فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
37 - 120
مسئلہ ۸۹: ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
نثار احمد مکان مسکن رابہ بچگان خورد سال ہبہ می کند الایک دختر کلاں کہ نکاحش کردہ آمد نام اوہم شامل کردن لازم ست یانہ ایں سہ بچگان از تمتع دنیاوی بہر نیافتہ اند وآں یکے متمتع شدہ۔
نثار احمد اپنی سکونت والا مکان نابالغ بچوں کو ہبہ کرنا چاہتاہے اس کی ایک لڑکی شادی شدہ بالغ ہے اس کو بھی شامل کرنا ضروری ہے یانہیں؟ یہ تین نابالغ بچے دنیاوی سامان سے فائدہ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں اور صرف وہ بالغ لڑکی اس کی اہل ہے۔ (ت)
الجواب
ہرچہ بیکے ازیں اطفال رسد اگر قیمتش برانچی بجہیز دختر کلاں دادہ شد زیادت واضح ندارد نام اوشامل کردن ضرورنیست لحصول ماارشد الیہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اکل بینک نحلت مثل ہذا ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان نابالغ بچوں کوجو حصہ ملتاہے اگر وہ شادی شدہ لڑکی کے جہیز سے واضح طورزائد نہ ہو تو اس لڑکی کو شامل کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کہ ''کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو اتنی مقدار ہبہ کیا ہے'' پر عمل ہوگیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ۴/۲۶۸)
(سنن النسائی کتاب النحل نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۱۳۵)
مسئلہ ۹۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ عبدالوحید صاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر شے موہوبہ کے ایک جز پر استحقاق ثابت ہو تو بہ نسبت شکل کے کیا حکم ہوگا اور یہ ہبہ با طل ہوگا یا کیا؟
الجواب
استحقاق کے یہ معنی کہ ثابت ہوکہ شیئ موہوب تمام وکمال ملک واہب نہ تھی بلکہ اس کا ایک جز ملک مدعی نکلا مدعی نے دعوٰی کیا اورثبوت دیا اور وہ جز نکل گیا تو باقی میں بھی ہبہ باطل ہوجائے گا کہ ثابت ہو اکہ اول ہی سے ایک جز مشاع ہبہ ہوا تھا کہ ملک غیر کو ہبہ کردینے کا واہب کو کچھ اختیار نہ تھا، پھر یہ اسی حالت میں ہے کہ شے موہوب قابل قسمت ہے ورنہ بعد استحقاق باقی کا ہبہ تام رہے گا کہ ناقابل قسمت کے ہبہ کو شیوع منع نہیں کرتا، اور اگر شیئ موہوب تمام وکمال بملک واہب تھی ہبہ میں ابتداء شیوع نہ تھا بعد کوکسی عارض کے سبب اس کا ایک جز ہبہ سے نکل گیا، مثلا واہب نے بتراضی یا قضائے قاضی نصف موہوب میں رجوع کرلی، یا ہبہ اجنبی کے ہاتھ تھا اورشیئ موہوب ثلث مال واہب سے زائد تھی، ورثہ نے ا جازت نہ دی، ثلث سے جس قدر زیادت تھی ہبہ سے خارج ہوگئی یا موہوب لہ وارث تھا دیگر ورثہ سے بعض نے اجازت دی بعض نے نہ دی کہ نہ دینے والوں کے حصے کے قدر جز موہوب سے آزاد ہوگیا تو ان صورتوں میں باقی کا ہبہ باطل نہ ہوگا،
عالمگیریہ میں ہے:
المفسد ھوالشیوع المقارن لا الشیوع الطاری ۱؎۔
ہبہ کا مفسد وہ شیوع ہے جو ہبہ کو مقارن ہو اور جو بعد میں لاحق ہو وہ شیوع مفسد نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸)
اسی میں ہے:
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازتہ ۲؎۔
شیوع اجازت کی صحت کو مانع نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۳۷۸)
مسئلہ ۹۱: از لاہور مرسلہ مولوی عبداللہ صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی دو منکوحہ میں سے ایک سے جب اس شخص نے نکاح کیا، اس کو ایک قبالہ نکاح لکھ کردیا جس میں چند مدات ہیں، منجملہ ان کے ایک مدیہ ہے جس کی عبارت (چھٹی یہ کہ جو کچھ مال واسباب میری ملک ہے اورہوگا اس سے بھی سوائے مضمون مرقومہ بالا کے نصفے دختر عموی صاحب مرحوم کا اور نصفے اہلیہ اول میری کاہے) اوراس قبالہ پر حاکم وقت کے دستخط ثبت کرادئے، پس اب بعد مرنے اس شخص قبالہ نویس کے منکوحہ اس شخص کی باستدلال اس عبارت مندرجہ قبالہ کے جس پر دستخط حاکم ثبت ہیں اس شخص متوفی کے تمام اموال وجائداد متوفی پر دعوٰی کرے اور تقسیم اس کی بنام ہر دو منکوحہ متوفی کے چاہے اور اولاد متوفی کو محروم الارث قرار دے تو شرعاً وہ جائداد ہر دومنکوحہ پر بموجب عبارت مذکورہ کے تقسیم ہوسکتی ہے یانہیں؟ اور اولاد اس شخص متوفی کی محروم الارث رہ سکتی ہے یانہیں فقط بینوا توجروا
الجواب: تحریر قبالہ مذکورہ محض بے اثر ہے، وہ مال اس کی بنا پر تنہا دونوں زوجہ میں تقسیم نہیں ہوسکتا، نہ اولاد اس سے محروم ہوسکتی ہے۔
لانہ لیس باقرار لاضافتہ الملک الی نفسہ، ولاوصیۃ لعدم الاضافۃ الی بعد الموت مع کونہ فی الصحۃ فان کان فہبتہ مایوجد وھی باطلۃ وھبۃ الموجود مشاعا وقد بطلت بموت الواہب قبل التسلیم ولئن کانت وصیتہ لما نفذت للمرأتین الاجازۃ بقیۃ الورثاء کما لایخفی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ اقرار نہیں اس لئے کہ اس نے ملکیت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور وصیت بھی نہیں کیونکہ اپنی موت کے بعد کی طرف منسوب نہیں باوجود یکہ وہ صحت مندبھی ہے اور ہو بھی تو بعد میں موجود ہونے والی چیز کا ہبہ ہوگا جو کہ باطل ہے اور موجود چیز کا مشاع حالت میں ہے جو کہ قبضہ دینے سے قبل وفات سے باطل ہوگیا اور اگر وصیت ہو تو دونوں عورتوں کے لئے باقی ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۹۲: از مرادآباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۴۵ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مقروض ہے، اس نے بحالت قرضدار ہونے کے اپنی جائداد غیر منقولہ کا ہبہ نامہ اپنے پسر بکر کے نام لکھ کر قبض دخل جائداد موہوبہ پر موہوب لہ کا کرادیا، کیا شرعا ایسی حالت میں ہبہ مذکورہ جائز ہے یاناجائز ؟ دائن اپنے مطالبہ جائدادموہوبہ سے مواٰخذہ کرسکتاہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جب تک دین کے عوض کوئی شیئ دائن کے پاس رہن نہ ہو دائن کا مطالبہ صرف ذات مدیون یعنی اس کے ذمہ پر ہو تاہے نہ کہ اس کے کسی مال معین پر تو ہبہ بوجہ قبضہ تام وکامل بلکہ محرومیت موہوب لہ لازم ہوگیا جس کا فسخ غیر ممکن ہے صرف تمامی ہبہ اس جائداد کو متورضہ (عہ) دائن سے بری کرنے کے لئے بس تھی کہ ملک منتقل ہوگئی، اب وہ شے ملک مدیون نہیں جس سے دائن اپنا دین وصول کرسکے نہ کہ اس صورت میں کہ عقد بوجہ امتناع رجوع ناقابل فسخ رہا،
عہ: فی الاصل ھکذا اظنہ مواخذہ ۱۲ عبدالمنان۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے: رکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ و لایتصدق بہ فالقاضی یحجر علیہ عندھما ویعمل حجرہ حتی لاتصح ھبتہ ولاصدقتہ بعد ذٰلک لکن یشترط علم المحجور علیہ حتی ان کل تصرف باشرہ قبل العلم بہ یکون صحیحاً ۱؎ (ملخصا)
ایک شخص پر اتنے قرضے ہوگئے کہ اس کا تمام مال قرضوں میں گھر گیا اور قرضخواہ حضرات نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ اس کو ہبہ اور تصدق سے روک دیا جائے اور قاضی نے اس پر پابندی لگادی تو صاحبین کے نزدیک جائز ہے اور یہ پابندی مؤثر ہوگی کہ وہ اپنے مال کو ہبہ یا صدقہ نہ کرسکے گا بشرطیکہ اس کو قاضی کی طرف سے پابندی کا علم ہو چکا ہو، لہذا علم سے قبل اس نے اپنے مال میں جو بھی تصرف کیا جائز ہوگا۔ (ملخصا(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱)
اسی میں ہےـ
رجل لہ ضیعہ تساوی عشرین الف درہم وعلیہ دیون فوقف الضیعۃ وشرط صرف غلاتہا الی نفسہ قصدا منہ الی المماطلۃ وشہد الشہود علی افلاسہ جاز الوقف والشہادۃ فان فضل عن قوتہ شیئ من ہذہ الغلات فللغرماء ان یاخذوا ذٰلک منہ کذا فی المضمرات ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص بیس ہزار درہم کے مساوی زمین کامالک ہے اور اس پر قرضے ہیں تو اس نے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے اپنی زمین وقف کرکے اس کی آمدنی کو اپنی ذات کے لئے مختص کرلیا، اور گواہوں نے اس کے مفلس ہونے کی شہادت دی، تو وقف اور شہادت جائز ہوگی اور زمین کی آمدنی میں سے اس کے خرچہ سے اگر کچھ بچے گا تو قرض خواہ لیں گے، مضمرات میں اسی طرح ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۸۹)
مسئلہ ۹۳ : از اندورملک مالوہ چھاؤنی نواب غفور خان مرسلہ حکیم محمد اکمل خاں صاحب یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ محمد اعظم خاں کو رئیس وقت نے ایک سند ملک بھوٹ کی تاحین حیات عطا کی، محمد اعظم خاں نے مصلحتا بطورا سم فرض کے ایک عرضی رئیس کی اجات میں پیش کی کہ اس ملک کی سند میرے فرزند افضل خاں کے نام نسلا بعد نسل عطا ہوجائے، چنانچہ حسب استدعا محمد اعظم خاں کے افضل خاں کا قبضہ کبھی اور کسی وقت میں ایک آن واحد کے واسطے بھی نہیں ہوا، اور ہمیشہ قبضہ اور تصرف وصول واصلات وٹھیکہ وغیرہ وغیرہ جملہ قسم کا نظم ونسق محمد اعظم خان کرتے رہے اور سند میں بھی رئیس وقت نے یہ لفظ تحریر کئے کہ ''بقبض وتصرف میں مغرئی الیہ واگزارند''
اس سے مراد خاص محمد اعظم خاں ہیں کہ افضل خاں ، اسی عرصہ میں محمد افضل خاں کا انتقال ہوگیا، اور افضل خاں کی دو بیبیاں اور ایک لڑکی اور ایک لڑکا باقی ہے، محمد افضل خاں اپنے والد اعظم خاں کی حیات میں فوت ہوئے، اسی باعٹ ورثائے افضل خاں سب محروم الارث ہوگئے اور بدستور قدیم محمد اعظم خاں قابض اور مالک اور متصرف رہے، ایسی حالت میں اولاد افضل خاں مرحوم یا ان کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں؟ افضل خاں کی جائداد منقولہ وغیر منقولہ کچھ بھی نہیں، اور افضل خاں اور ان کی بیوی بچہ کی پرورش محمد اعظم خاں پدر افضل خاں کرتے رہے، اور افضل خاں کا انتقال اپنے والدمحمد اعظم خان کی حیات میں ہوگیا، تو ایسی صورت میں اس ملک بھوٹ میں افضل خاں مرحوم کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : اس سوال کے ساتھ تحریر ونقول کہ سائل نے مرسل کیں ان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ زوجہ محمد افضل خاں نے بدعوٰی وراثت شوہر اس بناء پر کہ تبدیل سند سے محمد افضل خان اس زمین کا مالک ہوگیا تھا اس پر دعوٰی ملک کیا ہے، یہ دعوٰی شرعاًمحض باطل وبیجا ہے، سند ثانی بنام محمد افضل خاں میں از جانب ریاست کوئی لفظ مفیدمعنی ہبہ وتملیک نہیں، نہ ہبہ کرنا نہ عطا ہونا، نہ مالک بتانا نہ اور کوئی لفظ کہ ان کا مرادف ہو، صرف اتنے الفاظ میں کہ اراضی مذکورہ ازحضوربہ محمد افضل خاں خلف معزی الیہ نسلا بعد نسل بشرط لوازم اطاعت و فرمانبرداری معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانستہ بقبض و تصرف معزی الیہ واگزارندمذکور اراضی درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خاں کے لئے سرکار کی طرف سے نسلا بعد نسل بشرط اطاعت وفرمانبرداری معاف ہوئی، لازم ہوا کہ مذکورہ اراضی سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم قراردی گئی درخواست دہندہ کے قبضہ وتصرف میں آزاد چھوڑیں۔ (ت)
معاف ہونا کوئی الفاظ ہبہ سے نہیں بلکہ عین سے اس کا تعلق ہی صحیح نہیں، معافی مطالبہ ودیون سے متعلق ہوتی ہے کہ اس کا حاصل ابراہے، اور اعیان سے ابراباطل،
درمختار میں ہے :
الابراء عن الاعیان باطل ۱؎
(اعیان اشیاء سے بری کرنا باطل ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۲)
اشباہ میں ہے:
اختص الدین باحکام منہا صحۃ الابراء عنہ فلا یصح الابراء عن الاعیان ۱؎۔
دین کے کچھ احکام مخصوص ہیں ان میں سے ایک اس سے بری کرنا ہے لہذا اعیان سے ابراء جائز نہ ہوگا۔ (ت)
(۱ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۱۱۔ ۲۱۰)
وجیز کردری میں ہے:
لایقبل لعدم صحۃ الابراء عن الاعیان ۲؎۔
قبول نہ ہوگا کیونکہ اعیان سے ابراء صحیح نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۰)
بخلاف سند بنام حکیم محمد اعظم خاں کہ اس میں لفظ ''عطاشد '' ہے اوریہ خاص ہبہ کے لئے موضوع ہے
عالمگیری میں ہے:
الفاظ الھبۃ انواع نوع تقع بہ الھبۃ وضعا کقولہ وھبت ھذا الشیئ لک او ملکتہ منک اواعطیتک فہذا کلہ ھبۃ اھ مختصرا ۳؎۔
ہبہ کے الفاظ مختلف ہیں، ایک قسم وہ ہے جس سے وضعا ہبہ واقع ہوجاتاہے وہ یہ الفاظ ہیں ''یہ شیئ میں نے تجھے ہبہ کی، تجھے مالک بنایا تجھے دے دی'' یہ سب ہبہ کے الفاظ ہیں اھ مختصرا (ت)
(۳فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵)
سند بنام محمد افضل خاں میں بھی بنام محمد اعظم خاں کا ذکر ہے کہ سابق ازیں بحکم محمد اعظم خاں از حضور عطا شدہ بود، قبل ازیں سرکار نے محمد اعظم کو عطا کی۔ (ت)
اورافضل خاں کوعطا ہونے کی درخواست از جانب محمد اعظم خاں میں اگرچہ مذکور ہے کہ
حالا عرضی معزی الیہ باستدعائے تبادل سند سابق وعطا شدن آن بنام محمد افضل خاں پسر خود موصول ملاحظہ گردید۔
پہلی سند کو تبدیل کرنے اور درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خان کے نام عطا کرنے کی عرضی موصول ہوئی، ملاحظہ ہوئی، (ت)
مگرحکم میں لفظا ''عطا'' نہیں اسی قدر ہے کہ چوں حضور را پرورش وپرداخت حکیم صاحب معزی الیہ منظور لہذا اراضی مذکور ازحضور بہ محمد افضل خاں معاف شد۔ جب سرکار کو پرورش واختیار درخواست دہندہ حکیم صاحب کے لئے منظور ہے لہذا مذکورہ اراضی سرکار کی طرف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی۔ (ت)
اس کا حاصل اگر ٹھہرتا تو معانی محصول نہ کہ تملیک رقبہ
، کما ھو شان الاقطاع علی المعنی المشہور
(جیسا کہ مشہور معنی میں جاگیر عطیہ کرنے کی شان ہے۔ ت)
نہر الفائق پھر درمختار میں ہے:
الاقطاعات من اراضی بیت المال اذ حاصلھا ان الرقبۃ لبیت المال والخراج لہ ۱؎۔
بیت المال کی اراضی عطیہ کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ملکیت بیت المال کی ہوگی اور آمدن اس کی ہوگی۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الجہاد باب العشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۰)
اور بالفرض یہ صورت یہاں ہوتی تو بعد انتقال نواب خلد آشیاں مرحوم ومغفور ختم ہوجاتی خود افضل خاں کا کوئی حق نہ رہتا نہ کہ ان کے ورثاء کا،
ردالمحتارمیں ہے:
ھل تصیر لاولاد المقطع لہ عملا بقول السلطان ولاولادہ فانہ بمعنی ان مات عن اولاد فلاولادہ من بعدہ فہو تعلیق معنی و الجواب انہا لا تکون لاولادہ لبطلان التعلیق المذکور بموت السلطان المعلق قال فی الاشباہ لومات المعلق بطل التقریر اھ مختصراً ۲؎
کیا جس کو عطیہ کیا گیا ہے حاکم کی طرف، ''اور اس کی اولاد کے لئے'' کہہ دینے سے اس کی اولاد ہوجائے گی کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ عطیہ لینے والے کی موت کے بعد اگر اس کی اولاد ہوتو اولاد کی ہوگی۔ تو یہ معنی تعلیق ہے، الجواب یہ اولاد کے لئے نہ ہوگی کیونکہ معلق کرنے والے حاکم کی موت سے یہ تعلیق باطل ہوجائیگی، اشباہ میں فرمایا: اگر تصدیق کرنے والا فوت ہوجائے تو اس کا یہ معلق حکم باطل ہوجائے گا اھ مختصرا (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۶۶)
اور بالفرض اولاد کاحق رہتا بھی ، جب بھی زوجہ محمد افضل خان کے لئے کوئی حق نہ ہوتاکہ سند میں نسلا بعد نسل ہے اور زوجہ نسل شوہر سے نہیں، اور اگر فرض کیجئے کہ ایسی سند والیان ملک کے عرف حال میں مطلقا تملیک رقبہ زمین سمجھی جاتی ہے اگرچہ ''عطاشد'' کے عوض ''معاف شد ''ہی لکھا گیا ہو جس کی بناء پر سند ثانی کو محمد افضل خاں کے لئے ہبہ وتملیک زمین قرار دیا جائے کہ زوجہ و اولاد سب ورثہ کا استحقاق قائم کرسکیں ، تو اس صورت میں بھی تمام وارثان افضل خاں کا محض نامستحق ہونا واضح وروشن ہے کہ زمین پہلے حکیم محمد اعظم خاں کو ہبہ ہوچکی اور حین حیات تک ہونا کچھ منافی نہیں کہ جو چیز کسی کو اس کی حیات تک ہبہ کی جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہبہ ہوگئی، اور حین حیات کی شرط شرعا باطل وبے اثر ہے،
عمر بھر کا ہبہ جائز ہے اور موہوب معمرلہ کی ملک ہوگا اوراس کے بعد اس کے وارث مالک ہونگے کیونکہ رد کی شرط باطل ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵)
اور وہ ہبہ قبضہ محمد اعظم خاں سے تام وکامل ونافذ ہولیا، اب ریاست کو کیا اختیار رہا کہ پر ایامال دوبارہ کسی اور کو ہبہ کردے ، اس کی تصحیح کی دو ہی صورتیں موہوم ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ محمد اعظم خاں کی عرضی کہ ''حسب استدعا تابعدار کے اس ملک بھوٹ کی دوسری سند میرے فرزند محمد افضل خاں کے نام نسلاوبعد نسل عطا فرمائی جائے'' اسے گویا محمد اعظم خاں کی طر ف سے اس زمین کا رئیس کو واپس دینا اور اپنے بیٹے کے نام ہبہ جدید کی درخواست کرنا قرار دیں، اور ہبہ جب باہمی تراضی یا قضائے قاضی سے واہب کو واپس ہو تو وہ دوسرے سے فسخ ہبہ ہے، نہ کہ موہوب لہ کی طر ف سے واہب کوہبہ، ولہذا واہب کا قبضہ اس پر شرط نہیں،
درمختارمیں ہے: