Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
46 - 120
مسئلہ ۱۱۴: از کانپور مچھلی بازار آوردہ محمد شریف صاحب ۱۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی حیات میں جو جائداد غیر منقولہ خرید کی وہ کچھ اپنے نام سے او رکچھ اپنے دو پسران نابالغ کے نام سے خرید کی اورہمیشہ ہردو جائداد پر بکر  قابض رہا اور اس کی آمدنی کرایہ بھی بکر اپنے تصرف میں لایا، بکر نے جو جائداد نابالغ لڑکوں کے نام سے بیعنامہ کرائی تھی اس کی از سرنو تعمیر ومرمت بکر نے اپنے روپے سے کی، جیسے اپنی جائداد کی کرتا تھا، کوئی حساب علیحدہ نابالغان کے نام جائداد کانہیں رکھا۔ بکر تجارت پیشہ تھا او راس کی تجارت کا مقام کلکتہ میں تھا اور جائداد دوسرے مقام میں تھی، بکر نے انتظام جائداد غیرمنقولہ کل وصولیت کرایہ ومرمت واز سرنو تعمیر جن لوگوں کے سپرد کیا تھا ان کو بھی بکر کی کوئی ہدایت ایسی نہ تھی کہ ہر دوجائداد کی مرمت وکرایہ وغیرہ کا حساب علیحدہ رکھا جائے، کچھ کرایہ دار ازنام نابالغان والی جائداد کے ایسے ہیں جن کا بکر سے تجارتی کاروبار تھا، ہمیشہ ان لوگوں نے کرایہ وآمد مال بکر کا ایک ہی ساتھ میں بکر کے نام سے جمع کیا یعنی اپنے بہی کھاتہ میں لکھا اور اس کا روپیہ بھی بکر ہی کو دیا اور بکر نے کبھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بکر نے ۱۹۰۹ء و ۱۹۱۰ء میں دو یادداشتیں بطور چٹھا کے بنائیں اور اس میں کل جائداد اپنی اور جو دولڑکوں کے نام ہے اس کی قیمت لکھی، اور جو روپیہ نقد وازقسم نوٹ وغیرہ تھے وہ لکھے اور لینا دینا جو لوگوں کے ذمہ تھا وہ لکھا، بکر ۱۹۱۱ء میں بیمار ہوکرشروع ۱۹۱۲ء میں قضائے الہٰی سے فوت ہوگیا اور اپنے وارثان چند لڑکے اور لڑکیاں اور زوجہ کو چھوڑا، اب بحکم شرع شریف وہ جائداد جوان دوپسروں کے نام ہے وہ کل وارثان پر تقسیم ہوگی یا اس کے وہی دوپسران مالک رہے ؟ فقط
الجواب : بکر نے اگرچہ جائداد خریدی مگر آپ خرید کر اپنے دو بچوں کے نام بیعنامہ کرانا اس کی طرف سے ان کے لئے ہبہ ہے، 

منح الغفار وردالمحتارمیں ہے:
اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذٰلک فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۱؎۔
بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے کوئی چیز والدنے خرید کر قبضہ دے دیا اور والد نے یہ عمل اپنی صحت و تندرستی میں کیا تو ورثاء کا اس چیز پر کوئی دخل نہ ہوگا وہ خالص بیٹی کی ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتا ب العاریۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۶)
سائل نے زبانی اظہار کیا کہ وہ جائداد بچوں کے نام خریدی دو مکان ہیں ہر ایک بڑا اور قابل تقسیم ہے اور ہر ایک میں دونوں لڑکے بلاتقسیم شریک رکھے گئے ہیں، ایسا ہے تو یہ ہبہ مشاع ہوااور ہبہ مشاع باطل ہے۔ جب بکر بلاتقسیم بے قبضہ تقسیم دینے کے مرگیا ہبہ معدوم محض ہوگیا۔ اور ان مکانوں میں بچوں کا کوئی حق سوائے وراثت نہ رہا، تنویرا لابصارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۱؎۔
اگر دوافراد نے اپنا مکان ایک شخص کو ہبہ کیا تو یہ صحیح ہے اگر اس کا عکس ہو توصحیح نہیں۔ (ت)
 (۱؎درمختار    کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۱)
ردالمحتارمیں علامہ خیر رملی سے ہے:
لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحد ھما کبیرا والاٰخر صغیرا ۲؎۔
دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایک بالغ دوسرا نابالغ ان سب صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الھبۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۱۴)
درمختار موانع رجوع میں ہےـ:
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل۔ ۳؎
''م '' سے مراد ''فریقین میں سے ایک کی بعد از قبضہ موت ہے'' اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار      کتاب الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۱)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ زبانی خریداری میں بچوں کانام نہ لیا اپنے لئے یا مطلق خریدا اور بیعنامہ میں بچوں کا نام لکھا دیا کہ اس صورت میں ملک بکر کی ہوئی اور ان کے نام کرادینا بکر کی طرف سے ان کو ہبہ اور عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے، ہاں اگر یہ صورت ہوئی ہو کہ نفس گفتگوئے خریداری  میں بچوں کے نام خریدا مثلا بائع سے کہا کہ یہ مکان اتنی قیمت پرمیرے ان دو بچوں کے ہاتھ بیع کردے، اس نے کہا میں نے ان کے ہاتھ بیع کئے، اس نے کہا میں نے ان کی طر ف سے قبول کئے، تو اس صورت میں اصل بیع ان دونوں کے نام ہوئی اور وہی اصالۃً ان مکانوں کے مالک ہوئے، زرثمن کہ بکر نے اپنے پاس سے ادا کیا وہ تبرع و احسان ہوا جس کا معاوضہ نہیں، اس تقدیر پر بیشک دونوں مکان ملک نابالغان ہیں اور تمام کاروبار و کاغذا ت حساب وکتاب میں بکر کا ان کو اپنی ملک سے جدا نہ شمار کرنا کچھ مضر نہیں کہ بحکم ولایت اسے اس کا اختیار تھا یہاں تک کہ متولی وقف کو بوجہ ولایت ہی اپنی ملک سے تعبیر کرتا ہے وکیل ملک موکل کو اپنی ملک کہتاہے 

عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۱؎۔
اگر محدود زمین پر اپنا دعوٰی کیا اور پھر بعد میں اس زمین کے وقف ہونے کا دعوٰی کیا تو اس صورت کا صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اپنی تولیت میں وقف کا دعوٰی کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادتاً وقف تصرف اور خصومت میں متولی کی طرف منسوب ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الوقف الباب السادس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۳۱)
اور اگر فرض کیجئے کہ اس سے بکر کی مراد ان مکانوں کا خود مالک بننا ہی تھا، جب اصل گفتگوئے بیع لڑکوں کے نام ہوئی ان کی ملک ثابت ہوگئی، پھر بکر اسے اپنے نام کیونکر منتقل کرسکتا ہے، اس صورت میں مکان وراثت سے بری ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: مستفسرہ عبداللہ صاحب بہاری بروز چہارم شنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکے کی شادی ہوئی، قریب عمر ۹، ۱۰ برس کے تھی، نکاح کی اجازت لڑکی کے والد نے دی اور اس برات میں آپس میں نزاع ہوگئی، نکاح دو دن نہیں ہوا، تیسرے دن وقت ۱۰ بجے دن کے نکاح ہوا، بعد مغرب ۸ بجے رات کو رخصت لڑکی کو کرکے ۹ بجے واپس چلی گئی، بعد دو سال کے لڑکے کا انتقال ہوگیا،بروقت جنازہ تیار ہونے کے لڑکی کے باپ نے مہر معاف کیا، اب جو مال یعنی زیور جولڑکے کے والد نے شادی میں چڑھایا تھا وہ طلب کرتاہے تو لڑکی کا والد کہتا ہے کہ میرا مہر دو جب دوں گا، اب اس حالت میں جائز ہے یانہیں؟ شرع سے جو حکم ہو وہ تحریر ہوجائے۔
الجواب: اگرلڑکی نابالغہ تھی او رباپ نے مہر معاف کیا تویہ معافی محض باطل ہے اور مہر کا اپنی دختر کے لئے اسے مطالبہ پہنچتاہے، یونہی اگر وقت معافی مہر دختر بالغہ تھی او رباپ نے اس کی اجازت کے بغیر معاف کیا بعد معافی عورت نے اسے جائز کہا، جب بھی مہر معاف نہ ہوا اور مطالبہ صحیح ہے ہاں اگر وقت معافی دختر بالغہ تھی اور اس کی اجازت سے باپ نے معاف کیا یابعد کو اس نے یہ معافی منظور کرلی تو مہر معاف ہوگیا اب اس کا مطالبہ نہیں ہوسکتا، نہ اب اس کے لئے چڑھاوا روک سکتاہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۶: ا زشاہجہان پور محلہ باڑوزنی مرسلہ جناب عبدالغنی صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۳ھ

زید نے اپنے حین حیات وصحت ذات وثبات عقل میں چند ظروف مسی وغیرہ پر اپنے بیٹے عمرو کا نام کندہ کرادیئے اور ظاہر کیا کہ یہ عمرو کے واسطے ہیں، چند مدت کے بعد زید مرگیا، اب وہ ظروف وغیرہ جن پر نام کندہ کئے ہوئے ہیں آیا مال متروکہ مشترکہ میں شامل ہوکر سب وارثوں میں تقسیم ہونگے یا وہ ظروف مستثنٰی کرکے تقسیم ہوگی؟
الجواب

اگر عمرو وقت ہبہ نابالغ تھا ہبہ تمام ہوگیا اور وہ ظروف ملک عمرو ہونگے، ترکہ میں شامل نہ ہوں گے، یونہی اگر عمرو بالغ تھا اور زید نے وہ برتن خالی کرکے اس کے قبضہ میں دے دئے جب بھی وہ متروکہ نہیں، ملک عمرو ہیں، ہاں اگر اس وقت عمرو بالغ تھا اور زید نے ان ظروف کو عمرو کے قبضہ تامہ میں نہ دیا  یہاں تک کہ زید کا انتقال ہوگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیا۔ ظروف مثل باقی متروکات ورثہ پر تقسیم ہوں گے،
والمسائل مشہورۃ وفی عامۃ الکتب مسطورۃ
(اوریہ مسائل مشہور ہیں اور عام کتب میں موجودہیں۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷: از چند وسی ضلع مرادآباد، سرتاج علی خاں طالب علم درجہ نہم (ایس۔ ایس۔ ایم) ہائی اسکول چندوسی ۴ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ

ایک مسماۃ نے اپنا چھٹا حصہ جو کہ شرعاً اسکے بیٹے کے ترکہ میں سے اس کی موجودگی میں مرجانے کی وجہ سے نکلتاتھا یہ صحت نفس وثبات عقل اپنے یتیم پوتوں اور بیوہ بہو پر از راہ شفقت بخشش کیا اور قبضہ مالکانہ بھی دلادیا، اب اس کا بیٹا یعنی اس کے پوتوں کا چچا اس چھٹا حصہ کو مانگتاہے اور مسماۃ کے انتقال کو عرصہ ۴ برس کا ہوا، دریافت طلب یہ امر ہے کہ شرع نے اس حق درحق کی میعاد کتنی مقرر کی ہے یعنی کتنے دنوں تک یہ حق لیا جاسکتاہے؟
الجواب: سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ اس کا چھٹا حصہ کیا ہے اور اس کا چھٹاحصہ کہ عورت کو پہنچا تھا پوتوں اور بہو پر تقسیم کرنے سے ہر ایک حصہ میں جتنا ٹکڑا پڑے قابل انتفاع رہے گا یا نہیں، اور عورت نے اس کے جد اجدا ٹکڑے کرکے ہر موہوب لہ کو الگ الگ قابض کرایا یامجموعی حالت میں ان سب کو ہبہ کیا، اور وہ پوتے بالغ ہیں یا بعض یا سب نابالغ، اور جو نابالغ ہیں کسی کی پرورش میں ہیں۔ اور ان کی طرف سے کس نے قبضہ کیا، اور وہ بہو اور پوتے سب صاحب نصاب ہیں یعنی ان میں ہر ایک چھپن روپے یا زیادہ کے مال کا مالک ہے، یا بعض صاحب نصاب ہیں بعض فقیر یا سب فقرا، اور یہ چھٹا حصہ کہ ا س نے ہبہ کیا باقی جائداد میں ملا ہوا تھا یا الگ الگ کرلیا تھا، ان تمام باتوں پر جدا احکام ہوں جن کی تفصیل میں طول ہے اور سائل کی غرض صرف ایک صورت سے متعلق ہوگی، لہذا ان آٹھوں باتوں کا جواب مفصل بیان لکھنے پر اس خاص صورت کا جو حکم ہو بتایا جائے گا ان شاء اﷲ تعالٰی واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۸: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور اللہ محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۳ھ

(زید نے اپنے بیٹے بکر کے نام ایک مکان لکھا) بکر سے بحالت مرض الموت بکرکے اس کو رنج دے کر طوعاً وکرہاًبکر کے نام کا مکان زید نے اپنی دوسری زوجہ غیر کفو کے نام لکھا دیا، کیا یہ ہبہ جائز ہے یافاسد؟
الجواب: اگر بکر کے نام کاہبہ صحیح اور قبضہ خالصہ سے تام ہوگیا تھا تو یہ ہبہ بے رضائے مالک ہوا باطل ہے اگر مالک بے اجازت مرگیا، واللہ تعالٰی اعلم
Flag Counter