فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
50 - 120
جواب دیوبند
اقول: قال فی الدرالمختار لاتتم بالقبض فیما بقسم ولووھبہ لشریکہ اولاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھوا لمذھب۱؎ الخ ولو سلمہ شائعا الایملکہ ۲؎ الخ درمختار،،
میں کہتاہوں درمختار میں فرمایا: قابل تقسیم چیز کا ہبہ قبضہ دینے سے تام نہ ہوگا خواہ شریک کو ہبہ کیا یا اجنبی کو، کیونکہ اس میں کامل قبضہ کا تصور نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے، تویہی مذہب ہے الخ اور اگر مشاع کا قبضہ دیا تو موہوب لہ مالک نہ بنے گا الخ درمختار ،
اور ردالمحتار میں ہے کہ جس طرح خود واہب کو رجوع کا حق ہے اسی طرح اس کی موت کے بعد اس کے وارثوں کو حق ہے الخ، اس سے یہ فائدہ ہوا کہ واہب کو موہوب لہ کی موت کے بعد اس کے وارثوں سے واپس لینے کاحق ہے اور نیزکوئی حق پرانا زمانہ ہونے کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا۔ جیسا کہ کتاب کے آخرمیں علامہ شامی نے مسائل شتی میں اس کی تحقیق فرمائی، واللہ تعالٰی اعلم بالصواب، کتبہ عزیز الرحمان عفی عنہ ۲۰ رجب ۱۳۲۷ھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
(۲؎ ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۴۳)
( ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۷۴)
باسمہٖ تعالٰی
از ابو المنظور محمد غوث بخش مقیم بیت العلم والحکم پر وچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خانپور ۔
بعالی خدمت اسم درجت مدراء سجال العلوم علی العمود حضرت مولٰنا ومخدومنا قبلہ آمال وآمال خیار عباداللہ المتعال حضرت احمد رضا خاں صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج شریف عنصر لطیف
خدمت میں ضروری عرض ہے توجہ سے سن کر جواب بتدقیق وغور تمام بعجلت عطا فرمائیں ایک استفتاء متعلق ہبہ مشاع وطلاق صبی بمعہ ٹکٹ کچھ عرصہ سے خدمت میں بھیجا تھا، مولٰنا امجد علی صاحب اعظمی کے خط سے معلوم ہواکہ نہیں ملا، پس حسب الایماء ان کے دوسری نقل ارسال ہے کرم نوازی من ! عدالت ڈسٹرکٹ ججی خانپور میں دعوٰی عن الہبہ کا گزرا ہے کہ جس کا رجوع شرع مقدس کی طرف ہے علماء علاقہ ہذا آپس میں مختلف ہیں، حضرت اعلٰی کی خدمت اقدس میں فتوٰی مع الجواب ارسال ہے براہ کرم بخشی و حسبۃ للہ بامعان نظر فتوی مرسلہ پر دستخط ومہر ہالشمولیت جماعت علمائے کرام ثبت فرمادیں بمعہ مزید تائید جواب اس کے کہ واقعات صورت حال از کتاب القضاء مخالف دعوٰی وغیرہ وغیرہ رجوع عن الہبہ سے مانع ہے، اپنی ذات باحسنات سے اضافہ فرمادیں، جناب والاایک نقل دیوبند بھی ارسا ل کی گئی تھی مگر مفتی دیوبند نے بڑی بے غوری سے جواب مختصر لکھ کر استفتاء واپس کردیا ہے جس پر بڑی حیرت دامنگیر ہے کہ یہ کیاجواب ہے کہ کتاب القضاء مخالف ومخالف دعوٰی وغیرہ پر کچھ بھی غور وتوجہ نہیں کی، مرکز فتاوٰی جناب اقدس میں التجا ہےکہ بنجنسہٖ استفتار جس پر مفتی دیوبند کا جواب ہے غور فرمار بجلدی جواب مفصل بحوالہ صفحہ کتاب وغیرہ معززفرمائیں اور چند پیشی پہلے گزرگئی ہیں فقط، ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ / ۱۱ مئی ۱۹۱۹ء
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب، یہاں چند امورپر لحاظ ضرور جن سے انکشاف جواب وظہور صواب ہو، وباللہ التوفیق۔
اولاشے صالح قسمت میں ہبہ مشاع باجماع ائمہ حنفیہ غیر نافذ ہے، صاحبین وغیرہما کسی کو خلاف نہیں ،امام شافعی کا خلاف ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
بدائع امام ملک العلماء جلد ششم ص ۱۱۹ :
قابل تقسیم مشاع چیز کاہبہ ہمارے نزدیک جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیک جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الھبۃ فصل فاما الشرائط الخ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶ /۱۱۹)
ہدایہ ج ۲ ص ۲۱۲:
لاتجوز الھبۃ فیما یقسم الامجوزۃ مقسومۃ وقال الشافعی یجوز ۲؎۔
قابل تقسیم چیز کاہبہ تقسیم شدہ ہوئے بغیر جائز نہیں، اور امام شافعی نے فرمایا جائزہے۔ (ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الھبۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۸۳)
تبیین الحقائق جلد ۵ ص ۹۳:
لاتجوز فی مشاع یقسم وقال الشافعی تجوز ۳؎۔
قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ جائز نہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃالکبرٰی الامیریہ بولاق مصر۵ /۹۳)
ہاں اختلاف اس میں ہے کہ صرف وقت قبضہ وجود شیوع مانع جواز ہبہ ہے یاجبکہ وقت عقد بھی ہو اول قول امام ہے اور ثانی قول صاحبین رضی اللہ تعالٰی عنہم اورقول ہمیشہ قول امام ہے
کما حققناہ فی اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام
(جیسا کہ ہم نے اس پر تحقیق''اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام'' میں کی ہے۔ ت)
بدائع الصنائع ج ۲ ص۱۲ :
ابوحنیفۃ یعتبر الشیوع عندالقبض وھما یعتبرانہ عندالعقد والقبض وھما جوز اھا لانہ لم یوجد الشیاع فی الحالین بل وجد احدھما دون الاٰخر ۱؎۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ قبضہ کے وقت شیوع کا اعتبار کرتے ہیں اور صاحبین عقد اور قبضہ دونوں میں اعتبار کرتے ہیں تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک شخص کا دو افراد کو قابل تقسیم چیز کا ہبہ کرنا جائز نہیں کرتے کیونکہ قبضہ میں شیوع پایا جائے گا۔ اورصاحبین اس کو جائز فرماتے ہیں کیونکہ عقد اور قبضہ میں شیوع نہیں ہے، بلکہ صرف قبضہ میں شیوع ہے عقد میں نہیں۔ (ت)
(۱؎ بدائع النصائع کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۱)
بالجملہ اگر شیوع صرف وقت عقد ہونہ وقت قبض جیسے دو شخص اپنا مکان مشترک جس میں تیسرا شریک نہیں شخص واحد کو ہبہ کرکے ایک سابقہ قبضہ دے دیں یہ صورت بالاجماع جائز ہے،
کنزو تنویر وعامہ متون میں ہے :
وھب اثنان دارالواحد صح ۲؎
(دوافراد نے ایک شخص کو مکان ہبہ کیا تو جائز ہے۔ ت)
(۲؎درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
اوراگر صرف وقت قبض ہو نہ وقت عقد جیسے ایک شخص اپنا مسلم مکان دو کو ہبہ کرے یہ امام کے نزدیک ناجائز اور صاحبین کے جائز، متون میں بعد عبارت مذکورہ ہے،
لاعکسہ ۳؎
(ا س کا عکس نہیں ہے۔ ت)
(۳؎کنزالدقائق کتاب الھبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰۹)
تبیین وغیرہ شروح میں ہے:
ھذا عندہ وقالایجوز ۴؎
(یہ امام صاحب کے نزدیک ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں جائز ہے ۔ ت)
(۴؎ تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵ /۹۶)
اور اگر عقد وقبض دونوں میں شیوع ہو جیسے ایک شخص کسی مکان یا گاؤں میں اپنا غیر منقسم حصہ کسی کو ہبہ کرے یا ایک مکان کے دو شریک ہیں ایک اپنا حصہ زید کو دوسرا عمرو کو ہبہ کریں اگر چہ معا ہبہ کیا اور معا قضہ دیا ہو، یہ صورتیں بالاجماع ناجائز ہیں،
تبیین ج ۵ ص ۹۷ :
الاتری ان رجلین لووھبا رجلین علی ان نصیب احدہما لاحدہما بعینہ ونصیب الاٰخر للاخر لایجوز الاجماع ۵؎۔
آپ دیکھیں گے کہ دو حضرات اگردو اشخاص کو اس طرح ہبہ کریں کہ ایک کاحصہ ایک کو اور دوسرے کا حصہ دوسرے کو معین طوپر ملے تو بالاتفاق جائز نہیں۔ (ت)
(۵؎تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵ /۹۷)