Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
42 - 120
مسئلہ ۹۵: مرسلہ جناب قاضی فرزند صاحب رئیس گیا    ۱۵ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسماۃ صاحب جائداد کثیر بیمار ہوئی کہ ان کو اور ان کے شوہر ثانی کو مایوسی ہوگئی اور تمام اطباء ڈاکٹروں نے جو معالج تھے بالاتفاق کہا کہ مرض مہلک ہے اس سے نجات مشکل ہے،حالت یہ تھی کہ اکثر وہ مریضہ غشی میں رہتی تھی اور اٹھنا بیٹھنا بغیر اعانت غیر کے نہیں ہوسکتا تھا اور کھانا پینا معمولی موقوف ہوگیا تھا،یہی حالت بلکہ اس سے زیادہ ردی آخر موت تک رہی، شوہر ثانی نے شوہر اول کی اولاد کی حق تلفی کی غرض سے اپنے نابالغ بیٹے کے نام مسماۃ سے اسی مرض میں جائداد کاکثیر حصہ جس کی لاکھوں روپیہ قیمت ہوتی ہے بعوض ایک جلد قرآن شریف اور انگشتری طلائی کے ہبہ نامہ بالعوض لکھوادیا اور اس وثیقہ کے استحکام کے واسطے شوہر اول کی اولاد میں سے صرف ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو بھی بقیہ جائداد میں کچھ حصہ بعوض ایک دلائل الخیرت او ریک پنجسورہ شریف کے مسماۃ سے اس مرض مذکور میں ہبہ بالعوض لکھوا دیا اور بقیہ تین لڑکیاں اولاد شوہر اول کو محروم کردیا، اب مسماۃ نے اسی مرض مذکورہ میں تقریبا ایک مہینہ کے اند تعمیل وثائق کے انتقال کیا، اب یہ تینوں لڑکیاں آپ حضرات کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض التجا کرتی ہیں کہ کیا ایسی کوئی صورت مطابق شرع شریف کے نکل سکتی ہے کہ ہم لوگ اپنے حق کو پہنچیں اور صورت وحیلہ مردود وباطل ہوجائے، اس کا جواب شافی بحوالہ کتب وعبارات لکھا جائے اللہ تعالٰی آپ حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے گ، مسماۃ مرحومہ مرض مذکورہ میں اندازا تین چار مہینہ مبتلا رہی اورکاروائی مذکورہ بالا کے ایک مہینہ کے بعد انتقال کرگئی فقط۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں اس ہبہ بالعوض کی کاروائی مطلقا باطل ومردود ہے، وہ تمام جائداد جس قدر ایک لڑکے کے نام ہبہ بالعوض کی اور جو شوہر اول کے دو بچوں کے نام لکھنے سے باقی رہی وہ تمام وکمال ترکہ مسماۃ ہے اور حسب فرائض اللہ اس کی سب اولاد پر جو دونوں شوہروں سے ہے بعد اخراج چہارم کےکہ حصہ زوج ثانی ہے
للذکر مثل حظ الانثیین ۱؎
(لڑکوں کے واسطے لڑکیوں سے دگنا ہے۔ ت) تقسیم ہوگی،
(۱؎ القرآن الکریم      ۴ /۱۱)
مسماۃ کی صورت مرض کہ سوال میں مذکور ہوئی باتفاق علماء مرض الموت ہےکہ روز بروز خوف ہلاک غالب بھی تھا اور نشست وبرخاست سے معذور بھی تھی اور ایک سال مرض ممتد بھی نہ رہا اور اسی میں موت عارض ہوئی، تو یہ ہبہ مرض الموت میں تھا اور اپنی اولاد کے نام تھا اور ہبہ بالعوض ابتداء وانتہاء ہرطرح بیع ہے اور بیع کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ ہو اگرچہ برابر قیمت پر ہو بے اجازت دیگر ورثہ باطل ومردود ہے،نہ کہ ایسی بیع لاکھوں روپے کا مال آٹھ دس روپے کو یہ تو بالاجماع باطل ہے، 

درمختارمیں ہے :
من غالب حالہ الہلاک بمرض اوغیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالحۃ خارج البیت ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد وعجز السوقی عن الاتیان الی دکانہ، وفی حقہا ان تعجز من مصالحہا داخلہ کما فی البزازیہ، ومفادہ انہا لوقدرت علی نحوالطبخ دون صعود السطح لم تکن مریضۃ قال فی النہر وھو الظاہر قلت وفی اٰخر وصایا المجتبی المرض المعتبر المضنی المبیع لصلٰوتہ قاعدہ والمقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ولم یقعدہ فی الفراش کالصحیح ثم رمز ''شح'' حد التطاول سنہ ھ انتہٰی وفی القنیۃ المفلوج والمسلول والمقعد مادام یزداد کالمریض اھ، ۱؎
جس شخص کا غالب حال یہ ہو کہ وہ مرض وغیرہ سے ہلاک ہوجائے گا یوں کہ وہ مرض سے اتنا لاغر ہوگیا کہ گھر سے باہر اپنے ضروری امو رکو بجا نہیں لاسکتا۔ مرض الموت کے حال کا یہ صحیح بیان ہے، مثلا کوئی عالم فقیہ مسجد میں جانے سے عاجز ہوجائے یا دکاندار اپنی دکان پر جانے سے عاجز ہوجائے اور عورت گھرمیں داخلی ضرورت سے عاجز ہوجائے،جیساکہ بزازیہ میں ہےعورت کے عجز کا معیار یہ ہو کہ اگر کھانا پکانے پر قادر ہواور چھت پر جانے کی قدرت نہ ہو تو مریضہ شمار نہ ہوگی، نہر میں فرمایا یہی ظاہر ہے، میں کہتاہوں المجتبٰی کے وصایا کے آخر میں ہے کمزور کردینے والا مرض جس میں کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے، جُڑا ہوا مفلوج او سیل والا لمبی مہلت پالے اور بستر میں پابند نہ ہوجائے تو اس کو صحت مندجیسا شمار کیا جائے گا پھر انھوں نے ''شح'' کی رمز سے فرمایا لمبی مہلت کی حد ایک سال ہے اور قنیہ میں ہے مفلوج سل زدہ اور جڑا ہوا اگر ان کا مرض بڑھ رہا ہو تو مریض کی طرح شمار ہوں گے اھ
 (۱؎ درمختار    کتاب الطلاق باب الطلاق المریض    مجتبائی دہلی    ۱ /۲۳۵)
وفیہ امالو قال وھبتک بکذا فہو بیع ابتداءً وانتہاءً ۲؎ اھ وفیہ وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ولو مثلا القیمۃ ۳؎ اھ مزید امن ردالمحتار۔
اور اسی میں ہے اگر مریض کہے میں نے تجھے فلاں کے بدلہ میں ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع قرار پائے گی اھ، اور اسی میں ہے مریض کا اپنے وارث کوکوئی چیز فروخت کرنا باقی ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا (اگرچہ مثلی قیمت پر فروخت کیا ہو اھ) یہ ردالمحتارکا اضافہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ    مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۴)

(۳؎ درمختار   کتاب البیوع فصل فی الفضولی   مجتبائی دہلی    ۲ /۳۲)

(ردالمحتار    کتاب البیوع   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۳۹)
خانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جازبیعہ وان مات من ذٰلک المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع ۴؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب کوئی چیز اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو فروخت کرے پھر تندرست ہوگیا تو بیع صحیح ہوگی اور اسی مرض میں فوت ہوجائے گی اور باقی ورثاء جائز نہ کریں تو بیع باطل ہوگی اھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع     الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۱۵۴)
مسئلہ ۹۶: از ریاست رامپور محلہ کوچہ قاضی مرسلہ سید ولایت حسین وکیل ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک جائداد بدست عمرو بقیمت دو ہزار روپے کے بیع کرکے بیعنامہ میں یہ لکھ دیا کہ سات سو روپے میں نے وصول پائے اور تیرہ سو روپے منجملہ اس کے مشتری کو معاف کردئے تو یہ صورت ہبہ زر ثمن کی ہے یا نہیں؟ اور زید بائع کو حق رجوع عن الہبہ شرعا حاصل ہے یانہیں؟
الجواب : اگر بیع واقع ہونے کے بعد بیعنامہ میں تیرہ سو کی معافی لکھی تو یہ صورت ہبہ ثمن کی نہیں بلکہ ابراء کی ہے اور ابراء میں شرعا حق رجوع نہیں۔

اشباہ میں ہے:
ماافترق فیہ الھبۃ ولاابراء لہ الرجوع فیھا عند عدم المانع بخلافہ مطلقا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہبہ اور ابراء میں فرق یہ ہے کہ ہبہ میں مانع نہ ہونے کی صورت میں رجوع (واپس لینا) جائز ہے، ابراء اس کے خلاف ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث        ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۲۴۸)
مسئلہ ۹۷: از دیوبند ضلع سہارنپور محلہ مسجد کمال مرسلہ قاسم حسین صاحب تحصیلدار ۱۵ محرم شریف ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک جائداد اپنے دو لڑکوں نابالغ کے نام خرید کی، بروقت خریداری جائداد کے جس کے نام جائداد خریدی کی گئی اور ایک لڑکی موجود تھی سوائے اولاد مذکورۃ الصدر کے اس وقت اور کوئی اولاد نہیں تھی، بعد ازاں زید مذکور کے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اور پیدا ہوئی۔ اب جائداد سے وہ لڑکی جو اس وقت بوقت خرید کے موجود تھی اور وہ لڑکا اور لڑکی جو بعد خرید کے پیدا ہوئے شرعا حصہ پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں وہ دونوں نابالغ جن کے نام ان کے باپ نے جائداد خریدی اس جائداد کے مالک مستقل ہوگئے، جو لڑکی اس وقت موجود تھی یا جو لڑکا لڑکی بعد کو پیدا ہوئے ان کا اس میں کچھ حق نہیں کہ اگر اصل ایجاب وقبول بیع انھیں لڑکوں کے نام ہوا جب تو ظاہر ہے کہ جائداد بائع نے ان لڑکوں کے ہاتھ بیع کی اگرچہ زرثمن ان کی طرف سے باپ نے ادا کیا جو اس کا تبرع واحسان ہوا جس کا معاوضہ نہ وہ لے سکتاہے نہ اس کے دیگر ورثہ، اورباپ کو اپنے نابالغ بچوں کے نام ایسی خریداری کا مطلقا اختیار ہے۔
فلاینفذ الشراء علیہ حتی یجعل واھبا کالام اذا شرت بما لہا لولدہا الصغیر تصیر مشریۃ لنفسہا واھبۃ من ولدہا لعدم ولایتہا کما من العقود الدریۃ۱؎ وغیرھا۔
باپ پر خریداری عائد نہ ہو بلکہ بچے کو ہبہ کرنے والا ہوگا جیسا کہ ماں اگر نابالغ کے لئے اپنے مال سے کوئی چیز خریدے اورا قرار کرے میں نے اپنے مال سے خریدی ہے تو خریداری ماں کی ہوگی اور نابالغ کے لئے وہ چیز ہبہ قرار پائے گی کیونکہ ماں کی نابالغ بچے کے لئے خریداری کی ولایت نہیں ہے  جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے (ت)
 (۱؎ العقود الدریۃ     باب الوصی        ارگ بازارقندہار افغانستان        ۲/ ۳۳۷)
اوراگر اصل خریداری میں لڑکوں کے نام نہ تھا اگرچہ بعد کو بیعنامہ میں ان کا نام لکھا دیا تو تو ابتداءً مالک جائداد زید ہوا۔ پھر بیٹوں کے نام بیعنامہ لکھانا ان کے انکے (عہ) سے ہبہ ہوا اور باپ جو اپنے نابالغ بچہ کے نام ہبہ کرے وہ ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوجاتاہے۔ نہ قبول نابالغ کی حاجت نہ دو کے نام بلاتقسیم ہبہ ہونا مضر کہ قبضہ والد یعنی خود واہب کاکافی وکامل بلاشیوع ہے،
  عہ:  فی الاصل ھکذا، لعل الصواب ''نام''
درمختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع وبعکسہ لکبیرین لاعندہ للشیوع فیما یحتمل القسمۃ ۲؎۔
دوافراد نے ایک شخص کو مکان کا ہبہ کیا تو جائز ہے کیونکہ اس میں شیوع نہیں ہے اور عکس کی صورت میں کہ ایک شخص دو بالغ افراد کو ایک مکان دے تو جائز نہیں امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک، کیونکہ اس صورت میں شیوع ہے قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے۔ (ت)
(۲؎ درمختار        کتاب الھبۃ        مجتبائی دہلی            ۲/۱۶۱)
ردالمحتار میں ہے:
افاد انہا للصغیرین تصح لعدم المرجح لسبق قبض احدھما وحیث اتحد ولیہما فلاشیوع فی قبضہ ویویدہ قول الخانیۃ ۳؂الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عکس والی صورت سے ظاہر ہوا کہ دو نابالغوں  کو دے تو صحیح ہوگا کیونکہ دونوں میں سے کسی کو سبقت میں ترجیح نہ ہوئی اور ان کے لئے ایک ولی قبضہ کرے گا تو قبضہ تقسیم نہ ہوگا اور شیوع نہ ہوا۔ اور خانیہ کا قول اس کی تائید کرتاہے، الخ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار       کتاب الھبۃ       دارحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۱۴)
Flag Counter