Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
34 - 120
مسئلہ ۸۱: از شہر کنہ    ۲۲ ذیعقدہ ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک لڑکی اور تین لڑکے ہیں ان میں ایک لڑکا زید کا خدمت گزارزیادہ تر ہے اور دو لڑکے فراخی سے بسر کرتے ہیں تنگ دست نہیں ہیں اس صورت میں زید یہ چاہتاہے کہ میں اپنے خدمت گزار لڑکے کو نصف اپنی ملکیت کا دوں اور نصف بقیہ دونوں لڑکوں اور لڑکی کو بحصہ مساوی دے دوں۔ یہ بلاحق تلفی کے جائز ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایک طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو، 

بزازیہ میں ہے:
لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ۲؎۔
اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۳۷)
ہندیہ میں ہے:
لووھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و ارادہ تفضیل البعض علی البعض فی ذٰلک لاروایۃ لھذا فی الاصل عن اصحابنا، وروی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین، وان کانا سواء یکرہ روی المعلی عن ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالٰی انہ لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار وان قصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل مایعطی للابن وعلیہ الفتوی ھکذا فی فتاوی قاضیخاں وھو المختار کذا فی الظھیریۃ ۱؎ اھ،
اگر کوئی شخص صحت وتندرستی میں اپنی اولاد کو ہبہ دے اور اس میں وہ بعض کو دوسروں پر فضیلت دے تو اس میں ہمارے اصحاب سے مبسوط میں کوئی روایت نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت کیا گیا ہے کہ اس میں اس وقت کوئی حرج نہیں جبکہ دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے اور اگر تمام مساوی ہوں تو یہ مکروہ ہے، اور معلٰی نے امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت کیا ہے کہ اس میں دوسروں کو ضرر دینا مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اور اگر دوسروں کو ضرر مقصو ہو تو پھر ایسا نہ کرے اورسب کو مساوی دے اور بیٹی کو بیٹے کے مساوی دے، اسی پر فتوٰی ہے اور فتاوٰی قاضیخاں میں اسی طرح ہے اور یہی مختار ہے، ظہریہ میں یونہی ہے اھ،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الھبۃ الباب  السادس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۹۱)
اقول:  وقع ھٰھنا فی النقل عن الخانیۃ اختصار مخل اوھم، تعلق الافتاء بروایۃ ابی یوسف نظرا الی مامر عن الامام ولیس کذالک وانما ھو لروایتہ بالنظر الی المروی عن محمد من التثلیث رضی اﷲ تعالٰی عنہم جمیعا، واصل عبارۃ الخانیۃ بعد قول مثل مایعطی للابن ھکذا وقال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی یعطی للذکر ضعف مایعطی للانثی و الفتوی علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی اھ ۱؂ قال العلامۃ الشامی نقلا عن العلامۃ الخیر الرملی مانصہ ای علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکروالانثی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد ۲؎ اھ، وقال فی البزازیۃ الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث ومنہ الثانی التنصیف وھوالمختار ۳؎ اھ،
اقول: (میں کہتاہوں) یہاں خانیہ کی نقل میں خلل انداز اختصار کردیا ہے اور فتوٰی کا تعلق امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے قول سے کردیا امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کے مذکور قول کے مقابلہ میں، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ یہ فتوٰی امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کے قول کے مقابلہ میں ہے جس میں انہوں نے بیٹے اور بیٹی کے لئے تین حصوں کا قول کیا ہے، اور خانیہ کی اصل عبارت یوں ہے، جوکہ امام یوسف کے بیٹی اور بیٹے کے لئے مساوات والے قول کے بعد ہے، امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا لڑکے کو  لڑکی سے دوگنا دیا جائے اور فتوٰی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے قول پر ہے، علامہ شامی نے علامہ خیر الدین رملی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا جس کی عبارت یہ ہے، یعنی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے قول پر لڑکے لڑکی کوبرابر دینا ان پر تین حصے بنانے کی بجائے افضل ہے اور تین حصے بنانا امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا قول ہے اھ، اور بزازیہ میں ہے بیٹی اور بیٹے کو ہبہ میں تین حصے کرنا بہترہے، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک دو حصوں میں (برابر ) دینا بہتر ہے اور یہی مختار ہے اھ،
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں        کتاب الہبۃ فصل فی ھبۃ الوالدلولدہ    مطبع نولکشور لکھنؤ    ۴ / ۶۔ ۷۰۵)

(۲؎ درمختار            کتاب الہبۃ            داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۱۳)

(۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ     کتاب الہبۃ  الفصل الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۲۳۷)
وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدریکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ۴؎ الخ، فانظر کیف عزا الکراہۃ الی الہندیۃ فقد علم ان الفتوی لیست ناظرۃ الی قول ابی یوسف بالنظر الی ماروی عن الامام والا لما ساغ ان یعزوالیہا مانصت فیہ ان الفتوی علی خلافہ وہذا ہو الصواب فلیتنبہ،
اور علامہ طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا درجہ میں مساوی اولاد میں کسی کو زیادہ دینا مکروہ ہے جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے الخ، غور فرمائیں انہوں نے کس طرح کراہت کو ہندیہ کی طرف منسوب کیا ، توواضح ہوگیا کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰیٰ کے قول پر فتوٰی امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی کے مقابلہ میں نہیں ہے ورنہ ہندیہ کی طرف ایسی چیز کا منسوب کرنا جس کے خلاف اس نے فتوٰی ہونے کی تصریح کی ہے درست نہ ہوتا، یہی درست بات ہے خبردار رہو،
(۴؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الہبۃ            دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۳۹۹)
ثم اقول : وباﷲ التوفیق یترا ای لی ان لاخلف بین ما عن الامامین الشیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما فان تفضیل احدالولدین لاتحقق لہ الابتنقیص الاخر والتنقیص اضرار اذلیس المراد بہ ایصال سوءٍ الیہ فی دینہ اونفسہ اوبدنہ او عرضہ اوملکہ ولاالتنقیص من حق لہ ثابت فانہ لاحق للورثۃ فی صحۃ المورث فلم یرد بہ الا حجبہ حجب نقصان اوحرمان وہذا لازم التفضیل لاانفکاک لہ عنہ، بیدان القصد اولا و بالذات قد یتعلق بتفضیل ھذا دون تنقیص ذلک وقد یکون بالعکس فانک اذا اعطیت احد ہما ازید لانہ اطوع لک وابربک فانما مطمح نظرک فی ہذا صلتہ بمقابلۃ ماوقع منہ لاتنقیص غیرہ وان لزمہ لزوما کلیا واذا کنت غضبان علی احدہما فاعطیت الاخرازید کیلا یصل الیہ الا القلیل فانما ملمح بصرک فی ہذا اضرارہ بما اساء الیک لاتفضیل غیرہ قصدا اولیا کما لایخفی ،
ثم اقول: (پھر میں کہتاہوں) اور توفیق اللہ سے ہے، مجھ پر واضح ہوا کہ شیخین رحمہما اللہ تعالٰی دونوں اماموں کے قول میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ دو بیٹوں میں سے ایک کو زیادہ دینا دوسرے کو کم دینے کے بغیر متحقق نہیں اور کم دینا ہی ضرر دینا ہوا، کیونکہ یہاں دین یا بدن یاعزت یا ملک میں تکلیف دینا مراد نہیں ہے اورنہ اس کے لئے ثابت شدہ حق کو کم کرنا مرا دہے کیونکہ اولاد کا باپ کی صحت میں کوئی حق نہیں تو یہاں صرف ایک کا دوسرے کے لیے نقصان یا محرومی کا باعث بننا ہے اور یہ بات دوسرے پر فضیلت دینے کو لازم ہے، اس سے جدا نہیں ہوسکتی، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کبھی مقصود بالذات ایک کو صرف فضیلت دینا ہوتاہے دوسرے کی تنقیص پیش نظر نہیں ہوتی۔ اور کبھی معاملہ بالعکس ہوتاہے کیونکہ جب توایک کو اس لئے زیادہ دے کہ وہ تیرا زیادہ مطیع اور خدمت گار ہے تو اس میں تیرا مطمح نظر صرف اس کو صلہ دینا ہے دوسرے کی تنقیص مقصود نہیں ہوتی اگرچہ یہ لازم ضرور ہے اور تو جب ایک پر ناراض ہو کر دوسرے کو اس لئے زیادہ دے کہ پہلے کو کم ملے تو اس میں تیری نظر یہ ہے کہ اس کو نالائقی کی سزاملے دوسرے کو فضیلت مقصود بالذات نہیں ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں ہے
ثم التفضیل لابدلہ من حامل علیہ وداع الیہ فان العا قل لایقصد الفعل الالغرض صحیح فان رجح ولامرجح لم یکن المقصود ترجیحہ لعدم مایدعوالیہ بل تنقیص غیرہ و ھو قصد الاضرار والداعی ان کان امرا دنیویا لااثرلہ فی الدین فالشرع لایعتبرہ ویجعلہ کلاداع واذاکان امرادینیا فہو المقصد الصحیح المعتبر وبقصدہ یخرج الانسان عن قصد الاضرار کما قد تقرر فظہران مآل الکلامین واحد وان کلامہما کالشرح لصاحبہا وانما لم یقید فیما روی عن الامام بان لایقصد الاضرار کان الکلام فیہ مفروض فیما قصد تفضیل بعض فبین مایصح منہ وما لابل یؤل قصد اضرار ثم الذی یظھران مسئلۃ التثلیث اوالتسویۃ بین الابن والبنت مسئلۃ علی حدۃ لامتفرعۃ علی قصد الاضرار الاتری الی مااسمعناک عن نص البزازیۃ ولذالما اوہم عبارۃ الدرذاک التفریع عقبہ العلامۃ السید الطحطاوی لعبارۃ البزازیۃ وقال فانت تری نص البزازیۃ خالیا عن قصد الاضرار ۱؎ اھ۔
پھر تفضیل کا کوئی باعث اور داعی ضرور ہوتاہے کیونکہ عاقل کا کوئی فعل غرض کے بغیر نہیں ہوتا۔کیونکہ مرجح کے بغیر ترجیح ہو تو پھر ترجیح مقصود نہ ہوگی بلکہ دوسرے کی تنقیص مراد ہوگی تو ضرر رسانی ہوگی۔ اور اگر داعی ترجیح کوئی دنیاوی امر ہو جس کا دین میں کوئی اثر نہ ہو تو شریعت اس کا اعتبار نہیں کرتی اور اس داعی کو کالعدم قراردیتی ہے، اور اگر کوئی ایسا دینی معاملہ ہو جو شرعا مقصود ومطلوب ہو تو انسان اس کا قصد کرکے ضرر کے قصد سے بچ جاتاہے جیسا کہ ثابت ہے تو معلوم ہوا دونوں امام شیخین کی کلام کا نتیجہ ایک ہے اور دونوں ایک دوسرے کی شرح قرارپاتی ہیں۔ اورامام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت کہ وہ کلام میں ضررکے قصد کی قید نہیں بتائی کیونکہ ان کے کلام میں ایک کی فضیلت مفروض ہے جس کی صحت اور عدم صحت بیان ہورہی ہے بلکہ یہ کلام ضرر رسانی کی طرف عائد ہے، پھر بیٹی اور بیٹے میں تین حصے یا برابری کا مسئلہ علیحدہ مسئلہ ہے یہ ضرر رسانی کے قصد پر متفرع نہیں ہے تو نے دیکھ لیا جو ہم نے تجھے بزازیہ کی نص سنائی ہے اسی لئے جب درمختار کی عبارت نے یہ وہم پیدا کیا تو علامہ طحطاوی نے اس کے بعد بزازیہ کی عبارت ذکر کردی جس کا مقصد یہ ہے کہ تو بزازیہ کی عبارت کو ضرررسانی کی قید سے خالی پارہا ہے اھ۔
 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الہبۃ        دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۴۰۰)
فتحرر مما تقرر ان العدل بین الابن والبنت فی حال الصحۃ عند الامام الثالث ھو التثلیث وعند الامام الثانی التنصیف وعلیہ الفتوی والکلام فی الافضیلۃ والکل جائز والعدل بین بین اوبنات ھو التسویۃ بالاجماع ولایجوز العدول عنہ فی ابن لافی بنت اصلا لو قصد الاضرار اولا بالذات الا ان یکون فاسقا کما افادہ فی الخلاصۃ والبزازیۃ وخزانۃ المفتین والہندیۃ وغیرہا وان قصد التفضیل فان الفضل دینی جائز ولم یکرہ والاکرہ لِاَوۡ لہ (عہ: الاول ھوالرجوع (منجد)  الی قصد الاضرار وہذا ماظہرلی والعلم بالحق عند عالم الغیوب والاسرار، واﷲسبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اس تقریر سے معلوم ہوا کہ صحت کی حالت میں بیٹی اور بیٹے کے درمیان عدل تیسرے امام (محمد) رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک تین حصے بنانے میں ہے، اور امام ثانی یعنی ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک برابر دینے میں ہے اوراسی پر فتوٰی ہے حالانکہ یہ کلام افضیلت میں ہے جبکہ جواز دونوں صورتوں میں ہے بالاجماع بیٹوں اور بیٹیوں میں عدل بہرحال برابر دینے میں ہے کسی لڑکے یا لڑکی کو ضرر رسانی قصداً وبالذات جائز نہیں سوائے اس کے کہ وہ فاسق ہو جیسا کہ اس کا افادہ بزازیہ خزانۃ المفتین اورہندیہ وغیرہ کے بیان نے دیا ہے اوراگر فضیلت دینا چاہے تو کسی دینی فضیلت کی بناء پر جائزہے مکروہ نہیں ہے ورنہ مکروہ ہے کیونکہ یہ ضرر رسانی کی طرف رجوع ہوگا، مجھ پر یہ ظاہر ہواہے حقیقی علم غیوب واسرار کے عالم کے پاس ہے، واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۸۲: از پیلی بھیت مرسلہ مولانا مولوی وصی احمد صاحب    غرہ رجب ۱۳۱۸ھ

ایک شخص نے اپنی جائداد مشترکہ برضا مندی اپنے اوراپنے شرکاء کے اپنے عزیزوں کو تقسیم کردی، یہ تقسیم بموجب شرع شریف کے صحیح ہے یانہیں اور بقدر تقسیم کے وہ جائداد واپس کرنا چاہے تو واپس ہونا اس کا نادرست ہے یانہیں؟
الجواب

اگر شرکاء سے تقسیم کراکر اپنا حصہ جدا نہ کرالیا یا جن عزیزوں کو دی ان کا حصہ جدا تقسیم نہ کردیا اور وہ شے اس قابل تھی کہ بعد تقسیم لائق انتفاع رہتی جب تو یہ تقسیم سرے سے باطل ہے اوراگر اپنا حصہ جدا کرکے حصص شرکاء بھی جدا جدا کردے یا وہ شیئ صالح قسمت نہ تھی تو تقسیم میں خلل نہیں ہے اب اگر عزیزوں کا ہنوز قبضہ نہ ہوا تو اس تقسیم سے اسے رجوع کااختیار ہےکہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا اور اگر قبضہ ہوگیا اور وہ عزیز اس کے محارم ہیں جیسے بھائی، بہن، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی ، بھتیجے، بھانجے تو واپس لینا ممکن اور غیر محارم ہیں اورموانع سبعہ رجوع سے اور کوئی مانع بھی متحقق نہیں تو ان کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کرسکتاہے مگر گناہ گار ہوگا کہ دے کرپھرنا مکروہ تحریمی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از رچھا ضلع بریلی تھانہ بہیڑی    ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ء

کیا حکم ہے اس صورت میں کہ باپ نے اپنے بیٹوں کو جدا کردیا اور جو کچھ جائدا دتھی وہ سب کچھ تقسیم کردی اب بعد مدت کے باپ یہ چاہتاہے کہ جو کچھ مال لڑکوں کو دیا ہے وہ سب واپس لے لے اور لڑکوں کو تہی دست چھوڑ دے، اب فرمائیے کہ عندالشرع یہ امر جائز ہے یانہیں؟ اور ابھی کسی لڑکے کا نکاح نہیں ہوا تو یہ حق ذمہ باپ کے ہے یانہیں؟
الجواب

اگر جائدادجداجدا کرکے ہر لڑکے کوقبضہ دلادیا تو وہ اس کے مالک مستقل ہوگئے ان سے واپس لینے کا باپ کو اختیارنہیں، نہ ان کانکاح کرنا اس پر لازم اول لڑکوں کے نکاح میں شرعی مصارف کچھ نہیں اور جوہوں تو جبکہ وہ مال رکھتے ہیں انہیں کے مال سے کئے جائیں، اور اگر تقسیم جدا جدا کرکے قبضہ نہ دلاگیا اور وہ مال قابل قسمت تھا توبدستور باپ کے ملک باقی ہے اسے لے لینے کا اختیار ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter