Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
32 - 120
مسئلہ ۷۷: از بری پورہ پرگنہ بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ مناخاں ۹ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ

علماء دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں ، عرصہ پندرہ سال کا ہوا کہ زید نے بکر ایک پسر بالغ کے نام جائداد اپنے روپے سے خرید کر دی، بعد خریداری اور جملہ تکمیل داخل خارج وغیرہ کرادینے کے بکر نے دو تین سال بعد اپنی زوجہ کے نام بعوض دین مہر بیع کردی، پانچ سال کے بعد زوجہ بکر نے ایک غیر کے ہاتھ بیچ  ڈالی پھر اسی زرثمن سے اپنے شوہر بکر کی معرفت کچھ حقیت خریدی یہ سب باتیں زید کی حیات تک رہیں اور ان جملہ انتقالات کے وقت وارثان زید سے کوئی مزاحم نہ ہوا اسی طرح زید نے بکر کو ایک مکان تعمیر کراکر عطا کیا اور قبضہ وغیرہ دے کرعلیحدہ کردیا ورثہ زید آج تک نسبت جائداد ومکان مذکور مزاحم نہ ہوئے انتقال زید کو تین برس گزرے اب ورثائے زید خواستگار ترکہ جائداد و مکان ہیں، اس صورت میں یہ دعوٰی ان کا صحیح ہے یانامسموع؟ بینوا توجروا
الجواب

مکان بناکر کسی کو عطا کردینا اور ماں باپ کا کوئی شے اپنے روپے سے اولاد کے نام خرید دینا دونوں ہبہ ہیں اول ظاہر ہے اور ثانی یوں کہ عرفاً اس سے تملیک ہی مقصود ہوتی ہے اور تملیک بلاعوض ہبہ ہے،

 ردالمحتارمیں منح الغفار سے ہے:
ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذلک فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۱؎۔
اگر باپ نے نابالغہ کے لئے یا بالغہ کے لئے بشرطیکہ بالغہ کو قبضہ دیا ہو کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس چیز میں کوئی حق نہیں ہے وہ خاص بیٹی کی ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب العاریۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۶)
عقود الدریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے: امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا تکون الضیعۃ للولدلان الام تصیر واھبۃ ۲؎۔ اگر ماں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی چیز خریدی تو وہ چیز بیٹے کی ہوگی کیونکہ وہ ماں کی طرف سے اس کو ہبہ ہے۔ (ت)
(۲؎ العقود الدریۃکتاب الوصی    ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲/ ۳۳۷)
اور ہبہ بعد قبضہ تمام ہوجاتاہے شے موہوب ملک واہب سے نکل کر ملک موہوب لہ میں داخل ہوجاتی ہے واہب ووارثان واہب کی ملک و وراثت اس میں نہیں رہتی خصوصا جبکہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم مثلا بیٹا، بھائی، بھتیجا ہو خصوصا جبکہ شیئ موہوب موہوب لہ نے دوسرے کے نام منتقل کردی خصوصا جبکہ واہب کا انتقال ہوچکا کہ ان میں سے ہر صورت ہبہ کولازم کردیتی ہے جس کے سبب اس میں رجوع کا بھی امکان نہیں رہتا نہ کہ جہاں اتنے وجوہ جمع ہوں، 

درمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم وخروج الھبۃ من الملک الموھوب لہ وقرابۃ ذی رحم محرم ۱؎ اھ ملتقطا۔
ہبہ میں رجوع سے فریقین میں سے کسی کی موت مانع ہے بشرطیکہ ہبہ پر قبضہ دے دیا ہو اور موہوب لہ کی ملکیت سے موہوب کا خارج ہوجانا اور قرابت ذی رحم محرم بھی رجوع سے مانع ہے اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۳۔ ۱۶۱)
پس صورت مسئولہ میں اس مکان وجائداد پر وارثان زید کا دعوٰی محض باطل وناقابل سماعت ہے خصوصا بعد اس کے کہ سالہا سال تصرفات انتقال دیکھتے اور سکوت کرتے رہے
کما نصوا علیہ وبیناہ فی فتاوٰنا
(جیساکہ اس پر نص کی گئی ہے اور اسے ہم نے اپنے فتوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو بیٹے ایک زید سے علیحدہ کاروبار کرتا تھا اور ایک زید کے ساتھ بشرکت جب زید ضعیف ہوا کل کام اور اسباب تجارت اس شریک بیٹے کو حوالہ کیا اور کل اختیارات نیک وبد دے کر مالک کردیا اور تاحیات زید اس کا خورد ونوش اسی بیٹے کے متعلق رہا اور اس نے تجہیز وتکفین کی اس صورت میں بیٹے کا اس مال میں حق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: سائل خود  مظہر کہ اس بیٹے کی شرکت ایسی نہ تھی کہ کچھ مال یا روپیہ اس کا ہو مال سب باپ کا تھا یہ اس کاکام کرتا اور اس کے ساتھ رہتا تھا، اب زید کے وہ الفاظ قابل لحاظ ہیں جن سے اس نے اس پسر کو کل اختیارات دے کر مالک کردیا اگر خود ان الفاظ یادیگر قرائن واضحہ سے تملیک کل مال واسباب تجارت مفہوم تھی تو ضرور یہی بیٹا اس تمام مال کا مالک ہوگیا کہ ہبہ پایا گیا اور قبضہ خود ظاہر، اور اگر تصرفات تاجرانہ کامالک کر دینا تھا کہ سب سیاہ وسپید تیرے اختیار ہے خرید وفروخت لین دین کا تو مالک ہے اس سے زیادہ اصل مالک کی تملیک پر کوئی دلیل نہ تھی تو اس قدر سے صرف وکالت حاصل ہوگی مال کی ملک نہ ہوگی۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ بیری زادہ عن خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الا بن یکون للاب الااذا دلت دلالۃ التملیک اھ (قال الشامی) قلت فقد افادان التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک کمن دفع لفقیر شیئا وقبضہ ولم یتلفظ واحد منہما بشیئ وکذا یقع فی الہدیۃ ونحوہا فاحفظہ ومثلہ مایدفعہ لزوجتہ اوغیرہا ۱؎. اھ
ردالمحتار میں الاشباہ کے حاشیہ علامہ بیری زادہ سے بحوالہ خزانۃ الفتاوٰی منقول ہے جب بیٹے کو مال دیا تو بیٹے نے اس میں تصرف کرلیا تومال باپ کا ہوگا، ہاں اگر وہاں بیٹے کے لئے تملیک پر کوئی قرینہ ہو تو بیٹے کا ہوگا اھ علامہ شامی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب قبول شرط نہیں بلکہ تملیک پر دال قرائن کافی ہیں، جیسے کہ کوئی شخص فقیر کو کوئی چیز دے اور فقیر قبضہ کرلے، اور دونوں میں سے کوئی بھی کوئی بات نہ کرے ہدیہ وغیرہ میں بھی یہی حکم ہے، اس کو محفوظ کرلو، اور اسی کی مثل ہے جب اپنی بیوی وغیرہ کو کچھ دے دے اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۸)
اس تقدیر پر دوسرا بیٹا بھی اس مال میں برابر کا حقدار ہے اس پسر نے جو کچھ تجہیز وتکفین بقدر مسنون میں صرف کیا اتنا ترکہ سے لے سکتاہے،
لکونہ وارثا والوارث لایجعل متبرعا فیہ کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اس کے وارث ہونے کی بناء پر کیونکہ اس میں وارث کے لئے تبرع نہیں شمار ہوتاجیسا کہ درمختاروغیرہ کتب میں ہے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۷۹: از جالندھرمحلہ راستہ مرسلہ منشی محمد احمد صاحب ۲۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایک شخص ملازم جب عرصہ سہ سال میں مرشد سے سلوک باطنی نقشبندیہ مجددیہ طے کرچکا تو ایک روز مرشد نے اس سے کہا کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حکم ہوا کہ اس سے کوئی ایسی چیز اللہ واسطے خرچ کرائی جائے کہ جو اس کے دل کو چبھے، صبح کو مرشد نے اس ارشاد عالی کے بموجب اس سے کہا کہ تو ایک تنخواہ وغیرہ اللہ واسطے خرچ کر، وہ مرید گھر میں جاکر ایک زیور طلائی لے آیا جس کی قیمت مبلغ (معہ ۸/) تھی اور اس کی تنخواہ مبلغ (صہ سہ) روپیہ تھی اس نے مرشد سے کہا میں آپ کو یہ زیور اللہ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیں، تو مرشد نے کہا ایک تنخواہ کاحکم ہوا ہے زیو ر کا نہیں، اس نے کہا اگر میں اس کو بازار میں فروخت کروں تو مجھ کو شرم آتی ہے اب میں لاچکا ہوں آپ اللہ واسطے یہی قبول فرمالیں، مرشد نے وہ زیور بدیں اصرار منظور کرلیا اور وہ زیور مرشد نے اپنے گھر کے خرچ میں صرف کرلیا اور اس میں سے کچھ اللہ واسطے خرچ نہ کیا، کچھ عرصہ کے بعد اس کو دستار خلافت بھی دے دی گئی، تھوڑی مدت کے بعد اس نے مرشد سے کہا کہ مجھ کو یقین نہیں ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو اور نیز آپ نے اُس میں سے کچھ اللہ واسطے خیرات نہیں کی اس واسطے میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا ہے میرا زیور وہ آپ واپس کردو، اس پر مرشد نے اس کے بدلے زیور دوسرا سیم و طلائی گھر سے اس کو دے دیا اور مرید نے یہ عبارت ایک پرچہ کاغذ پر اپنے قلم سے لکھ دی جو کہ میں نے پیر کو یہ زیور اللہ واسطے دیا تھا مجھ کو اس کے دینے کی برداشت نہیں ہوئی اب میں نے ان سے واپس لے لیا اور اس بزرگ نے اس کو عاق بھی کردیا ہے۔

(۱) آیا اب یہ مرید عاق ہوا بھی یا نہیں، اور بصورت عقوق اس پر کوئی تنبیہ شرعی وارد ہوتی ہے یانہیں؟

(۲) اللہ واسطے وہ زیور دے کر واپس لینا درست ہے یانہیں؟

(۳) اگر وہ زیور ایک جگہ اللہ واسطے دے کر پھر وہاں سے واپس لے کر دوسری جگہ اللہ واسطے یا اپنے گھر میں صرف کرسکتاہے یانہیں، اگر کرسکتاہے تو پہلے سے واپس کرنے کے گناہ سے بَری ہوسکتاہے یانہیں؟

(۴) مرشد نے اس مال سے کچھ اللہ واسطے نہیں دیا آیا مرشد اس میں خطا وار ہے یانہیں؟

(۵) اگر مرشد کی اس میں خطا ہے تو مرید اس مال کے واپس کرنے کا حقدار ہے یانہیں؟

(۶) اگر بالفرض مرشد کو جناب رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نہیں فرمایا اپنے طمع نفسانی کے واسطے جھوٹ کہہ دیا اور مرید وہ زیور اللہ واسطے دے چکا آیا اس صورت میں وہ مرید اگر زیور واپس لے تو درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : پیرو مرید کے جو کمالات سوال میں مذکور ان میں کہیں نہیں کہ پیرنے اس سے کہا ہو کہ وہ چیز میں تجھ سے اجنبی مساکین پر تقسیم کرنے کو لیتاہوں یا اجانب پر تقسیم کا مجھے حکم ہوا ہے نہ مرید کے کلام میں کہیں اس کی تصریح پیر نے اتنا کہا کہ اللہ کے واسطے خرچ کرائی جائے، یہ پیرو متعلقین پیرواجانب سب کو شامل ہے، پیر کی خدمت جو کچھ پیر ہونے کے سبب کی جائے وہ بھی اللہ ہی کے لئے خرچ ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم جو چیزیں بارگاہ عرش جاہ حضور پرنور سلطان دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں نذر حاضر لاتے کیا اس سے بہتر کوئی خرچ اللہ عزوجل کے لئے متصور ہے حالانکہ حضور غنی مغنی اغنی العلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غلامان آزاد شدہ تک اصلا محل صدقہ نہیں بخلاف اغنیائے دنیا کہ من وجہ محل صدقہ ہیں۔ 

صحیحین کی حدیث تصدق اللیلۃ علی غنی ۱؎ (رات کے وقت غنی پر صدقہ کیا گیا۔ ت) مشہور ومعروف ہے،
 (۱؂صحیح البخاری        کتاب الزکوٰۃ باب اذتصدق علی غنی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۹۱)

(صحیح مسلم        کتاب الزکوٰۃ  باب ثبوت اجر المتصدق      قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۲۹)
ردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجاز اعن الھبۃ عند بعضہم ۲؎۔
صدقہ کبھی غنی کے لئے بھی ہوتا اگرچہ بعض کے نزدیک وہ ہبہ سے مجاز ہوتا۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الوقف         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳/ ۳۵۷ )
بحرالرائق میں ذخیرہ سے ہے:
فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر ۳؎۔
غنی پر صدقہ قربت ہے جو کہ فقیر پر صدقہ سے قربت میں کم ہے۔ (ت)
 (۳؂بحرالرائق        کتاب الوقف        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۵/ ۱۸۷ و ۱۸۸)
یہاں تک تو لفظ عام تھے آگے چیز دیتے وقت جو ایجاب وقبول پیرو ومرید میں واقع ہوئے ان کے صاف لفظ یہ ہیں کہ مرید نے پیر سے کہا میں آپ کو یہ زیور اللہ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیں آپ اللہ واسطے یہی قبول فرمالیں، پیر نے باصرار منظور کرلیا، یہ صراحۃً پیر کو دیناہوا اور پیرہی اس کا مالک ہوگیا اور اس کا اپنے گھرمیں خرچ کردینا جائز ہوا اگرچہ وہ اور اس کے اہل اغنیاء ہی ہوں وہ اس میں کسی طرح خطاوار نہیں ٹھہر سکتا، بالفرض اگر اس وقت مرید کے دل میں یہی تھا کہ میں اجانب کے بانٹنے کو دیتاہوں اور پیر کو وکیل تقسیم کرتاہوں تاہم جبکہ اس نے صریح الفاظ ہبہ ایجاب کیا پیر سے اسی کی منظوری پر مصرہوا اس نے منظور کرلیا تو انعقاد ہبہ میں کوئی شک نہیں ہوسکتا عقود میں نظر معانی مدلولہ پر ہے نہ کہ مجرد خیالات باطنیہ پر، 

وجیز امام کردری کتاب الاجارہ فصل ثانی میں ہے:
اراداستیجار کرم اودار فدفع الذھب الی المالک ثم قال لہ گرو کردی ملکت ذا بکذا فقال کردم فہذارہن لا اجارۃ لان المتعبر اللفظ لاالعزم ۱؎۔
ایک شخص انگور کے درخت یا مکان کرایہ پر حاصل کرنا چاہتاہے تو اس نے مالک کو دینار دے کر کہاتویہ گروی کردیا اس رقم کے عوض، تو مالک نے کہا میں نے گروی کردیا تو یہ رہن ہوگا اجارہ نہ ہوگا کیونکہ عقد میں الفاظ کا اعتبار ہے عزم کا اعتبار نہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ    کتاب الاجارۃ الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۲۲)
یہاں تک کہ اگر زید بیٹے کے لئے عمرو کی بیٹی مانگنے آیا عمرو نے کہا میں نے اپنی دختر نکاح میں دی ، زید نے کہا میں نے قبول کی، زید سے نکاح ہوگیا، جبکہ اس سے نکاح ہوسکتا ہو کہ ایجاب وقبول میں پسر زید کا کوئی ذکر نہ آیا اگرچہ خیال یہی تھا کہ بیٹے کے لئے قبول کروں ۔
فتاوٰی ظہیریہ پھر ردالمحتار میں ہے:
لو قال ابوالصغیر لابی الصغیر زوجت ابنتی ولم یزد علیہ شیئا فقال ابوالصغیر قبلت یقع النکاح للاب ھوا لصحیح و یجب ان یحتاط فیہ فیقول قبلت لابنی ۱؎۔
نابالغہ کے باپ نے نابالغ کے والد کو کہا میں نے اپنی بیٹی نکاح کرکے دے دی، اس سے زائد کچھ نہ کہا، اس نے جواب میں نابالغ لڑکے کے والد نے کہا میں نے قبول کیا، تو یہ نکاح نابالغ کے والد سے ہوگا ،یہی صحیح ہے ، لہذا اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے اسے کہنا چاہئے تھامیں نے اپنے بیٹے کے لئے قبول کی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب النکاح        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۷۵)
التجنیس والمزید پھر فتح القدیر پھر شامیہ میں ہے: رجل خطب لابنہ الصغیر امرأۃ فلما اجتمعا للعقد قال اب المرأۃ لاب الزوج دادم بزنی ایں دختر رابہزار درم فقال اب الزوج پذیر فتم یجوز النکاح علی الاب و ان جری بینہما مقدمات النکاح للابن ھوالمختار لان الاب اضافہ الی نفسہ وھذا امر یجب ان یحتاط فیہ ۲؎۔
ایک شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے ایک عورت سے منگنی کی، جب نکاح کی مجلس ہوئی تو عورت کے باپ نے لڑکے کے باپ کو کہا میں نے بیوی بناکر یہ لڑکی ہزار درہم کے بدلے میں دی، جواب میں لڑکے کے باپ نے کہا میں نے قبول کی، تویہ نکاح باپ سے ہوگا اگرچہ پہلے تمام مقدمات بیٹے کے نکاح کے لئے تھے، یہی مختار ہے کیونکہ لڑکے کے باپ نے قبولیت اپنی طرف منسوب کی، اورایسا معاملہ ہے جس میں احتیاط ضروری ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر    کتاب النکاح        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/ ۱۰۳)

(ردالمحتار    کتاب النکاح      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۷۵)
یوہیں اگر دوسرے کے لئے کوئی چیز خریدی مگر ایجاب وقبول میں اس کی طرف اضافت نہ ہوئی شراء اسی عاقد پر نافذ ہوجائے گا اور یہی مالک مبیع قرار پائے گا جبکہ اس پر نفاذ کی گنجائش ہو، 

درمختارمیں ہے:
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ الا اذا کان المشتری صبیا اومحجورا علیہ ہذا اذا لم یضفہ الفضولی الی غیرہ فلواضافہ بان قال بع ہذا العمل لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرہا ۳؎
فضولی شخص نے کسی کے لئے کوئی چیز خریدی تو اگر یہ فضولی نابالغ یامحجور علیہ یعنی خود خریدوفروخت سے ممنوع نہ ہو تو یہ عقد خریداری اس کی اپنے لیے ہوگی بشرطیکہ اس نے خریداری غیر کی طرف منسوب نہ کی ہو اور اگر خریداری کو غیر کی طرف منسوب کیا مثلا یوں کہا کہ یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کر تو بائع نے کہا میں نے یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کی تو پھر یہ فلاں کی اجازت پر موقوف ہوگی، بزازیہ وغیرہ (ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب البیوع فصل فی الفضولی     مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۳۱)
اور جب پیر اس زیو ر کامالک ہوگیا اور صرف کرلیا تو اب اس سے رجوع وواپسی کا اصلا کوئی اختیار اس دینے والے کو نہ رہا،
فان ہلاک الموھوب من موانع الرجوع ۱؎ کمانصوا علیہ فی جمیع الکتب۔
کیونکہ موہوب چیز کی ہلاکت رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ اس پر تمام کتب میں فقہاء نے نص فرمائی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الھبۃ البا ب الخامس        نورانی کتب خانہ پشاور        ۴/ ۲۸۶)
پیر کا اس کے مانگنے پر اس کے معاوضہ میں اور زیور اپنے پاس سے دے دیتا اگر اس بنا پر ہو کہ اس نے سمجھا کہ جب دینے والا مجھ سے واپس مانگتا ہے تو شرعا اس کا عوض دینا مجھ پر لازم جب تو یہ دینا محض باطل ہوا مرید کو اس زیور کا لینا حرام ہے نہ اسے خیرات کرسکتاہے نہ اپنے صرف میں لاسکتاہے بلکہ اس پر لازم کہ وہ زیور پیر کو واپس دے اور اگر خرچ کرلیا تو اس کا تاوان دے کر اس تقدیر پر پیر کا یہ زیور دینا ایک غلط فہمی پر مبنی تھا کہ یہاں عوض دینا مجھ پر شرعاً لازم ہے حالانکہ شرعا ہر گز لزوم نہ تھا تو یہ زیور کسی عقد شرعی کے ذریعہ سے ملک مرید نہ ہوا اور بدستور ملک پیر پر باقی رہا اس کا ایسا فہم معتبر نہیں۔

 عقود الدریہ کتاب الشرکۃ میں ہے:
تبین ان مادفعہ من ذٰلک بناء علی ظن انہ واجب علیہ ومن دفع شیئا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستہلکہ القابض کما فی شرح النظم الوہبانی وغیرہ من المعتبرات ۲؎۔
تو واضح ہوا کہ اس نے جو دیا تو اس بنا پر دیا کہ یہ اس پرواجب تھا، اور اگر کوئی شخص ایسی چیز دے جس کا دینا اس پر واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے الایہ کہ اس نے بطور ہبہ دی ہو اور قابض سے ہلاک ہوچکی ہو جیسا کہ نظم وھبانی کی شرح وغیرہ معتبر کتب میں ہے ۔ (ت)
(۲؎ العقود الدریۃ     کتاب الشرکۃ    ارگ بازار قندہار افغانستان        ۱/ ۹۱)
Flag Counter