Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
35 - 120
 

مسئلہ ۸۴: ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد حسن صاحب نے اپنی زندگی میں بحیات اپنی بی بی منکوحہ مسماۃ منیر النساء کل جائداد؁ ۱۸۸۷ء  میں دو بیٹیوں اور ایک نواسہ اور ایک نواسی کو دی اور کاغذ لکھ دئیے صرف رجسٹری کرانی رہی، زوجہ مولوی صاحب موصوف نے وقت قضا اپنا مہر معاف نہ کیا بعد لکھنے اور دینے جائدادکے بحیات زوجہ مذکورہ اور جائداد خریدی جو کسی کو نہ لکھی،؁ ۱۸۹۱ء  میں مولوی صاحب نے قضاء کی، دو دختر جن کو جائداد تحریر کی اور وہی نواسہ، نواسی، اور حقیقی بہن چھوڑی، ترکہ بموجب فرائض ہر سہ وارثان یعنی دو دختر اور ایک بہن کو کس طرح تقسیم ہوگا بموجب تحریر کاغذات ہوگا قبضہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی حیات میں کسی کو نہ دیا بعد کو وہ لوگ بموجب تحریر قابض رہے، بعد تحریر کاغذات سوادوبسو ے کسری زائد مولوی صاحب نے اورخریدی جو کسی کے نہ لکھے، زوجہ مولوی صاحب کے دو بیٹیاں اور ایک بہن وقت وفات زندہ موجود ہیں۔

تفصیل تحریر جائداد مولوی صاحب موصوف

مسماۃ بی بی جان دختر کلاں		    ۵بسوہ ۱۰بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نودیا،     ایک مکان پختہ مشرق روپیہ واقع محلہ خواجہ قطب ونصف قطعہ اراضی اڈاواقع بریلی کٹرہ ہان رائے۔

مسماۃ غفورالنساء دختر خورد		    ۵بسوہ ۱۰ بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نو دیا، ایک مکان پختہ واقع نالاونصف قطعہ اراضی اڈا واقع بریلی کٹرہ مان رائے۔

یہ حقیقت مولوی صاحب نے پہلے ہی بنام غفورالنساء خرید کی تھی وہ حصے میں مجرا کی، غفورالنساء اس وقت ناکتخدانابالغہ تھی۔

قمرالدین نواسہ     یک بسوہ موضع راجوپور ومکان مسکون واقع کٹرہ مان رائے، 

مسماۃ چھمن نواسی    یک دکان واقع بازار کٹرہ مان رائے۔
الجواب

یہ جس قدر ہبہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی صاحبزادیوں اور ایک صاحبزادی کو کئے ہیں سوا اس مکان کے جو غفورالنساء کے نام اس کی نابالغی میں خریداسب شرعا باطل وبے اثر ہیں جو جائدادیں مشاع ومشترک بلاتقسیم ہبہ کیں اورانہیں میں وہ نصف قطعہ اراضی اڈا داخل ہے جو نصف مشاعا بنام غفورالنساء خریدا تھا، یہ سب تو بوجہ مشاع ہونے کے باطل ہیں اور جو جدا گانہ ومسلم تھیں جیسے مکانات دکان کہ بی بی جان وغفورن وچھمن کو ایک ایک پورا دیا گیا ان کاہبہ یوں باطل ہوا کہ موہوب لہم نے حیات مولوی صاحب مرحوم میں قبضہ نہ پایا، بعد کا قبضہ شرعاً بکار آمد نہیں، 

درمختارمیں موانع الرجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل الھبۃ ۱؎۔
میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کی موت ہے اور قبضہ سے قبل موت ہوجائے تو ہبہ باطل ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۱)
وہ مکان کہ غفور النساء بیگم کے نام اس کی نابالغی میں خریدا از انجا کہ مسلم بھی تھا اور نابالغ کے ہبہ میں باپ کا قبضہ نابالغ کا قبضہ قرار پاتاہے اس کا ہبہ صحیح وتمام ہوگیا، پس صرف وہ ایک مکان بحق غفورالنساء مسلم رہے گا اور باقی تمام جائداد مکتوبہ موہوبہ وغیر موہوبہ سب یکساں حالت میں ترکہ مولوی صاحب مرحوم قرار پائے گی اس میں سے اولاً دین مہر ادا کیا جائے گا یوں کہ مہر سے ایک چہارم خود بحق مولوی صاحب ساقط ہوکر باقی تین ربع مہر کے نوحصوں  پر تقسیم ہوں گے چار چار حصے ہر دختر اور ایک حصہ زوجہ کی بہن کوملے گا اس سے فارغ ہو کر جو جائدادبچے  مولوی صاحب مرحوم کی دونوں بیٹیوں اور ہمشیرہ مولوی صاحب پر بحصہ مساوی تقسیم ہوجائے گی، واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک مکان بنام ہندہ اپنی دختر کے ہبہ کرکے قبضہ دلادیا تھا کہ اب تک قابضہ ہے اب زید نے بدست عمرو وہی مکان بیع کردیا، کیا یہ بیع صحیح ونافذ وجائز ہے، بینواتوجروا
الجواب

یہ بیع صحیح ونافذ نہیں بعد تکمیل ہبہ زید کواپنی بیٹی سے رجوع کا اصلا اختیار نہیں۔
فان القرابۃ من موانع الرجوع علی مانص علیہ فی جمیع الکتب ۱؎۔
کیونکہ قرابت رجوع کے موانع میں سے ہے تمام کتب میں اس پر نص موجود ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۴)
ہندہ کو اختیار ہے کہ اس بیع کو رد کردے تو محض باطل ہوجائے گی اور چاہے تو قبول کرے اس وقت یہ بیع نافذ ہوجائے گی، اورقیمت جو کچھ ٹھہری ہے خودہندہ پائے گی زید کو اس سے کچھ تعلق نہ ہوگا کہ ہبہ دلانے سے کامل ہوگیا اب مکان کا مالک زید نہیں ہندہ ہے، ہاں اگر زید محتاج حاجتمند ہو اپنی ضرورت کے لئے اس مال کو بیچنا چاہے تو اس کا اختیارباپ کو اولاد کے خود اپنے ذاتی مال میں بھی ہے مگر بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہاں یہ صورت نہیں، زید کو کوئی ضرورت نہیں صرف دختر سے لے کر پسر کو دینا چاہتاہے اس کا ہرگز اختیارنہیں، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۶:ـ ازٹھریاموہن پور    مرسلہ حافظ عبدالرب خان یکم جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذامیں کہ ایک شخص حافظ قرآن بالعوض پڑھنے قران کےکچھ جائداد مسماتوں زمیندار سے ہبہ کرائی، واہبان نے ہبہ نامہ میں یہ شرط درج کرائی ہے کہ موہوب لہ کو تاحیات ہماری قرآن مجید اب وجد مرحوم کو پڑھنا ہوگا مگر یہ شرط نہیں ڈالی گئی کہ دویا ایک پارہ دو یا ایک ختم پڑھے وہی حافظ امامت کرتاہے تمام گاؤں کی، آیا اس شخص کے پیچھے نماز درست ہے یانادرست، ایک مسماۃ ان واہبان میں سے فوت ہوگئی ہے اورغیر شخص مردہ یا زندہ کو اگرحافظ قرآن پڑھ کر ثواب بخشیں پہنچ سکتاہے یانہیں؟ اورواہبان کے مرنے پر حافظ قرآن رِہا اس شرط سے ہوسکتاہے یانہیں؟ نقل ہبہ نامہ کی اس خط میں حضور ملاحظہ فرمائیں ، فقط پہلے اس مسئلہ کا سوال گنگوہ کو بھیجا تھا وہاں سے جوا ب آیا تھا کہ اس کی امامت نادرست ہے، دوبارہ پھر سوال کیا گیا کہ اب کس طرح پر حافظ مذکور کی امامت درست ہوسکتی ہے ، اس کا جواب یہ آیا جس کی نقل بعینہٖ یہ ہے۔
الجواب: اس امام کی توبہ یہی ہے کہ وہ زمین واہب کو واپس کردے، واہب مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو لوٹا دے، پھراس کو ایصال ثواب کااختیار ہے لوجہ اللہ ایصال ثواب روح میت کو کرے یانہ کرے، اگر وہ زمین واپس کردے اور اپنے فعل پر نادم ہو تو پھر اس کی امامت میں مضائقہ نہیں ہے، فقط، واللہ تعالٰی اعلم۔ بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ     رشید احمد ۱۳۰۱ھ

اصل مسئلہ گنگوہ کا بھی مرسل خدمت ہے جو حکم ہو مطلع فرمائیں۔ فقط
الجواب

ملاحظہ ہبہ نامہ سے ظاہر ہواکہ یہ زمین جو ہیبت خان زمیندار ٹھریاکی زوجہ ودختر نے کہ باہم اس کی زمینداری میں شریک تھیں موہوب لہ کو ہبہ کی تین نمبرمستقل جداگانہ غیر مشاع ہیں، وہ نمبر توخود ہی جدا تھے اورتیسرے کی نسبت بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ ایک نمبر مملوک واہبات سے ایک ٹکڑا تھا جسے واہبات نے کھائی کھدواکر علیحدہ کردیا اور ہر سہ نمبر موہوب پر موہوب لہ کو قبضہ کا ملہ دے دیا، پس صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا کہ موہوب کا دو واہبوں میں مشترک ہونا مانع صحت ہبہ نہیں، 

درمختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع ۱؎۔
دو حضرات نے ایک مکان کسی ایک کو ہبہ کیا تو صحیح ہے شیوع نہ ہونے کی وجہ سے (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الہبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۱)
اورخلاصہ عبارت ہبہ نامہ یہ ہے: ''اراضی نمبران مندرجہ ذیل مع درختان بنام حافظ عبداللہ خاں بالعوض خواندن قرآن شریف عزیزخاں دادا وہیبت خاں والد کے ہبہ کی، اور بخشی ہم نے موہوب کو تاحیات ہماری قرآن شریف واسطے مورثان موصوفان کے پڑھنا ہوگا، لہذا یہ ہبہ نامہ لکھ دیا کہ سند ہو۔''

ظاہر ہے کہ واہبات وموہوب لہ نے اسے ہبہ ہی کہاا ور یہی سمجھا اور ہبہ ہی کا ارادہ کیا بعوض قرآن خوانی کہہ دینے سے وہ عقد ہبہ سے نکل کر بیع نہیں ہوسکتا کہ باطل ٹھہرے اور موہوب لہ پر اس کا واپس دینا لازم ہو اور نہ اس کی امامت میں مضائقہ ، قرآن خوانی کوئی مال نہیں، ہبہ بالعوض اس وقت بیع ہوتاہے کہ بعوض کسی مال کے ہو ولہذا قرۃ العیون میں زیر قول شارح
اما لوقال وھبت بکذا فہو بیع
(لیکن اگر یوں کہا تجھے اتنے کے عوض ہبہ کیا تو بیع ہوگئی۔ ت) لکھا:
لان الباء للمقابلۃ والمال المقابل بالمال بیع ۱؎۔
کیونکہ یہاں باء مقابلہ کے لئے ہے مال بمقابلہ مال بیع ہے۔ (ت)
 (۱؎ قرۃ عیون الاخیار    کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبۃ    مصطفی البابی مصر    ۲/ ۳۷۸)
تبیین الحقائق وبحرالرائق واشباہ والنظائر وغایۃ البیان وغیرہاشروح ہدایا وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ ہبہ بالعوض کا بیع ہونابوجہ عبرت معانی ہے، اورپرظاہر کہ معنی بیع اس وقت متحقق ہوں گے کہ مقابلہ مال بمال ہوتو بے تحقیق معنی خواہ اسے ابطال تصرف عاقد واہمال کلام عاقل کے لئے بیع کی طرف پھیرلے جانا اور لفظ کہ عاقد نے بولے اپنے صحیح سلم سے بلاوجہ توڑکر معنی ناممکن کی طرف ڈھالنا محض مہمل بے معنی ہے، حالانکہ قاعدہ شرع اعمال الکلام اولی من اہمالہ ۲؎(کسی  کلام کو بالمعنی بنانا اس کو مہمل بنانے سے بہترہے۔ ت) نہ کہ عکس:
وقد حققنا فیما علقنا علی ہامش قرۃ العیون وغمزالعیون من ھذا المقام ان مثل الھبۃ ھبۃ صحیحۃ لابیع باطل بما یتعین المراجعۃ الیہ  فارجع الیہ ان شئت وباﷲ التوفیق۔
ہم نے اس کی تحقیق قرۃ العیون اور غمزالعیون پر اس مقام کے حاشیہ پر کی ہے کہ ہبہ کی مثل، صحیح ہبہ ہوتاہے وہ باطل بیع نہیں، ہماری تحقیق قابل مراجعت ہے اس کی طرف رجوع کر اگر توچاہے ، اورتوفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدہ التاسعہ        ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۶۸)
تو اس عوض کا حاصل نہ رہا مگر ایک شرط فاسد، اور ظاہر ہے کہ ہبہ شرط فاسد سے فاسدنہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے تو ہر گز موہوب لہ پر لازم نہیں کہ وہ زمین واپس کرے ، نہ اس کی وجہ سے اس کی امامت میں کوئی نقصان ہے کہ اس نے مال حرام نہ لیا کوئی عقد جائز نہ کیا ہاں اتنا ہوا کہ اس احسان کے عوض یہ شرط قبول کرلی کہ تاحیات واہبات ان کے مورثوں کو ایصال ثواب کروں گا، یہ کوئی محظور شرعی نہیں بلکہ احسان کے عوض احسان کرنا شرع پسند فرماتی ہے
قال اﷲ تعالٰی ھل جزاء الاحسان الا الاحسان ۱؎o ولئن فرض انہ ارتکب الاجارۃ عن التلاوۃ للمیت مع انہ لاعین لہا ہٰہنا ولااثرولاذکر ولاخبر فالمحقق وان کان بطلانہا ولکن کثیر من العلماء صرحوا بجوازہا وبہ نص فی السراجیۃ و الہندیۃ والدرالمختار وغیرہا فمن اتبع امثال ہٰؤلاء کیف یحکم علیہ بمنع امامتہ لاسیما الحکم ''بنادرست'' الذی ہو بمعنی لاتصح فان غایتہ الاثم فان فرض فسقا فامامۃ الفاسق و ان کرھت عندالتحقیق تحریما، صحیحۃ قطعا ولکن مفاسدالجہل واخنٰی نسأل اﷲ العافیۃ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: احسان کا بدلہ احسان ہے، اوراگر فرض کیا جائے کہ میت کے لیے تلاوت پر اجارہ ہے حالانکہ نہ یہ معین ہے اور نہ یہاں حکایت ، نہ اس کاذکر اور نہ اس کی کوئی خبر ہے، تو اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ یہ باطل ہے لیکن بہت سے علماء کرام نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے اور اسی پر سراجیہ ، ہندیہ اور درمختار وغیرہ میں نص فرمائی ہے تو جو شخص ان فقہاء کرام کی اتباع میں ایسا کرے تو اس پر یہ حکم کیسے ہوسکتاہے کہ اس کی امامت ناجائز ہے خصوصا ''نادرست'' کے لفظ سے حکم لگانا جس کا معنی ''لاتصح'' ہے غلط ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ اگر ہے تو وہ گناہ ہے اورا گر اس کو فسق بھی کہا جائے تو اگرچہ فاسق کی امامت تحقیق میں مکروہ تحریمہ ہے لیکن صحیح ضرور ہے، لیکن جہالت کے مفاسد کثیر ترین اور قابل نفرت ہیں، ہم اللہ تعالٰی سے عافیت کے طالب ہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵۵/ ۶۰)
مسلمان زندہ یامردہ جسے چاہیں تلاوت قرآن وغیرہ جس نیک کام کا ثواب چاہیں پہنچاسکتے ہیں،
بفضلہ تعالٰی پہنچتاہے اور اسے نفع دیتاہے، حافظ قرآن پر اس شرط کی پابندی نہ حیات واہبات میں واجب ہے نہ ان کے بعد،
کما تقدم ان الشرط فی الھبۃ ہو الذی یبطل والباطل لاعمل لہ۔
کیونکہ پہلے گزرا ہے ہبہ میں فاسد شرط خود باطل ہوجاتی ہے اور باطل شرط کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ (ت)

مگر ایفائے وعدہ اور احسان بعوض احسان کے طورپر اسے مناسب ہے کہ جب تک یہ دوسری واہبہ زندہ ہے ان مورثوں کو جتنا چاہے پڑھ کر بخشتارہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter