Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
49 - 120
الجواب: جبکہ واہب نے بعد تخلیہ مکان موہوب لہ کو قبضہ کاملہ شرعیہ دلادیا ہو (نہ یوں کہ خود اس میں ساکن رہا واہب کا اسباب اس میں رہا اور کرایہ نامہ لکھ دیا اور کہہ دیاکہ پورا قبضہ دے دیا یہ شرعا قبضہ نہیں بلکہ ضرور ہے کہ مکان اپنی سکونت واسباب سے خالی کرکے قبضہ دے اگر چہ ایک منٹ کے بعد یوں قبضہ دے کر پھر اس میں آجائے اور اپنا اسباب لے آئے اس طرح کا قبضہ کاملہ دیدیا ہو) تووہ مکان ملک موہوب لہ ہوگیا، اب اس میں رجوع تین وجہ سے باطل ہے:

اولاموہوب لہ واہب کا بیٹا ہے اور ذی رحم محرم سے رجوع کا خود واہب کو بھی اختیار نہیں، 

ثانیا موہوب لہ مرگیا،

ثالثا واہب بھی گزر گیا اور اس میں ہر ایک کی موت مانع رجوع ہے تو اب رجوع ناممکن ہے اور وہ شرط قبضہ تخلیہ اس صورت میں ہے کہ موہوب لہ وقت ہبہ بالغ ہو، اور اگر نابالغ تھا تو باپ نے جس وقت ہبہ نامہ لکھ دیا اس سے پہلے جس وقت زبانی کہا میں نے ہبہ کیا معاً ہبہ کرتے ہی بیٹا مالک ہوگیا اگر چہ باپ نے ایک آن کو مکان نہ خالی کیا نہ قبضہ دیا کہ اس صورت میں باپ کا قبضہ ہی بیٹے کا قبضہ ہے اور رجوع ناممکن،
درمختارمیں ہے :
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم والقرابۃ فلو وھب الذی رحم محرم منہ نسبا لایرجع ۱؎ (ملخصا)
  قبضہ دینے کے بعد کسی فریقین کی موت اور قرابت رجوع سے مانع ہے تو اگر کسی مجر م کوھبہ کیا رجوع نہ ہوگا (ملخصا)۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الھبۃ        باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱ تا ۱۶۲)
اسی میں ہے :
الاصل ان الموہوب ان مشغولابملک الواھب منع تمامہا وان شاغلا لاوفی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ ۲؎ (ملخصا)
ضابطہ یہ ہے موہوب چیز اگر واہب کی ملک میں مشغول ہو تو ہبہ کے تام ہونے سے مانع ہے اگر وہ شاغل ہو تو مانع نہ ہوگا۔ اور الاشباہ میں ہے مشغول چیز کاہبہ کرنا جائز نہیں۔ ہاں اگر والد اپنے طفل کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔ (ملخصا) (ت)
(۲؎درمختار    کتاب الھبۃ        باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)
ردالمحتارمیں ہے :
کان وھبہ دار والاب ساکنہا اولہ فیہا متاع لانہا مشغولۃ بمتاع القابض و ھو مخالف لما فی الخانیۃ فقد جزم اولابانہ لاتجوز ثم قال وعن ابی حنیفۃ فی المجرد تجوز ویصیر قابضا لابنہ ۱؎۔
مثلایہ کہ والد ایسے مکان کا ہبہ کرے کہ خود اس میں سکونت پذیر ہو یا سامان بھی رکھتا ہو کیونکہ یہ قابض کے حق میں مشغول ہے یہ بات خانیہ کے بیان کے خلاف ہے، تو شک نہیں کہ پہلے انھوں نے عدم جواز کا جزم کیا اور پھر کہا امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے علیہ سے روایت ہے کہ خالی مکان ہو تو جائز ہے اور اپنے طفل کے لئے قابض قرار پائے گا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۱۰)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے ،
اقول: جزم فی وجیز الکردری والولوالجیۃ والذخیرۃ وغیرہا باطلاق الجواز وفی الہندیۃ عن العتابیۃ الماخوذ بہ وعلیہ الفتوی وفیہا عن السراجیۃ علیہ الفتوی وفی الحموی عن الوالوالجیۃ علیہ الفتوٰی وعن البزازیۃ تجوز و علیہ الفتوٰی ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ جدالممتار علی ردالمحتار)
میں کہتاہوں وجیز الکردری ولوالجیہ اور ذخیرہ وغیرہا میں مطلق جو از پر جزم کیا اورہندیہ میں عتابیہ سے منقول ہے کہ یہی ماخوذ اور اسی پر فتوٰی ہے اور ہندیہ میں ہی سراجیہ سے منقول ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے اور حموی میں ولوالجیہ سے ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے اوربزازیہ سے منقول ہے کہ جائز ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۳۱ :  از پروچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور 

  مرسلہ مولوی ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب     ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ

مع دو جواب بغرض تصحیح: کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بروہی ومسماۃ بہرائی کل متروکہ ''سماء'' متوفی مورث پربروئے وراثت وغیرہ قابض ومتصرف رہے فوتیدگی مسماۃ بہرائی پر جس کو عرصہ ۱۶ سال کا گزر گیا ہے مسمی بروہی بدستور قابض رہا بعد فوت ہونے بروہی کے پسر اس کا الہٰی بخش بھی بدستور قابض رہا، مسماۃ شرم خاتون بنت مسماۃ متوفی کو جو حق وراثت اپنے والدین سے بروئے شرع شریف آتا تھا لیکن قبضہ الٰہی بخش میں پہلے سے تھا پھر اس کو ہبہ کرکے قبضہ سابقہ اس کے کو بحال رکھا اور اقرار ہبہ کا اسٹام گورنمنٹی پر بھی لکھ دے کر براءت دعوٰی اپنے کی بالفاظ ذیل ظاہر کی (کہ بعد دخل نہیں ہے ونہ ہوگا) اب عرصہ تین سال سے الہٰی بخش فوت ہے اور پسران ان کے جندوڈہ وغیرہ قابض و متصرف ہیں مسماۃ شرم خاتون مدعیہ اپنے حصہ وراثت پرکسی وقت میں قابض ومتصرف نہیں رہی جس کو تخمینا عرصہ چالیس سال کا گزر گیا ہے بلکہ تصرف مالکانہ باپ مدعا علیہ ودادا اس کے کاجائداد مستدعویہ پر باوجود قرب جواری ورشتہ داری کے دیکھتی رہ کرساکت رہی اب مدعیہ بعد عرصہ طویل کےحصہ موہوبہ خود مقبوضہ مدعا علیہ کو بعد فوتیدگی اصل موہوب لہ کے بعد از ہبہ مشاع استرجاعا واپس لینا چاہتی ہے، کیا باوجود قبضہ قدیم کے اس کو بعذر مذکور دیانۃ حق رجوع ہوسکتاہے اور باوجود اطلاع علی التصرف و ابراء عن الدعوٰی ومرورمیعاد سماعت دعوٰی شرع اقدس میں قضاء دعوٰی اس کا قابل سماعت ہے یانہ؟

جواب بہاول پور

ہبہ مشاع کا شریک وغیر شریک کہ قدیم سے ائمہ دین میں اختلافی ہے۔ صاحبین رضی اللہ تعالی عنہما جوازوصحت اس کے قائل ہیں اور امام صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فساد کے (روایت)
ھبۃا لمشاع فیما یحتمل القسمۃ من رجلین اومن جماعۃ صحیحۃ عندہما وفاسدۃ عندا لامام ولیست بباطلۃ حتی تفید الملک بالقبض کذا فی جواہر الاخلاطی  (بعد سطر) ھبۃ المشاع فیما یتمل القسمۃ لایجوز سواء کانت من شریکہ اومن غیر شریکہ ولوقبضھا ہل تفید الملک ذکر حسام الدین فی کتاب الواقعات ان المختار انہ لاتفید الملک وذکر فی موضع اٰخر انہ تفید الملک ملکافاسدا وبہ یفتی کذا فی السراجیۃ ۱؎۔
مشاع چیز کو جب دو افراد یا جماعت کو ہبہ کرے صاحبین کے نزدیک صحیح ہے اور امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک فاسد ہے اور باطل نہیں حتی کہ قبضہ ہوجانے پر ملک کے لئے مفید ہوگا یوں جواہر اخلاطی میں ہے (اور ایک سطربعد فرمایا کہ) قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ خواہ شریک یا غیر شریک کو ہو اور قبضہ دے دیا تو مفید ملک ہوگا یانہیں، حسام الدین نے کتاب الواقعات میں ذکر کیا کہ مختار یہ ہے کہ مفید ملک نہ ہوگا، اور دوسرے مقام میں ذکر کیا ملکیت فاسدہ کا فائدہ دے گا، اور اسی پر فتوٰی ہے جیسا کہ سراجیہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ   کتاب الھبۃ    الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۸)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الھبۃ    الباب الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۸)
 (عالمگیریہ جلد ثالث ص ۷۲۱) اور صاحب درمختارنے مذہب صاحبین کو ترجیح دی ہے (بروایت ذیل) :
ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلاینفذ تصرفہ فیہ اھ لکن فیہا عن الفصولین الھبۃ الفاسدۃ تفید الملک بالقبض و بہ یفتی ومثلہ فی البزازیۃ علی خلاف ماصححہ فی العمادیۃ لکن لفظ الفتوی اٰکد من لفظ الصحیح کما بسطہ المصنف ۲؎ قولہ لکن لفظ الفتوی استدراک علی مایستفید من قولہ ماصحہ فی العمادیۃ من ان القولین سواء حیث کان لفظ الفتوی اٰکد فیکون العمل علی مافی الفصول والبزازیۃ لانہ قال وبہ یفتی وھو اکد فی الصحیح اھ ۳؎۔
اگر شائع حالت میں قبضہ رہا تو مالک نہ ہوگا تو اس کا تصرف نہ نافذ ہوگا اھ لیکن اسی میں فصولین سے منقول ہے کہ فاسد ہبہ پر قبضہ ملک کا فائدہ دیتاہے اور اسی پر فتوٰی ہے اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے جوکہ عمادیہ کی تصحیح کے خلاف ہے، لیکن فتوٰی کا لفظ زیادہ مؤکد ہے صحیح کے مقابلہ میں جیسا کہ مصنف نے اپنے قول کو مبسوط ذکر کیا کہ لفظ فتوٰی عمادیہ کے قول تصحیح سے مستفاد پر استدراک ہے کہ دونوں قول مساوی ہوں تو فتوٰی والاقول زیادہ قوی ہوتاہے، تو عمل فصولین اور بزازیہ کے بیان پر ہوگا کیونکہ ان میں فتوٰی کا ذکر ہے اور اسی پر فتوٰی کا لفظ زیادہ قوی ہے صحیح مذہب میں اھ (ت)
 (۲؎ درمختار      کتاب الھبۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)

(۳؎ قرۃ عیون الاخیار (تکملہ ردالمحتار) کتاب الھبۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۱۲)
(تکلمہ شامی جلد ثانی کتاب الھبۃ ص ۳۴۴) بہر کیف ہبہ مشاع کا مسئلہ اختلافی ہے کوئی اہل فہم اس کا اتفاق میں نہیں ڈال سکتا لیکن فی الواقع پہلے سے قبضہ موہوب لہ کا بطور امانت کے ہے (بروایت ذیل)
 اقول: بیانہ ان الترکۃ فی یداحد الورثۃ امانۃ فاذا انکرھا اومنعہا صار غاصبا ۱؎
میں کہتاہوں اس کا بیان یہ ہے کہ ترکہ کسی ایک وارث کے قبضہ میں ہو تو وہ امانت ہے اگر وہ اس سے انکا ر کردے یانہ تو غاصب ہوجائیگا۔ (ت)
(۱؎قرۃ عیون الاخیار (تکملہ ردالمحتار)    کتاب الصلح فصل فی التخارج     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۱۸۵)
 (تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۷۵ سطر ۱۸ فصل التخارج) اور قبضہ امین موہوب لہ کے لئے تجدید قبض کی ضرورت نہیں تو ہبہ صحیح وتام ہوگیا (روایت):
وملک بالقبول بلاقبض جدید لوالموھوب فی یدالموھوب ولو قبض اوامانۃ لانہ عامل لنفسہ ۲؎۔
اگر موہوب چیز موہوب لہ کے قبضہ میں ہو تو قبول کرنے سے قبضہ جدید کے بغیر مالک ہوجائے گا اگر چہ بطور قبضہ سابق ہو یا بطور امانت ہو کیونکہ قبول کا عمل اپنے لئے ہی ہوگا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار            کتاب الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۱۶۰)
 (درمختار کتا ب الہبہ) اور مدعیہ جب تصرف مدعاعلیہ پر مطلع رہ کر ساکت رہی ہے اور ابراء عن الدعوی بھی لکھ دیا ہے اور میعاد سماعت دعوٰی کا بھی گزر گیا ہے تو قضاء دعوٰی ا س کا قاتل سماعت نہیں (بروایت ذیل):
وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی الارض ورجل اٰخر رأی الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذٰلک لم تسمع بعد ذٰلک دعوی ولدہ تترک علی ید التصرف لان الحال شاھد ۳؎ (وبعد اسطر) واذ ا کان المدعی ناظر اومطلعا علی تصرف المدعی علیہ الی ان مات المدعی علیہ لاتسمع الدعوی علی ورثۃ کما مرعن الخلاصۃ ۱؎ (و بعد سطر) والظاھر ان الموت لیس بقید وانہ لاتقدیر بمدۃ مع الاطلاع علی التصرف لما ذکرہ المصنف والشارح فی مسائل شتی اٰخر الکتاب (وبعد اسطر) اقول: وعلی ھذا الوادعی علی اخردارا مثلا وکان المدعی علیہ متصرفا فیہا ھدماوبناء او مدۃ ثلثین سنۃ وسواء وبناء او مدۃ ثلثین سنۃ وسواء فیہ الوقف و الملک ولوبلانھی سلطانی اوخمس عشر سنۃ ولابلاھدم وبناء فیھما، والمدعی مطلع علی التصرف فی  الصور الثلاث مشاھد لہ فی بلدۃ واحدۃ ولم یدع ولم یمنعہ من الدعوی مانع الشرعی لاتسمع دعواہ علیہ، اما الاول فلاطلاعہ علی تصرفہ ھدما وبناء وسکوتہ وھو مانع من الدعوی المدۃ المذبورۃ وسکوتہ وھو دلیل علی عدم الحق لہ ولان صحۃ الدعوی شرط لصحۃ القضاء والمنع منہ حکم اجتہادی کما علمت واما الثالث فلمنع من السلطان نصرالرحمٰن قضاءۃ فی سائر ممالکہ عن سماعہا بعد خمس عشر سنۃ اذا کان ترکہا بغیر عذر شرعی فی الملک ۱؎۔ تکملہ شامی جلد اول باب التخالف ص ۳۷۷ سطر ۲
حامدیہ میں ولوالجیہ سے منقول ہے، ایک شخص زمانہ سے ایک زمین میں تصرف کررہاہے اور دوسرا شخص زمین اور تصرف کو دیکھ رہا ہے اور کوئی دعوٰی کئے بغیر فوت ہوگیا تو اس کی اولاد کا دعوٰی اس میں مسموع نہ ہوگا اور وہ تصرف کرنے والے کے قبضہ میں رہے کیونکہ حال شاہد ہے (اور چند سطروں بعد فرمایا) جب مدعی، مدعی علیہ کے تصرف پر مطلع اور دیکھ رہا ہو حتی کہ مدعی علیہ اپنے تصرف پر فوت ہوا تو اب اس کے ورثاء پر مدعی کا دعوٰی مسموع نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ کے حوالے سے گزرا، (اور ایک سطر بعدفرمایا) اور ظاہر یہ ہے کہ موت شرط نہیں اور مطلع رہنے کی مدت کا تعین بھی نہیں ہے، یہ مصنف اور شارح نے مسائل شتی آخرالکتاب میں ذکر کیا ہے (اورچند سطر بعد فرمایا) میں کتاہوں اس بناء پر اگر کوئی دوسرے پر مکان کا دعوٰی کرے حالانکہ مدعی علیہ اس مکان میں تیس سال سے گرانے بنانے جیساتصرف کرتا رہا، خواہ یہ مکان وقف ہو یا ملک اگر چہ حکمران کی ممانعت نہ ہو، یا پندرہ سال تک تصرف گرانے بنانے والانہ بھی ہو اور مدعی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو اس شہر میں ہونے کے باوجود نہ دعوٰی کرتے نہ ہی دعوٰی سے کوئی شرعی مانع ہو تو اب مدعی کا اس مکان پر دعوٰی مسموع نہ ہوگا، ان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت میں اس لئے کہ وہ گرانے بنانے والے تصرف پر مطلع ہونے کی باوجود خاموش رہا یہ چیز دعوٰی سے مانع ہوگئی جیسا کہ تو معلوم کرچکا، لیکن دوسری صورت میں اس لئے کہ مذکورہ مدت تک دعوٰی سے خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ اس مکان میں اس کا حق نہیں ہے، اور اس لئے بھی کہ دعوٰی کاصحیح ہونا صحت قضا کے لئے شرط ہے اور دعوٰی ہے باز رہنا اجتہادی معاملہ ہے جیسا کہ تو معلوم کرچکااور تیسری صورت میں اس لئے کہ حکمران کی پندرہ سال کے بعد سماعت کی ممانعت اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے تمام حکومتی علاقہ کے قاضیوں کے لئے رحمت ہے خصوصا کوئی عذر نہ ہونے کی صورت میں یہ تاخیر ہو۔ (ت)
 (۳؎ قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار    کتاب الدعوی باب التخالف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۳۴۷)

(۱؎ و ۲؎ قرۃ عیون الاخیار تکملہ کتاب الدعوٰی التخالف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۳۴۷)

(۱؎قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار    کتاب الدعوٰی باب التخالف    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۴۸۔ ۳۴۷)
واماالابراء من دعوی العین فجائر کما فی الدرر وھوان یقول برئت عنہا اوعن خصوصی فیہا او عن دعوای ھذہ الدار لاتسمع دعواہ ولابینۃ ۲؎۔ تکملہ شامی جلد ثانی  ص ۱۸۰ سطر۳۱   کتاب الصلح۔
لیکن کسی معین چیز کے دعوٰی میں بری کردینا جائز ہے جیسا کہ درر میں ہے، اور ابراء یہ ہے کہہ دے کہ میں نے برٰی کردیا یا اس مکان کے جھگڑے سے یا اپنے دعوٰی سے میں نے بری کردیا، تو اب ا س کا دعوٰی اور گواہی قابل سماعت نہ ہوگی۔ (ت)
(۲؎قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار  کتاب الصلح     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۱۶۲)
فی البزازیۃ عن المحیط لوابراء احد الورثۃ الباقیۃ ثم ادعی الترکۃ وانکرلاتسمع دعواہ ۳؎۔ تنقیح حامدیہ جلد ثانی ص ۵۴ سطر ۹ کتاب الاقرار۔
کتا ب الصلح میں بزازیہ سے بحولہ محیط منقول ہے، کہ اگر ایک وارث باقی وارثوں کو بری کرکے پھر بعد میں ترکہ پر دعوٰی کرے تو مسموع نہ ہوگا (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ    کتاب الاقرار     ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲ /۵۴)
فی البزازیۃ ابراء عن الدعاوی ثم ادعی علیہ ارثان عن ابیہ ان کان مات ابوہ قبل الابراء لاتصح والدعوی ۴؎۔ عقود الدریہ فی تنقیح الحامدیہ جلد ثانی کتاب الدعوٰی۔
بزازیہ میں ہے کہ اگر کہا میں اپنے دعووں سے بری کرتاہوں، پھر اس نے دوسرے پر والد کی وراثت کا دعوٰی کردیا، تو اگر بری کرنے سے قبل واد فوت ہو ا تو دعوٰی مسموع نہ ہوگا۔ (ت)
 (۴؎العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ    کتاب الدعوٰی   ارگ بازار قندہار افغانستان     ۲ /۶۳)
وکذٰلک لو قال وھبت الذی لی علیہ من مالی فہو برئ من ذٰلک ۱؎۔
اور یوں ہی اگر کہا میں نے اس پر اپنا مال اس کو ہبہ کیا تو بری ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الاقرار     الباب الرابع عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۲۰۴)
عالمگیریہ جلد ثالث کتا ب الاقرار ص ۵۸۴ اور مدعاعلیہ کا قبضہ قدیم سے بطور امانت یاغصب کے جب ثابت ہے تو شرعا مدعیہ کو کسی طرح حق رجوع حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ رجوع بعد التسلیم کے واسطے قضا یا رضا شرط ہے (بروایت ذیل):
وبعدالتسلیم لیس لہ حق الرجوع فی ذی الرحم المحرم وفیما سوی ذٰلک لہ حق الرجوع الاان بعد التسلم لاینفرد الواھب بالرجوع بل یحتاج فیہ الی القضاء اوالرضاء ۲؎۔
قبضہ دینے کے بعد محرم سے واپس لینے کا اس کو حق نہ ہوگا، اور غیر محرم سے واپسی کاحق ہے مگر قبضہ دینے کے بعد واہب کو خود واپس لینے کا اختیار نہ ہوگا بلکہ قضاء یا باہمی رضامندی ضروری ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الھبۃ    باب الرجوع فی الہبہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۲۴)
تکملہ شامی جلد ثانی ص۳۵۸ سطر، باب الرجوع فی الہبہ، صورت مسئولہ میں رضا مدعا علیہ کی تو ہے نہیں اور صحت قضا کے واسطے صحت دعوٰی شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی جاتی کمامر، پس بوجوہات قویہ بالامدعیۃ کونہ حق رجوع حاصل ہے اور نہ دعوٰی اس کا قابل سماعت ہے خاص کر سلطنت انگلشیہ میں میعاد سماعت ۱۲ سال مقرر ہے اور بناء نہی سلطانی پر سماع دعوٰی زائد المیعاد قضاء تو نافذ نہیں قبضہ مدعا علیہ کا اگر وفات مسماۃ بہرائی سے قرض کیا جائے تب بھی دعوی  مدعیہ زائد المیعادہے کیونکہ وفات اس کی کو ۱۶ سال گزر گئے ہیں اورہبہ نامہ مرقومہ اگر چہ ظاہرا ہبہ مشاع ہے مگر حقیقت میں ابراء ہے(بروایت ذیل):
وحاصل ان الابراء المتعلق بالاعیان اماا ن یکون عن دعواہا وہو صحیح مطلقا وان تعلق بنفسہا فان کانت مغصوبۃ ہالکۃ صح ایضا کالدین وان کانت قائمۃ فہی بمعنی البراءۃ عنہا عن ضمانہا لو ھلکت وتصیر بعد البراءۃ من عینہا کالامۃ اتضمن الابالتعدی علیہا و ان کانت العین امانۃ فالبراءۃ لاتصح دیانۃ بمعنی انہ اذا ظفر بھا مالکھا اخذھا وتصح قضاءً فلایسمع القاضی دعواہ بعد ابراء ھذا ملخص مااستفید من ھذا المقام ۱؎۔
اسی کا حاصل یہ ہے کہ معین موجود چیز سے متعلق بری کرنا، یہ اس پر دعوٰی ہے براءت میں تو وہ مطلقا صحیح ہے، اور اگر نفس چیز معین سے براءت کا تعلق ہو تو اگر چہ وہ چیز مغصوب ہلاک شدہ ہے تو دین کی طرح اس کی براءت صحیح ہے اوروہ چیز موجود ہو تو پھر اس چیز سے براءت کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہلاک ہوجائے تو اس کے ضمان سے براءت ہے اور اس موجود سے برائت کے بعد تو پھر وہ چیز امانت کی طرح ہوگی تو ہلاک کئے بغیر ضمان نہ دے گا، اور وہ چیز امانت پر ہوتو براءت دیانۃ صحیح نہ ہوگی اس معنی سے کہ اگر مالک اس چیز پر قابو پالے تو حاصل کرسکتاہے۔ لیکن قضاء یہ براءت صحیح ہوگی تو برائت کے بعد قاضی اس کے دعوٰی کو نہ سنے گا، اس مقام میں حاصل شدہ فائدہ کا یہ  خلاصہ ہے۔ (ت)
(۱؎ قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار    کتاب الصلح        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۱۶۴)
 (تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۸۳ سطر ۵ کتا ب الصلح) ہبہ نامہ میں اگر چہ لفظ براءت کا صریح نہیں مگر لفظ ہبہ سے بھی براءت ہوسکتی ہے کما مرعن العالمگیریۃ (جیسا کہ عالمگیریہ سے گزرا۔ ت) خصوصا لفظ مندرجہ ہبہ نامہ (کہ کوئی دعوٰی ودخل نہیں ہے اورنہ ہوگا) نص صریح براءت عن الدعوٰی پر ہے جو بالاتفاق صحیح ہے، لہذا شرعا قبضہ مالکانہ مدعاعلیہ رکھ کر دعوی مدعیہ کا قضاء قابل اخراج ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter