| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۱۲۷: از شہر کہنہ گھیر جعفر خان مسئولہ حکیم عرفان علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کو جو اس کی مملوکہ ومقبوضہ ہے اور اس پر متصرف ہے اور تنہا مالک بلاشرکت غیرے ہے باختیار جائز و مالکانہ اس جائداد کو بلااکراہ و اجبار اپنی خواہش سے بنظر دور اندیشی ورفع شر اس امر کے کہ بعدمیری وفات کے کسی قسم کا میری اولاد یعنی ایک بیٹااور ایک بیٹی کے درمیان نزاع اورمخالفت نہ ہو تقسیم کیا اس طور سے ایک حصہ تھوڑی مقدار کا لڑکی کو دیا اور زیادہ مقدار کا لڑکے کو دیا اس وجہ سے کہ لڑکی بالغ ہے اور اس کی شادی بھی ہوگئی ہے او وہ خوشحال حالت میں ہے اور اس کے حصہ کی جائداد پرکوئی خرچ کا بار بھی نہیں پڑے گا، اور لڑکا نابالغ ہے اور اس کی پرورش وتعلیم وشادی سب خرچ اس کا بھی اسی جائداد پر پڑنے والاہے اور نیز حسن سلوک شادی وغمی کا خرچ حسب رواج اس کا بار بھی لڑکے ہی کی جائدا د پر ہے اور اپنا اور اپنی زوجہ کابھی خرچ ماہانہ مقرر کرکے سب لڑکے ہی کے حصہ پر رکھا، تو اب ایسی صورت میں یہ فعل اس کا یعنی تقسیم کرنا جائداد کا بلحاظ حصہ پورا ہونے نہ ہونے فرائض کے صحیح ہے یانہیں؟
الجواب: صحیح بایں معنی کہ وہ کاروائی چل جائے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے تمام وارثوں کا بے خطا بے سبب نان شبینہ کے لئے محتاج چھوڑ کر اپنی تمام املاک کسی راہ چلتے کو دے دے اورا گر یہ مراد کہ ایسی کاروائی کرنی عنداللہ اسے جائز ہے یا اس پر مؤاخذہ ہوگا تو جواب یہ ہے کہ جن مہمل وجوہ پر زید نے ایک قلیل جز بیٹی کو دیا اور باقی تمام جائداد کثیر بیٹے کود ی، یہ ضرور عنداللہ ناجائز ہے اور زید گنہگار اور بیٹی کے حق میں گرفتار ہوا شرع مطہر نے بعد موت بیٹی کا ایک اور بیٹے کے دو حصے رکھے ہیں لیکن زندگی میں تقسیم کرے تو حکم ہے کہ پسر ودختر دونوں کو برابر برابر دے قصداً بلاوجہ شرعی بیٹی کو نقصان دینا جائزنہیں۔ درمختارمیں ہے:
فی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ یسوی بینہم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی ۱؎۔
خانیہ میں ہے : محبت میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اور یونہی عطیات میں بھی بشرطیکہ کسی کو ضرور پہنچانا مقصود نہ ہو،اوریہ بات پیش نظر ہو تو پھر سب کو مساوی دے اور لڑکی کو لڑکے کے برابر دے امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰)
طحطاوی میں ہے :
یکرہ ذٰلک عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ۲؎۔
عطیہ میں فضیلت مکروہ ہے جب اولاد درجہ میں مساوی ہو، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۹۹)
لڑکی کا بالغہ ہونا اس کا کوئی جُرم نہ تھا، نہ شادی ہوجانا اس کی خطا تھی، اور اپنے گھر سے خوشحال ہونا زید کی بخشش نہیں جسے اپنی جائداد دینے میں مجرا لے اور لڑکی کا خرچ اور پر ہونا اور لڑکے پر اور کاخرچ ہونا شریعت زید سے زیادہ جانتی ہے پھر حکم دونوں کو برابر دینے کا فرمایا، اور یہ عذر کہ اپنا اور اپنی زوجہ کا خرچ لڑکے پر رکھا ہے بے معنی ہے اسے حکم شرع ماننا تھا تو دونوں کو برابر دیتا اوراپنا زوجہ کا خرچ دونوں پر یکساں رکھتا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸: از شہر مرسلہ شیخ علی جان صاحب محلہ بھوڑ معرفت حمید اللہ صاحب ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۷ھ چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شخصے املاک نقد وجنس منقولہ خویش باولاد ذکور واناث حسب قواعد شریعت نفقہ کردن می خواہد ویک پسر خود را ازیں تقسیم ارث محروم ساختہ عاق کردہ می شمرد کہ از اطاعت وفرمانبرداری انحراف ورزیدہ واز تعمیل احکام شرعیہ روگردانیدہ بفسق وفجور منہمک شدہ۔ پس از شریعت اجازت می دہد کہ آں فرزند عاق کردہ ازیں ارث چیزے ندہم و او رامحجوب الارث شمرد واز املاک خویش جوے ندہم روز جزا درمواخذہ او ماراگرفت خواہد شد یانہ از اقوال فقہائے احناف جواب شافی عنایت فرمایند۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص اپنی تمام منقولہ وغیر منقولہ اور نقد املاک کو اپنی اولاد نرینہ ومؤنث میں شرعی قواعد کے مطابق نفقہ کے طور پردینا چاہتاہے اور ایک بیٹا جو کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری سے انحراف اور شرعی حکم کی تعمیل سے روگردانی کرتا ہے اور فسق وفجور میں منہمک ہے، پس شریعت اجازت دیتی ہے کہ اس بیٹے کو عاق کرکے اپنی وراثت سے کچھ نہ دوں اور اس کو محروم از وراثت قرار دوں اور اپنی املاک سے جو تک نہ دوں، روز جزا اس میں ہمارا مؤاخذہ اور گرفت ہوگی یا نہ؟ فقہائے احناف کے اقوال سے شافی جواب عنایت فرمائیں (ت)
الجواب: اگر فی الواقع اوفاسق وفاجر است پدر رامیرسد کہ او رامحرم دارد، کما فی الدروغیرہ من السفار الغر، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
اگر فی الواقع وہ فاسق وفاجر ہے تو باپ کو حق ہے کہ اس کو محروم رکھے جیساکہ درمختار وغیرہ روشن کتب میں ہے، واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۱۲۹: مرسلہ مولوی محمد علیم الدین از شہر کانپور مدرسہ دارالعلوم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زندگی میں اپنی زمین مزروعہ (۴۵ بیگھ) کے تین حصے کرکے ایک حصہ بڑے لڑکے کو اور ایک حصہ چھوٹے لڑکے کو دے دیا اور ایک حصہ اپنے واسطے رکھا اور دونوں لڑکوں سے کہہ دیا کہ میرے حصے کو میرے مرنے کے بعد برابر تقسیم کرلینا بعد چند روز کے زید نے اپنا حصہ بڑے لڑکے کو ہبہ کردیا، یہ ہبہ شرعا ہوا یانہیں؟ درصورت صحت چھوٹا لڑکا مجاز فسخ ہے یانہیں؟
الجواب: اگر وہ زمین نامقسم ہے اور بلاتقسیم ایک ایک ثلث دونوں بیٹوں کو دئیے پھر اپنا ثلث بھی ایک کو دے دیا، تو یہ دونوں ہبہ باطل وبے اثر محض ہیں جب تک زید اپنی زندگی میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو اس کے منقسم حصے پر جدا گانہ قبضہ نہ دے، اور اگر بیٹوں کو بلاتقسیم دو ثلث میں شریک کیا تھا اور اپنا حصہ جدا گانہ منقسم رکھا تھا اور اب یہ ثلث بڑے بیٹے کو دے کہ قابض کردیا تو پہلاہبہ باطل ہے جب تک زید اس ٹکڑے کا دوحصے جدا جدا کرکے ہر بیٹے کو قبضہ نہ دے لیکن اس تیسرے ثلث کا ہبہ بڑے بیٹے کے نام بوجہ تقسیم صحیح وتام ہوگیا اس تہائی کا بڑا بیٹا مالک ہوگیا اور وہ دو تہائی اب تک زید کی ملک ہیں، ہاں اگر وہ دونوں حصے جدا جدا پٹی بانٹ کرکے ہر بیٹے کو اس کے حصہ پر قبضہ دے دیا تھا پھر اپنا تہائی بڑے بیٹے کو دے کر قابض کردیا تھا تو ان دو ثلث کا بڑا بیٹا مالک ہوگیا، اپنے ثلث کا چھوٹا بیٹا مالک رہا۔ اس صورت میں چھوٹا بیٹا فسخ کرانے کا مجاز نہیں، اور پہلی دو صورتوں میں فسخ کی حاجت ہی نہیں کہ ہنوز ہبہ ہی تام نہ ہوا،
والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا وفتاوٰی
(یہ مسئلہ متون، شروح اور فتاوٰی میں دائر ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰: از بزم حنفیہ لاہور مرسلہ محمد عبدالحمید صاحب سیکریٹری بزم مذکور ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۷ھ بحضرت فیض درجت ، عظیم البرکت، فاضل کبیر کامل نحریر، امام العلماء المحقیقین، مقدام الفضلاء المدققین، عالم عظیم الشان، اعیلحضرت، مولانا المکرم، ذوالمجدوالکرم، مولانا، مولوی، حاجی، صوفی، حافظ، مفتی محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اللہ فیوضہم، السلام علیکم وعلی من لدیکم، مزاج مقدس! آج یہ فقیر بار شاد فیض رشاد فرمان واجب الاذعان سیدی وآقائی مولٰنا المحترم ذواللطف والکرم حضرت مولوی محمد اکرام الدین البخاری خطیب وامام مسجد وزیر خاں خدمت میں اعلیحضرت دام فیضہم کے چند سطور بتاکید مولٰنا ممدوح تحریر کرتا کہ اعلیحضرت اس مسئلہ متنازعہ کو بہ تشریح تامہ وتفصیل کاملہ صاف وشستہ مبسوط تحریر فرماکر متنازعین کے شکوک کو بدلائل واضحہ رفع فرمادیں گے اور مولٰنا ممدوح نے یہ فرمایا کہ اس مسئلہ کی مختلف صور کی مرجح ومفتی بہ اشکال کے اظہار کا حق صرف اعلیحضرت کے قلم فصیح رقم کو حاصل ہے اور اس پر بہ اثبات حکم محکم فریقین متنازعین کے قلوب میں نورانی جوہر محبت بھرنے گوہر ڈال دینے نااتفاقی وکشیدگی کے توہمات کو نکال دینے کا اعلیحضرت ہی کو شرف حاصل ہے پس ارشاد مولٰنا ممدوح معروض بخدمت حق اقدس ہوں کہ جس ہبہ وتملیک کی رجسٹری بذریعہ گورنمنٹ ہوچکی ہے اور وہ برائے ملاحظہ حضرت بلفظہٖ ناقل رجسٹری ہبہ شدہ ارسال خدمت ہے کہ بعد وفات موہوب لہ کے واہب نے بھی زندہ رہ کر اس موہوبہ مکان کو واپس نہ کیا اور وہ موہوب لہ کی اولاد کے قبضہ میں ہی رہا، اب واہب کے مرجانےکے بعد(عہ) ہمشیرہ دعوٰی دخلیابی کا کرکے موہوب لہ کے پسماندگان بیوہ و یتامٰی سے موہوبہ مکان کو بعد گزرجانے ۲۷ برس ہبہ شدہ کا رجوع کرانا چاہتی ہے بحالیکہ ہبہ وتملیک کردینے کے بعد واہب نے اگرچہ موہوب لہ کا وہ باپ تھا علیحدہ کرایہ نامہ تحریر کردیا اور واپس نہ کرایا اور بطور کرایہ دار اسی میں سکونت کرتارہا اور ۶ برس تک زندہ رہا۔
عہ: لفظ ''بعد'' قلم ناسخ سے چھوٹ گیا، عبدالمنان اعظمی
اب مفصل صورت سوال حسب ذیل ہے۔
زید عمرو بکر ہندہ
(نظر محمد) (جان محمد) (خیر محمد)
زید نے اپن حیں حیات میں بلاکراہ واجبار برضامندی خود اپنا ایک مکان زر خریدہ خود اپنے بیٹے خورد نامی عمرو (جان محمد) کے نام ہبہ تملیک بشرائط چندے رجسٹری کردیا جس کا خود واہب بدیں الفاظ مقر ہے کہ:
(۱) مکان موہوبہ ملکیت عمرو ہے
(۲) عمرو کو ہر طرح کا حق حاصل ہے کہ میری حیات میں اور بعد ممات کے اس مکان کو بیع ورہن کرکراسکتاہے۔
(۳) مکان مذکور میں میرا یامیرے دیگر کسی لواحق کا حق خا خدشہ ہرگزنہیں، مکان مذکور میرا ذاتی ملکیت ہے جو عمرو کے نام ہبہ کردیا ہے کہ اب اصل مالک وہی ہے
(۴) زید کی حین حیات میں اس کا بیٹاعمرو فوت ہوگیا اور دوسرا بیٹابکر زندہ رہا اور عمرو کا باپ زید عرصہ ۶ سال بعد وفات عمرو زندہ رہا اور موہوب شدہ مکان کو زید واہب نے اپنی حین حیا ت میں بھی واپس نہیں لیا بلکہ زید کی موجودگی میں بھی وہ مکان صرف عمرو کی اولاد وبیوہ کے قبضہ میں رہا اور وہی اس کے کرایہ وغیرہ کوحاصل کرتے رہے، پھر زید یعنی اصل واہب فوت ہوگیا، موجودگان از زید اصل واہب متوفی، بکر (خیر محمد) ہندہ، بکر جو واہب متوفی کا بڑا بیٹا ہے اور ہندہ جوواہب کی بیٹی ہے اور موہوب لہ متوفی کے یہ ہر دو موجودہ حقیقی ہیں اور ہندہ موہوب لہ متوفی کی اولاد کی پھوپھی ہے زندہ موجود ہیں۔
(۵) بکر کا بیان ہے کہ جو کچھ میرا باپ زید میرے حقیقی بھائی عمرو کے نام مکان مذکور ہبہ و تملیک کرچکا ہے اور نیز اس نے بعد وفات عمرو کے اس ہبہ وتملیک کو واپس نہیں لیا، لہذا یہ ساختہ پر داختہ میرے باپ زید متوفی کا مجھ کو منظور ومقبول ہے، یہ مکان ملکیت عمرو کا ہوچکا ہے اس کے بعد اس کی اولاد وارث ہے
(۶) عمرو کی بہن ہندہ یہ دعوٰی کرتی ہے کہ یہ ہبہ وتملیک رجوع ہوسکتاہے اور اس ہبہ شدہ مکان کو عمرو کی اولاد کے قبضہ میں جائز گردانتی ہے۔
پس مندرجہ بالاصورت متنازعہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہبہ جو تملیک بنام عمرو ہوچکا ہے اور جس کو خود واہب زید نے بعد فوتگی عمرو موہوب لہ کے واپس لینے کا ارادہ ہی نہ کیا اب موہوب لہ اور واہب کے فوت ہوجانے کے بعد جس کو ۱۲ برس سے زیادہ گزر گئے اجبار قابل رجوع ہے یانہیں (اجبارا) اور ان صورتوں میں شریعت مطہرہ کو کیا حکم ہے پس اس اہم مسئلہ کومفصل ومشرح تحریر فرماکر مشکور فرمائیں، عندالحنفیہ ہبہ وتملیک کا رجوع جائز ہے یانہیں؟