Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
33 - 120
خیریہ کتاب الوقف میں ہے:
یرجع بہ قائما ویضمن بدلہ مستہلکا لانہ مادفعہ علی وجہ الھبۃ وانما دفعہ علی انہ حق المدفوع الیہ وہذا اصح الوجوہ ففی شرح النظم الوہبانی لشیخ الاسلام عبد البر ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ  واستہلکہ القابض اھ وقد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بماادعی ولو کان قد استھلکہ رجع ببدلہ ۱؎ اھ۔
۔  موجود ہو تو رجوع کرے اگر اس نے ہلاک کردی ہو تو ضمان لے، کیونکہ اس نے ہبہ کے طور پر نہیں دی بلکہ اس لئے دی کہ جس کو دی گئی ہے اس کا یہ حق ہے یہی تمام وجوہ میں بہتر ہے شیخ الاسلام عبدالبر کی شرح نظم وہبانی میں ہے کہ جس نے کوئی چیز دی حالانکہ اس پر اس کا دینا واجب نہ تھا تو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس صورت کے کہ بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے ہلاک کردی ہو اھ اور فقہاء نے تصریح فرمائی کہ جو اس گمان پر دے کہ اس پر یہ دیناواجب ہے اور پھر اس کا خلاف معلوم ہوا تو اپنے دئے ہوئے میں رجوع کرسکتاہے اوراگر لینے والے نے ہلاک کردی ہو تو اس کا بدل وصول کرے اھ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف  دارالمعرفۃ بیروت  ۱ /۱۳۰)
ہاں اگر اس گمان سے نہ دیا بلکہ دیدہ دانستہ اپنی خوشی سے اپنا زیور اس کے عوض میں ہبہ کردیا اگرچہ یہ ہبہ اسی بنا پر واقع ہوا ہو کہ ایسے اوچھے کا احسان نہ رکھنا چاہئے تو اس صور ت میں مرید اس زیور کا مالک ہوگیا۔ 

درمختارمیں ہے:
(اتفقا) الواہب والموھوب لہ (علی الرجوع فی موضع لایصح) رجوعہ من المواضع السبعۃ السابقۃ (کالھبۃ لقرابتہ جاز) ھذا الاتفاق منہما، جوہرۃ ۲؎۔
ایسی صورتیں جن میں رجوع صحیح نہ ہو مذکورہ سات صورتوں میں سے کسی میں رجوع پر واہب اور موہوب لہ دونوں اتفاق کرلیں (مثلا قریبی ذی محرم کوہبہ) تویہ اتفاق جائزہے ، جوہرہ (ت)
 (۲؎ درمختار   کتاب الھبۃ  باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۴)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
ویکون الرجوع فی العوض بالتراد وفی الہلاک بردالبدل ۳؎۔
عوض میں رجوع واپس لینے سے ہوگا اور ہلاکت کی صورت میں بدل لینے سے ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ    دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۴۰۶)
اب اسے اختیار ہوگا جو چاہے کرے۔
فانہ انما ھلکہ ملکہ بھبۃ مبتدءۃ کما افادہ الدر۱؎ عن المجتبٰی فلیس عین ماانفق ﷲ ولا بدلہ حقیقۃ فیفعل بہ مایشاء۔
کیونکہ اس نے ابتدائی طورپر ہبہ والی ملکیت کوہلاک کیا ہے جیسا کہ اس کا افادہ مجتبٰی سے درمختار میں منقول کیا ہے، توعین وہ چیز نہیں جو اس نے اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے دی ہے حالانکہ اس کی کوئی حقیقت ضروری ہے لہذا جو چاہے کرے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    کتاب الھبۃ         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۵)
اورجہاں بیعت وارادت بروجہ صحیح ومعتبر واقع ہو وہاں ایسی صورت میں مرید کے لئے سعادت اسی میں ہے کہ وہ زیور شیخ کو واپس کرے اور اپنی تقصیرات شدیدہ وجرائم عدیدہ کا عفو چاہے اس کا یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسا نہ فرمایا پیر نے دل سے بناکر معاذاللہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء کردیا محض بدگمانی ہے جو ہر مسلمان پر حرام نہ کہ پیر ومرشد پر خصوصا اگر لفظ اسی قدر ہیں جو سوال میں مذکور تو اس کے انکار کا تو کوئی احتمال ہی نہیں، بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پیروں کو مطابق شرع مطہر اپنے مریدوں کی تربیت کے لئے حکم دیا اور صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا:
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۲؎۔
تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    باب الجمعہ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۲)
اور بیشک شرع مطہر کا حکم ہے کہ ایسی چیز راہ خدا میں صرف کرو جو دل میں چبھے جسے عزیز رکھتے ہو۔
قال اﷲ عزوجل لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ۳؎۔
اللہ عزوجل نے فرمایا: جب تک محبوب چیز خرچ نہ کرو گے بھلائی کو ہر گز نہ پاؤ گے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم   ۹۲/۳)
جہاں ارادت صحیحہ معتبرہ ہو وہاں شک نہیں کہ مرید کا اتنا ہی کہنا کہ میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا اس کے فسخ بیعت اور عاق ہوجانے کے لئے بس ہے نہ کہ اور کلمات شدیدہ مزید برآں اور اس صورت میں وہ ضرور تنبیہ شرعی کا مورد ہوگا کہ وہ سخت محسن کش وبے ادب ہوا عام مسلمانوں میں کسی متنفس کی ایذا بلاوجہ شرعی حرام ہے نہ کہ پیر کی ایذا۔

 رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۱؎۔
جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس  نے اللہ عزوجل کو ایذا دی۔ والعیاذ باللہ ۔ واللہ تعالٰی اعلم
(۱؎ المعجم الاوسط        حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف ریاض        ۴/ ۳۷۳)
مسئلہ ۸۰: از فرید پور مرسلہ شیخ نبی بخش صاحب جمعدار ۲۲ رجب ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو بھائیوں نے اپنا مشترکہ روپیہ گیارہ سو ایک شخص کو قرض دیا اور اس کی ایک جائداد رہن دخلی لی دستاویز میں برادر زید نے بجائے زید، زید کے نابالغ بیٹے بکر کانام درج کرایا اور بعد رجسٹری دستاویز وہ کل روپیہ راہن کو دے دیا گیا بعدہ زمانہ نابالغی بکر میں ایک اور جائداد دونوں بھائیوں نے اپنے مشترکہ روپے سے رہن دخلی لی اور اس دستاویز میں بجائے عمرو اس کے بیٹے کا اور بجائے زید اس کے دو نابالغ بیٹوں بکر اور خالد کانام درج ہوا اور بعد رجسٹری کل زر قرض چار ہزار روپے راہن کو دے دئے یہ جائداد رہن دخلی لے کر خود مالک کو بطور اجارہ داری اور فصل بفصل زراجارہ یہ مرتہن پاتے رہے کئی برس کے بعد بکر نے ایک بیٹا نابالغ ولید اور ایک زوجہ چھوڑ کر انتقال کیا زید نے بعد انتقاال پسر ایک باغ اپنے روپے سے خریدا اور بیعنامہ بنام اپنے نابالغ پوتے ولید کو لکھوایا پھر ولید نے بحال نابالغی ماں اور دادا کو وارث چھوڑ کر انتقال کیا، زید نے اس باغ کے داخل خارج میں صرف اپنی بہو کا نام درج کرایا، اب وہ دعوٰی کرتی ہے کہ وہ دونوں روپے جن سے وہ جائدادیں رہن لیں ان میں سے زراسمی بکر اور یہ باغ میرا ہے کہ ان دستاویزوں میں بکر کانام لکھوادینے سے ان روپوں کی تملیک بکر کو ہوگئی اور اب بذریعہ دین مہر وہ میرے حق میں ہے اور اس باغ کے داخل خارج میں میرا نام درج کرانے سے یہ میری ملک ہوگیا، اس صور ت میں کیا حکم ہے؟ بینوا تورجروا
الجواب

صورت واقعہ اگر یونہی ہے کہ وہ روپے زید وعمرو کے مشترک تھے اور یونہی یکجائی طور پر مدیون کو دئے گئے تو ان میں بہو کادعوٰی اصلا مسموع نہیں جبکہ وہ روپے زید کی ملک تھی تو بکر کے نام ان کا انتقال یونہی ہوسکتا ہے کہ زید بکر کو ہبہ کرکے مالک کردیتا دستاویز رہن دخلی میں اگر بکر کانام خود زید ہی لکھا تھا اور بالفرض اس سے تملیک وہ ہبہ سمجھا جاتا جب بھی یہ ہبہ جائز نہیں۔ بکر اگرچہ نابالغ تھا مگر زر مشترک کا ہبہ بے تقسیم نہیں ہوسکتا اور یہاں بے جدائی وتقسیم یکجائی طورپر مدیونوں کو دے دئے گئے کہ وہ روپے ان کی ملک میں داخل ہوگئے اور ہبہ باطل ہوکر بکر ومستحقان بکر کا کچھ حق نہ رہا، اور چار ہزار والے عقد میں ایک قول پر دوسرا نقص اور ہے کہ یہ حصہ زید کا زید کے دو بیٹوں کے نام بلا تقسیم لکھا گیا تو مشاع درمشاع ہوا، بہرحال ان روپوں میں بہو کا کچھ حق نہیں،
فتاوٰی انقرویہ میں ہے :
فی المنتقٰی وہب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز مالم یقسمہ ویبین ماوہب لہ من فتاوٰی التمرتاشی فی اٰخر کتاب الھبۃ ۱؎۔
منتقٰی میں فتاوٰی تمر تاشی کی کتاب الھبۃ کے آخر سے ہے اگر اپنے نابالغ بیٹے کو اپنا نصف مکان ہبہ کیا تو جب تک تقسیم کرکے جدا نہ کردے جائز نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی انقرویہ    کتاب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیۃ قندہارافغانستان     ۲/ ۲۸۴)
اسی میں ہے:
لو تصدق بدارہ علی ولدین لہ صغیرین اوکبیرین اواحدہما صغیر والاٰخر کبیر لم یجزوکذا لو تصدق علیہما بکیس فیہ الف درہم وقبضاہ لم یجز، خزانۃ الاکمل فی الھبۃ عن المجرد ۲؎۔
اگر کسی نے دو نابالغ یا ایک یا دو بالغ یا ایک بالغ اور ایک نابالغ بیٹوں کو اپنا مکان مشترکہ طور پر ہبہ کیا تو جائز نہ ہوگا اور یونہی ان کو ایک تھیلی ہبہ کی جس میں ہزار درہم تھے اور دونوں کو قبضہ بھی دے دیا ہو تو جائز نہ ہوگا، یہ خزانۃ الاکمل کے ہبہ میں مجرد سے منقول ہے۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی انقرویہ  کتاب الھبۃ   دارالاشاعۃ العربیۃ قندہار افغانستان   ۲/ ۲۸۳)
بلکہ جس قدر روپیہ زید نے ان ایام میں رہن میں بنام اجارہ پایا ہے زید پر فرض ہے کہ اسے اصل میں مجرا دے اگر کل آگیا تو اب ایک پیسہ لینا حرام ہے اور اگر کچھ باقی ہے تو اسی قدر زید کا حق رہا، اور اگر زید پر فرض ہے کہ اتنا مدیون کو واپس دے، اسی طرح دوسری جائداد جو رہن دخلی لی اس سے بھی اب تک جو وصول ہوا زید کے لئے خیر اسی میں ہے کہ اسے سب کو زراصل میں محسوب جانے، رہا باغ وہ اپنے نابالغ پوتے کے لئے خریداپوتے کی ملک ہوگیا اس کے مرنے کے بعد ایک ثلث زید کی بہو کا ہوا اور دو ثلث باغ زید کا، زید نے جو کاغذ داخل خارج میں صرف بہو کانام لکھا دیا یہ اگر دلیل ہبہ وتملیک بھی قرار دیں جب بھی معتبر وصحیح نہیں کہ ہبہ مشاع بے تقسیم باطل ہے۔  

درمختارمیں ہے :
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووہبہ لشریکہ ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
قابل تقسیم چیز پر قبضہ دینے سے بھی ہبہ تام نہ ہوگا خواہ اس میں شرکت والے کو ہبہ دے واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الہبہ        مطبع مجتبائی  دہلی    ۲/ ۱۵۹)
Flag Counter