سے اس ہبہ کی بناء پر کہہ رہی ہے کہ آج سے کوئی دعوٰی نہیں جب وہ ہبہ شرعا ناجائز ہے ان الفاظ کا بھی کچھ اثر نہیں،
عقود الدریۃ ج ۲ ص ۵۹:
اذا جری الصلح بین المتداعین وکتب الصک وفیہ ابراء کل واحد منہا صاحبہ عن الدعوٰی ثم ظہران الصلح وقع باطلا بفتوی الائمۃ فارادالمدعی ان یدعی ماادعی لاتصح دعواہ للابراء السابق والمختار ان تسمع لان ھذا ابراء فی ضمن صلح فاسد فلا یعمل مجمع الفتاوٰی ۱؎۔
جب دونوں مدعی حضرات آپس میں صلح کرکے صلحنامہ لکھ دیں جس میں ہر ایک نے دوسرے کو بری کردینا لکھ دیا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ائمہ کرام کے فتوٰی کی رو سے صلح باطل ہے تو اب ایک مدعی اپنے دعوٰی کو بحال کرے تو یہ درست نہ ہوگا کیونکہ پہلے برأت کرچکا ہے اورمختار یہ ہے کہ اس کا دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ یہ ابراء صلح فاسد کے ضمن میں ہے لہذا وہ معتبر نہ ہوگی، مجمع الفتاوٰی (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الصلح ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۰)
فتاوٰی اما م قاضیخان ج ۲ص ۲۳۸، جامع احکام الصغار ص ۱۰۷ :
لاتحرم ھواالصحیح لانہ مااقربالحرمۃ ابتداء وانما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذٰلک السبب باطل ۲؎۔
دوبارہ دعوٰی حرام نہیں ہے کیونکہ پہلا اقرار صلح کے اس سبب پر جس پر دونوں نے اتفاق کیا تھا اور وہ باطل ہوچکا ہے۔ (ت)
(۲؎جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل الطلاق نورانی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷)
خامسا بفرض غلط اگر یہ ابتدائی ابراء بھی ہوتا تو اس چیز کی نسبت ہے کہ اس وقت تک اس کی ملک ہے جو خود معلوم اور بعد الیوم کی قید سے مفہوم اور نہ کسی منازعت میں ہے نہ کسی خاص کے نام تو محض باطل وبے اثر ہے،
عقود الدریہ ج ۲ ص ۴۵ :
وفی العمادیۃ قال ذوالید لیس ھذا لی اولیس ملکی اولاحق لی فیہ اونحوذٰلک ولامنازع لہ حنیئذ ثم ادعاہ احد فقال ذوالید ھو لی فالقول لہ لان الاقرار بمجہول باطل والتناقض انما یمنع اذا تضمن ابطال حق علی احد اھ ومثلہ فی الفیض وخزانۃ المفتین ۱؎۔
عمادیۃ میں ہے قابض نے کہا یہ میرا نہیں، یا میری ملک نہیں۔ یامیراحق نہیں، یا اور ایسےالفاظ کہے جبکہ اس وقت کسی نے تعرض نہ کیا پھر کسی نے اس مقبوضہ چیز پر دعوٰی کردیا تو اس کے جواب میں اس نے کہا یہ میری چیز ہے تو اس کایہ کہنا معتبر ہوگاکیونکہ پہلااقرار تھا جوباطل ہے۔ اورتناقض تب ہوتا کہ وہ کسی کے لئے حق کااقرار کرتا اھ اوراس کی مثل فیض اورخزانۃ المفتین میں بھی ہے۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الاقرار ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۵۳)
سادسا ایک شخص دوسرے کو مدت تک کسی شے میں مالکانہ تصرف کرتے دیکھے اور بلاعذر ساکت رہے پھر کہنے لگے کہ یہ تومیری ملک ہے علماء کرام نے قطع تزویر وحیل کے لئے اس کا دعوٰی نامسموع رکھا ہے اوریہ حکم فقہی ہے ،نہ بربنائےمنع سلطانی ۔اس کی بعض عبارات فتاوی بہاولپور میں ہیں اور کثیر ووافر ہمارے فتاوٰی میں یہ حکم دیانۃ نہیں محض قضاء ہے کہ نظر بظاہر حال ممانعت فرمائی کما نصوا علیہ (جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) سائل نے سوال ہی میں اس کااشعار کردیا تھا کہ باوجود اطلاع علی التصرف قضاء دعوٰی اس کا قابل سماعت ہے نہ، مجیب نے تصریح کردی تھی کہ صحت قضاء کے لئے دعوٰی شرط ہے، اور وہ یہاں نہیں دعوٰی قضاء قابل اخراج ہے، اور یہ عبارت کہ
الحق لایسقط بتقادم الزمان ۲
(زمانہ گزر جانے پر حق ساقط نہیں ہوتا۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۷۴)
(ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
حکم دیانت ہے تو اس کے مقابل اسے پیش کرنا فتوٰی دیوبند کی حماقت ہے ان محقق شامی نے جن کے مسائل شتی آخر الکتاب کا حوالہ دیا اس جگہ فرمادیا تھا۔ ج ۵ ص ۷۲۶:
ثم اعلم ان عدم سماعہا لیس مبینا علی بطلان الحق حتی یردان ھذا قول مہجور لانہ لیس ذلک حکماببطلان الحق وانما ھو ا متناع من القضاۃ عن سماعہا خوفا من التزویر ولد لالۃ الحال کمادل علیہ التعلیل والافقد قالوا ان الحق لایسقط بالتقادم کما فی قضاء الاشباہ فلاتسمع الدعوٰی فی ھذا المسائل مع بقاء الحق الاخر ولذا لواقر بہ الخصم یلزمہ ۱؎۔
پھر معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا عدم اسماع کسی حق کے بطلان پر مبنی نہیں تاکہ اعتراض ہوسکے کہ ا س کایہ دوسرا قول مہجور ہے کیونکہ یہ کسی حق کے بطلان کا حکم نہ تھا بلکہ یہ تو قاضیوں کا ترکہ سماع اس خوف کی بناء پر تھا کہ من گھڑت معاملہ ہوسکتاہے۔ اورحال کی دلالت کی وجہ سے جیسا کہ اس کی بیان کردہ علت سے معلوم ہوتاہے ورنہ تو زمانہ گزرنے کے وجہ سے کوئی حق ساقط نہیں ہوتا جیسا کہ الاشباہ کی بحث قضاء میں ہے، تو ان مسائل میں دوسرے کے حق کے باوجود دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔ اسی لئے اگر فریق مخالف اس کااقرار کرے اس کو لازم ہوجائیگا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۷۴۔ ۴۷۳)
یہاں علامہ شامی نے
الحق لایسقط بالتقادم
(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ ت) جواب دینے کے لئے نقل فرمایا ہے اس کی کوئی تحقیق نہ کی، تحقیق اسی کی لکھی ہے کہ اس صورت میں دعوٰی مسموع نہیں اور یہ اس پر
الحق لایسقط بالتقادم
(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ ت) وارد نہیں، یہ سب کچھ دیکھ کر شامی کا الٹاحوالہ دینا جس سے وہ جواب دے چکے اسی کوپیش کرنا اور ان کے سردھرنا عجیب جہالت ہے بلکہ جواب صحیح ی ہے کہ یہ مسئلہ صورت مسئولہ سے متعلق نہیں جہاں مدعی علیہ کا اقرار موجودہو، اگر سوبرس بھی گزر جائیں مانع دعوٰی نہیں۔ یہاں اس مال کامتروکہ سماء او شرم خاتون کاوارث سماد ہونا امر مسلم ہے جس میں کسی کو نزاع نہیں، پھر الٰہی بخش کا شرم خاتون سے ہبہ نامہ لکھوانا صراحۃ ملک شرم خاتون کا اقرار ہے تو مسئلہ مذکور یہاں سے اصلا متعلق نہیں،
فتاوٰی خیریہ ج ۲ ص ۷۳ :
سئل فیما ادعی زیدعلی عمر و محدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریت من والدک بکذا اوانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعک عن الدعوی ھل یکون ذٰلک من باب الاقرار بالتلقی من مورثہ فیحتاج الی بینۃ تشہدلہ بالشراء ولاینفعہ کونہ واضعایدہ علیہ المدۃ المذکورۃ و لاتکون الحادثۃ من باب الدعاوی التی مرعلیہا خمس عشرۃ سنۃ اجاب نعم دعوی تلقی الملک من المورث اقرار بالملک لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیاولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترک الدعوٰی بل من باب المؤاخذۃ بالاقرار ومن اقربشیئ لغیرہ اخذ باقرارہ ولو کان فی یدہ احقا باکثیرۃ لاتعد وھذا مما لایتوقف فیہ ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان سے سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر دعوٰی کیا کہ یہ محدود رقبہ میرے والد کی وراثت میں میری ملک ہے تو مدعٰی علیہ نے جواب میں کہا میں نے یہ رقبہ اتنے میں تیرے والد سے خریداہے اور چالیس سال سے زائد عرصہ میرے قبضہ میں چلا آرہاہے اور تو شہر میں میرے پاس مقیم اور عذر کے بغیر تو خاموش رہا اور دعوٰی نہ کیا،تو کیا مدعی علیہ کا یہ جواب مدعی کے مورث سے خرید کے ثبوت کے لئے گواہی کی ضرورت ہوگی اور مدت مذکورہ سے اس کا قبضہ اس کو مفید نہ ہوگا۔ اوریہ پندرہ سال پرانے کیس سے متعلق دعوٰی کے باب سے نہ ہوگا جواب دیا، ہاں مدعٰی علیہ کا یہ دعوی کہ میں نے تیرے مورث سے خریدا ہے، یہ مورث سے حصول کا اقرار ہے اور اس سے اپنے لئے منتقل ہونے کا دعوٰی بنتاہے تو اس پر مدعٰی علیہ کو گواہی کی ضرورت ہوگیا ور اس بناء پر مدعی علیہ مدعی بن جائے گا، اورمذکورہ اقرار کی وجہ سے اس کا چالیس سالہ قبضہ اس کو مفید نہ ہوگا، اور یہ معاملہ پندرہ سالہ پرانے کیس والانہیں بلکہ یہ اقرار پر مؤاخذہ کے باب سے ہوگا جبکہ دوسرے کی چیز کا اقرار کرنے والا اپنے اقرار کی بناء پر پابند ہوجاتاہے اگرچہ اس کا قبضہ زمانوں سے ہو شمار نہ ہوگا اوریہ ایسا معاملہ ہے جس میں کوئی توقف نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۸۰)
عقود الدریۃ ج ۲ ص ۷ :
اذا ادعی اخوات زید علیہ بحصتہن من دار ابیہن المتوفی من خمس عشرۃ سنۃ وھو معترف بان الدارمخلفۃ لھم عن ابیھم تسمع الدعوٰی علیہ لو طالت المدۃ کما افتی بذٰلک العلامۃ ابوالسعود العمادی ۲؎۔
جب زید کی بہنوں نے اس پردعوٰی کیا کہ اس مکان میں پندرہ سال قبل فوت شدہ ہمارے والد کی ورثت کے طور پر ہماراحق ہے اورزید اعتراف کرتاہے کہ یہ مکان والد کی وراثت میں ہے تو اس کی بہنوں کا دعوٰی قابل سماعت ہوگا اگرچہ لمبی مدت گزرچکی ہو، جیسا کہ علامہ ابوالسعودعمادی نے یہ فتوٰی دیا۔ (ت)
(۲؎ العقود الدریۃ کتاب الدعوی ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۶)