فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
44 - 120
مسئلہ ۱۰۴: از شہر کانپور محلہ پریڈ مرسلہ محمد ابراہیم مسیح صدیقی ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ اپنی جائداد غیر منقولہ کے ایک مکان اپنے پسر عمرو کو دے دیا اس طرح پر کہ دفاتر سرکاری میں درخواست دے کہ زید نے اپنا نام رجسٹر مکانات میں خانہ ملکیت سے خارج کراکے اپنے پسر عمرو کا نام داخل کرادیا بعدہ کرایہ نامہ مکان مذکور جو درمیان کرایہ داران اورعمرو کے تحریر وتصدیق ہوتے رہے ان کا کرایہ ناموں پر دستخط بحیثیت مالک کے ثبت ہوا کئے، اور زید اپنی شہادت گواہ شد لکھ کر تحریر کرتارہا۔ رسید کرایہ کی عمرو کے دستخط اور نام سے دی جاتی تھی اورنالشان کرایہ داران پر صرف عمرو کی جانب سے ہوتی رہیں اور محصول سرکاری بھی از نام خزانہ سرکاری میں جمع ہوا کرتا ہے اور چند مرتبہ جب زیدنے اپنی مملوکہ ومقبوضہ جائداد کی فردمرتب کرکے داخل سرکار یا عدالت کی ہے تو ا س میں بھی اس مکان موہوبہ کو اپنی ملک درج وظاہر نہیں کیا مگر محاصل مکان مذکور یعنی کرایہ مکان موہوبہ سے کبھی بقدر ربع کبھی ثلث اورکبھی نصف زید مذکور عمرو سے واسطے مصارف خوردونوش اپنے و اپنے اہل وعیال کے جس میں عمرو پسر زید بھی شامل شریک تھا لے لیاکر تا تھا۔ اور عمرو مذکور بلاعذر بخوشی تمام بہ تعمیل حکم اپنے پدریعنی زید کے جس قدر روپیہ وہ طلب کرتا تھا دے دیا کرتا تھا۔ اس قسم کے عملدرآمد کے سولہ برس کے بعد زید نے وفات پائی، خالدہ وحامدہ دختران زید کایہ بیان ہے کہ زید نے کسی مصلحت سے یہ مکان عمرو پسر کے نام درج رجسٹر سرکاری کراکے قبضہ عمرو کودے دیا تھا۔ اور زید کا یہ قول بھی بیان کرتی ہیں کہ اس نے بارہا ظاہر کیا کہ اس نے یہ مکان عمرو کی ملک نہیں کردیا ہے، زید کے اس قول کے شاہد بجز دختران مذکور زید کے جو وارث اور مستحق متروکہ زیدکے بنی ہیں اور کوئی نہیں ہے، پس ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف فقہ حنفی یہ مکان موہوبہ تنہا ملک عمرو متصور ہوگا اور اس کا مالک صرف عمرو قرار پائے گا، یا یہ مکان بھی متروکہ زید متصورہوکے جملہ وارثان پر قابل تقسیم ہوگا۔ بینوا توجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں وہ مکان تنہا ملک عمرو ہے زید یا دیگر وارثان زید کا اس میں کچھ حق
نہیں داخل خارج کرادینا اوروہ کارروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں۔
ردالمحتارمیں ہے:
اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیک، بیری، قلت فقد افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک ۱؎ اھ مافی الشامی قلت ومثل مافی بیری فی احکام الصغار وفی الباب السادس من الھندیۃ کلیہما عن الملتقط۔
جب بیٹے کو مال دیا اور اس نے تصر ف کیا تو وہ مال باپ کا ہوگا ہاں یہ کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو تملیک پر دلالت کرے تو بیٹا مالک ہوگا۔ بیری، میں کہتاہوں، اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب وقبول لفظا ضروری نہیں بلکہ تملیک کاکوئی قرینہ کافی ہے۔ شامی کا بیان ختم ہوا، میں کہتاہوں مثل بیری کے احکام الصغار اورہندیہ کے چھٹے باب کا بیان ملتقط سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۸)
زید کا عمرو سے روپیہ مانگنا اور عمرو کا دینا کچھ منافی تملیک نہیں ہوسکتا جیسے عمرو ابتداءً مالک مکان ہوتا اور باپ کو اس کے مانگنے پر بلکہ بے مانگے اس کا کرایہ دیا کرتا، اور حامدہ وخالدہ کا وہ بیان محض دعوٰی ہے اور کوئی دعوٰی بلا دلیل مقبول نہیں ہوسکتا۔
حدیث میں ہے:
لویعطی الناس بدعوٰھم لذھبوا بدماء الناس واموالہم ولکن البینۃ علی من یدعی ۲؎
محض دعوٰی کی بناء پر لوگوں کو دیا جائے تو لوگ عوام کا مال اور جان لوٹ لیں گے لیکن مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ (ت)
(۲؎ کنز العمال بحوالہ ق عن ابن عباس حدیث ۱۵۲۹۶ و ۱۵۲۹۷ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۱۹۰)
بلکہ بعد ثبوت تملیک اگر زید کا انکار ثابت بھی ہوجائے تو اصلا نہ مفید نہ قابل اعتبار کہ بعد تمامی ہبہ، ہبہ للولد سے والد کو رجوع کااختیار نہیں
لان المحرمیۃ مانعۃ
(کیونکہ محرم ہونا مانع ہے۔ ت) نہ بعد عقد کوئی بلابینہ اس کے فرضی ہونے کا دعوٰی کرسکتاہے۔
لان من سعی فی نقض ماتم من جہۃ فسعیۃ مردود علیہ کما فی الاشباہ ۱؎ والدروغیرھما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو شخص اپنے تام کئے ہوئے کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مردودہے۔ جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہمامیں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۷۰)
مسئلہ ۱۰۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی پہلی زوجہ سے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا بالغ موجود ہیں اور زوجہ اولٰی نے قضاء کی، ز ید نے نکاح ثانی کیا، اس سے کئی اولادیں پیدا ہوئیں، زید نے زوجہ ثانیہ کے نام ایک مکان پختہ کلاں مسکونہ لکھ دیا۔ اولاد زوجہ ثانیہ کی دو لڑکیاں بالغ جن کی شادی ہوگئی اپنے گھروں پر موجود ہیں۔ اوردولڑکے ایک سات برس کا اور دوسرا پانچ برس کا نابالغ ہیں زید ان دونوں نابالغوں کو اپنی کل جائداد بقیہ لکھتاہے۔ زید کا کچھ مال یا نقد سوائے اس جائداد کے باقی نہ رہے گا، اس صورت میں زید کی خدمت اورنابالغوں کی پرورش کون کرے گا ا ورکس چیز سے ان کا خرچ کیا جائے گا اور تجہیز وتکفین کون کرے گا، کون حصہ پائے گا۔ اور کون خدمت گزار بنے گا۔ بینوا توجروا
الجواب: اگر وہ اپنی جائداد بلاتقسیم ان دونوں کے نام ہبہ کردے گا جب تو ہبہ ہی صحیح نہ ہوگا۔
تنویرالابصار میں ہے:
لووھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۲؎۔
اگر دو افراد ایک شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں توصحیح ہے اور اس کا عکس صحیح نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الھبۃ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
اوراگر تقسیم کرکے ہبہ کرے گا یا بعدہبہ تقسیم کردے گا تو بلاتقسیم ان کے نام بیع کرے گا تو ان صورتوں میں وہ لڑکے ضرور مالک ہوجائیں گے مگر زید دیگر ورثہ کومحروم کرنے کے سبب گنہ گار ہوگا۔
حدیث میں ہے:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ ۳؎۔
جوا پنے وارث کی میراث سے بھاگے گا اللہ تعالٰی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا۔
(۳؎سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ادارہ احیاء سنۃ النبویہ سرگودھا ص ۱۹۸)
پھر اگر زید اس بلائے عظیم کو اوڑھ لے تو بچوں کے خورد ونوش سے سوال کے کوئی معنی نہیں۔ وہ بچے مالک جائداد ہوجائیں گے ان کے مصارف ا ن کے مال سے ہوں گے جسے ان کا باپ ولایۃً صرف کرے گا اور زید کہ اب فقیرہوگیا وہ بھی بقدر کفایت اپنا کھانا پہننا اس سے کرسکے گا۔
قال تعالٰی
من کان فقیرا فلیأ کل بالمعروف ومن کان غنیا فلیستعفف ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: جو ولی فقیر ہو وہ بھلائی کے طور کھائے اور جو غنی ہو تو وہ عفت اختیار کرے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۶)
رہااس کا کفن دفن وہ اس کے مالدار وارثوں پر ہوگا ،
لان کفن المیت علی من کانت نفقتہ علیہ اعتبار الکسوۃ الممات وسکناہ بکسوۃ الحیات وسکناہ کما فی ردالمحتار وغیرہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ میت کا کفن اس شخص کے ذمہ ہے جو اس کے نفقہ کا ذمہ دار تھا، مردوں کی سکونت ولباس کہ زندوں کے سکنہ ولباس پر قیاس کرتے ہوئے یہ حکم ہے، جیسا کہ ردالمحتاروغیرہ میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: یکم جمادی الآخرہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ مسماۃ زینب اپنا مکان اپنی اولاد پر ایک عرصہ سے اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتی ہے، اور اس کے وارث حسب ذیل تھے: ایک لڑکی ہندہ اور زید، بکر، عمرو تین لڑکے، جن میں سے ہندہ نے انتقال کیا اور قبل انتقال اس نے کہا کہ میرا حصہ میرے بھائی عمرو کو ملنا چاہئے، اور مسماۃ زینب اصل مالکہ مکان ابھی زندہ ہے اور وہ خود چاہتی ہے کہ ہندہ کاحصہ عمرو کو دیا جائے۔ توایسی حالت میں کتنا زید کتنا بکر کتنا عمرو کوحصہ ملنا چاہئے؟ بینوا توجروا
الجواب: تینوں کو برابر ملنا چاہئے، ہندہ کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کی وصیت کا کچھ اثر، ہاں اگر زید وبکرراضی ہو تو جتنا حصہ چاہیں ہندہ کا قراردے کر عمر وکو زیادہ دے دیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ تا ۱۱۲: از رامپور گھیر نجوخاں مرسلہ حافظ قرۃ العین صاحب امام مسجد ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک مسماۃ عمر تخمینا ۸۸ سال ساکنہ میرٹھ جو عرصہ سے بعوارض مختلفہ بیمارتھی اور محض لاولد اور صاحب جائداد منقولہ وغیر منقولہ تخمینا پندرہ سولہ ہزار روپے کے انتقال سے قبل تخمینا دو ماہ بعارضہ پیچش واسہال مبتلا ہوکر اس میں انتقال ہوگیا، ایک اس کی حقیقی بہن یعنی متوفیہ کی میرٹھ میں اس کے پاس رہا کرتی تھی اور ایک بہن اور ایک بھائی حقیقی شہر رامپور میں رہتے ہیں، اس بہن نے جو میرٹھ میں رہتی ہے بطمع مال واسباب وجائداد رامپوروالے بھائی بہن کو اس مرض موت و انتقال سے خبر نہ کی، اور ایک ہبہ نامہ متوفیہ کی طرف سے اس حالت مرض میں جان کرکہ یہ جانبر نہ ہوسکے گی اپنی ایک پوتی اورایک نواسی کہ ہردو نابالغ ہیں ہبہ نامہ تحریر کراکر اپنے میل کے دو آدمیوں سے کہ وہ محض اجنبی تھے اور کوئی رشتہ نہیں رکھتے تھے رشتہ دارمتوفیہ کا بنا کر بغرض شہادت ذریعہ کمیشن گھر بلاکر تصدیق کرادیا اور ہبہ نامہ میں ایک مکان مسکونہ کہ جو اس متوفیہ کا تھا اور تادم مر گ اسی مکان میں مع مال واسباب رہی اور ایک مکان مع چہار دکاکیں کہ جو تحت میں پشت پر واقع ہیں اور انھیں کی چھت پر مکان بنا ہوا ہے اور ان دکانوں میں ایک مدت سے کرایہ دار متوفیہ کی طر ف سے چلے آتے ہیں۔ اس سب جائداد جزوکل کا ایک ہبہ نامہ مشاع دونوں نابالغوں کے نام مالیت پانچ ہزارروپیہ قرار دے کر بولایت اپنے اس بہن نے جو پاس متوفیہ کے رہا کرتی تھی تصدیق کرادیا، بشہادت انھیں اشخاص کے جن کو رشتہ دار متوفیہ کا بنایا تھا او رخود سب جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر بعد وفات اپنی بہن کے قابض بن بیٹھی، دوسرے روز مرنے سے متوفیہ کے چند اشخاص کہ جو بتقریب شادی سرکار والی ریاست رامپور کے آئے تھے ان سے خبر متوفیہ کے بھائی کو معلوم ہوئی، بھائی بمجرد سننے خبر فوت بہن کے تیسرے روز سوم کے وہاں پہنچا تو یہ کارروائی دیکھی اور سنی کہ ہبہ نامہ لکھا گیا، اور ہم دونوں بہن بھائی کی حق تلفی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا پس علمائے دین سے اب سوال یہ ہے کہ یہ ہبہ مشاع جائز ہے یاناجائز؟ اورنانی نے نابالغوں کی طرف سے ولی بن کر قبضہ کیا باوجود یکہ باپ نابالغہ کا وہیں میرٹھ میں موجود ہے یہ قبضہ کرلینا نانی کا شرعاًدرست ہے یا نہیں؟
سوم یہ کہ پوتی اس کی رامپور میں اپنی ماں کی پرورش میں ہے بغیر اطلاع وبلااجازت پوتی اور ہونے ماں کے قبضہ دادی کا صحیح یا نہیں؟
چہارم یہ کہ وہ متوفیہ اپنے مکان مسکونہ میں تادم حیات مع مال واسباب اپنے کے رہی، تادم مرگ خالی نہیں گیا، اس صورت میں قبضہ ہوگیا یانہیں؟
پنچم یہ کہ بعض جائداد موہوبہ پر اگرقبضہ ہوجائے اور بعض پر نہ ہو تو موجب نقصان ہبہ ہے یانہیں؟
ششم یہ کہ اگر مکان مسکونہ میں متوفیہ تادم حیات خود رہی بعد تحریر ہبہ نامہ کے اور باقی مکان دکاکیں میں اسی متوفیہ کے کرایہ دار تھے اور کوئی امر جدید جو موجب قبضہ ہوتا تاحیات متوفیہ عمل میں نہیں آیا تو موجب بطلان ہبہ ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ جزءً وکُلا تمام وکمال باطل وبے اثرمحض ہے وہ سب جائداد متروکہ عورت ہے اس کے وارثوں پر حسب فرائض تقسیم ہوگی بہن کی پوتی نواسی اس میں سے اس عقد و تحریر کی بناء پر ایک حبہ نہیں پاسکتیں، نہ ازروئے ہبہ، نہ بروئے وصیت کہ مرض الموت کا ہبہ اگرچہ حکما وصیت ہے، حقیقۃً ہبہ ہے اگر موہو ب لہ کے قبضہ تامہ شرعیہ سے پہلے واہب کا انتقال ہوجائے باطل محض ہوجاتاہے۔
ہندیہ میں محیط سے ہے:
قال فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذا مات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم ان ھبۃ المریض ھبۃ عقد اولیست بوصیۃ واعتبار ھا من الثلث ماکانت لانہا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض وقد تبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھو الثلث واذا کان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطہا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب ۱؎۔
اصل میں فرمایا ہے مریض کا ہبہ یا صدقہ صرف وہی صحیح ہوگا جس پر اس نے قبضہ دے دیا ہو تو جب قبضہ دے دیا تو اس کے تہائی مال سے جائز ہوگا اور اگر وہ قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یہ جاننا ضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقدکے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور اس میں تہائی مال تک جتنا بھی اس کا اعتبار ہے اس لئے ہے کہ وہ معنًی وصیت ہے اس لئے کہ اس کے مال سے ورثاء کاتعلق ہے اور ہبہ کرکے تبرع کیا ہے توتبرع میں اتنا ہی دیا جاسکتا ہے جتنا شریعت نے اس کو حق دیاہے اور وہ تہائی حصہ ہے اور جب مریض کا یہ تصرف عقدکے لحاظ سے ہبہ ہے تواس میں ہبہ کے شرائط معتبرہوں گے جبکہ اس کے جملہ شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ واہب کی موت سے قبل موہوب لہ کا قبضہ ہو۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ باب العاشر فی ھبۃ المریض نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۰)