| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مگر عرضی مذکور کا ملاحظہ صراحۃً اس معنی سے اباء کرتاہے اس میں عبارت مذکور کے متصل ہے ''ورنہ میں سند عطیہ سابقہ حضور اپنے ہمراہ لایا ہوں واپس پیش کردوں بدستور سابق ملک مذکور شریک خالصہ فرمائی جائے'' اس سے صاف ظاہر کہ وہ اس وقت اپنا ہبہ واپس نہیں کرتا بلکہ اس درخواست کے قبول نہ ہونے پر واپسی ہبہ کہہ رہا ہے، دوسرے یہ کہ اس درخواست کو محمد اعظم خاں کی طرف سے توکیل بالہبۃ قرار دیجئے گویا وہ اپنے پسر کو خود اپنی طر ف سے ہبہ کرتا اور ریاست کو اس ہبہ کا اختیار دیتاہے، یہ معنی بھی نہ اس درخواست سے ظاہر نہ سند ثانی سے، جس میں لفظ یہ ہیں کہ
از حضور بہ محمد ا فضل خان معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانند۔
سرکار کی طر ف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی تو اراضی مذکورہ کو سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم لازم سمجھیں۔ (ت) اور بالفرض ان دونوں میں سے کوئی صورت ہی قرار دیجئے، جبکہ محمد افضل خاں نے اس پر ایک آن کو قبضہ نہ پایا اس کے نام ہبہ خواہ جانب ریاست سے مانیں خواہ طرف پدر سے، بہرحال باطل محض ہوگیا، برتقدیر اول تو ظاہر ہے اوربرتقدیر ثانی یوں کہ سائل نے اپنے خط میں اظہار کیا کہ محمد افضل خاں اس تبدیل سند کے وقت بالغ وصاحب اولا د تھا تو قبضہ پدرا س کا قبضہ نہیں ہوسکتا لاجرم اس کے نام ہبہ باطل ہوگیا، درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۱؎۔
میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کا فوت ہوجانا ہے اور قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱)
بالجملہ کسی صورت کسی پہلو محمد افضل خاں یا اس کے کسی وارث کا اس زمین پردعوٰی نہیں پہنچ سکتا وہ اس میں سے کسی ذرہ کے مالک نہیں، یہاں بعض ابحاث فقہیہ اور ہیں جن کو سوال سے تعلق نہیں، لہذا ان کاذکر مطوی رہا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۴ : مرسلہ مولوی عبداللہ خاں صاحب قصبہ بتیا ضلع چمپارن محلہ گنج اول ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ بالغہ کی شادی کی اور نکاح کے وقت میں بطور جہیز مع دیگر اثاث بیت ایک ہزار روپیہ بھی دیا، دینے کی صورت یہ تھی کہ زید نے مجلس نکاح میں اشیاء دادہ شدہ کو بنام ہندہ بحضور اصہار وشوہر ہندہ کے نامزد کیا، اور ایک فہرست اشیاء مذکورہ کی لکھ کر جو مشتمل بہ ایجاب بھی تھی ہندہ کے حوالے کی، چونکہ ہندہ تاحین حیات زید مرحوم اپنے والد مرحوم کے ہم ماکل وہم مشرب (عہ( رہی، اور وہ اس کے کل مصارف کہئے اس لئے بوجہ عدم ضرورت ہندہ نے نقود مذکورہ کوقبضہ خاص میں نہیں لایا بلکہ تازندگی زید مرحوم ، زید مرحوم کے پاس رکھ چھوڑا، بعد انتقال زید ہندہ کو جب ضرورت پڑی اس کو خرچ کیا،
عہ: اصل میں قلم ناسخ سے ایک لفظ چھوٹ گیا ہے۔ ۱۲
زید مرحوم نے نقود مذکور کو الگ ایک تھیلی میں وقت نکاح سے رکھ لیا تھا، اور اس سے کوئی نفع ذاتی نہیں اٹھایا تھا، جب کبھی الماری کھولتے تھے تو تھیلی مذکور ہ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے ہندہ سے مخاصب ہو کر کہ یہ تیرا روپیہ ہے، اور بسا دفعہ یوں فرماتے تھے کہ تیرا روپیہ میرے پاس امانت ہے، اور بسا دفعہ روتے تھے اور کہتے تھے کہ ہندہ کا روپیہ میرے پاس بے فائدہ رکھا ہوا ہے امانت میں، ہم کو ڈر ہے کہ ضائع نہ ہو اور اسکی وجہ سے میرا مواخذہ نہ ہو، یہ حقیقت حال ہے اب ارشاد فرمائے کہ تخلیہ مذکورہ سے یعنی قول زید مرحوم سے بعدکھولنے صندوق کےیہ تیرا روپیہ ہے ہبہ تمام ہوا یانہیں؟ کیونکہ دینا بطور جہیز کے ہبہ ہی کا محتمل ہے، اگر اس تخلیہ سے ہبہ تمام ہوا اوریہ کہ تخلیہ معتبرہ کی کیا تعریف ہے حتی ینظر ان التعریف یصدق علی ھذا الصورۃ (تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس صورت پر تعریف صادق آتی ہے۔ ت) اوراگر یہ ہبہ تمام نہیں اور تخلیہ مذکورہ تخلیہ معتبرہ نہیں تو عدم اعتبار کی کیا دلیل ہے، اوریہاں کون شرط اعتبار کا منفی ہے۔
وھکذا ارشدونی فی الاقرار من حین اعتبار وعدمہ اذقول زید رحمہ اﷲ۔
یوں مجھے ارشاد فرماؤ اقرارکے متعلق کب معتبر ہے اور کب نہیں ، کیونکہ زید رحمہ اللہ کا قول: (ت) ''تیرا روپیہ میرے پاس امانت ہے''
ظاھرہ اقرار بالامانۃ فھل یصح ھذا اقرار ام ھو باطل وکان زید المقر عارفا معنی الامانۃ عالما فقیھا ارجومنکم ان تنبھونی بجواب یروی العطشان ویذھب بالظمان اذھی مسئلۃ اختلف فیھا اراء الاقرارن وما اٰتی احد بشیئ یزیل الخلجلان والاٰن اریدان اسمعکم ماوقع بینہم حتی ترشدونی بسلیمۃ من سقیمۃ اجاب بعضہم بان الھبۃ لیست بصحیحۃ کما صرح بہ الکتب الفقہیہ واجاب بعضہم بان الھبۃ قد تمت لوجود شرطہا وشرطہا اما الایجاب فظاہر واما القبول فلو جودہ من الاصہار فی مجلس النکاح واجازۃ موھوب لھا فیصح کما فی الفضولی ولوجودہ من الموھوب لہا بنفسہا بعد بلوغ الکتاب الیہا ای الفہرست المذکور المشتمل علی الایجاب والموھوب وشرط العقد یتوقف علی الغائب اذا کان بکتابۃ اوبارسال واما شرط تمامہا وھوا القبض فہو قد یکون حقیقیا وقد یکون حکمیا وھھنا وان لم یتحقق الاول لکن الثانی متحقق ذا الشرط فی اعتبار القبض الحکمی المعبر عنہ بالتخلۃ ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن عن قبضہ المخلی لہ بعد ان یصدر من المخلی بالکسر قول اوفعل یدل علی اجازۃ القبض وقد تحقق فیما نحن فیہ ھذان الامران اما الثانی ای القول والفعل الدال علی الاجازۃ فکما مرفی تحریر السوال من قول الواھب یہ تیراروپیہ ہے بعد فتح الصندوق مشیرا الی الدراھم الموھوبۃ المشدودۃ فی خریطۃ منفردۃ ممتازۃ اذا ما کان مقصودہ بھذا القول الا اجازۃ القبض کما ھو المسلم عند الفریقین من المدعی والمدعا علیہ وکذا الاول ای التمکمن وکون الموھوب بحیث یتمکن من قبضہ الموھوب لہ اذالمانع والحائل وہو القفل وغیرہ من اللوح الذی ھومدخل الصندووق وبابہ قدارتفع وقت الاجازۃ ولان القائل الواھب ھھنا مما یمتنع ان یتوہم فی شانہ انہ قال ذٰلک ھازلا بل یجب ان یتیقن بکونہ باذلا لما مرمن انہ کان عالما تقیا مقتدا لاھل ھذہ الاطراف وایضا ہذا ان الامران مسلمان عند الفریقین فھما مستفتیان عن الدلیل والبیان۔
اس کا ظاہر امانت کا اقرارہے، کیا یہ اقرار صحیح ہے یاباطل ہے جبکہ اقرار کرنے ولا زید عالم فقیہ ہونے کی وجہ سے امانت کا معنی جانتا تھا، مجھے امید ہے کہ آپ مجھے جواب سے وہ تبنیہ فرمائیں گے جوپیاسے کو سیراب کردے اور پریشانی کو دور رکردے کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں ہم زبان لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں اور کسی نے کوئی چیز نہ بتائی جو خلجان کوختم کردے، اب میں چاہتاہوں کہ ان کی آراء آپ کو سناؤ تاکہ آپ صحیح اور غلط کی مجھے رہنمائی فرمائیں، بعض نے یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ صحیح نہیں جیسا کہ کتب فقہ نے یہ تصریح کی ہے اور بعض نے یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ تام ہوچکا ہے شرط پائے جانے کی جوہ سے شرط ایجاب وقبول ہے، ایجاب کا وقوع توظاہر ہے لیکن قبول تو وہ سسرال نے مجلس نکاح میں کرلیا اورلڑکی نے اس کی ان کو اجازت دے دی، تو قبول کرنا صحیح ہوگیا جیسا کہ فضولی کا معاملہ ہوتاہے، نیز خود لڑکی کی طرف سے اس کو لکھی ہوئی فہرست مل جانے کے بعد قبول ہوگیا کیونکہ وہ فہرست ایجاب پر مشتمل تھی اور موہوب چیز بھی اس میں درج تھی اور عقد کی شرط غائب کے قبول کرنے پر موقوف ہوتی ہےجبکہ وہ بطور تحریر یا ارسال ہو، لیکن اس ہبہ کے تام ہونے کی شرط قبضہ ہوناہے، اوریہ قبضہ کبھی حقیقی ہوتاہے اورکبھی حکمی ہوتاہے جبکہ یہاں حکمی صورت میں قبضہ پایا گیا ہے کیونکہ حکمی قبضہ تخلیہ سے ہوتاہے کہ چیز اس انداز سے موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کے کسی قول یا فعل کی دلالت اجازت قبضہ پر پائی جائے اورموہوب لہ جس کے لئے تخلیہ ہوا کو قبضہ کرنا ممکن ہو، اورزیر بحث صورت میں یہ سب کچھ پایا گیا ثانی یعنی حکمی قبضہ کہ قول یا فعل اجازت پر دلالت کرے، یہ بات سوال کی تحریر میں موجود ہے کہ واہب نے صندوقچی کھول کر موہوب دراہم جو علیحدہ تھیلی میں بندھے ہوئے تھے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا''یہ تیرا روپیہ ہے، کیونکہ اس کی اس بات کا مقصد صرف یہی تھا کہ لڑکی قبضہ کرے جیسا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں فریقوں کویہ بات مسلم ہے اور یوں ہی پہلا عمل یعنی لڑکی کا قبضہ پر تمکن کہ موہوب اس طرح ہو کہ موہب لہ اس پر قبضہ کرلے تویہ متحقق ہوچکا کیونکہ واہب کا تالا کھول کر صندوق والماری کو کھلا رکھنا قبضہ کے لئے رکاوٹ اورمانع کودور کرنا اجازت پر دال ہے اور واہب کی اس بات کومذاق پر محمول کرنا ممکن نہیں بلکہ جیساکہ سوال میں گزراکہ وہ عالم متقی اوراہل علاقہ کا مقتداء ہے تو یقین کرنا ہوگا کہ وہ حقیقا دے رہا ہے نیز یہ باتیں دونوں فریقوں کو مسلم ہیں اس لئے بھی ان پر دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ (ت) یعنی جو ورثہ موجود تھے ور عاقل بالغ تھے وقت حیات زید مرحوم کے وے تسلیم کرتے ہیں اس امر کا کہ زید مرحوم بارہا کہا کرتے تھے مذکورہ کو، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ہندہ نقد مذکورہ موہوب لہ کے قبض کرتی تو اس کے والد مرحوم ہر گزمنع نہ کرتے۔
الا انہا لم تقبض قبل موتہ لعدم الحاجۃ بہا وقت حیاتہ وانما قبضت بعد موتہ ووقت القبض لم یزاحمہا احد من الورثۃ لتسلیھم ذین الامرین وکونہ تلک النقود ملکہ خاص الہندۃ وانما شرعت المنازعۃ والمزاحمۃ وقت طلب الھندۃ حصتہا من الترکۃ معترضین علیھا بقیۃ الورثۃ بان ماقبضت من النقود ہو محسوب من حصتک من الترکۃ والہندۃ تقول فی جوابھم بان النقود قد جھزئی بھا ابی فہولا یحسب من حصتی من الترکۃ بل یجب ان تکون لی حصہ غیرہا والدلیل الثانی علی تمام الہبۃ بالقبض الحکمی والتخلیۃ المذکورۃ اقرا زید بالامانۃ کمامرمن انہ ربما یبقی ویقول ان دراھم الہندۃ امانۃ عندی واخاف من ضیاعہا وبیان دلالتہ ان المقرکان عارفا معنی الھبۃ واحکامہا ومعنی الامانۃ واحکامہا لما مرمن فقاھتہ واتقائہ ولیس من اصطلاح الفقہاء ولا غیر ھم الاطلاق علی مال نفسہ بانہ امانۃ لزید مثلا فدل الاقرار بالامانۃ علی ان التخلیۃ المذکورۃ تخلیۃ معتبرۃ لاباعتبار المقر فقط بل باعتبار الشرع ایضا اذا الشرع ماحصر التخلیۃ فی امثلۃ معدودۃ محصورۃ حتی تنعدم بانعدامہا بل مبناہ عندالشرع علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضۃ المخلی لہ بعد اجازۃ المخلی بالکسروھو امرعام لایمکن انحصار نعم بختلف باختلاف المواد اختلاف المخلین وقد مران التمکن و الاجازۃ ہٰہنا مسلم ومدلل تم ماقال البعض الاخرۃ، ومقولۃ السائل فی توجیہ من قال بعدم التمام۔ اقول: وباﷲ التوفیق قول من قال بعدم اعتبار التخلیۃ المذکورۃ من قول زید یہ تیرا روپیہ ہے بعد فتح الصندوق کما مربتمامہ اعتصم بقول القاضیخان حیث قال (والتخلیۃ ان یخلی بین الموھوب لہ ویقول لہ اقبضہ ۱؎) اذ فیہ تصریح علی ان التخلیۃ انما تعتبرا ذا ایدت بالامر بالقبض وقول زید یہ تیرا روپیہ ہے لیس امرابالقبض بل فیہ اخبار عن کون تلک النقود ملکا للہندۃلکونہ جملۃ خبریۃ فان استدل بہذا القول علی تمام الھبۃ و ثبوت الملک فی النقود یلزم الدور کما لا یخفی اذا لیس للملک وجہ اٰخر غیر الھبۃ ولما بطل استدلالہ بقول زید یہ تیرا روپیہ ہے الخ لم یبق لتمام الھبۃ وجہ اٰخر غیر الاقرار بالامانۃ مع کون زید عارفا معنی الامانۃ واحکامھا وھذا الاقرار ایضا غیر صالح للاستدلال بہ علی تمام الھبۃ وثبوت الملک فی النقود للھندۃ اما عدم صلاحیتہ للاول فظاھراذا لامانۃ لاتقتضی کونھا لھبۃ لخصوصہا انما تقتضی کونہا ملکا للمودع بالکسر فالدال عام والمدلول خاص و اما الثانی فلان الاقرار اخبار و حکایۃ موقوف علی المحکی عنہ والمخبر عنہ ھو کون المقربہ ملکا للمقرلہ قبل الاقرار فلو استدل بہ علی ثبوت الملک فیھا قبلہ لز م الدور، ولیس الاقرار سببا للملک حتی تثبت بہ الملک من غیر نظر الی الحکایۃ ولان الاقرار انما یعتبرا اذا ادعی المقرلہ الاقرار وبین سببا للملک غیرہ اذا الدعوی الذی علی الاقرار من غیر بیان سبب الملک باطل کما لایخفی وھو معنی قول صاحب الدرالمختار ولاتسمع دعواہ بشیئ بناء علی الاقرار ۱؎، والجواب علی ماادی الیہ نظری، واﷲ اعلم بالصواب ان تعریف القاضیخاں اکثری لاحصری ولایشترط فی جمیع افراد التخلیۃ الامر بالقبض بل امدارھا علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضہ بعد اجازۃ المخلی بالقول او بدلالۃ الحال ویدل علی ھذا اطلاقات القاضیخاں ایضا جلد ۲ صف ۳۹۴ حیث قال البائع اذا خلی بین المبیع وبین المشتری بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر المشتری قابضا للمبیع ۱؎ ففیہ تصریح ان الامر بالقبض غیر مشروط فیہا ولا قائل بالفرق بین التخلیۃ فی البیع والھبۃ حتی یقال بالاشتراط فیھا دونہ ولان عبارۃ القاضیخاں قبیل ھذا ص ۳۹۴ شاھدۃ بمساوات التخلیتین،
تاہم لڑکی نے والد کی زندگی میں عدم ضرورت کی بناء پرقبضہ نہ کیا اور اس کی موت کے بعد جب قبضہ کیا تو کسی وارث نے کوئی مزاحمت نہ کی کیونکہ وہ دونوں چیزوں کو تسلیم کئے ہوئے ہیں اوریہ بھی تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ یہ نقد خاص ہندہ کی ملکیت ہے اور ورثاء کی طرف سے جھگڑا اور مزاحمت اس وقت شروع ہوا جب ہندہ نے والدکے ترکہ میں اپنا حصہ طلب کیا تو انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ تو نے جو نقد وصول کیا ہے وہ ترکہ کا حصہ ہے جواب میں ہندہ کہتی ہے کہ وہ نقد والد نے مجھے جہیز میں دیا ہے، لہذا وہ ترکہ میں شمار نہیں ہے بلکہ ترکہ میں میرا حصہ الگ ہے حکمی قبضہ اور تخلیہ سے ہبہ کے تام ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ زید کا اقرار تھا کہ یہ ہندہ کی امانت ہے اور کبھی روتا اورکہتا کہ یہ روپیہ میرے پاس ہندہ کی امانت ہے اور مجھے اس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، یہ دلالت اس لئے واضح ہے کہ زید ہبہ اور اس کے احکام اورامانت اور اس کے احکام سے بخوبی آگاہ تھا کیونکہ وہ متقی عالم تھا جیساکہ گزرا فقہاء کرام وغیرہ کی اصطلاح میں مثلا زید کے اپنے مال کو امانت نہیں کہا جاتا تو اس کے اقرار امانت کی یہ دلالت ہوئی کہ مذکورہ تخلیہ محض مقر کے اعتبار سے معتبر نہیں، بلکہ شریعت نے تخلیہ کا چند مثالوں میں حصر نہیں کیا تاکہ ان کے معدوم ہونے سے تخلیہ معدوم ہوجائے بلکہ شریعت نے اس کا مبنٰی یہ قرار دیا کہ چیز اس انداز میں موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کی اجازت کے بعد قبضہ کرنیوالے کو کوئی رکاوٹ نہ ہو، یہ مفہوم عام ہے جو کسی خاص صورت میں منحصر نہیں ہے۔ ہاں مواد اور تخلیہ دینے والوں کے اختلاف سے تخلیہ مختلف ہوجاتاہے اور یہ گزرا کہ قبضہ پر تمکن اور اجازت یہاں مسلم امر ہے، دوسرے بعض کا قول مکمل ہوا اور جس نے کہا یہ ہبہ تام نہیں ہے اس کی توجیہ میں سائل کا قول،اقول: میں کہتاہوں اللہ کی توفیق سے، زید کے صندوق کھولنے اوریہ کہنے کہ یہ تیرا روپیہ ہے اس تمام واقعہ پر جس نے کہا یہ تخلیہ معتبرنہیں ہے اس نے قاضی خاں کے اس قول کو دلیل بنایا جہاں انہوں نے فرمایا: التخلیہ یہ ہے کہ موہوب چیز اورموہوب لہ میں تخلیہ کردے اور کہہ دے کہ توقبضہ کرلے، کیونکہ اس قول میں یہ تصریح ہے کہ تخلیہ تب معتبر ہوگا جب وہ قبضہ کے حکم سے مؤید ہو،اور زید کا لڑکی کو کہنا کہ یہ تیرا روپیہ ہے ا س پر قبضہ کا حکم نہیں ہے بلکہ ان نقود پر ہندہ کی ملکیت کی خبر دینا ہے کیونکہ یہ جملہ خبریہ ہے، اگر اس قول کو ہبہ کے تام ہونے اور ہندہ کی ملکیت کے ثبوت کے لئے دلیل بنایاجائے تو دور لازم آئے گا جیساکہ مخفی نہیں ہے کیونکہ ان نقود میں ہندہ کی ملکیت کی ہبہ کے بغیر کوئی دلیل نہیں ہے توجب زید کے قول کہ ''یہ تیرا روپیہ ہے'' سے استدلال باطل ہوگیا تو اب ہبہ کے تام ہونے پر ہبہ اور اس کے احکام اورامانت اور اس کے احکام پر مطلع ہونے کے باوجود زید کا اقرار بالا مانت کرنا ہی دلیل رہ گئی ہے حالانکہ یہ اقرار اتمام ہبہ اور ہندہ کے لئے ان نقود کی ملکیت کے ثبوت پر دلیل نہیں ، اول یعنی امانت کا دلیل کے لئے صالح نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ امانت کا ہبہ ہونا لازمی تقاضا نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ وہ چیز امانت رکھنے والے کی ملکیت ہے تو دال عام اور مدلول خاص ہے، اور ثانی یعنی نقود پر ہندہ کی ملکیت ،اس لئے دلیل بننے کی صالح نہیں کہ یہ اقرار خبر اورحکایت ہے جو محکی عنہ اور مخبر عنہ پر موقوف ہے اورمحکی عنہ اقرار سے قبل نقود کا ہندہ کی ملکیت ہونا ہے تو اگر اس خبر کو اقرار سے قبل ملکیت پر دلیل بنایا جائے تو دور لازم آئے گا نیز خود اقرارملکیت کا سبب نہیں توحکایت سے قطع نظر بھی اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوگی اور اس لئے بھی کہ اقرار کا اعتبار تب ہوتا ہے جب مقرلہ اقرار کا دعوٰی کرے اور اقرار کے علاوہ کوئی ملکیت کا سبب بیان کئے بغیر باطل ہوتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے اور درمختار کے قول کہ وہ دعوٰی جوصرف اقرار پر مبنی ہو مسموع نہ ہوگا، کایہی معنی ہے الجواب جہاں تک میری نظر ہے، اوراللہ تعالٰی ہی درستی کو بہتر جانتاہے کہ بیشک قاضی خاں کی تعریف اکثری ہے حصری نہیں ہے تخلیہ کے تمام افراد میں قبضہ کاحکم کرنا شرط نہیں بلکہ تخلیہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تخلیہ دینے والے کی اجازت قولی یا حالی کے بعد چیزاس طرح موجود ہو کہ مشتری یا موہوب لہ کو اس پر قبضہ کا تمکن حاصل ہوجائے، اس پر خود قاضی خاں کے اپنے اطلاقات دال ہیں انہوں نے جلد ۲ ص ۳۹۴ میں فرمایا کہ بائع نے جب مبیع چیز اور مشتری کے مابین تخلیہ یوں کردیا کہ مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری کو مبیع پرقابض قرار دیا جائے گا تو اس میں تصریح ہے کہ قبضہ کا حکم شرط نہیں ہے جبکہ بیع اور ہبہ میں تخلیہ کے اعتبار سے فرق کا کوئی قابل نہیں ہے، تاکہ یہ کہا جاسکے کہ ہبہ کے تخلیہ میں شرط ہے اور بیع میں شرط نہیں اور اور اس لئے بھی کہ اس سے تھوڑا پہلے صفحہ ۳۹۴ پر قاضی خاں نے اپنی عبارت میں دونوں تخلیوں کو مساوی قراردیا ہے ،
(۱؎ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الہبۃ فصل فی ھبۃ المشاع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۰۰) (۱؎ درمختار کتاب الاقرار مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۰) (۱؎ فتاوٰی قاضیخاں کتاب البیع باب فی قبض المبیع نولکشو ر لکھنؤ ۲ /۳۹۴)
وایضا لایدل علی الاشتراط مفہوم التخلیۃ ولا اصطلاحھم ولا لما ذھلوا عنہ اکثر من ان یحصی ،وایضا لا یمکن الانکار لاحد عن التخلیۃ مع عدم الامر فیما اذا عدد المشتری الثمن عند المبیع ولم یقل لہ اقبضہ وبھذا اندفع الدورایضا اذ الاخبار یعنی قولہ یہ تیرا روپیہ ہے لیس علی حقیقتہ حتی یقتضی ثبوت المخبر عنہ وھوا لملک والحال انہ موقوف علی ھذا القول اذ لیس لہ وجہ اٰخر غیر الھبۃ اذفی حملہ علی الاخبار یلزم الغاء الکلام والواجب حملہ اذا صدر عن عاقل بالغ علی معنی یصح فحمل علی الانشاء واجازۃ القبض وہوشائع فی محاورات الہند کقولہم پان حاضر ہے، حقہ حاضر ہے، کھانا حاضر ہے، حین کون ہذا الاشیاء موضوۃ لدی المخاطب فہم لا یریدون بہذا الاخبارات حقیقتہا والایلزم الالغاء بل مقصود ھم اجازۃ التناول منہا کما لایخبو علی البیب فلو کا المراد من قول زید المرحوم یہ تیرا روپیہ ہے اجازۃ التناول والقبض لایلزم المحذور ایضا وبہ یصح الکلام ویتم المقصود من تمام الھبۃ بالتخلیۃ والقبض الحکمی، وظہر وجہ الاستدلال بالقول الاول بقی الاقرار بالامانۃ ھل ہوصالح للاستدلال بہ ام الابل الاستدلال مستلزم للدور کما قال المعترض،
نیز تخلیہ کا مفہوم اور فقہاء کی اصطلاح اشتراط پر دال نہیں ہے ورنہ فقہاء کبھی اس کو نظرانداز نہ فرماتے حالانکہ ان کی بے شمار تصریحات اس کے ذکر سے خالی ہیں، نیز جب مشتر ی ثمن کے دراہم کو مبیع کے پاس گنتی کرے اور بائع کو قبضہ کرنے کا نہ کہے تو کسی کوبھی اس تخلیہ کے معتبر ہونے سے نکار نہیں ہے، اس بیان سے دور بھی ختم ہوگیا کیونکہ والد کا یہ کہنا ''یہ تیرا روپیہ ہے'' یہ خبر اپنے حقیقی معنی پر نہیں ہے تاکہ وہ مخبر عنہ یعنی سابقہ ملکیت کا ثبوت چاہے حالانکہ حالیہ ملکیت اس قول (یہ تیرا روپیہ ہے) پر موقوف ہے کیونکہ اس ملکیت کی ہبہ کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ تو جب اس قول کو خبر پر محمول کیا جائے تو کلام کا لغو ہونالازم آتاہے جبکہ عاقل بالغ کے کلام کوصحیح معنی پر محمول کرنا واجب ہے، تو ایسے قول کو انشاء اور قبضہ کی اجازت پر محمول کرنا ہندوستان کے محاورات میں عام استعمال ہے، مثلا وہ جب کہتے ہیں پان حاضرہے، حقہ حاضر ہے، یا کھانا حاضر ہے، یہ اس وقت کہا جاتاہے جب یہ چیزیں مخاطب کے سامنے رکھی ہوئی ہوتی ہیں وہ اس سے خبر کا حقیقی معنی مراد نہیں لیتے ورنہ کلام کا لغو ہونا لازم آئے گا بلکہ ان کی مراد اس کو کھانے کی اجازت ہوتی ہے جیسا کہ یہ عقلمندپر مخفی نہیں ہے تو اگر زید مرحوم کے قول ''یہ تیرا روپیہ ہے'' سے بھی یہی معنی مرادلیا جائے تو کوئی خرابی نہ ہوگی جبکہ اس سے کلام صحیح ہوتا ہے اور ہبہ کے تام ہونے کا مقصد بھی تخلیہ اور حکمی اجازت قبضہ سے حاصل ہوتا ہے توظاہر ہواکہ وجہ استدلال پہلا امر یعنی ہندہ کی ملکیت ہوناہے، باقی رہا یہ معاملہ کہ امانت کا اقرار وجہ استدلال بن سکتاہے یانہیں بن سکتا بلکہ یہ استدلال دور کو مستلزم ہے جیساکہ معترض نے کہا ہے،