فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
45 - 120
یہاں جبکہ جائداد قابل قسمت ہے او ر دو شخصوں کوبلاتقسیم ہبہ کی گئی ہبہ مشاع ہوا او رہبہ مشاع ناجائز ہے۔ تنویرمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح و بعکسہ لا ۱؎۔
دو افراد نے ایک شخص کو مکان دیا تو صحیح ہے اور اس کا عکس ہوتو ناجائز ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
درمختارمیں ہے:
للشیوع فیما یحتمل القسمۃ ۲؎
قابل تقسیم چیز میں شیوع کی وجہ سے (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الہبہ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
اور جبکہ تسلیم بالتقسیم سے پہلے واھبہ نے انتقال کیا ہبہ بالاجماع باطل ہوگیا
ای علی مذہبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ و اشار بالاجماع الی ارتفاع النزاع فی ان ھبۃ المشاع فاسدۃ تفید الملک بالقبض ام باطلۃ فلاتفید اصلا و ذٰلک لان الموت قبل التسلیم مبطل اتفاقا ولوھبۃ صحیحۃ فضلاعن فاسدۃ۔
یعنی امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب پر اور اجماع کا اشارہ اس لئے کیا کہ مشاع چیز کا ہبہ فاسد ہو تو قبضہ کے ساتھ مفید ملک ہوگا یا وہ باطل ہو تو ملکیت کےلئے اصلا مفید نہ ہوگا اس بات میں نزاع ختم ہوگیا۔ یہ اس لئے ہے کہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو بالاجماع باطل کردیتی ہے اگرچہ ہبہ صحیح ہو توفاسد کا ذکر ہی کیا رہا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم ولو قبلہ بطل ۔
میم سے فریقین میں سے ایک کی موت قبضہ دینے کے بعد مراد ہےاور موت قبل از تسلم ہو تو باطل ہوجائے گا ۔(ت)
(۳؎درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
سوال اول کا جواب ہوگیا بلکہ یہاں اسی قدر کافی تھا۔
دو م نابالغہ نواسی اگر نانی کے پاس رہتی تھی نانی کے قبضہ میں تھی تو جوہبہ اس کے لئے ہوا نانی کا اس پر قبضہ جائز وموجب تمامی ہبہ تھا، اگرہبہ مشاع نہ ہوتا تو اس صورت میں باپ کا اسی شہر میں موجود ہونا نانی کے قبضہ کا مانع نہیں۔ یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی، ہاں اگر نواسی اس کے قبضہ میں نہ ہو تو باپ کے ہوتے نانی وغیرہ کسی کا قبضہ جائز نہیں۔
درمختارمیں ہے:
ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھو الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ وان لم یکن فی حجرھم وعند عدمہم تتم بقبض من یعولہ کعمہ واجنبی لوفی حجر ھما والالوبفوات الولایۃ لکن فی البرجندی اختلف فیما لوقبض من یعولہ والاب حاضر فقیل لایجوز والصحیح ھو الجواز ۱؎۔
اگر نابالغ کو اجنبی نے ہبہ دیا تو اس کے ولی کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجائے گا ولی ترتیب وار، باپ پھر اس کا وصی، پھر دادا پھر اس کا وصی اگر بچہ ان کے پاس نہ ہو اور مذکور لوگ نہ ہوں پھر جس نے بچے کو اپنا عیال بنایا بشرطیکہ بچہ ان کے پاس ہو مثلا چچا اور کوئی اجنبی کہ اس کے قبضہ سے بچے کے لئے ہبہ تام ہوگا اگرمؤخر الذکر لوگوں کے پاس بچہ نہ ہو تو ان کا قبضہ معتبر نہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں ان کو ولایت نہیں ہے۔ لیکن برجندی میں ہے کہ عیال میں لینے والا بچے کے والد کی موجودگی میں قبضہ کرے تو اختلاف ہے۔ بعض نے کہا جائز نہیں اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہوگا۔ (ت)
اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور صحیح یہ کہ جائز ہے، فتاوٰی قاضی خاں میں یونہی ہے اور فتاوٰی صغرٰی میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۳)
سوم پوتی کہ ماں کی پرورش میں ہے اس کے ہبہ پردادی کا قبضہ جائز نہیں اگرچہ اسی شہر میں ہو
کما تقدم عن الدر ۳؎ من قولہ والالا، لفوات الولایۃ
(جیسا کہ درمختار میں گزرا کہ عیال میں ہو تو جائز ورنہ نہیں کیونکہ ولایت نہ پائی گئی۔ ت)
(۳؎ درمختار کتاب الھبۃ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰)
چہارم اس صورت میں قبضہ نہ ہوا، درمختارمیں ہے:
الموھوب ان مشغولایملک الواھب منع تمامہا ۱؎۔
کہ موہوب جب ملک واہب میں مشغول ہو تو تمامی ہبہ سے مانع ہوتاہے۔ (ت)
(۱؎درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۰۹)
پنجم دوموہوب چیزوں میں ایک پر قبضہ تامہ مستقلہ اگر بغیر دوسرے پرقبضہ کے ہوجائے تو جس پر قبضہ ہوا اس کا ہبہ تمام ہوگیا، اور اگر دو شخصوں کو ہبہ مشاع تھا یا ایک شے دوسرے کی جز یا ا س سے مثل جز متصل یا مشغول ہے تو اس پر قبضہ نہیں۔
عالمگیریہ میں ہے:
لووھب دارافیھا متاع الواھب وسلم الدار الیہ اوسلمہا مع المتاع لم تصح، ولووھب المتاع دون الدار وخلی بینہ وبینہ صح وان وھب لہ الدار والمتاع جمیعا وخلی بینہ وبینہا صح فیھما جمیعا وان فرق فی التسلیم نحو ان یہب احدھما وسلم ثم وھب الاٰخر وسلم ان قدم ھبۃ الدار لاتصح وفی المتاع تصح وان قدم ھبۃ المتاع فالھبۃ صحیحۃ فیھما جمیعا ولووھب الارض دون الزرع او الزرع دون الارض وخلی لم تصح فی الوجہین لان کل واحد منہما متصل لصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃ، ولو وھب کل واحد منہما علیحدۃ ان جمع فی التسلیم جازت فیہما وان فرق لاتجوز فیہما ایہما قدم کذا فی السراج الوہاج ۱؎ (ملخصا)
اگرایسے مکان کا ہبہ کیا جس میں واہب کا سامان موجود ہے اور مکان یامکان مع سامان کاقبضہ دیا تو صحیح نہ ہوگا۔ اوراگر سامان صرف ہبہ کیا اورواہب نے سامان کا تخلیہ موہوب لہ کو کردیا تو ہبہ صحیح ہوگا۔ اوراگرمکان مع سامان ہبہ کیا اور تخلیہ کردیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا اورمکان اور سامان کا ہبہ معاًنہ کیا بلکہ یکے بعد دیگرے کیا تو اگر پہلے مکان ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا تومکان میں ناجائز اور سامان میں جائز ہوگا اور اگر پہلے سامان ہبہ کرکے اس کا قبضہ دے دیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا _____ اگر زمین کا بغیر فصل یا فصل کا بغیر زمین ہبہ کیا اور قبضہ کے لئے تخلیہ کردیا ہو تو دونوں صورتوں میں ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ زمین اور اس پر فصل کااتصال جزئیت والا ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہے اور دونوں کو علیحدہ علیحدہ ہبہ کیا اورقبضہ دونوں کا معاً دیا تو دونوں کاہبہ جائز ہوگا اور قبضہ علیحدہ علیحدہ دیا دونوں کا ہبہ درست نہ ہوگا خواہ دونوں میں جس کو چاہے مقدم موخر کرے، سراج الوہاج میں یوں ہے۔ (ملخصا) (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب لثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۰)
ششم ہاں اس صورت میں قبضہ نہ ہوااور قبل قبضہ موت موجب بطلان ہبہ ہے۔
درمختاراور ردالمحتارمیں ہے:
الاشباہ میں ہے مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے الایہ کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کرکے خود سکون پذیر بھی ہو تو جائز ہے، اگر نابالغ بیٹے کو باپ نے مکان ہبہ کیا جبکہ اس میں کوئی غیر سکون پذیر ہے اگر یہ سکونت پہلے سے بغیر اجارہ ہے تو ہبہ جائز ہوگا باپ کا قبضہ ہی بیٹے کاقبضہ ہوجائے گا۔ اورغیر کی وہ سکونت اجارہ کے طور پر ہے تو ہبہ صحیح نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
(ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۱۰)
مسئلہ ۱۱۳: از کانپور مرسلہ کریم احمد معرفت عم اونبی احمد سوداگر عطر بازار کلاں بریلی ۹ رجب ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ذاتی روپے سے ایک قطعہ مکان اپنی اہلیہ کے نام خرید کیا تھا اور بیعنامہ اپنی بی بی کے نام لکھوایا نہ اپنے نام سے بعد خریداری مکان زید اور اس کی بی بی نے ایک ساتھ مکان مذکور کے بالاخانہ پر سکونت اختیار کی اور مکان مذکورہ کے کل حصہ زیریں میں زید کا تجارتی مال ہمیشہ رہا کیا اوراب تک موجود ہے۔ خریداری مکان سے عرصہ تین سال کے بعد ہاؤس ٹیکس جاری ہوا رجسٹر ہاؤس ٹیکس کے خانہ ملکیت میں زید نے اپنا نام خود درج کرایا او رٹیکس کا روپیہ بھی تاحین حیات خود اداکرتا رہا۔ اور مرمت مکان بھی اپنے صرفہ ذاتی سے خود کرتا رہا۔ اب زید کا انتقال ہوگیا، بموجب حکم شرع شریف کے وہ مکان مملوکہ خاص زوجہ زید کا ہوگا یا یہ کہ زید کے سب ورثہ میں مشترک ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب : اگر زید نے وقت ایجاب وقبول بیع بنام زوجہ کرائی مثلابائع سے کہا یہ مکان میں نے اپنی بی بی کے نام خریدا بائع نے کہا میں نے تیری بی بی کے ہاتھ بیچا جب تو اس مکان کی مالک زوجہ ہوئی جبکہ زوجہ نے وہ بیع اپنے نام جائز رکھی،
درمختار میں ہے:
لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلواضافہ بان قال بع لفلان فقال بعتہ لفلان توقف، بزازیہ وغیرھا۱؎۔
اگر غیر کے لئے کوئی چیز خریدی اور خریداری کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا تو یہ خریدار کی ہوگی، اگر یہ کہہ کر غیر کی طرف منسوب کی کہ یہ چیز فلاں کے لئے بیع کراور جواب میں دوسرا کہے میں نے یہ فلاں کے لئے بیع کی، تو اس غیر کی اجازت پر موقوف رہے گی، بزازیہ وغیرہا (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱)
اور اگر زید نے خریداری زوجہ کے نام نہ کی پھر بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھا دیا تو مالک زید ہوا اور بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھانا زوجہ کے لئے ہبہ کہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا، اور جبکہ زید خودبھی اس مکان میں رہا اور اپنا اسباب رکھا اور کبھی خالی کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا یہاں تک کہ مرگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیا، مکان ملک زید ہے حسب فرائض ورثائے زید پرمنقسم ہوگا۔
درمختارمیں ہے:
تتم الھبۃ بالقبض الکامل ولو الموھوب شاغلالملک الواھب لامشغولابہ ۲؎۔
ہبہ کامل قبضہ سے تام ہوتاہے اگرچہ موہوب شاغل بملک واہب ہو اور اگرموہوب چیز واہب کی ملک میں مشغول ہے تو تام نہ ہوگا۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
اسی میں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۲؎. واﷲ تعالٰی اعلم۔
''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)