Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
39 - 120

اقول:  وباﷲ التوفیق مدارالاعتراض علی ان الاقرار باطل لانہ یتوقف علی وجود المخبر عنہ وھو ثبوت الملک فلو استدل بہ علی تمام الھبۃ وثبوت الملک یلزم الدور محصل الجواب ان اشتراط نفوذ الاقرار ببیان سبب الملک غیر الاقرار مسلم لکن لا یجب بیانہ الا اذا رجع المقرعن اقرارہ واما اذا کان مصر ا علی اقرارہ فان بین فبہا وان لم یبین حتی مات علی اقرارہ لایبطل اقرارہ عند احد بل یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لا یلزم الالغاء والسبب الصالح للاقرار ھٰھنا موجود وھو الھبۃ مع التخلیۃ والھبۃ مع التخلیۃ والھبۃ وتمامہا لیستا موقوفتین علی الاقرار حتی یلزم الدور کما زعم المعترض بل ھما قد ثبتا بدلیل قدمربیانہ فالاقرار وان کان باعتبارذاتہ موقوفا علی تمام الھبۃ لکن باعتبار لازمہ وھو وجوب حملہ علی سبب صالح یقتضی ان یحکم بتمام الھبۃ فی الصورۃ المذکورۃ بشرطہا وشطرھا المذکورین، ولہذا حکمنا بان الاقرار ایضا دلیل علی تمام الھبۃ فقط ارجومنکم ان ترشدونی بصواب الجواب وتدقیق یؤمن بہ ویتیقن بہ اولوالالباب۔
اورمیں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں کہ اعتراض کا دارومدار اس بات پرہے کہ یہ اقرار باطل ہے کیونکہ یہ مخبر عنہ اور محکی عنہ پر موقوف ہے اور وہ محکی عنہ پہلے سے ملکیت کا ثبوت ہے تو اگر اس قول سے ملکیت ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کیا جائے تو دور لازم آئے گا ، تو اس کے جواب کاخلاصہ یہ ہے کہ اقرار کے نافذ ہونے کے لئے اس اقرار کے علاوہ کسی اور سبب کا بیان ضروری ہے، جو ملکیت کا باعث ہو، یہ بات مسلمہ ہے لیکن اس کا بیان صرف اس قت ضروری ہے جب مقر اپنے اقرار سے منحرف ہو_______لیکن اگر وہ اپنے اقرار پر قائم ہے تو بیان کردے تو بہترورنہ وہ اپنے اس اقرار پر فوت ہوجائے تو کسی کے ہاں وہ اقرار باطل نہ ہوگا بلکہ اس اقرار کو صحیح محمل پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ کلام کا لغو ہونا لازم نہ آئے، اوریہاں صحیح سبب موجود ہے اوروہ ہبہ مع تخلیہ ہے جبکہ ہبہ اوراس کا تام ہونااقرار پر موقوف نہیں ہے، تاکہ دور لازم آئے جیسا کہ معترض کا خیال ہے ، بلکہ ہبہ اور اسکا تمام ہونا یہ دونوں مذکورہ دلیل سے ثابت ہیں تو اقرار اگرچہ اپنی حقیقت میں ہبہ کے تام ہونے پر موقوف ہے لیکن وہ اپنے لازم جو کہ صحیح سبب پرمحمول کرنا ہے، کے اعتبار سے مذکورہ صورت میں ہبہ کے تام کے حکم کو اس کی شرط اور رکن سمیت چاہتاہے اور اسی لئے ہم نے حکم لگا دیاکہ اقرار بھی ہبہ کے تام ہونے کی دلیل ہے فقط(مذکورہ صورت حال کی روشنی میں) مجھے آپ سے امید ہے کہ آپ صحیح جواب کی رہنمائی فرمائیں گے اور ایسی تحقیق فرمائیں گے جس پر اصحاب علم وفہم کو یقین وتصدیق ہوجائے۔ (ت)

(العبد عبداللہ خاں عفی عنہ ازضلع چمپارن قصبہ بتیا محلہ گنج اول)
الجواب

اَللّٰہْمَّ لَکَ الْحَمْدُ
 (یا اللہ! تمام حمدیں تیرے ہی لئے ہیں۔ ت) صورت مشروحہ سوال سے ہندہ کے لئے ان نقود میں ملک اصلا ثابت نہیں۔

اولا سائل نے زید کا مجلس عقد میں شوہر واصہار کے سامنے بعض اشیاء نامزد ہندہ کرنا بیان کیا مگر شوہر وغیرہ کے قبول کا کوئی ذکرنہیں کہ قبول فضولی سمجھ کر اجازت ہندہ پر موقوف رکھیں، نہ بعد ہ کوئی اجازت ہندہ مذکورہ فہرست مطلقا تعریف ایجاب بالکتاب میں داخل خصوصا جبکہ تذکرہ ماوقع علیہ الانشاء ہونہ انشاء ،
والاول ہو المعہودالمتعارف فی امثال الفہارس
(فہرستوں جیسی چیز میں امراول معلوم ومتعارف ہے۔ ت) نہ وہ لفظ ہی سوال میں مسطور جو زید نے فہرست میں لکھے کہ ان پر نظر ہو، نہ یہی معلوم کہ ہندہ خواندہ ہے، فہرست اس نے خود پڑھی یا کسی نے اس کے جملہ الفاظ مندرجہ پڑھ کر سنائے، یا یوں ہی اجمالا اسے کاغذ دے دیا کہ یہ تمھارے جہیز کی فہرست ہے، نہ یہی مذکور کہ ہندہ سے کوئی قول یا فعل کہ قبول یا اجازت فضولی پر صادر ہوا یانہیں،
واذلا اثر لبیان شیئ منہا فی السوال فکیف یسوع الحمل فی الجواب علی احد الجوانب من دون علم و یحکم بتحقق الشطرین تحکما بوجود القبول من الحضار ثم اجازۃ من المرأۃ او وجودہ منہا بعد بلوغ الکتاب مع عدم العلم بما فی الکتاب ایضا بمجرد السکوت فلا ینسب الی ساکت قول، ام باختیار من عند اٰنفسنا احدالشقوق ولیس ھذا شان الجواب انما قصارہ فی امثال الصور التردید۔
سوال میں مذکورہ شقوں کا بیان اورنشاندہی نہیں ہے تو جواب کو کسی ایک شق پر علم کے بغیر کیسے محمول کیا جائے اور کیسے حاضرین کے حکمی قبولیت کے وجود سے ہبہ کے دونوں رکن (ایجاب وقبول) کے پائے جانے پر حکم کیا جائے اور پھر عورت کی اجازت اور اجازت کا وجود لکھے ہوئے کاغذ کی وصولی کے بعد باوجود یکہ اس میں لکھی ہوئی چیز کا بھی علم نہیں محض اس کے سکوت سے ثابت کرنا تو اس کی طرف کسی قول کا منسوب کرنانہ ہوگا یا ہم خود اپنی طرف سے کوئی ایک شق متعین کرلیں، تو یہ جواب نہ ہوگا اب سوائے اس کے کہ سوال کی ایسی صورت کے جواب میں اگر مگر سے کام لیا جائے کوئی چارہ نہیں ہے۔ (ت)

بالجملہ قبول کو شطر عقدمان کر مقدار مافی السوال پر حکم انعقاد رجم بالغیب وخرط القتاد۔
نعم ہو علی علی الاصح شرط ثبوت الملک واذن یقوم مقامہ القبض فی المجلس ولو بلااذن الواہب اوبعدہ لو باذنہ کما حققناہ فی فتاوٰنا وحنیئذٍ یرجع الامر الی المباحث الاٰتیۃ فی تحقق التخلیۃ ویلغوا السعی فی تحقیقۃ بفرضہ من فضولی فی المجلس اواحالۃ الایجاب علی ما فی الکتاب لیتوقف الشطر علی ماوارء المجلس۔
ہاں قبول کرنا صحیح قول کے مطابق ثبوت ملکیت کی شرط ہے اور اس صورت میں ثبوت ملک سے قائم مقام قبضہ ہوسکتاہے مجلس میں ہو تو بلااجازت بھی ہوسکتاہے ورنہ مجلس کے بعد اجازت سے ، جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے اور اس صورت میں تخلیہ کی تحقیق میں آئندہ مباحث کی طرف راجع ہونا ہوگا جبکہ اس صورت میں فضولی سے مجلس میں قبولیت یاایجاب کو لکھی ہوئی فہرست کی طرف منسوب کرکے ماورائے مجلس شطر (رکن) کے پائے جانے کی کوشش لغو ہے۔ (ت)

ثانیا ہاں ہبہ صحیحہ میں مذہب صحیح پر تخلیہ مثل قبض بالبراجم ہے۔
جزم بہ فی متن التنویر ونص فی الدررثم الدر ۱؎ انہ المختار قلت وقد اشار فی بیوع الاشباہ الی ضعف خلافہ وقدمہ فی ھبۃ الخانیۃ علی قول الخلاف وہوانما یقدم الاظہر الاشہر وبہ جزم الامام شمس الائمۃ الحلوانی ولم یمل الی ذکر الخلاف کما فی بیوع الخاقانیۃ
اس پر تنویر کے متن میں جزم فرمایا درر اور درمختار میں نص فرمائی اور مختار قرار دیا، میں کہتاہوں اور اشباہ کی کتاب البیوع میں اس کے خلاف پر ضعف کا اشارہ کیا اور خانیہ کے کتاب الہبۃ میں اس کو مخالف قول پر مقدم ذکر کیا ہے جبکہ خانیہ اظہر واشہر کو مقدم ذکر کرتاہے اور اسی پر شمس الائمہ حلوانی نے جزم کیا اور مخالف قول کو ذکر تک نہ کیاجیسا کہ خاقانیہ کے بیوع کے باب میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الہبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)
مگریہاں اعتبار تخلیہ کے لئے جو تمکن قبض شرط ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ شیئ موہوب موہوب لہ سے اس قدر قریب ہوکہ یہ ہاتھ بڑھائے توا س تک پہنچ جائے اٹھ کر اس کے پاس جانے کی حاجت نہ ہو فقط الماری اور صندوق کا کُھلاہونا ہرگز کافی نہیں۔ 

بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
لواشتری ثوبا فامرہ البائع بقبضہ فلم یقبضہ حتی اخذہ انسان ان کان حین امرہ بقبضہ امکنہ من غیر قیام صح التسلیم وان کان لایمکنہ الابقیام لایصح ۱؎۔
اگر کسی نے کپڑا خریدا تو بائع نے اس کوقبضہ کرنے کاحکم دیا، ابھی وہ قبضہ کرنہ پایاتھا کہ دوسر ے شخص نے وہ کپڑا پکڑ لیا، اگر قبضہ کے حکم کے وقت مشتری کو اس کپڑے پر قبضہ کے لئے قیام کے بغیر قدرت تھی تو بائع کا یہ حکم تسلیم کے قائم مقام ہوگا اور قیام کے بغیرقبضہ پرقدرت نہ تھی تو تسلیم صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار    کتاب البیوع فصل فیما یدخل فی البیع الخ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۴۳)
فتاوٰی قاضیخاں وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
ان کان حین امرہ البائع بالقبض امکنہ ان یمد یدہ ویقبض من غیر قیام صح التسلیم والافلا ۲؎۔
جب بائع نے اس کو قبضہ کاحکم دیا اس وقت اس کو ہاتھ بڑھاکر بغیر قیام قبضہ پر قدرت تھی تو تسلیم صحیح ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع الفصل الثانی            نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۱۷)
یہاں سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ الماری کھولتے وقت ہندہ کتنے فاصلہ پر ہوتی تھی، نہ اس نے کہاکہ کبھی زید نے اس وقت ہندہ کو بلاکر اتنا پاس بٹھاکر یہ الفاظ کہے کہ ہندہ ہاتھ بڑھاتی تو روپوں کی تھیلی ہاتھ میں آجاتی تو شرط تخلیہ کا تحقق سوال سے ظاہر نہیں بلکہ ظاہر عدم ہے کہ ایسا ہوا ہوتا تو اس کا بیان ترک نہ کرتا
لما یترا أی من کلام عن الاستقصاء فی بیان الواقعۃ وتفریغ الوسع فی الاتیان بکل ماظنہ مؤید التمام الھبۃ۔
کیونکہ پورا واقعہ بیان کرنے اور ہبہ کو تام قرارد ینے کی کوشش میں پوری مساعی کا ہر ممکن صرف کرنا اس کی کلام میں ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔ (ت)

نہ فریقین کا اتفاق کہ واہب ایسا کہاکرتا تھا یا ہندہ قبضہ کرتی تو کہہ سکتے ہیں کہ نہ روکتا اس شرط تمکن کے وجود پر اتفاق ہے ایسا کہنا یا نہ روکنا واہب کے قول وحال ہیں اور جو تمکن کہ یہاں شرط ہے یعنی شے موہوب سے اس قدر قریب ہونا وہ موہوب لہ کا وصف ہے، تو نہ اس کا وجود اس کے وجود کو مستلزم ، نہ اس کی تسلیم ، بہرحال قدر مافی السوال پرثبوت تخلیہ کاحکم صحیح نہیں۔
فکان حقہ ان یردد اذا تردد وھہنا سہو فی بعض الصور وقع فی ش تبعا للبحر اوضحناہ وازحناہ فیما علقنا علیہ وباﷲ التوفیق ثم ہوایضالا یتعلق بما فی الباب قد نص انہ یشترط فی نحو ثوب کونہ بحیث لومد یدہ تصل الیہ ولا شک ان الدراہم فی ذٰلک مثل الثیاب
حق یہ تھا کہ تردد کی صورت میں تردد کا اظہار کیا جاتا، اوریہاں بعض صورتوں کے بیان میں شامی کو بحر کی پیروی میں سہو ہوا ہے ا س کوہم نے اس پر حاشیہ میں واضح کیا اور اس کا ازالہ بھی کیا ہے،اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے، پھروہ بھی اس باب سے متعلق نہیں ہے، انھوں نے یہ نص کی ہے کہ کپڑے جیسے معاملہ میں یہ شرط ہے کہ کپڑا یوں ہو کہ اگر ہاتھ بڑھائے تو ہاتھ اس تک پہنچ جائے تو شک نہیں کہ دراہم اس معاملہ میں کپڑے کی مانند ہیں۔ (ت)
Flag Counter