Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
40 - 120
ثالثا تحقق تخلیہ کے لئے صرف تمکن قبضہ فی الحال ہر گز کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مخلی مخلی لہ کو قبضہ کاحکم کرے، مثلا ''خذہ'' یا ''اقبضہ'' کہے یا ''خلیت لک عنہ '' یا اس کے مثل جو اس معنی کو ادا کرے۔

کلام یہاں طویل الذیل ہے اورمحل اجمال میں چند جملے وافی، واللہ الموفق 

(۱) امام اجل فقیہ النفس قاضیخاں رحمہ اللہ تعالٰی نے تخلیہ کی تعریف ہی میں امر بالقبض ماخوذ فرمایا،
کما ہو منقول فی السؤال وجعل الحد اکثر یا لاحصریاتحویل لاتاویل
 (جیسا کہ سوال میں منقول ہے۔ اور قاضی خاں کی تعریف کو اکثری قرار دینا ان کی کلام کو تبدیل کرنا ہے یہ اس کی تاویل نہیں ہے۔ت)

(۲) امام اجل ممدوح ودیگر اجلہ نے صراحۃ عدم امرمذکور کی حالت میں عدم صحت تخلیہ پر نص فرمایا، 

فتاوٰی قاضیخاں وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی ہندیہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
والللفظ للخانیۃ ان دفع الیہ المفتاح و لم یقل خلیت بینک وبین الدار فاقبضہ لم یکن ذٰلک قبضا۱؂۔
خانیہ کے الفاظ میں۔ اگر اس نے چابی دے دی اور یہ نہ کہا کہ میں نے تیرے اور گھر کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلے تویہ قبضہ نہ ہوگا (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخاں     کتا ب البیع باب فی تنقیح المبیع     نولکشور لکھنؤ   ۲/۳۹۴)
محیط پھرعالمگیریہ میں ہے:
اذا لم یقل اقبضہ فانما القبض ان ینقلہ ۲؎۔
جب قبضہ کرلے نہ کہا تو پھر وہاں سے منتقل کرنا ہی قبضہ قراردپائے گا۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الھبۃ الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۷)
تو کلام امام قاضیخاں کو عدم اشتراط پر حمل کرنا خود ان کی تصریح صریح کےخلاف ہوگا

(۳) امام اجل موصوف ودیگر اکابر یہاں تک تصریح فرماتے ہیں کہ مطلقا امر بالقبض بھی کافی نہیں بلکہ خاص  وہ امر بالقبض درکار ہے جو اس شیئ کی طرف مضاف ہو، مثلا ہبہ یا بیع کرکے کہا لے لے یا قبضہ کرلے، تخلیہ نہ ہوا جب تک یوں نہ کہے کہ یہ چیز لے لے یا اس پر قبضہ کرلے، 

فتاوٰی قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوٰی ذخیرہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو قال ''خذ '' لا یکون قبضا ولو ''خذہ'' فہو قبض اذا کان یصل الی اخذہ ویراہ ۳؎۔
اگر کہا ''پکڑلے'' تو قبضہ نہ ہوگا،اور یہ کہا کہ ''اس کو پکڑلے'' تو قبضہ ہوگا بشرطیکہ چیز کو ہاتھ پہنچ جائے اور اس کو نظر آئے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب الرابع     الفصل الثانی  نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۱۶)
 (۴) امام اجل مذکور کے فتاوٰی اور کتاب الاجناس وشرح الجمع لابن ملک وغمز العیون والبصائر وبحرالرائق وغیرہا میں تخلیہ کی شرائط شمار کیں اور ان میں قول مذکور کو ایک مستقل شرط گنا۔ اورنہر الفائق ودرمختاروفتاوٰی ہندیہ وحاشیہ طحطاویہ وردالمحتار وغیرہا میں اسے مقرر  رکھا۔ 

امام ناطفی وابن فرشتہ وسید حموی کی عبارت یہ ہے:
التخلیۃ بین المبیع والمشتری یکون قبضاً بشروط احدھا ان یقول البائع خلیت بینک وبین المبیع، والثانی ان یکون المبیع بحضرۃ المشتری بحیث یتمکن من اخذہ بلامانع، والثالث ان یکون المبیع مفرزا غیر مشغول بحق غیرہ اھ ۱؎ باختصار
مبیع چیزاور مشتری کے درمیان تخلیہ چند شرائط کے ساتھ قبضہ بن جاتاہے ایک یہ کہ بائع یوں کہے ''میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کیا'' دوسری یہ کہ مبیع مشتری کے پاس اس طرح ہوکہ بغیر رکاوٹ اسی کوپکڑ سکے، اور تیسری شرط یہ کہ مبیع فارغ ہو اور کسی کے حق میں مشغول نہ ہو، اھ اختصار۔ (ت)
(۱؎ غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب البیوع         ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۳۲۷)
شرط کا اکثری ہونا کیامعنی، اور امام اجل موصوف نے تو صراحۃ اسے ارشادات عالیہ امام الائمہ صاحب المذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل کیا:
حیث قال قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ التخلیۃ بین المبیع و المشتری تکون قبضا بشرائط ثٰلثۃ احدھا ان یقول البائع خلیت بینک وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری قد قبضت، والثانی ان یکون المبیع بحضرۃ المشتری بحیث یصل الی اخذہ من غیر مانع، والثالث ان یکون المبیع مفرز اغیر مشغول بحق الغیر ۳؎ الخ
جہاں انھوں نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ تین شرائط کے ساتھ قبضہ قرار پاتاہے، ایک یہ کہ وہ مشتری کو کہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلے، اور مشتری جواب میں کہے میں نے قبضہ کیا،دوسری یہ کہ مبیع اس طرح مشتری کے سامنے ہو کہ بغیر رکاوٹ اس کو لے سکے، اور تیسری یہ کہ مبیع فارغ ہو کسی کے حق میں مشغول نہ ہو الخ۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب البیع باب فی تنقیح المبیع    نولکشور لکھنؤ        ۲ /۳۹۵)
بحرالرائق میں ہے:
کان ابوحنیفہ یقول القبض ان یقول خلیت بینک وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری وہو عند البائع قبضتہ ۱؎۔
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ تخلیہ کے ساتھ قبضہ یہ ہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے اس کو لے لو، اور مشتری بائع کی موجودگی میں کہے میں نے قبضہ کیا۔ (ت)
 (۱؎بحرالرائق    کتاب البیع یدخل البناء والمفاتیم الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۵ /۳۰۸)
بالجملہ نقول اس مسئلہ میں متظافر ہیں اور سب سے اعظم یہ کہ وہ خود صاحب المذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا منصوص ہے:
فایاک ان تتوہم ممافی الدر تبعا للنہر انہا من زیادات الناطفی۔
درمختار میں نہر کی پیروی میں جوکہا کہ یہ ناطق کے زیادات میں سے ہے ، اس وہم سے بچ کر رہنا۔(ت)

(۵) یہیں سے ظاہر کہ عبارات علماء میں جہاں تخلیہ مذکو ر ہے یہ شرط منظورہے۔
فان الشیئ اذا اثبت ثبت بلوازمہ و من قال رجل صلی فلیس علیہ ان یقول بطاھر فی طاھر علی طاھر ناویا مستقبلا مکبرا فقد تضمن الکل قولہ صلی، فلا تظن امثال قول الخانیۃ البائع اذا خلی بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر قابضا انہا خالیۃ عن ھذ الشرط فضلا عن کونہا صرائح فی انہ لیس بشرط۔
جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، اور جو شخص کسی کے متعلق کہے کہ ''فلاں نے نماز پڑھی ہے'' تو اس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں، پاک حالت، پاک پانی، پاک جگہ، نیت کے ساتھ، قبلہ کی طرف اور تکبیر کہہ کر، کیونکہ نماز کا ذکر ہی ان سب کو متضمن ہے، لہذا خانیہ کے قول کہ ''بائع جب تخلیہ کردے اس اندازمیں مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری قابض قرار پائے گا'' سے تجھے یہ گمان نہ ہوکہ یہ اس شرط سے خالی ہے چہ جائیکہ تو عدم شرط پر اس کوتصریح قرار دے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضیخاں  کتاب البیع باب فی قبض المبیع        نولکشور لکھنؤ        ۲ /۳۹۴)
 (۶) نصوص صریحہ مذہب وخود صاحب مذہب رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے خلاف اگر کوئی روایت شاذہ پائی جاتی نامقبول ہوتی نہ کہ روایت مطلقہ کہ مخالف بھی نہ ٹھہرتی بلکہ اسی مقید پر محمول ہوتی 

لانہ متفق علیہ فی کلمات العلماء وانما الخلاف فی نصوص الشارع کما فی ردالمحتار وغیرہ من المعتمدات 

کیونکہ یہ تمام علماء کے کلام میں متفق علیہ ہے صرف شارع کی نصوص میں خلاف ہے، جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔ (ت)

نہ کے بے استناد روایت محض ذہنی حکایت کہ وہ کیا قابل التفات وعنایت،
فالمشتری ان عددالثمن فی ید البائع اوذیلہ اوحجرہ لم یحتج البتۃ الی قولہ خذہ ونحوہ لان الحقیقی غنی عن شرائط الحکمی وان عددہ علی الارض بین یدی نفسہ فلایسلم انہ تخلیۃ مالم یقلہ اوینقلہ۔
جب مشتری نے رقم بائع کے ہاتھ یا جھولی یا دامن میں گنتی کرکے ڈالی تو اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت ہر گزنہیں کہ ''توپکڑلے'' کیونکہ حقیقی قبضہ کے بعد حکمی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اگر مشتری اپنے سامنے زمین پر گن کر رکھ دے تو یہ تسلیم نہ ہوگا کہ یہ تخلیہ ہے جب تک پکڑ نہ لے، نہ کہہ دے یا وہاں سے مشتری اٹھا نہ لے۔ (ت)
Flag Counter