Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
43 - 120
مسئلہ ۹۸ تا ۱۰۲ : از ریاست جاورہ مکان ہیڈماسٹر مرسلہ صاحبزادہ محمد صالح خاں ولد محمد یونس خاں ۲۳ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:

(۱) محمد یوسف خاں صاحب کو وظیفہ رئیس جاورہ سے ماہ بماہ ملتا تھا اس تنخواہ کو تقسیم کرکے جملہ وارثوں کے نام ہبہ کردئے اور ایک ہبہ نامہ لکھ دیا اور تاحیات واہب مذکور تنخواہ پر قابض ومتصرف رہے اور جملہ موہوب لہم اور زوجگان کو اپنے شامل رکھا، تنخواہ کا قبضہ کسی وارث کو نہیں کرایا تو ایسے قسم کا ہبہ نامہ بموجب کتاب ردالمحتار صفحہ ورق ۴۹۳ و ۴۹۴ کے بموجب ہبہ جائز ہے یاناجائز ہے؟

(۲) اسی قدر واہب نے حویلیاں زوجگان کو ہبہ کیں اور ہبہ نامہ میں قبضہ کالفظ یا منعقد (عہ) جلسہ ہبہ کے وقت جملہ وارثوں موہوب لہم سے ایجاب قبول نہیں کرایا اور نہ آپ واہب اس وقت اس سے دستبردار ہوا اور شامل موہوب لہم رہا، ایسے قسم کا ہبہ وہبہ نامہ بموجوب درمختار بغیرقبضہ دئے ہوئے عندالشرع جائز ہے یانہیں؟
عہ:  سوال کایہ فقرہ ناتمام ہے ہبہ نامہ میں ذکر قبضہ لازم نہیں ۱۲ فقیر احمد رضاخاں قادری غفرلہ
(۳) ہبہ نامہ دستاویز واہب نے خود ایک وصیت نامہ بھی مندرج کیا، جب تین جز فرضی اوریہ فرض شامل مندرجہ ہبہ نامہ ہوئے ایسے قسم کا ہبہ نامہ جائز ہے یاناجائز؟

(۴) تنخواہ جو بھی تھی یہ قسم فرائض سے نہیں ہے ملک غیرکا ہبہ کرادینا او ر اس پر فرائض تین چیزوں کو ملاکر ہبہ کردینا واہب کا سات دو قسموں میں پس ایسی قسم کا ہبہ وہبہ نامہ عندالشرع جائز ہے یاناجائز؟

(۵) کوئی شخص کسی شخص کو اپنی چیز ہبہ کردے اور اس موہوب لہ کو خبر بھی نہ ہو بغیر اس کی رضاوبغیر اس کی اجازت کے، اور نہ اس کوعوض دیا ہو، اس موہوب لہ کو چیز ہبہ کی ہوئی کو دوسروں کو ہبہ کردے ایسی قسم کا ہبہ جائز ہے اور دستاویز واہب جائز ہے یاناجائز؟
الجواب

(۱) تنخواہ آئندہ کا ہبہ باطل ہے۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے:
وبہذا علم عدم صحۃ ھبۃ ماسیتحصل من حصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یملکہ وھذا ظاھر ۱؎واﷲ تعالٰی اعلم
اس سے معلوم ہوا کہ جو دو قریوں سے حاصل شدہ ہو اس کا بطریق اولٰی ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ ابھی واہب نے خود قبضہ نہیں کیا تو وہ دوسرے کو کیسے مالک بنائے گا، یہ ظاہر ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب الھبۃ        دار المعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۱۱)
 (۲) جملہ وارثوں سے ایجاب وقبول کرانا کچھ ضرور نہیں، ہاں واہب کا اپنا قبضہ تمام وکمال اٹھاکر موہوب لہ کا قبضہ کرادینا ضرور ہے اگر ذرا دیر کو بھی تاحیات ایسا نہ کیا ہبہ موت واہب قبل قبضہ زوجات سے باطل ہوگیا، اشباہ ودرمختارمیں ہے:
ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ ۲؎۔
دوسرے کے حق میں مشغول چیز کا ہبہ جائز نہیں الایہ کہ والد اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختاربحوالہ الاشباہ     کتاب الھبۃ      مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۵۹)
مگریہ ہبہ اگر دین مہر کے عوض کیا ہے تو صحیح ہوگیا اور قبضہ کی حاجت نہیں کہ ہبہ بالعوض بیع ہے۔ 

درمختار میں ہے:
لوقال وھبتک بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر یوں کہا میں نے تجھے فلاں چیز کے بدلے ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع ہوگی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ درمختار         کتاب الھبۃ  باب الرجوع فی الھبۃ    مجتبائی دہلی       ۲/ ۱۶۴)
 (۳) ہبہ نامہ میں وصیت نامہ شامل کرنے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا۔ سوال بہت گول و مہمل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۴) تنخواہ کا جواب اوپر گزرچکا کہ وہ ہبہ نہیں ہوسکتی نہ ملک غیر کا ہبہ کرنا نافذ ہو جب تک وہ اسے جائز نہ کردے، مگر ایسی اشیاء کے ساتھ اپنی ملک خاص کاہبہ کردینا ملک خاص کے ہبہ کو ضرر نہ دے گا جبکہ وہ چیز جدا منقسم ہو اس غیر ملک کے ساتھ مخلوط ومشاع نہ ہو
لان ا لھبۃ لا تفسدبالشرائط الفاسدۃ بخلاف البیع۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ ہبہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا بخلاف بیع کے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

(۵) جو چیز کسی کو ہبہ کردی اور قبضہ دے دیا اور ہبہ تام ہوگیا وہ شے موہوب لہ کی ملک ہوگئی، اب جو اس دوسرے شخص کو ہبہ کرتاہے یہ پہلے ہبہ سے رجوع ہے اگر موانع رجوع سے کوئی شیئ پائی جاتی ہو مثلا جسے ہبہ کیا وہ اپنی زوجہ یا اپنا عزیز محرم مثل پسر یا برادروغیرہ ہے، جب تو ظاہر ہے کہ اسے رجوع کا کچھ اختیار نہیں۔ وہ ہبہ اسی موہوب لہ کی اجازت پر موقوف رہے گا۔

اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا۔ رد کردے گا باطل ہوجائے گا اور اگر موانع رجوع نہ ہو جب بھی رجوع کا خود بخود اختیار نہیں ہوتا بلکہ یا تو موہو ب لہ کی مرضی سے ہبہ واپس کرلے یا نالش کرکے بحکم حاکم رجوع کرے۔ اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کرسکتاہے، بغیر اس کے وہی ملک غیر کا ہبہ ہے۔ 

درمختارمیں ہےـ:
لایصح الرجوع الابتر اضیہما اوبحکم الحاکم ۱؎۔
دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی یاحکم حاکم کے بغیر رجوع صحیح نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ    مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۶۴)
عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز ھبۃ مال الغیر بغیر اذنہ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
غیرکے مال کا ہبہ اس کی اجازت کے بغیر  جائز نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الھبۃ الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۷۴)
مسئلہ ۱۰۳: از مقام کبیر کلاں ڈاکخانہ خاص علاقہ ڈبائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء اللہ ٹھیکدار ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ والد نے اپنے فرزند کو اپنے گھر سے نکالا او رکچھ حقیت اپنے فرزند کے نہیں رکھی، فرزند بحکم اپنے والد کے گھر سے نکل کر اجنبی مکان میں سکونت پذیر ہوا۔ بعد اس کے ان کے والد مقروض ہوئے اور اپنے اسی فرزند سے کہا کہ تم میرا قرضہ ادا کردو اور میں اس کے عوض میں ایک قطعہ زمین واسطے مکان کے تمھارے نام لکھتا ہوں، چنانچہ ولد نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اس زمین کی رجسٹری کرالی، اب اس کے والد نے مکان کے واپس لینے کی درخواست عدالت میں دی ہے کہ میں نے اپنے فرزند کو مکان عاریتا دیا تھا ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھا، اگر والد نے اپنا مکان واپس کرالیں تو ولد کوبحکم شرع مجاز ہے کہ اپنے والد سے ثمن واپس لیں یا نہیں، یا اس قاعدہ میں ہوگا کہ والد فرزند کے مال کا مالک ہے۔
الجواب : اگر وہ مکان اس شخص نے اپنے ولد کے نام بیع کیا جب تو ظاہر ہے کہ اسے فسخ بیع کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واپس لے گا توثمن واپس دینا  پڑے گا اور اگر ہبہ کیا اور قبضہ تامہ دلادیا جب بھی وہ مکان ملک ولد ہوگیا اور والد کو اس میں رجوع کا اصلا اختیارنہ رہا فان المحرمیۃ تمنع الرجوع (کیونکہ محرم ہونا رجوع کے لئے مانع ہے۔ ت) پھر اگر کسی دھوکے سے رجوع کرلی تو ظاہر ہے کہ ولد نے جو اس کے کہنے سے اس کا قرضہ ادا کیا یہ ادا کرنا تبرعا نہ تھا کہ اس کے صلہ میں زمین دیناقرار پایا تھا۔ جب زمین واپس ہوجائے گی بلاشبہ ولد کو اپنا روپیہ واپس لینے کا اختیار ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter