فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
47 - 120
مسئلہ ۱۱۹: ا ز بجنور مرسلہ مولوی محسن علی خاں صاحب منصف ۱۰ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے زیور نقرئی و طلائی اور ظروف دیگر وسامان اس نیت وارادہ سے تیار کرایا کہ وہ اپنی دختر ناکتخدا کے عقدنکاح کے بعد رخصت کے وقت جہیز میں دے گا، چنانچہ بعض لوگوں کویہ سامان دکھلا کر یہی بیان بھی کیا مگر قبل اس کے کہ نوبت عقد ورخصت دختر مذکور کی پہنچے اس نے قضا کی ایسی حالت میں وہ زیور ظروف وسامان ترکہ متوفی قرار پائے یادختر مذکور تنہا اس کی مالک ومستحق سمجھی جائے۔
الجواب:کوئی تملیک محض نیت وارادہ سے نہیں ہوسکتی نہ مجرد اظہار ارادہ کہ میں نے ا س لئے بنوائے یا یہ مال فلاں کو دوں گا کوئی اثر ملک پیدا کرسکے۔
اصلاح وایضاح میں ہے:
الھبۃ ھی فی الشرع تملیک مال للحال بلاعوض ۱؎۔
شرع میں فی الحال مال کا بغیر عوض کے لئے مالک بنانا ہبہ کہلاتاہے۔ (ت)
(۱؎ اصلاح وایضاح)
بلکہ اگر دختر اس جہیز کے تیار کراتے وقت بالغہ تھی یعنی اسے حیض آلیا تھا یاپندرہ سال کامل کی عمر ہوچکی تھی او رجہیز بنواکر اس کے باپ نے صریح الفاظ تملیک بھی کہہ دئے ہوں، مثلا میں نے اپنی دختر فلانہ کو اس مال کا مالک کیا، جب بھی ازانجا کہ قبضہ دینے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوگیا کہ جہیز پر قبضہ وقت رخصت دیاجاتاہے۔ یہاں ابھی عقد بھی نہ ہوا تھا وہ ہبہ باطل محض ہوگیا، بہرحال وہ مال تمام وکمال متروکہ متوفی ہے، ہاں اگر لڑکی اس وقت نابالغہ تھی یعنی نہ اسے آثار بلوغ پیدا ہوئے تھے نہ پورے پندرہ برس کی عمر ہوئی تھی اور اس نے اس کے واسطے جہیز بنوایا یاکہا میں نے اسے اس کامالک کیا، یا یہ اس کا ہے۔ یا اتنا ہی کہا کہ یہ میں نے اس کے لئے بنوایا ہے۔ تو ضرور کل مال یا ا س میں سے جس خاص شیئ کی نسبت یہ لفظ صادر ہوئے تھے ملک دختر ہے اگرچہ قبضہ دختر نہ ہوا کہ نابالغ کے لئے باپ کا قبضہ کافی ہے۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واھبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو کان کبیر ا لم یصر مسلما الیہ الابعد الخیاطۃ والتسلیم ولو قال اشتریت ھذا لہ صارملکا لہ کذا فی القنیۃ ۱؎۔
کپڑا خریدکر کاٹا اور نابالغ بیٹے کو سلے بغیر دے دیا تو ہبہ ہوگیا اور اگر بالغ بیٹے کے لئے ایسا کیا تو سلائی اور قبضہ دئے بغیر ہبہ نہ ہوگا اور اگر کہا میں نے بیٹے کے لئے خریدا ہے تو بیٹے کی ملک ہوجائے گا قنیہ میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۲)
فتاوٰی ولوالجیہ پھر منح الغفار پھر ردالمحتار اورینابیع پھر ہندیہ میں ہے:
واللفظ للشامی جہز الاب ابنتہ ثم بقیۃ الورثۃ یطلبون القسمۃ منہا فان کان الاب اشترٰی لہا فی صغرہا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذٰلک فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
الفاظ شامی کے ہیںـ: والد نے بیٹی کو جہیزدیا اور والد کی وفات کے بعد باقی ورثاء اس جہیز میں حصہ کے طالب ہوئے تو اگر والد نے اپنی صحت میں بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے خرید کر قبضہ دے دیا تھا تو ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۶)
مسئلہ ۱۲۰: مسئولہ حاجی لعل خان صاحب، تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ حبیبن بی بی و صحیبن بی بی دختران شیخ امیر بخش مرحوم بروز پنجشنبہ ۲ صفر ۱۳۳۴ھ
سوال اول: امیر بخش مرحوم نے بحالت حیات کسی مصلحت سے ایک لڑکے مسمی اصغر حسین کو جدا کردیا اور تجارتی مال کا پانچواں حصہ ان کو دے دیا اور چار حصہ یعنی بقیہ کل مال بلاتقسیم اپنے قبضہ میں رکھا اور چار لڑکیاں جو دو محل سے موجود تھیں ان کو کچھ نہیں دیا، آیا ایسی تقسیم شرعاً درست ہے؟ اورباپ کے مال میں کیا لڑکیاں شرعا حقدرانہیں ہیں؟
الجواب: ایک لڑکے کو پانچواں حصہ دینا باقی بیٹیوں کو نہ دینا اگر اس وجہ سے ہو کہ وہ لڑکا اوروں پر فضل دینی رکھتاہے تو حرج نہیں
کما فی الدرالمختار والعالمگیریۃ
(جیسا کہ درمختار اور عالمگیریہ میں ہے۔ ت) ورنہ حدیث میں اسے ظلم فرمایا:
اکل بنیک نحلت مثل ھذا قال لاقال لاتشہد نی علی جور۱؎۔
کیا تونے تمام بیٹوں کو اس کی مثل عطیہ دیا ہے عرض کی نہیں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا: مجھے ظلم پر گواہ نہ بنا۔ (ت)
(۱؎ سنن النسائی کتا ب النحل نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۱۳۵)
(مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر دارالفکر بیروت ۴/ ۲۶۸)
مگریہ امر دیانۃً ہے، قضاءً باقی اولاد اس پر دعوٰی نہیں کرسکتی
لان الملک مطلق للتصرف
(کیونکہ ملکیت تصرف کی آزادی دیتی ہے۔ ت) نہ اس سے یہی سمجھ میں آ ۤتا ہے کہ امیر بخش نے بیٹیوں کو محروم کرنا چاہا ہے کہ اس نے اور بیٹوں کو بھی نہ دیا نہ کل مال اصغر حسین کو دے دیا کہ اوروں کا حرمان مفہوم ہو واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایضا سوال چہارم
مورث کے مشترکہ ترکہ کو اگر قبل تقسیم کے بعض وارث بلااسترضائے دیگر ورثہ کے کلاً یا جزءً کسی غیر کو ہبہ کردیں تو یہ ہبہ شرعا درست ہوگا یانہیں؟ اگر درست نہیں ہے تو کیا ہمارے بھائیوں پر واجب نہیں ہے کہ اس غلط تقسیم کو مستردکرکے دوبارہ فرائض کے مطابق ترکہ تقسیم کردیں اور جس کا جس قدر حصہ رسدی ہواس کو پہنچادیں۔
الجواب: مال مشترک اگر غیر قابل قسمت ہے اور اس نے صرف اپنا حصہ ہبہ کیا تو صحیح ونافذ ہوگیا، باقی ورثاء اپنا حصہ اس میں سے لے سکتے ہیں اور اگر وہ کل شیئ مشترک ہے اور ایک شریک نے کسی کو ہبہ کردی تو اس کے اپنے حصہ میں ہبہ نافذ ہوگیا اور دوسرے شرکاء کے حصوں کا ہبہ ان کی اجازت پرموقوف رہا، اگر وہ عاقل بالغ ہوں ورنہ باطل ،
لانہ عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ وقت العقد۔
کیونکہ یہ عقد فضولی سے صادر ہواجبکہ عقد کے وقت اس کوجائز قرار دینے والا کوئی نہ تھا۔ (ت)
اوراگر وہ شے قابل قسمت ہے اور اس نے اپنا حصہ قبل تقسیم ہبہ کیا تو وہ ہبہ محض بے اثر ہے کہ قبضہ سے بھی مفید نہ ہوگا مگر اس کا فسخ اس پر لازم نہیں، اسے جائز ہے کہ بعد تقسیم اپنے حصہ پر موہوب لہ کو قبضہ دے دے اور تکمیل ہبہ کردے، ا س کا استرداد واہب کا حق ہے نہ کہ واہب پر حق، ہاں دوسروں کے حصوں میں مزاحمت نہ کرنا اس پر واجب اور اگر شے قابل قسمت ہے اور اس نے کل ہبہ کردی تو یہ وہی ہبہ فضولی کی صورت ہے، اوراگر بقیہ شرکاء سب عاقل بالغ ہوں اورجائز کردیں تو جائز ہوجائے گا۔
کما لو وھب اثنان دارا من واحد جاز کما فی الدروغیرہ ۱؎
جیسے دو افراد ایک شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
اور اگر اس میں ایک شخص بھی اجازت سے دست کش یا غیر مکلف ہوگا تو اس کل میں ہبہ باطل ہے یعنی بے اثر ونامفید ملک، بہرحال کسی صورت میں بھائی یہ اختیار نہیں رکھتے کہ بہنوں کو محروم کردیں، ان کا مال بے اجازت کے کسی کو دے دیں،
قال تعالٰی
لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸)
مسئلہ ۱۲۲: از سنھبل محلہ کوٹ شرقی ضلع مرادآباد مسئولہ محمد جمیل صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ روز دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو زیور یالباس وقت عقد یا بعد عقد زوج اپنی زوجہ کو استعمال کے واسطے دے وہ امانت شمار ہوگا یا ہبہ؟ او ران دونوں صورتوں میں واپس لے سکتا ہے یانہیں؟ اور نیز وہ زیور کہ جو زوجہ کے باپ کے یہاں کا تھا او رشوہر نے اپنے پاس سے کچھ اور چاندی یا سونا ڈال کر بڑھادیا ہو اس کا کیاحکم ہے آیا ہبہ ہے یا امانت ؟ بینوا توجروا
الجواب : جو کچھ شوہر نے استعمال کے لئے دیا وہ ملک شوہر ہے مگریہ کہ دلالت تملیک پائی جائے خواہ لفظاً یا عرفاً، اور عورت کا قبضہ ہوجائے تو اب وہ ملک زوجہ ہوجائے گا اور اب اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا
لان الزوجیۃ من موانع الرجوع
(کیونکہ زوجیت موانع رجوع میں سے ہے۔ ت) جہیز میں جو زیور وغیرہ عورت کو ملتاہے وہ یقینا ملک زن ہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
کل احد یعلم ان الجہاز ملک المرأ ۃ لاحق لاحد فیہ ۱؎۔
ہر ایک کو معلوم ہے کہ جہیز عورت کی ملک ہوتاہے اس میں کسی کاحق نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۸)
(۲؎ردالمحتار کتاب النکاح باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۵۳)
اس نے جو کچھ اور اس میں ڈلواکر بڑھوادیا ظاہرااس سے مقصود مالک کردینا ہی ہوتاہے اگر یوں ہو اور قبضہ تامہ پایا جائے تو ملک زوجہ ہوجائے گا ورنہ نہیں
فان الظاھر حجۃ للدفع لا للاستحقاق
(ظاہر دفاع کے لئے حجت ہوتاہے استحقاق کےلئے نہیں۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳: مشاع کی تعریف کیا ہے؟ فقط
الجواب
ایک شیئ دو یاچند اشخاص کو بلاتقسیم ہبہ کی جائے اگرچہ حصے نامزد کردے جائیں کہ نصف نصف یا ایک کو ثلث اور دوسرے کو دو ثلث یا اپنی ملک کا کوئی حصہ غیر معینہ غیر ممتازہ مثلانصف، ثلث، ربع، وغیرہ کسی شخص کو ہبہ کرے یا اپنی پوری ملک ہبہ کرے مگریہ خود کسی شے کے ویسے ہی غیر معین حصے نصف وغیرہ کا مالک ہو، یہ سب ہبہ مشاع ہیں پھر اگر وہ چیز ناقابل تقسیم ہے تو جائز۔ ورنہ نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: مرسلہ محمد نجم الدین صاحب محلہ رفعت پورہ مراد آباد ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدبقضائے الہی اچانک فوت ہوگیا او وہ ایک دولتمند شخص تھا اور اس نے جائدادمنقولہ وغیر منقولہ چھوڑی اور کل پانچ وارث چھوڑے دو دختران اور ایک پسراور ایک والدہ اور ایک زوجہ ثانی لاولد جو اس کے عقد میں قریب آٹھ برس کے تھی، متوفی مذکور نے نکاح کے وقت کچھ زیور تیار کراکر زوجہ مذکور کو دیا تھا وہ اس کے قبضہ میں ہے، اس کے علاوہ اور زیور بھی تیار کراکر وقتافوقتا زوجہ مذکورہ کو دیتا رہا جو زوجہ مذکورہ کے قبضہ وتصرف میں ہے اور وہ اس کی زکوٰۃ بھی ادا کرتی ہے پھر پندرہ سو روپے نقد واسطے زیور تیار کرانے کے زوجہ مذکورہ کو دئے تھے جواس کے قبضہ میں ہے، لیکن تعمیر مکان کی ضرورت سے بطور قرض کے متوفی مذکور نے زوجہ مذکور ہ سے لئے تھے، اور کلکتہ جاکر ایک ہزاروپے کا نوٹ معرفت حاجی محمد خلیل کے زوجہ مذکورہ کے پاس بھیج دیا، پانسو روپے منجملہ اس کے باقی رہ گئے، نیز زوجہ مذکورہ اپنے والدین کے یہاں جب مراد آباد آتی تھی او را س کے عزیز واقارب سے اس کو نقد ملتا تھا اس کا پارچہ وبرتن وغیرہ خرید کر لے جاتی تھی جو اس کے تصرف میں ہے، نیز نقد و زیور کے علاوہ متوفی مذکور زوجہ مذکورہ کو اکثر اشیاء لاکر دیتا رہتا تھا اور اپنی دختران وپسر کو اس کے علاوہ دیتا رہتا تھا۔
پس صورت مذکورہ میں جو اسباب ونقد زیور وغیرہ متوفی مذکور نے اپنی حیات میں زوجہ مذکورہ کو دیا ہے اور اب تک اس کے قبضہ وتصرف میں ہے وہ ترکہ متوفی سے علیحدہ ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
زیور خواہ نقد خواہ کسی قسم کا مال جو زید اپنی زوجہ کو بطور تملیک دیتا تھا اس کی مالک زوجہ ہے، وہ ترکہ نہیں ہوسکتا۔ تملیک ثابت ہونا درکار ہے خواہ صراحۃً یا دلالۃً بغیر اس کے دعوی ملک مسموع نہیں، مثلا اگر وہ پندرہ سو روپے قرض کہہ کر مانگے تو ضرور ثابت ہوا کہ ملک کردئے تھے، یوہیں اگر اس کی عادت سے ثابت ہو کہ ان لوگوں کو ایسا دینا بطور تملیک ہی کرتا تھا یہی لوگ اس کے مالک سمجھے جاتے تھے تو بیٹی بیٹے زوجہ جس کو جو دیا وہ اس کا مالک ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۵: ازسہارنپور محلہ قاضی مرسلہ ریاضت احمد صدیقی ۱۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک عورت مرگئی اور اس نے ایک دختر ا ور ایک برادر حقیقی دو وارث چھوڑے، متوفیہ کے بھائی نے اپنا شرعی حصہ جو اس کو بہن سے پہنچا تھا اپنی بھانجی کو دے دیا اور اس کے نام پر داخل خارج بھی کاغذات سرکاری میں کرایا اب چند سال کے بعدناراض ہوکر اس دی ہوئی جائداد واسباب کو واپس لینا چاہتاہے۔ کیا شرعا اس اسباب وجائداد کو واپس لینے کا بھانجی سے حق حاصل ہے کہ جس کا اپنی خوشی ورضا مندی سے مالک بنادیا ہو۔
الجواب: اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترک جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتا، جیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا اور ماموں کو اس سے واپس لینے کا کوئی حق نہیں اور اگر شیئ قابل قسمت تھی اوربلاتقسیم ہبہ کیا اور اب تک تقسیم کرکے قبضہ نہ دیا تو ہبہ تمام نہ ہوا، اور مالک بنانا ہبہ نہیں (عہ) اسے واپس لے سکتاہے ۔
عہ : اصل میں ''ہبہ نہیں'' کالفظ قلم ناسخ سے چھوٹ گیا۔
قابل تقسیم چیز کا ہبہ تام نہیں ہوتااگرچہ شریک کو ہبہ کیا ہو کیونکہ اس پر کامل قبضہ کا تصو ر نہیں ہوسکتا جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا یہی مذہب ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
مسئلہ ۱۲۶: از قصبہ کہورٹی ضلع ساگر قسمت جبل پور ممالک متوسط مرسلہ ابراہیم ولد قمر علی ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ابراہیم کے والد قمر علی تین بھائی حقیقی تھے، منجملہ ہر سہ بھائیوں کے ایک لاولد تھے جن کا نام نعمان حسن تھا، میرے چچا یعنی نعمان حسن نے نکاح ایک بیوہ عورت سے کیا جس کے ہمراہ لڑکا آیا۔ لڑکے کی عمر اس وقت ۵ سال کی تھی۔
ۤۤآپ کو تکلیف دیتاہوں کہ جو کاغذات نقل یعنی فیصلہ کچہری شرع شریف ہوا ہے وہ خدمت میں آنجناب کی ارسال ہے بہ نظر ترحّم کاغذات کو ملاحظہ فرما کر اطلاع دیجئے گاآیا وہ جائداد کا مستحق ہوسکتا ہے یانہیں؟ نعمان حسن نے اس لڑکے کو متبنی نہیں کیا تھا اور اس نے کچہری میں یہی بیان کیا کہ نعمان حسن نے مجھے متبنی کیا، کاغذات متبنی کرنے کے موجود نہیں ہیں جو ہبہ نامہ پیش کیا گیا ہے وہ مصنوعی بناہوا ہے، نہ تو اس میں کوئی گواہ ہے اور نہ حاکم وقت کے دستخط ہیں، نہ تاریخ ہے، غلام عباس متبنی فوت ہوچکا ہے، اور زوجہ نعمان حسن بھی فوت ہوچکی ہے۔
الجواب: شریعت میں متبنی کوئی چیز نہیں۔ قال اﷲ تعالٰی
وما جعل ادعیائکم ابنائکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۴)
وقال تعالٰی
لکیلا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیائہم ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: تاکہ مومنین پر ان کی بیویوں کے دعاوی میں حرج نہ ہو۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۳۷)
نرا کاغذ اگرچہ اس میں تاریخ وتحریر گواہان ودستخط حاکم بھی ہوں شرعاً اصلاً کوئی چیز نہیں اور محض اس کی بناء پر ہبہ ماننا باطل اور ایسا فیصلہ محض خلاف شرع۔
اشباہ والنظائرمیں ہے:
لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ فلایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ الخطوط القضاۃ الماضین لان القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما فی وقف الخانیۃ ۳؎۔
خط پر نہ اعتماد ہے نہ اس پر عمل کیا جائے گا لہذا وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کے خطوط ہیں قابل عمل نہ ہوگا، کیونکہ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے، جیسا کہ خانیہ کے وقف میں ہے۔ (ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۳۸)
عجب تر یہ ہے کہ مفتی صاحب حاکم سرونج نے فیصلہ میں حکم یہ لکھا کہ ''باغ وزمین مستدعویہ کے تین حصے مساوی کئے جائیں، تیسرا حصہ ہبہ غلام عباس کو دلا یا جائے'' جبکہ وہ باغ وزمین اب تک مشترک غیر منقسم تھی اور نعمان حسن بلاتقسیم مرگیا تو اگر غلام عباس کو واقعی ہبہ ہوا تھا تو باطل ہوگیا۔
درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۴؎۔
میم سے ''فریقین میں سے ایک کی قبضہ کے بعد موت'' مرا دہے، اور اگر قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہوجاتا ہے۔ (ت)
(۴؎ درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
بہر حال فیصلہ غلط ہوا غلام عباس کا اس باغ وزمین میں حق نہیں، وہ صرف وارثان شرعی کا حق ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم