Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
41 - 120
 (۷) زید کاکہنا ''یہ تیرا روپیہ ہے'' صراحۃ اقرار ہے،  فتاوٰی قاضیخان وفتاوٰی بزازیہ و فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو قال لاٰخر ''ایں چیز ترا'' فہو ھبۃ یشترط فیھا القبض ولو قال ''تراست'' فاقرار ۱؎۔
اگردوسرے کو کہیا کہ یہ چیز تجھ کو تو ھبۃ ہوگا اور اس میں قبضہ شرط ہوگا اور اگر کہا کہ یہ چیز تیری ہے تواقرار ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    بحوالہ الوجیز        الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۵)
تو اس سے انشائے اجازت قبض مراد لینا محض مجاز،ا ور مجاز بے ضرورت ممنوع ونامُجاز اور ضرورت معدوم، تو تخلیہ کی پہلی شرط تمکن قبض کا تو وجود معلوم نہ تھا، اس دوسری شرط یعنی امر بالقبض کا عدم معلوم،
وحدیث الالغاء لایستحق الاصغاء فان الاقرار لم یعرعن حکمہ من ان المقر مؤاخذ بہ قضاء ان لم یثبت بطلانہ حیث یصیر مکذبا شرعا فاین التعطیل حتی یجوز التجوز والتحویل اماانہ لایقوم بافادۃ الملک للمقرلہ فہذا عین حکمہ ولو کان فیہ الغاوہ لانمحی الاقرار من صفحۃ الدنیا لان لالفاء اذن یلزم حکمہ وحکم الشیئ لازمہ لہ فالالغاء یلزم الاقرار وما کان الغاؤہ لازم وجودہ فوجودہ عدم وبعبارۃ اوضح لوجوب حمل کل اقرار علی انشاء محضر کی یفید الملک والایلغوالاقرار غیرالانشاء فتبطل راساوانعدام،
ان کی لغوکرنے والی بات قابل التفات نہیں ہے،کیونکہ اقرار جب تک شرعا جھوٹا ہوکر باطل نہ قراردیا جائے تو اس وقت تک وہ اپنے حکم جو کہ مقرکا اپنے اقرار میں قضاءً ماخوذ ہونا ہے، سے خالی نہیں ہوتا تو یہاں وہ کب معطل ہے کہ مجاز کی طرف پھر ناجائز ہو اور یہ کہ وہ مقرلہ کے لئے ملکیت کا فائدہ نہیں دیتا (تو غلط ہے) کیونکہ یہی تو اقرار کا حکم ہے اورا گر یہی لغو قرارپائے تو پھر دنیا میں اقرار کا وجود نہ رہے گا کیونکہ اس طرح الغاء حکم کو لازم ہوگا اورحکم خود شیئ کو لازم ہے تو یوں الغاء خود اقرار کو لازم ہوگا اورجس چیز کو الغاء لازم الوجود تو اس کا وجو د معدوم قراپائے گا اور آسان عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہرا اقرار کو انشاء محض پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملکیت کے لئے مفید ہوااور لغونہ ہو جبکہ اقرار انشاء نہیں ہوسکتا تو اقرار سرے سے باطل ہوگا اورختم ہوجائے گا۔ (ت)
 (۸) کفانا المؤنۃ مامرنی مباحث السؤال نفسھا ان اقرارہ یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لایلزم الالغاء فقد علم ان حملہ علی تقدم سبب مامصحح للاقرار یکفی لاعمالہ ویندفع الالغاء ومعلوم نہ یبقی بہ علی حقیقتہ فالعدول الی المجاز فرار عن الالغاء مما لاوجہ اصلا۔
اورخود اس نے ہمیں سوال کی مباحث کی تکلیف سے فارغ کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب سبب پرمحمول کرنا ضرورت ہے جو اقرار کو صحیح کرے یہ بات اقرار کی صحت وعمل کے لئے کافی ہے اور لغو نہ ہوگا تو ظاہر ہوگیا کہ اقرار اپنے حقیقی معنی پر ہے تو اب الغاء سے بچنے کے لئے مجاز کی طرف عدول کی کوشش بلاجواز ہے۔ (ت)
 (۹) بل الاقرار بشیئ انہ لفلان انما ینبئ عن ملک مطلق لہ فیہ قبل الاقرار فلا یحتاج الی ابانۃ سبب اصلا فضلا عن ان یُلزم المقرفی حیاتہ ببیان سبب صالح ھذا لم یقول بہ احد وانما قالوا ان الاتری ان مدعی الملک المطلق وشاھدیہ یکلفون بین السبب فکیف المقرالامااستثنٰی مما الظاھر فیہ بطلان الاقرار کالاقرار لحمل فمشیئ محمد علی الاصل ای یحمل علی سبب صالح من دون بیان والزمابیانہ کارث اووصیۃ، بخلافہ الرضیع وان لم یبین شیئا بل بین مالایصلح لہ کاقراض وبیع الکل کما فی الاشباہ والتنویر وغیرھما۔
بلکہ کسی چیز کے متعلق اقرار کہ یہ فلان کی ہے تویہ اقرار بتاتاہے کہ چیز فلاں کی ملکیت مطلقہ قبل از اقرار ہے تو کسی سبب کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی چہ جائیکہ مقر پر لازم کردیا جائے کہ وہ اپنی زندگی میں اس اقرار کے مناسب سبب کو بیان کرے، حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اور انھوں نے تویہ فرمایا ہے کہ ہر مقر اپنے اقرار میں ماخوذ ہوتاہے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ملکیت مطلقہ کا مدعی اور اسکے گواہ کسی سبب کو بیان کرنے کے پابند نہیں ہوتے تو مقر کیسے پابند ہوسکتاہے ہاں وہ صورت اس بحث سے خارج ہے جو ظاہرا باطل قرار بنے مثلا کوئی شخص ایسے بچے کے لئے اقرار کرے جو ابھی حمل میں ہے تو امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی اس اقرار کو اپنے اصل پر محمول کرتے ہوئے مناسب سبب کو بیان کرناضروری نہیں قرار دیتے جبکہ شیخین رحمہما اللہ تعالٰی اس کو بیان کرنا ضروری قرار دیتے ہیں مثلا وصیت یاوراثت میں سے کسی کو بیان کرے بخلاف دودھ پینے والے بچے کے لئے اقرار ہو تو اس کے مناسب کوئی سبب نہ ہو تو بھی بیان کرنا ضروری نہیں مثلا اس کے لئے قرض یا اس کے لئے کل مال کی بیع کا اقرار کردے، جیساکہ الاشباہ اور تنویر وغیرہما میں ہے۔ (ت)
 (۱۰) بل لادلالۃ للاقرار علی ان ملک المقرلۃ المخبرعنہ فی الاقرار کان مستفادا من االمقر الاتری ان المسلم یصح اقرارہ بخمر کما فی الدرر والبحر والتنویر وغیرھا حتی یؤمر بتسلیمھا کما فی ش ولایصح کونہ ملکا لھا کما فی الہدایۃ۔
بلکہ اقرار میں مقرلہ کی ملکیت پر دلالت ہی نہیں کہ مقرلہ اس کی خبر دے رہا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم اگرچہ شراب کا مالک نہیں ہوتا اس کے باوجود اگر وہ کسی کے لئے شراب کا اقرار کرے جیسا کہ درر،بحر اور تنویر وغیرہا میں ہے کہ اس کااقرار صحیح ہے، اورشامی میں ہے کہ اس کو ادائیگی کاحکم دیا جائے گا، مسلمان کےلئے شراب کی ملکیت کا صحیح نہ ہونا ہدایہ میں مذکور ہے۔ (ت)
 (۱۱) ولوتنزلنا فانما یکفی تصور سبب ماولیس علی احد تعیینہ بل لیس لاحد غیر المقر لان المجمل لابینہ الامن اجمل فظہر ان الاستدلال علی تمام الھبۃ المذکورۃ باقرارہ بالامانۃ لاتمام لہ اصلا۔
اوراگر تنزل کے طور پر تسلیم بھی کرلیں تو صرف کسی سبب کا تصور ہی کافی ہوگا مقر کے علاوہ کسی کو بھی اس کی تعیین اوربیان کرنا لازم نہیں ہےکیونکہ مجمل کو صرف اجمال بولنے والا ہی بیان کرسکتاہے تو واضح ہوگیا کہ ہبہ کے تام ہونے پر اس کے اقررار بالامانت کو دلیل بنانا قطعا درست نہیں ہے۔ (ت)
 (۱۲) اذ الامر کما وصفنا ان الاقرار لیس دلیلا انیا علی تمام الھبۃ فلو کان دلیلا لکان لمیا والاقرار اظہار لااثبات فلو جعل اثباتا لداروالامناص۔
جب معاملہ وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے توپھر اقرار ہبہ کے تام ہونے پردلیل انی نہ ہوگا اگرہوگ اتو دلیل لمی ہوگا یعنی اقرار محض ثبوت نہیں کہ اظہار ہوتاہے اثبات نہیں بنتا۔ ہاں اگر اثبات قرادیا جائے تو ناچاردور لازم آئیگا۔ (ت)

رابعا تخلیہ کی شرط ثالث سے مستفاد بلکہ حقیقۃ لفظ تخلیہ کا مفادیہ ہے کہ تخلیہ کرنے والا اسے اپنے قبضہ سے خالی کردے کہ شے جب تک خود اس کے قبضہ میں ہے تخلیہ کہاں ہوا۔ ولہذا بحرالرائق نے تصور تخلیہ میں اس شیئ کا زمین پر رکھا ہونا ماخوذ کیا، ولہذا اگر گھوڑا بیچا اور بائع اس کی یال تھامے ہوئے مشتری سے کہہ رہا ہے کہ گھوڑے پر قبضہ کرمیں اس کی یال تیرے ہی لئے تھامے ہوئے ہوں کہ بھاگ نہ جائے اور تو قابو میں کرلے اور مشتری پاس کھڑا ہےکہ قبضہ کرسکتاہے مگر وہ اپنا ہاتھ نہ رکھنے پایا تھا کہ گھوڑا چھوٹ کر گم ہوگیا، بائع کے مال سے گیا کہ قبل قبض ہلاک ہوا تو بآنکہ مشتری قبضہ پر فی الحال قادر تھا اور بائع صاف حکم قبضہ کررہا تھا۔

مگر تخلیہ صحیح نہ ہوا کہ گھوڑا دست بائع میں تھا
فی البحر الرائق وان کان غلاما اوجاریۃ فقال لہ المشتری تعال معی اوامش فخطی معہ فہو قبض وکذا لوارسلہ فی حاجتہ، وفی الثواب ان اخذہ بیدہ اوخلی بینہ وبینہ وھو موضوع علی الارض فقال خلیت وبینک وبینہ فاقبضہ فقال قبضتہ فہو قبض ۱؎، وفی الذخیرۃ ثم الھندیۃ ان کانت الرمکۃ فی یدالبائع ولم تصل الیھا یدالمشتری فقال البائع للمشتری قد خلیت بینھا وبینک فاقبضھا فانی انما امسکہا لک فانفلتت من ید البائع قبل ان یقبض المشتری وھو یقدر علی اخذھا من البائع وضبطھا کان الہلاک علی البائع ۲؎ اھ (ملخصا) ومثلہ فی الخانیۃ وتمامہ تحقیقہ فیما علقنا علی ردالمحتار۔
بحرالرائق میں ہے اگر غلام یا لونڈی ہو اور مشتری اس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہے اور وہ ساتھ چل پڑے تو مشتری قابض قرار پائے گا اور یوں ہی اگر اس غلام کو مشتری نے اپنے کام کے لئے بھیج دیا اور کپڑے کی صورت اگر مشتری کے ہاتھ میں دے دیا یا بائع نے اس کو اپنے اور مشتری کے درمیان زمین پررکھ دیا اور کہا میں نے تیرے لئے تخلیہ کردیا ہے قبضہ کرلے، اور مشتری نے کہا میں نے قبضہ کرلیا تو قبضہ ہوجائے گا اور ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے کہ گھوڑی بائع کے قبضہ میں ہے اور مشتری کے ہاتھ سے دور ہے اور بائع کہہ دے کہ میں نے تیرے لئے اس کو پکڑ رکھا ہے میں نے تیرے اور اس کے درمیان تخلیہ کردیا پکڑلے تو قبل از قبضہ اس موقعہ پر اگر وہ گھوڑی بائع کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے تو اگرچہ مشتری بائع سے لےکر قابو کرنے پر قادر بھی تھا تو بھی نقصان بائع پر ہوگا اھ (ملخصا) یہ تمام بحث خانیہ میں ہے اور مکمل تحقیق ردالمحتار پرہمارے حاشیہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب البیع          فصل یدخل البناء والمفاتیح الخ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵ /۳۰۸)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب البیوع     الباب الرابع         الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۱۸)
اور بداہۃ ظاہر ہے کہ جو چیز اپنے صندوق میں رکھی ہے اور صندوق اپنی الماری میں ہے اور مالک نے آپ انھیں کھولا اور صندوق بدستور الماری میں رکھا ہے اور وہ خود انھیں کھولے ہوئے بیٹھاہے تو قطعا اسی کا قبضہ ہے، پھر تخلیہ کہا متحقق ہواکہ روپیہ اصل قبضہ مالک سے ایک وقت بھی خاکی نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صندوق کھول کر صندوق ہندہ کے ہاتھ میں دے دیتا کما فی المحیط السرخسی والتنویر والھندیۃ وغیرھا (جیسا کہ محیط سرخسی، تنویر اور ہندیہ وغیرہا میں ہے۔ ت) کہ اب صندوق ومافیہ پر زید کا قبضہ نہ رہتا اور کھلے ہونے کے سبب ہندہ کو قبضہ زر پر فی الحال تمکن ہوتا مگر یہاں ایسا نہ ہوا تو تخلیہ نہ ہوا تو قبضہ حقیقی یا حکمی اصلا نہ ہوا تو ہبہ تمام نہ ہوا، اور قبل قبضہ موت واہب سے ہبہ باطل محض ہوگیا،
فی الدرالمختار من موانع الرجوع والمیم موت احدالمتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبلہ بطل۱؎۔
درمختارمیں رجوع کے موانع کی بحث میں ہے میم سے مراد کسی کا قبضۃ دینے کے فوت ہونا ہے اور قبضہ سے قبل ہو تو ہبہ باطل ہے۔ (ت)
 (۱؎درمختار    کتاب الھبۃ     باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ زید جبکہ حسب تحریر سوال عالم وعارف باحکام فقہیہ تھا تو اس کا علم ہی بتارہا ہے کہ اسے تکمیل ہبہ منظور نہ تھی، وہ جانتا تھا کہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا اور قبضہ ایک آن کو نہ دیا، حسب تصریح سوال وقت نکاح سے ہی اس روپے کو اپنی گرہ اپنے صندوق اپنی الماری میں محبوس رکھا وہ جانتا تھا کہ اگر میں ہندہ کا قبضہ حقیقی نہیں کراتا تو کم از کم تخلیہ تو ضرور ہے اور وہ یونہی ہوگا کہ میں روپیہ صندوق سے نکال کر ہندہ کے نہایت قریب زمین پر رکھ اسے حکم قبضہ دوں مگراس نے کبھی روپے کو ہوانہ دی، صندوق میں سے روپیہ درکنار الماری میں سے صندوق بھی نہ نکالا یہ تو سو بار کہا کہ یہ روپیہ تیرا ہے تیری امانت ہے او ریہ ایک بار بھی نہ کہا کہ میں تخلیہ کرتاہوں تو قبضہ کرلے، تو بحال علم وفقاہت شرائط لازمہ متحقق نہ ہونے دینا صریح دلیل ہے کہ وہ قصدا تکمیل ہبہ سے باز رہا۔
فماذکر من ان کونہ عالما فاضلایقتضی کونہ باذلا لاھازلا یعارضہ صریحا ان علمہ ذٰلک ھوا لقاضی بکونہ عاضلا مع ان الاول لیس الاتحسین ظن بتخمین و ھذا علی تقدیر معرفتہ باحکم مثبت امتناعہ بیقین۔
اس کایہ کہنا کہ وہ عالم فاضل ہے ا س لئے اس کا یہ عمل دینے کے لئے ہوگا مذاق نہ ہوگا، اس کو صریح معارض ہے کہ عالم فاضل ہونے کے باوجود اس کایہ عمل فیصلہ کرتاہے کہ اس نے قصدا تکمیل ہبہ نہ کی، حالانکہ پہلا احتمال (دینے کا ارادہ) صرف اندازے کی بنا پر حُسن ظن کا اظہار ہے جبکہ اس کا معارض احکام سے واقف ہونے کی تقدیر پر ہبہ نہ دینے کا یقینی ثبوت ہے۔ (ت)

اور اس پر دوسری روشن دلیل اس کا بارہا رونا اور خوف ضیاع بیان کرنا ہے عاقل جس چیز سےڈرتا ہے اس سے پرہیز کرتاہے نہ کہ اس پر مُصر رہے، ہندہ نے اس سے کس دن کہا تھا کہ میرا روپیہ آپ امانت رکھیں اورکہا بھی تھا تو یہ اس کی تسلیم پرمجبور کیوں ہوا اور مجبور بھی تھا تو ہندہ کو ایک لمحہ کے لئے قبضہ دلاکر پھر اپنے پاس امانت رکھ لینا دشوار تھا مگر اس نے کھبی قبضہ نہ دیا تویقینا وہ کسی طرح قبضہ دینا نہ چاہتا تھا اور اس پرکوئی ایسا اندیشہ رکھتا تھا جو اس خوف امانت پر غالب تھا جس سے بچنے کو وہ اندیشہ گوار اکیا خواہ وہ خوف یہ ہو کہ ہندہ پھر واپس نہ دے گی اور وہ یا اس کا شوہر روپیہ ضائع کردیں گے، بیجاخرچ کرڈالیں گےخواہ کوئی او روجہ ہو، بہرحال قبضہ دینے سے امتناع واضح ہے، پھر تمامی ہبہ کیامعنی، تیسری او رواضح دلیل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی جانتاکہ اس روپیہ پر ہندہ کی ملک تام ہوچکی ہے اور میرے پاس امانتا ہے پھر اپنے پاس رہنے میں اندیشہ مواخذہ لیا تھا جسے خیال کرکے رویا کرتا تو قطعا ہندہ کا روپیہ ہندہ کےحوالےکرتا کہ عالم تو عالم ہر عاقل کو اپنے دین کی احتیاط پرائے مال کی احتیاط پر غالب ہوتی ہے، اپنی آخرت کا مواخذہ پرائی دنیا کے نقصان سے زیادہ گراں ہوتا ہے تو صاف ثابت ہے تو کسی مصلحت خاصہ کےباعث جسے وہ خود ہی خوب جانتا ہوگا۔ اس کا اظہار ہبہ محض نمائش ودل دہی ہندہ کے لئے تھا، یہ کلام بضرورت جواب مذکور ہوا ور نہ شرعاجب کسی عقد کی ناتمامی ثابت ہو تو حال عاقد پر مجرد حس ظن باعث تبدیلی احکام نہیں ہوسکتا، ہمارے نزدیک الزامات مذکورہ سے یہ آسان ہے کہ یہاں بعض احکام سے زید کا ذہول مان لیجئے کہ یہ چنداں دشوار نہیں وہ اپنے گمان میں یہی جانتاتھا کہ صرف فتح صندوق سے تخلیہ ہولیا اور ہبہ تمام ہوگیا، جیساکہ اس کے بعد بعض ذی علم مجیبوں کو عارض ہوا مگر وہ گمان خلاف تحقیق تھا تو حجت نہ رہا اذ لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ (ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کا خطا ہونا واضح ہو۔ ت) 

بالجملہ ہبہ مذکورہ محض باطل ہے، البتہ زید کا اقرار باربار حاصل ہے مگر اقرار مفید ملک نہیں، و لہذا اگر مقر غلط اقرار کرے مقرلہ کو شیئ مقربہ لینا حرام ہے ولہذا اگر محض بربنائے اقرار دعوٰی ملک کرے قضاء بھی مردود وناکام ہے، اوریہاں جبکہ فریقین متفق ہیں کہ مالک زر زید ہی تھا اور ہندہ کی طرف انتقال ملک کاکوئی سبب سوا اس ہبہ باطلہ کے نہ ہوا تو یقینا وہ اقرار باطل تھا اور اقرار باطل کچھ اثر نہیں رکھتا، تو اب نہ ہبہ رہا نہ اقرار، اور روپیہ ملک ہندہ سے برکنار
فی تنویر الابصار لاتسمع دعواہ علیہ بشیئ بناء علی الاقرار ۱؎، فی الدرالمختار حتی لو قرکاذبا لم یحل لہ لان الاقرار لیس سببا للملک نعم لو سلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ بزازیۃ ۱؎ اھ،
تنویر الابصار میں ہےکسی کے اقرار کی بناء پر اس پرکچھ بھی دعوٰی قابل سماعت نہ ہوگا، درمختارمیں ہے حتی کہ اگر جھوٹا اقرارکرے تو مقرلہ کو اس سے لینا جائز نہیں کیونکہ اقرار ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر مقر اپنی رضامندی پردے دے تو یہ دینا ابتداء ہبہ قرار دیا جائےگا اوریہی زیادہ مناسب ہے، بزازیہ۔ اھ،
 (۱؎ درمختارشرح تنویر الابصار    کتاب الاقرار    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۰)

(۱؎ درمختار    کتاب الاقرار    مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۰)
وفی الاشباہ اقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الموقوع فانہ لایقع کما فی جامع الفصولین والقنیۃ ۲؎ اھ، وفیھا ایضاً الاقرار بشیئ محل باطل وعلی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السہام لوارث وھوا زید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالاشرعا مثلامات عن ابن وبنت فاقرالابن ان الترکۃ بینہما نصفان ۳؎ اہ باختصار،
الاشباہ میں ہےکسی مفتی کے فتوٰی کی بناء پر خاوند نے طلاق کا اقرار کیا پھر معلوم ہوا کہ اس فتوٰی کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی ہے تو اقرار سے طلاق نہ واقع ہوگی، جیساکہ جامع الفصولین اور قنیہ میں ہے، اھ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی محال چیز کا اقرار کیا تو باطل ہوگا، اسی وجہ سے میں نے فتوٰی دیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے وارث کے لئے وراثت کے حصہ کا اقرار کرے اور وہ حصہ شرعی حصہ سے زائدہو تو ایسا اقرار باطل ہوگا کیونکہ یہ زائد شرعا محال ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص بیٹا اوربیٹی وارث چھوڑ کر فوت ہوا اور بیٹے نے یہ اقرار کیا کہ ترکہ ہم دونوں بہن بھائی میں نصف نصف ہے اھ مختصرا،
(۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۲۱)

(۳؎الاشباہ والنظائر    الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی     ۲/۲۵)
وفی غمز العیون یؤخذ من ھذا ان الرجل اذ ااقرلزوجتہ بنفقۃ مدۃ ماضیۃ ھی فیھا ناشزۃ اومن غیر سبق قضاء اوارضاء وھی معترفۃ بذٰلک فاقرارہ باطل لکونہ محالاشرعا ۱؎ الخ اقول : وھو ماخوذ عن العلامۃ شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی کما رأیتہ منقولا عندی فی حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ السید الشریف محمد بن محمد الحسینی اٰفندی الشہیر بزیرک زادہ من رجال القرن العاشر قال وقد افتیت اخذا من قول العلامۃ الغزی بان اقرار ام الولد لمولاھا بدین لزمہا لہ بطریق شرعی باطل وان کتب بہ وثیقۃ لعدم تصور دین للمولی علی ام ولدہ اذ الملک لہ فیہ کامل والمملوک لایکون علیہ دین لما لکہ واﷲ تعالٰی اعلم۔۲؎ اھ وھو المراد ھھنا یقول الحموی قال بعض الفضلاء وقد افتیت اخذ امن ذٰلک بان اقرار ام الولد۳؎ الی اٰخر ماقدمنا۔
اور غمز العیون میں ہے اس سے یہ ماخوذ ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لئے گزشتہ اس کے نافرمانی کے دور کے نفقہ یا ایسے گزشتہ وقت کے نفقہ جس کا قاضی نے فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی دینے پر راضی تھا اقرار کیا اوربیوی بھی گزشتہ ایسے نفقہ کی معترف ہو کہ واقعی نافرمانی یا بلا فیصلہ قاضی یہ نفقہ ہے توخاوند کا یہ اقرار باطل ہوگا کیونکہ ایسا نفقہ شرعا محال ہے الخ اقول: (میں کہتاہوں) یہ شیخ الاسلام علامہ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الغزی سے ماخوذ ہے، جیسا کہ میں نے علامہ سید شریف محمد بن محمد الحسینی افندی المعروف زیرک زادہ جو کہ دسویں صدی کے عالم ہیں کے حاشیہ الاشباہ میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ میں نے علامہ غزی کے قول سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوٰی دیا کہ جب ام الولد اپنے مالک کے حق میں اقرار کرے کہ میرے ذمہ شرعی حق کے طور پر اس کا قرض ہے تو یہ اقرار باطل ہے اگرچہ مالک نے وثیقہ بھی لکھ رکھا ہو کیونکہ ام الولد پر مالک کے قرض کا تصورنہیں ہوسکتا اس لئے کہ ام الولد پر مالک کی مکمل ملکیت ہے جبکہ مملوک پر اپنے مالک کا دین نہیں ہوسکتا واللہ تعالٰی اعلم اھ اور اس مقام پر حموی کے قول کے ''بعض فضلاء نے فرمایا کہ میں نے اس سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوٰی دیا کہ ام الولد کا مالک کےحق میں قرض کا اقرار باطل ہے'' سے حوالہ مذکورہ مراد ہے۔ (ت)
 (۱؎ غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر    الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۵)

(۲؎غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر   بحوالہ بعض الفضلائ   الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۵)

(۳؎غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر   بحوالہ بعض الفضلائ   الفن الثانی کتاب الاقرار    ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۲۵)
الحمد اﷲ ایضاح مسئلہ کے لئے اسی قدر کافی ہے باقی تخلیہ کی تحقیق تعریف وتنقیح شرائط وابانت مرام وازاحت اوہام وتفضیل فروع وجزئیات وتمیز المرجوع والرجیح من الروایت فقیر غفرلہ المولی القدیر کے حواشی متعلقہ ردالمحتار میں ہے
وباﷲ التوفیق والحمداﷲ رب العالمین و صلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد والہ وصحبہ اجمعین (اٰمین) وا ﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter