Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
36 - 120
مسئلہ ۸۷:     ۷ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے مرض الموت میں اپنے شوہر زید کو اپنا دین مہر معاف کردیا، اب زید بری ہوگیا یا یہ معافی وصیت متصور ہوکر زید دوثلث کے ادا کا عنداللہ مواخذہ داررہے گا اگرچہ ورثہ دنیا میں شرم سے نہ مانگیں۔بینوا توجروا
الجواب

مرض الموت میں اپنا دین دائن کوہبہ یا معاف کرنا حکم وصیت میں ہے اور زوج وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگر ورثہ باطل ہے کہ ثلث وغیرہ کسی حصے میں نافذ نہیں ہوسکتی۔ پس صورت مسئولہ میں اگر کل وارث عاقل بالغ ہوں اور اس معانی مہر کوجائز رکھیں معاف ہوجائیگا، اوربعض اجازت دیں تو بقدر انہیں کے حصہ کے ساقط ہوگا اور کوئی اجازت نہ دیں تو دیگر ورثاء کا حصہ کہ نصف یا تین ربع مہر ہے تمام وکمال واجب الادا رہے گا، عورت کا معاف کرنا کچھ معتبر نہ ہوگا،

 خزانۃ المفتین وہندیہ میں ہے:
مریضۃ قالت لزوجھا ان مت من مرضی ھذا فمھری علیک صدقۃ اوفانت فی حل من مھری فماتت من ذٰلک المرض فقولھا باطل والمھر علی الزوج ۱؎۔
مریضہ بیوی نے خاوند کو کہا اگرمیں اس مرض میں فوت ہوجاؤں تو میرامہر تجھ پر صدقہ ہے، یا کہے ''تومہرسے آزاد ہے'' تووہ اس مرض میں فوت ہوگئی تو بیوی کا یہ قول باطل ہوگا اورمہر خاوند کے ذمہ لازم رہے گا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ خزانۃ المفتین    کتاب الھبۃ الباب الثامن        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۹۸)
نہر الفائق وعقود الدریہ میں مسئلہ مذکورہ خانیہ سے نقل کرکے فرمایا: وکان ینبغی ان یقال ان اجازت الورثۃ تصح لان المانع من صحۃ الوصیۃ کونہ وارثا ۱؎۔
مناسب یہ تھا کہ یوں کہتے اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو صحیح ہے کیونکہ وصیت کے موانع میں سے وارث ہونا بھی ہے۔ (ت)
(۱؎ العقو د الدریۃ    کتاب الوصایا    ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲/ ۳۱۵)
جامع المضمرات شرح قدوری وعالمگیریہ میں ہے:
مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا ان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۲؎ اھ مختصراً۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مریضہ نے اپنا مہر خاوند کو ہبہ کیااور وہ مرض الموت کی مریضہ ہے تو یہ ہبہ ورثاء کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں اھ مختصرا۔ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المضمرات کتاب الھبۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۰۲)
مسئلہ ۸۸: ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ظہورن نے اپنی ایک دکان کی تعمیر عملہ کے نسبت اپنے داماد عبدالوہاب خان کو اجازت دی کہ اسے تم اپنے روپے سے درست کرلو جو کچھ کرایہ تمہارے عملے کی وجہ سے بڑھ جائے گا وہ تم لیا کرنا، عبدالوہاب خاں نے اس ایک دکان کو دو دکانیں کردیا بڑی اور چھوٹی، دکان کا پہلا عملہ جو تھا اس میں سے کڑیاں بیکار نکل گئیں، عبدالوہاب خاں نے کڑیاں اپنے ہی پاس سے ڈالیں مگر اینٹیں اگلی اور اپنے پاس سے نئی ملاکر دونوں دکانیں بنائیں، یہ تعیین نہیں ہوسکتی کہ کس دکان میں کتنی اینٹ پہلی اور کتنی نئی ہے، پھر عبدالوہاب خاں نے دونوں دکانوں پر خاص اپنے روپے سے بالاخانہ بنایا۔ اب ان دکانوں کا کرایہ دس روپے ماہوار ہوگیا پہلے پانچ روپے تھا، حسب قرارداد ظہورن اور عبدالوہاب خاں پانچ روپے ماہوار لیتے رہے، یہ تمام عملہ عبدالوہاب خان نے ظہورن کی اجازت سے اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا، ۱۸۹۸ء میں اس دکان کا ہبہ نامہ ظہورن وعبدالوہاب خاں کی طرف سے اس کی دختر اور اس کی زوجہ آبادی کے نام بایں تفصیل لکھا گیا کہ بڑی دکان ظہورن کی طرف سے اور چھوٹی دکان اور بالاخانہ عبدالوہاب خاں کی طر ف سے آبادی کے نام ہبہ ہوا، آبادی نے وصیت کی کہ جو کچھ میری ملک ہے اس کا مالک میرا خاوند ہے۔ پھر اس نے انتقال کیا، شوہر اور ماں باپ اور دوبیٹیاں وارث چھوڑے، باپ نے اس جائداد کو یوں تقسیم کیا کہ بڑی دکان نصف نصف دونوں نواسیوں کو دی اور چھوٹی دکان میں سے آدھی نواسی کے بیٹے کو اور آدھی اپنے دور کے رشتہ کو، اور بالاخانہ کی نسبت یہ لکھا کہ جیتے جی میں مالک اور میرے بعد میرا دادا مالک، اس کے بعد اس کی لڑکیاں مالک، سوال یہ ہے کہ تقسیم مذکورہ بالا اور یہ تحریر ٹھیک ہوئی یانہیں اور عبدالوہاب خاں نے اپنا روپیہ جو دکانوں اور بالاخانے کی تعمیر میں صرف کیا تو ان میں عبدالوہاب کا کوئی حق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

صورت مسئولہ میں عبدالوہاب خان نے جو عملہ اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا خاص ملک عبدالوہاب خان ہوا، بالاخانہ کہ تمام وکمال زر عبدالوہاب خاں سے بنا کل عبدالوہاب خاں کا ہے اور دونوں دکانوں میں کڑیاں بھی انھیں کی ہیں اور چنائی کہ مشترکہ اینٹوں سے ہوئی ظہورن اور عبدالوہاب خان کی حصہ رسد مشترکہ ہے ، اگرکمی بیشی معلوم ہوسکے مثلا دو تہائی اینٹیں ظہورن کی ہیں اور ایک تہائی عبدالوہاب خان کی، یا بالعکس، جب تو اسی حساب سے، ورنہ نصفا نصف مشترک رہے گی۔
کما ھو الطریق حیث لا علم بالتفاضل کما نصوا علیہ فی غیر ما مسئلۃ من الشرکۃ وغیرھا۔
جیسا کہ یہ طریقہ ہے جہاں زائد کا علم نہ ہو فقہاء کرام نے شرکت وغیرہ کے کئی مسائل میں یہ تصریح فرمائی ہے۔ (ت)

درمختارمیں ہے:
لوعمر لنفسہ بلا اذنھا فالعمارۃ لہ و یکون غاصبا للعرصۃ ۱؎۔
اگر عورت کی زمین پر اس نے عمارت بغیر اجازت بنائی تو عمارت بنانے والے کی ہے اور خالی زمین کا غاصب قرار پائے گا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        مسائل شتی  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۴۸)
طحطاوی میں ہے:
فلو باذنھا تکون عاریۃ ۲؎۔
تو اگر اجازت سے تعمیر کی تو زمین عاریۃ ہوگی۔ (ت)
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر  مسائل شتی   دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۳۵۹)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ فالعمارۃ لہ ھذا لو الاٰلۃ کلھا لہ فلو بعضھا لہ وبعضھا لھا فھی بینھما ط عن المقدسی ۱؎۔
ماتن کا قول کہ ''عمارت، بنانے والے کی ہوگی'' یہ تب ہے جب تعمیر کا سارا سامان اس کا ہو، تو اگر کچھ اس کا اور کچھ عورت کا ہو تو عمارت مشترکہ ہوگی یہ طحطاوی میں مقدسی سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار مسائل شتی   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۷۶)
ہبہ نامہ کہ ظہورن اور عبدالوہاب خاں نے آبادی کے نام کیا محض باطل ہوگیا، دونوں دکانوں کے عملے تویوں ہبہ نہ ہوئے کہ ہر عملہ ظہورن وعبدالوہاب خاں دونوں میں مشترکہ تھا عملہ کا دونوں کی طرف سے ہبہ ہونا چاہئے تھا، اور ہوا ایک ایک کی طرف سے، تو ہر عملے میں دوسرے کا حصہ بے ہبہ رہا، اور وہ مشاع قابل تقسیم ہے، اور ایسی شے کا ہبہ بلا تقسیم باطل ہے، اور زمینیں یوں ہبہ نہ ہوئیں کہ چھوٹی دکان کی زمین مالکہ زمین یعنی ظہورن نے ہبہ ہی نہ کی، عبدالوہاب خاں جس کی طرف سے اس کا ہبہ لکھا گیا مالک زمین نہ تھا اور بڑی دکان کی زمین اگرچہ ظہورن نے ہبہ کی مگر اس پر مشترکہ عملہ قائم ہے جس کا ہبہ صحیح نہ ہوا او موہوب جب غیر موہوب سے یوں متصل ہو تو ہبہ مثل ہبہ مشاع منقسم باطل ہوجاتاہے بعینہٖ اسی دلیل سے بالاخانے کا ہبہ بھی اگرچہ مالک یعنی عبدالوہاب خاں نے کیا باطل ہوا کہ وہ بھی باقی رکھنے کے لئے ہبہ ہوا تھا نہ یوں آبادی عملہ تو ڑ کر اینٹ کڑی تختے پر قبضہ کرلے، یوں ہوتا تو بالاخانہ کا ہبہ صحیح  ہوجاتا جبکہ آبادی باذن عبدالوہاب خاں اسے توڑ کر عملے پر قبضہ کرلیتی مگر نہ وہ توڑ اگیا نہ یہ مقصود تھا اور اسے غیر موہوب سے اتصال تھا، لہذا وہ بھی باطل ہوگیا،
عقود الدریہ میں ہے:
ھبۃ البناء دون الارض لاتصح الا اذاسلطہ الواھب علی نقضہ ۲؎۔
زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ صحیح نہیں الآیہ کہ واہب اس کو اکھاڑنے پر لگا دے۔ (ت)
 (۲؎ العقود الدریۃ    کتاب الہبۃ        ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۹۳)
ہندیہ میں ہے:
وھب زرعافی ارض اوثمرا فی شجر اوحلیۃ فی سیف اوبناء فی دار اوقفیزا من صبرۃ وامرہ بالحصاد والجزاز، والنزع والنقض والکیل وفعل صح استحسانا، ویجعل کانہ وھبہ بعد الجزاز والحصاد ونحوھما و ان لم یأذن لہ بالقبض وفعل ضمن کذا فی الکافی ۱؎۔
کھیت کے فصل یا پھل درخت پر یا تلوار میں جڑا ہوا سونا چاندی یا حویلی میں کوئی عمارت یا کھلیان میں سے قفیز غلہ ہبہ کیا اور فصل کاٹنے ، پھل کوتوڑنے، تلوار سے جداکرنا، عمارت کو اکھاڑنے اور کھلیان سے قفیر کے کیل کرنے کاحکم دے دیا اور موہوب لہ نے عمل کرلیا تو استحسانا ہبہ صحیح ہے اور یوں سمجھا جائے گا گویا کہ اس نے کاٹنے اور توڑنے وغیرہ کے بعد ہبہ کیا،اور اگر واہب مذکورہ نے کارروائی کی اجازت نہ دی ہواور موہوب لہ خود مذکورہ کارروائی کرے گا تو وہ ضامن ہوگا، کافی میں یوں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الھبۃ الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۸۰)
مغنی المستفتی میں ہے: افتی جد جدی المرحوم عمادالدین عن سوال رفع الیہ وصورتہ فیما اذا کان لزید عمارۃ قائمۃ فی ارض الغیر فملک زید العمارۃ المزبورۃ لزوجتہ و لم یأذن لھا بنقض العمارۃ فھل یکون التملیک غیر صحیح ام لا الجواب نعم یکون التملیک غیر صحیح کتبہ الفقیر عماد الدین عفی عنہ ۲؎۔
میرے پر دادا عماد الدین مرحوم نے فتوٰی دیا جب ان کو یہ سوال پیش کیا گیا کہ صورت یہ تھی کہ زید کی غیر کی زمین پر عمارت تھی جو اس نے اپنی زوجہ کی ملک کردی اور بیوی کو عمارت کا ملبہ اکھاڑنے کی اجازت نہ دی تو کیا تملیک صحیح ہوگی، یانہیں؟ الجواب ہاں یہ تملیک صحیح نہ ہوگی، کتبہ فقیر عمادالدین عفی عنہ۔ (ت)
 (۲؎ العقود الدریۃ بحوالہ مغنی المستفتی کتاب الھبۃ         ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۹۳)
وجیز امام کردری میں ہے:
وھب ارضا فیھا زرع او نخیل او نخلا علیہ تمرا ووھب الزرع بدون الارض اوالنخل بلا ارض اونخلا بدون التمرلایجوز لان الموھوب متصل بغیر اتصال خلقۃ مع امکان القطع فقبض احدھما غیر ممکن فیما لہ الاتصال فیکون بمنزلۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ۱؎۔
کسی نے ایسی زمین کا ہبہ کیا جس پر فصل یا کجھور کا درخت تھا یا کجھور کے درخت جن پر پھل تھا کا ہبہ کیا، یااس کا عکس یعنی فصل یا کجھور کا درخت بغیر زمین یا پھل بغیر درخت کا ہبہ کیا تو ناجائز ہوگا کیونکہ موہوب چیز غیر چیز کے ساتھ پیدائشی طور پر متصل ہے حالانکہ جدا کرنے کا امکان موجود ہے۔ توایسی صورت میں موہوب پر قبضہ ناممکن ہے تو یہ مشاع چیز جو قابل تقسیم ہو، کی طرح ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ    کتاب الھبۃ الفصل الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۴۰۔ ۲۳۹)
عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
لان کل واحد منھما متصل بصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃ ۲؎۔
کیونکہ ہر ایک کا جز سے جز کا اتصال ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوگا۔ (ت)
حاشیہ العلامۃ الحامدیۃ میں ہے:
والعمارۃ من ھذا القبیل ۳؎ وتمامہ فیہ وقد افاد و اجاد واوضح المرام وازاح الاوھام فان المسألۃ قد طغت فیھا اقلام وزلت فیھا اقدام والعبد الضعیف حرر فیھا الکلام علی ھامش التنقیح باحسن نظام وباﷲ العصمۃ وبہ الاعتصام۔
اور عمارت بھی اسی قبیل سے ہے اور مکمل بیان اس میں ہے، اوراس نے خوب افادہ کیا اور مقصد کو واضح اوراوہام کا ازالہ کردیا، کیونکہ یہ مسئلہ ہے جس میں بہت سے قلم غلط راستے پر چل نکلے اورکئی قدم پھسل گئے اورعبد ضعیف نے تنقیح کے حاشیہ پر اس میں اچھے انداز پر کلام کیا ہے(ت)
 (۳؎ العقود الدریہ        کتاب الھبۃ             ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۹۴)
پس صورت مستفسرہ میں وہ دونوں دکانیں بدستور ملک  مالکان پر ہیں دونوں کی زمینیں پوری اور چنائی کا دوسرا حصہ اور سارابالاخانہ عبدالوہاب خان کا ہے آبادی کی وصیت یا اس کے باپ کی تقسیم کچھ قابل لحاظ نہیں سب مہمل وباطل ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter