فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
31 - 120
مسئلہ ۷۶: از بنارس مسجد چوک کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اس مسئلہ میں کہ خالد کے پانچ پسر اور تین دختر ہیں۔ پسروں میں زید سب سے بڑا ہے، زید کی نابالغی اور حالت طالب علمی میں جس وقت کہ اس کو کسی قسم کی آمدنی نہ تھی، خالد نے اپنے خاص روپے سے ایک زمین پرتی زید کے نام خریدی اوراپنے ہی خاص روپے سے ایک مکان اس زمین پر تعمیر کرایا اور کرایا پر دیا، خالد کرایہ خود تحصیل کرتا تھا اور ضرورت کے وقت مکان کی مرمت کرتا تھا، ۱۴ برس بعد خرید مکان مذکور خالد نے کل جائدا منقولہ وغیر منقولہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کردی مگر وہ مکان جوزید کے نام خریدا تھا ہبہ نامہ میں مندرج نہیں کیا ہبہ نامہ سے حفاظت جائداد منظور تھی، ہبہ نامہ کے لکھنے کے بعد تین برس تک خالد زندہ رہا، مگر جائداد پر جس کووہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود اس طرح پرقابض رہا جیسا کہ وہ تحریر ہبہ نامہ کے قبل تھا، خالد کے انتقال کے بعد سے زید کا قبضہ اس مکان پر جو اس کے نام سے اس کے پدر خالد نے خریدا تھا شروع ہوا خالد کی حیات میں گو زید بالغ تھا نوکر سرکار تھا اور صاحب اولا دتھا مگر اس کا قبضہ اس مکان پر نہ تھا زید جب تک زندہ رہا اس مکان کا کرایہ تحصیل کرتا رہا اس کی مرمت بھی کرتا تھا اور دو بار اس کو رہن بھی رکھا تھا اس کی بیوہ سلیمہ بعد زید کے انتقال کے اسی طور سے جیسا کہ اس کا شوہر تھا برابر اب تک قابض ہے، اب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے موافق شرع شریف مکان مذکور زید کا ہے یاخالد کا، تاایں دم جائداد خالد وہندہ کی تقسیم نہیں ہوئی ہے اور جو صورت زید وسلیمہ کے وقت تھی اس وقت تک قائم ہے کوئی تعمیر جدید نہیں ہوئی اگر مکان مذکور زید کا قرار نہ پایا تو جوآمدنی اس کو اور اس کی بیوی سلیمہ کو اس مکان سے آج تک ہوئی ہے واپس کی جائے گی یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ زمین کہ خالد نے اپنے پسر نابالغ زید کے نام خریدی فورا ملک زید ہوگئی، تاحیات خالد اس پر قبضہ زید نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ باپ جو چیز اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کرے اس میں موہوب لہ کو قبضہ دینا شرط نہیں باپ ہی کا قبضہ اس کا قبضہ قرار پاتاہے۔
فی ردالمحتار عن المنح عن الولوالجیۃ ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا وذلک فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۱؎۔
ردالمحتار میں منح سے انہوں نے ولوالجیہ سے نقل فرمایا کہ اگر باپ نے بالغہ بیٹی کے لئے کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ خاص اس بیٹی کی ہوگی، (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۶)
درمختار میں ہے:
ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ وھو کل من یعولہ فدخل الاخ والعم عند عدم الاب لو فی عیالہم تتم بالعقد لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ اوید مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ ۱؎۔
نابالغ کا ولی وہ ہے جو نابالغ کو اپنے عیال میں داخل کرے خواہ باپ کی عدم موجودگی میں بھائی ہو یا چچا ہو، تو اس کا اس نابالغ کو ہبہ عقد سے ہی تام ہوجاتا ہے جب موہوب چیز معلوم اور ولی کے قبضہ میں ہو یا اس نے کسی کے پاس امانت رکھی ہو۔کیونکہ ولی کا قبضہ نابالغ کے قائم مقام ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۶۰)
اسی طرح وہ عمارت کہ اس زمین پر خالد نے اپنے روپے سے بنائی اگر ظاہر کردیا تھا کہ یہ عمارت میں اپنے پسر نابالغ زید کے لئے بناتاہوں یا بننے کے بعد کہہ دیا کہ یہ عمارت میں نے اس کے لئے بنائی یا بنانے کے بعد مکان کا عقد اجارہ زید کی طرف سے کیا کرایہ دار سے کہا میں نے یہ مکان اپنے پسرزید کا تجھے اتنے کرایہ پر دیا یا کرایہ نامہ زید کے نام لکھوا یا کہ یہ بھی عرفاً مرتفع تملیک اور قرینہ کافی ہے یا زید سمجھ وال تھا اس نے درخواست کی کہ اس زمین میں میرا مکان بنادو خالد نے قبول کیا اور اس بنا پر بنایا غرض کسی طرح دلیل تملیک ظاہر ہوئی تو وہ عمارت بھی ملک زید ہوگئی اور سارا مکان اسی کا قرار پایا۔
فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک ۲؎ الخ وفی جامع الصغار للاستروشنی المعتبر فی الباب التعارف ۳؎۔
ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں ایجاب وقبول ضروری نہیں بلکہ اس کی تملیک پر دال قرائن ہی کافی ہیں۔ الخ ، اور جامع الصغار میں ہے اس باب میں تعارف معتبر ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۸)
(۳؎ جامع الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱/ ۱۷۶)
ہاں اگر کوئی دلیل تملیک نہ پائی گئی خالد نے اس کا زید کے لئے ہونا اصلا ظاہر نہ کیا تو نفس عمارت مالک خالد پررہی کہ اپنے بچہ کے لئے ہبہ بھی صرف نیت سے تمام نہیں ہوتا جب تک اسے ظاہر نہ کرے، نہ بے اظہار نیت پر علم کا کوئی ذریعہ ہے،
فی ردالمحتار تحت قول الدرالمار ''تتم بالعقد'' ھذا اذا اعلمہ اواشہد علیہ والاشہاد للتحرز عن الجحود بعد موتہ والاعلام لازم لانہ بمنزلۃ القبض بزازیۃ ۴؎۔
درمختار کے مذکور قول کے تحت ردالمحتار میں ہے کہ عقد کے ساتھ تام ہوجاتا ہے یہ اس وقت جبکہ ولی اس کوبتادے یا گواہ بنالے اور گواہی اس لئے تاکہ اس کی موت کے بعد انکار نہ ہوسکے اور اطلاع دینا ضروری ہے کیونکہ یہ بمنزلہ قبضہ کے ہے، بزازیہ۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۱۲)
صرف اس قدر کہ یہ عمارت زمین مملوکہ زید میں خالد نے بنائی دلیل تملیک ہونے کے لئے کافی نہیں جبکہ تعمیر زید نے خاص اپنے مال سے کی،
کما فی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن العُدۃ (عہ) کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لاٰمرہ ولولنفسہ بلاامرہ فہو لہ ۱؎ الخ
جیسا کہ ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالہ سے عدہ سے منقول ہے جوکسی کی زمین میں مالک کے حکم سے عمارت بنائے تو عمارت مالک کی ہوگی اور اگر مالک کی اجازت کے بغیر اپنے لئے بنائی تو بنانے والے کی ہوگی الخ (ت)
عہ: ھی رمز تصنیف اومصنف ۱۲ عبدالمنان
(۱؎ ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۶)
اگر واقع یہ صورت ثانیہ ہے تو زمین ملک زید اورعمارت بعد انتقال خالد زید اور دیگر ورثاء میں مشترکہ ٹھہرے گی مگر آمدنی جو زید وسلیمہ نے حاصل کی باقی شرکاء اس کے واپس لینے کا دعوٰی نہیں کرسکتے کہ عقد اجارہ میں جو شخص کسی شیئ کو کرایہ پر چلاتاہے اجرت کا مالک وہی ہوتا ہے اگرچہ وہ شے ملک غیر ہی ہو، ہاں اس پر دو باتوں میں سے ایک واجب ہوتی ہے یا تو ملک غیر کی اُجرت اس مالک کو واپس دے اور یہی بہتر ہے یا محتاجوں پر تصدق کردے کہ اس کے حق میں وہ ملک خبیث ہے مگر جبکہ شرعاً مالک شے مالک اجرت نہیں اور اس اجارہ دینے والے پرخاص مالک ہی کو واپس کرنا واجب نہیں بلکہ تصدق کا بھی اختیار رکھتا ہے تو مالک اس پر واپسی کا دعوٰی نہیں کرسکتا،
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل اٰجر محدودات مملوکۃ مشترکۃ وتناول اجرتہا مدۃ سنین والاٰن الشرکاء یطالبونہ بحصتہم منہا ھل یحکم القاضی علیہ بھا لھم ام لاحیث لم یکن ذٰلک بوکالۃ سابقۃ علی العقد ولااجازۃ لاحقۃ بعدہ اجاب لایقضی علیہ لہم بحصتہ منہا لان المنافع لاتتقوم الابالعقد وھو صادر منہ بلا وکالۃ سابقۃ ولا اجازۃ لاحقۃ فملکہا الشریک العاقد لکن ملکہ فی غیر ملکہ ملک خبیث فیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم والثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا واﷲ تعالٰی اعلم ۱؎ اھ قلت وھہنا مزلۃ تنبہت علیہا بتوفیق المولی تبارک وتعالٰی فیما علقت علی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ و ﷲ الحمد والمنۃ۔
ان سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے چند محدود اشیاء جو کہ اس کی ملکیت میں دوسروں کی مشترکہ اشیاء تھیں وہ اس نے اجرت پر دے کر کئی سال ان کی اجرت کھاتا رہا اور اب اس کے شرکاء اس سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیں، تو کیا قاضی اس پر شرکاء حصہ کی ادائیگی لازم کرے گا یانہیں جبکہ اس کی یہ کارروائی نہ وکالت سابقہ سے تھی اور نہ ہی اجازت لاحقہ سے ہوئی انہوں نے جواب دیا کہ قاضی کو یہ اختیار نہیں کیونکہ اجارہ کے منافع صرف عقد کے ذریعہ ہی قیمتی بنتے ہیں جبکہ عقد اس کا ہے اور بغیر وکالت سابقہ اور اجازت لاحقہ کے ہوا ہے تو ان منافع کا مالک صرف عقد کرنے والا ہی بنے گا تاہم یہ اس کی ملک خبیث ہوگی تو اس پر لازم ہے کہ اس اجرت کو صدقہ کرے یا پھر اپنے شرکاء حضرات کو دے دے، آخری صورت بہتر ہے تاکہ خلاف سے بھی بچ جائے، واللہ تعالٰی اعلم۔ میں کہتاہوں یہاں ایک خطاء ہے اس پر میں نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے عقود الدریہ پر اپنے حاشیہ میں تنبیہ کردی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۵)
پھر یہ حکم وجوب بھی سلیمہ زندہ پر اُس آمدنی کے باب میں ہے جو اس نے خود حاصل کی اور جس قدر زید حاصل کرگیا اس کے بعد اس کے وارثوں پر نہ دیگر شرکاء کو بقدر حصص واپس دینا لازم رہا نہ تصدق کرنا مگر یہ کہ زید اس کی وصیت کر گیا ہو،
فان کل دین علی المیت لامطالب بہ من جہۃ العباد لایلزم الورثۃ اداؤہ الابالایصاء کما نص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار ھکذا ینبغی ان یفہم ہذا المقام والحمدﷲ ولی الانعام ، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کیونکہ میت کے ذمہ ایسا دین جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا ورثاء پر اداکرنا میت کی وصیت کے بغیر لازم نہیں ہے جیسا کہ اس پر درمختار وغیرہ میں نص ہے، اس مقام کو یوں سمجھنا چاہئے، اور سب تعریفیں انعام کے مالک اللہ تعالٰی کے لئے ہیں، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل جدہ اتم واحکم (ت)