Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
30 - 120
فقیر کہتاہے غفراللہ تعالٰی لہ، بتصریح علماء مَہما اَمکنَ دفع تخالف وتحصیل توفیق لازم اور وجہ تطبیق کی تقریر علی الخصوص جب بے تکلف ہو متعین ومتحتم، اصل وضع میں تملیک کا عموم کسے نہیں معلوم اور بے قیام قرینہ احدالافراد کی تعیین کسی کا قول نہیں اور جس طرح یہ باتیں متفق علیہ ہی یونہی یہ بھی متقین کہ خاص جہت لفظ سے قرینہ کا ناشی ہونا ضروری نہیں بلکہ قرینہ حالیہ بھی کافی ہے۔
وقد سمعت ماقال العلامۃ البیری و المحقق الشامی رحمہما اﷲ تعالٰی۔
تو نے علامہ بیری اور محقق شامی رحمہما اللہ تعالٰی کا کلام سن لیا۔ (ت)

اب جو ہم دیکھتے ہیں تو مقام اخبار میں بیشک لفظ تملیک بیع وہبہ ووصیت وغیرہا سب جگہ بولا جاتا ہے عام ازیں کہ وہ اخبار اپنے نفس سے ہو یا غیر سے، مثلا زید نے ایک مکان عمرو کے ہاتھ بیع کیا تو اب وہ کہ کہتاہے کہ میں نے فلاں مکان عمرو کی ملک کردیا بکرو خالد کہہ سکتے ہیں زید نے خود کو اپنے مکان کا مالک کیا عمرو کہہ سکتاہے کہ مکان زید بتملیک زید میری ملک میں آیا اور سامع ان لفظوں سے ہر گز سوا نقل ملک کے کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر بعوض واقع ہوا یا بلاعوض، اور مکان ملک عمرو میں بیعا آیا یاہبۃ، عموم تملیک کا یہ صاف اثرواضح ہے مگر خاص انشائے عقد ایجاب وقبول کے وقت جب ان لفظوں پر اقتصار ہوگا یعنی میں نے تجھے فلاں شے کا مالک کیا عمرو کہے میں نے قبول کیا، تو بیشک متفاہم عرف میں اس سے ہبہ ہی متبادر ہوگا جب تک کوئی قرینہ اس کے خلاف پر قائم نہ ہواور فارق یہ ہے کہ عقد واقع سے خبر دینے میں اس کے متعلقات کا استیفاء واستقصا ضرور نہیں بخلاف ایقاع عقد کے کہ اگر اسے بیع منظور ہوتی ثمن کا ذکر لاتا وصیت چاہتا تو بعد موت کے تصریح کرتا اجارہ اعارہ مقصود ہوتا تو عقد کو خاص اس شیئ کی طرف اضافت نہ کرتا بلکہ منافع کانام لیتا یا ایسی عبارت بولتا جس سے تملیک منافع مفہوم ہوتی اخر دیکھو اصل وضع کے اعتبار سے ان لفظوں میں بھی کہ یہ شیئ میں نے اپنے بیٹے کے لئے کردی یا بنام اُو کردم بعینہٖ وہی احتمالات پیدا ہیں جو لفظ تملیک میں نکلتے ہیں مگر ائمہ نے تصریح فرمائی کہ یہ ہبہ ہے۔
کما اسفلنا من الخانیۃ وقد نقلہ عنہا العلامۃ الغزی فی المنح وغیرہ فی غیرھا مذعنین لہا۔
جیساکہ ہم نے پہلے خانیہ سے نقل کیا ہے اور خانیہ سے علامہ غزی نے منح میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں اس پر اعتماد کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔ (ت)

بلکہ امام فقیہ النفس نے جعلتہ لابنی ۱؎ کے ہبہ ٹھہرانے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ جعل بمعنی تملیک ہے تو جب تک باقتضائے مقام تمام احتمالات منقطع ہوکر ملکت بمعنی وہبت نہ رہے گا جعلت کا بمعنی ملکت ہونا کیا فائدہ بخشے گا کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخاں    کتاب الھبۃ  نولکشور لکھنؤ   ۴ /۶۹۷)
پس اُن بعض کا یہ فرمانا کہ ارادہ ہبہ کے لئے قرینہ درکا ہے نہایت بجاودرست، بیشک کوئی عام اپنے فرد میں بلا قرینہ معین نہیں ہوسکتا، مگریہاں طرز گفتگو خود ہی ہبہ کا قرینہ ہے کما بیننا (جیسا کہ بیان کیا ہے۔ ت) ہاں مثلا ایسی صورت میں کہ زید وعمروباہم کسی شے کے خرید وفروخت پر گفتگو کرتے ہوں اب زید کہے وہ شے میں نے تیری ہی ملک میں دی یا تجھے اس کا مالک کیا ہبہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی باہمی حالت تملیک بلاعوض پر قرینہ نہیں ہوسکتی، نہ بیع درست ہو کہ وہ مبادلہ مال بمال ہے اور یہاں مال دوم کا نام نہیں ناچار عقد کو غیر صحیح مانیں گے، اور وہ بعض جو تملیک کوہبہ فرماتے ہیں اس صورت میں فرماتے ہیں جب کوئی ایسی حالت واقع نہ پس تمام کلمات ایک ہی طرف راجع اور سارا اختلاف بحمداللہ مرتفع۔
قلت ومن ھٰھنا ظہرانہ لایتعلق بما نحن فیہ مافی اٰخر العقود الدریۃممانصہ قال المؤلف کتبت علی صورۃ دعوی ماصورتہ حیث بین اقرارہ انہ بجھۃ التملیک فدعوی التملیک لاتسمع لما قالہ الخیرا لرملی رحمہ اﷲ تعالٰی ناقلا عن جامع الفصولین فی خلل المحاضر والسجلات برمز التتمۃ عرض علی محضر کتب فیہ ملکہ تملیکا صحیحا ولم یبین انہ ملکہ بعوض اوبلا عوض قال اجبت انہ لاتصح الدعوی ثم رمز لشروط (عہ) الحاکم اکتفی بہ فی مثل ھذا بقولہ وھب لہ ھبۃ صحیحۃ و قبضہا ولکن ماافاد فی التتمۃ اجود واقرب الی الاحتیاط ۱؎ اھ فان ھذا نقل واخبار لاعقد وایجاب کما لایخفی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
میں کہتاہوں یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو عقود الدریہ کے آخر میں ہے وہ ہماری بحث سے خارج ہے جس کی عبارت یہ ہیے مؤلف نے فرمایا میں نے دعوٰی کی صورت پر لکھا، کہ صورت کیا ہے جہاں اس نے اپنا اقرار کیا ہے کہ یہ تملیک کے طور پر ہے اگر یہی ہے تو تملیک کے دعوٰی کی مانند یہ قابل سماعت نہیں ہے اس کی وجہ وہ جوخیر الدین رملی رحمہ اللہ تعالٰی نے جامع الفصولین کی ماحضرات اور سجلات میں خلل والی بحث سے تتمہ کے عنوان میں نقل کیاہے کہ مجھ پر ایک محضر نامہ پیش کیا گیا جس میں لکھا تھا اس کو صحیح تملیک کے ساتھ مالک بنایا اور یہ نہ بیان کیا عوض کے ساتھ یا بلاعوض مالک بنایا تو فرماتے ہیں میں نے جواب دیا کہ دعوٰی صحیح نہیں ہے۔ پھر انہوں نے شروط الحاکم میں صرف اس صورت پر اکتفا فرمایا، جیسے کوئی لکھے اس کو صحیح ہبہ کرکے دے دیا، لیکن انہوں نے تمتہ میں جو فائدہ دیا وہ بہتر اور احتیاط سے اقرب ہے اھ کیونکہ یہ حکایت اور اخبار ہیں۔ عقد اور ایجاب نہیں ہیں۔ جیسا کہ مخفی نہیں۔ تحقیق یوں چاہئے، اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے۔ (ت)
عہ:  اسم کتاب ۱۲ عبدالمنان
   (۱؂ العقود الدریۃ    کتاب الھبۃ        ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲/۱۔ ۱۰۰)
یہ ساری بحث تملیک زبانی ہے دستاویز تملیک نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیک عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے ووصیت وغیرھا احتمالات کی بُو بھی نہیں آتی یہاں تک کہ اگر کوئی شخص ایسی دستاویز لکھ کر کہے میں نے تو اس سے عقد بیع کاقصد کیا ہے تو کوئی اس کی تصدیق نہ کرے گا اور سب کے نزدیک وہ بات بدلنے والا ٹھہرے گاا تو اس کے ہبہ ہونے میں کوئی شک نہیں تملیک زبانی میں مدار کا قرینہ پر ہے اگر کوئی قرینہ قائم ہو جو معنی ہبہ سے ابا کرے تو اسے ہبہ نہ ٹھہرائیں گے اور دستاویز تملیک نامہ قطعا ہبہ اور جو عقد ہبہ ٹھہرے گا تمام احکام ہبہ متعلقات شیوع وقبضہ ومرض وغیرہ سب بدستور اس میں جاری ہوں گے
فان العبرۃ للمعنی کما فی الہدایۃ وغیرھا
(کیونکہ معنی کا اعتبار ہوتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ ت) یہ ہے جو کلمات علماء کرام سے منقح ہوا اور وہ جو زعم کیا جاتاہے کہ تملیک کوئی عقد خاص جدا گانہ ہبہ سے مبائن اور اس کے احکام احکام ہبہ سے علیحدہ ہیں اصلا قابل تسلیم نہیں کہ قواعد شرع مطہرہ اس کی مساعدت ہر گز نہیں کرتے،
وما وقع ھٰھنا من العلامۃ ط رحمہ اﷲ تعالٰی حیث قال قال السید الحموی اعلم ان التملیک یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض واذا عری عن القبض والتسلیم اختلف العلماء فیہ فقیل یجوز وقیل لایجوز قیاسا علی الھبۃ واکثرالمشائخ علی انہ یجوز بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ لان التملیک والھبۃ شیئان اسما وحکما اما الاسم فظاھر واما حکما فلان لووھب الثمار علی رؤس الاشجار لاتجوز ولواقر بالتملیک یجوز فثبت ان التملیک یصح بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ وعلیہ الفتوی وعمل الناس وموت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق کذا فی الفتاح ۱؎ انتہی،
اس مقام پر علامہ طحطاوی رحمہ اللہ تعالٰی سے جو وقوع پذیر ہوا جہاں انہوں نے فرمایا کہ سید حموی نے فرمایا: جاننا چاہئے کہ تملیک ہبہ کے معنٰی میں ہوتی ہے اور قبضہ سے تام ہوتی ہے اور جب یہ قبضہ اور تسلیم سے خالی ہو تو پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا جائز ہے اور بعض نے کہا ناجائز ہے ہبہ پر قیاس کی وجہ سے اور اکثر مشائخ اس پر ہیں کہ بغیر قبضہ دئیے جائز ہے اور تملیک ہبہ سے جدا چیز ہے کیونکہ تملیک اور ہبہ دو علیحدہ چیزیں حکم اور نام کے اعتبار سے نام کے لحاظ سے ظاہر ہے حکم کے اعتبار سے اس لئے کہ اگر کوئی درختوں پر پھل کو ہبہ کرے تو ناجائز ہے اوراگر تملیک کے طور پر کسی کے لئے اقرار کرے تو جائز ہے تو ثابت ہوا کہ تملیک بغیر قبضہ دئے صحیح ہے اور ہبہ کاغیر ہے اور اسی پر فتوٰی ہے اور لوگوں کا عمل بھی اور اقرار کرنے والے کی موت بمنزلہ قبضہ ہے اھ مفتاح میں یوں ہے اھ،
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الھبۃ    فصل فی مسائل متفرقۃ    دارالمعرفۃ بیروت     ۳ /۴۰۹)
فاقول : نقل مجہول لامعقول ولامقبول اما لجہل فلان المفتاح لیس من الکتب المتداولۃ ولاالشہیرۃ و لاعلم من ھو مصنفہ وما درجتہ فی کتب  المذھب ،واما انہ غیرمعقول فلان التملیک حالا اماللعین اوللمنافع وکل امابعوض اومجانا ھذا تقسم حاصر عقلی لاامکان لخروج قسم عنہ ومعلوم بداھۃ ان ھذاالشیئ الذی لیس تملیک المنافع وتملیک العین بعوض فاذن لیس الاتملیک العین حالا مجانا وما ھوا الا الھبۃ وفسرت فی المتون وقال قاضی زادہ فی تنائج الافکار الھبۃ فی الشریعۃ تملیک المال بلاعوض کذا فی عامۃ الشروح بل المتون ۲؎، وما عہد من الشرع المطہر ماھو عقد یکون تملیک العین فی الحال بلاعوض ولایکون ھبۃ ولوکان لوجب ان یعقد لہ کتاب او باب اوفصل اواقل شیئ فی کتب المذہب کما عقدت الکتب البیع و الھبۃ والعاریۃ والاجارۃ لکن نری کتب المذہب عن اٰخرھا خالیۃ عن اولٰی ایماء الٰی ذٰلک فاذن ھو عقد غیرہ معہود من الشرع بل ولامعروف فی عرف الناس قاطبۃ فانک لواخبرت احدا ان زید املک دارہ من عمرو مجانا فی الحال لم یفھم منہ احد الاالھبۃ ولایخطر ببال صبی عاقل ولا عالم فاضل شیئ غیرھا
فاقول : (تومیں کہتاہوں۔ت) یہ نقل مجہول، غیر مقبول اور غیرمعقول ہے۔ مجہول اسی لئے کہ مفتاح مشہور اور متداول کتب میں نہیں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا مصنف کون ہے اور کتب مذہب میں اس کا کیا مقام ہے غیر معقول اسی لئے کہ مذکورہ تملیک عین چیز کی ہوگی یامنافع کی ہوگی پھر ہر صورت عوض کے بدلے یا بلاعوض ہوگی یہ تقسیم عقلی طور پر چارصورتوں کوحاصر ہے اور اس سے خارج کسی قسم کا احتمال نہیں ہے اور بداہۃ معلوم ہے کہ یہ چیز جو منافع اور عین چیز کی تملیک بالعوض نہیں تو لامحالہ پھر صرف تملیک العین مفت میں ہوگی تو اسی کانام ہبہ ہے اور متون میں اسی کی یہی تفسیر کی گئی ہے۔ قاضی زادہ نے نتائج الافکار میں فرمایا: شریعت میں ہبہ مال کی بلاعوض تملیک کو کہتے ہیں۔ یونہی عام شروح میں مذکور ہے بلکہ تمام متون میں ہے، شرع شریف سے کوئی ایسا عقد معلوم نہیں ہوا جس میں موقعہ پر بلاعوض عین چیز کا مالک بنانا ہو اور وہ ہبہ نہ ہوگا اگر کوئی اور چیز ہوتی تو کتب فقہ میں اس کے لئے کوئی کتاب، باب یا فصل یا اور کوئی اس سے کم عنوان ضرور قائم کیا جاتا جیسا کہ کتب میں بیع، ہبہ، عاریہ اور اجارہ وغیرہ کے لئے عنوان قائم ہیں لیکن ہم اول تا آخر تمام کتب مذہب کو دیکھ رہے ہیں کہ تمام کی تمام اس عنوان سے خالی بلکہ اس کی طرف کسی ادنٰی اشارہ تک سے خالی ہیں تو معلوم ہوا کہ نری تملیک شرع میں کوئی عقد نہیں ہے بلکہ لوگوں کے عرف تک میں کہیں موجود نہیں، کیونکہ اگر تو خبر دے کہ زید نے مفت میں عمرو کو مکان کا مالک بنادے تو اس سے ہر کوئی یہی سمجھے گا کہ یہ ہبہ ہے اور کسی بچے اور عالم فاضل تک کے دل میں ہبہ کے علاوہ کوئی چیز نہ کھٹکے گی،
 (۲؎ نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فتح القدیر    کتاب الھبۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۷ /۴۷۹)
وقد علل فی الھدایۃ وغیرھا عامۃ الکتب المعللۃ اشتراط القبض فی الھبۃ بانہ عقد تبرع وفی اثبات الملک قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وہو التسلیم فلا یصح ۱؎ اھ والتمسک بمسئلۃ الاقرار اول دلیل علی ان ھذا الکلام لم یصدر عن فقہ فانہ انما المرء مواخذ باقرارہ الا تری ان لولم یملکہ اصلا واقراخذ باقرارہ فہل یستدل بہ علی ان التملیک یصح من دون ایجاب من المملک اصلا ثم لاشک ان لو اقر بالبیع جاز فہل یستدل بہ علی ان البیع یتم من جانب البائع وحدہ لانہ لیس ھٰھنا شیئ من جانب المشتری بل السرالذی غفل عنہ ھذا المستدل ان الاقرار اخبار من وجہ کما انہ انشاء من وجہ فلشبہ الاخبار یواخذ بامثال الاقرار لا لانہ انشاء عقد لایحتاج الی القبض الا تری انہ لواقر لغیرہ بنصف دارہ مشاعا صح کما فی الدر ۱؎ وغیرہ وماذلک الا لشبہ الاخبار ولوکان انشاء لم یصح کما نصوا مع وجوب الصحۃ علی وھم ھذا الواھم وتقدم فی الاقرار متناوشرحا جمیع مالی اومااملکہ لہ ھبۃ لااقرار فلا بد من التسلیم بخلاف الاقرار ۲؎ اھ فقد افاد ان لام التملیک یفید الھبۃ ویشترط التسلیم وان عدم اشتراطہ فی الاقرار جاء من جہۃ انہ اخبار من وجہ لا ان ھٰھنا عقدا لایحتاج الی التسلیم والنکتۃ فیہ ان التملیک یعم البیع والھبۃ فاذا اقربانہ ملک الثمار وھی علی الاشجار صرف الامر الی البیع مواخذۃ لہ باقرارہ وتصحیحا للکلام مہما امکن بخلاف ما اقربھبتھا فانہ قد صرح بما لایتم مشغولا فلم یفد وکذلک فی کل شیئ اذا اقربانی قد ملکتہ من فلان قبل ولم یبحث عن القبض و الشغل وغیرھا لان الاقرار بالتملیک اقرار بخروجہ عن ملکہ الی ملک المقرلہ و لایتم ذٰلک فی التبرعات لابالقبض للمقرلہ فالاقرار بہ اقرار بالھبۃ وبالاقباض معا بخلاف مالو اقرانی وھبتہ فان صدور الھبۃ من الواھب لایستلزم الاقباض فلا یکون اقرار بحصول الملک للموہوب لہ ھذا ھو الفرق بین الاقرارین لامازعم ان التملیک لایحتاج الی القبض ولو لا ذکرہ من الدلیل لِاَیْقَنَّا ان ھذا النقل والفتوٰی مکذوب علی المشائخ ولکن باستدلالہ تبین ان الخطأ فی الفہم وقد قدمنا نصوصا قاضیۃ بان التملیک ھٰھنا ھوالھبۃ وقد اعترف بہ ھٰذا الناقل فی صدر کلامہ ان التملیک یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض فاذا کان تمامہ بالقبض فکیف یجوز یدون التسلیم ثم العجب اشد العجب ان الاختلاف کان فی انہ لو قال ملکتک ھذا الشیئ ھل یکون ھبۃ ام لایصح اصلا لان التملیک اعم کما قد منا من ردالمحتار والاٰن جاءتنا الفتوی بانہ صحیح مطلقا حتی بلاقبض ھل ھذا الاعجب عجاب ،
اور ہدایہ اور تمام ان کتب میں جو علل کو بیان کرتی ہیں انہوں نے ہبہ میں قبضہ کی شرط کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ یہ تبرع کا عقد ہے اور قبضہ سے قبل ملک کے ثبوت میں تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کا الزام ہوگا جس کا اس نے تبرع نہیں کیا اور وہ تبرع سونپ دینے کا نام ہے (جو ابھی واقعی نہیں ہوا) لہذا قبضہ سے قبل ملک صحیح نہ ہوگی اھ، اور اقرار کے مسئلہ سے اس کا استدلال کر نا یہی اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ اس کا یہ کلام سمجھ کے بغیر صادر ہوا ہے کیونکہ یہ تو صرف کسی کا اپنے اقرار میں ماخوذ ہونے کی بات ہے آپ غور کریں کہ اگر کوئی شخص قطعا کسی کو مالک نہ بنائے اس کے باوجود وہ اقرار رکرے تو اپنے اقرار میں ماخوذ ہوگا تو کیا اس اقرار سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ مالک بنانے والے کی طرف سے ایجاب کے بغیر ہی تملیک صحیح ہوجاتی ہے (ہر گز نہیں) پھر اس میں بھی شک نہیں کہ اگر کوئی بیع کااقرار کرے تو یہ اقرار صحیح ہے تو کیا اس سے بھی یہ استدلال کیا جاسکے گا کہ بیع کا انعقاد صرف اکیلے بائع کی طرف تام ہوگا کیونکہ اس میں مشتری کے کسی عمل کا ذکر نہیں (جبکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ و ہ نکتہ جس سے یہ استدلال والاغافل ہے وہ یہ ہے کہ اقرار من وجہ خبر ہے جیسا کہ وہ من وجہ انشاء ہے تو خبر والے پہلو کے اعتبار سے اقرار کی وجہ سے وہ ماخوذ ہوتاہے اس وجہ سے نہیں کہ یہ عقد کا انشاء ہے جس میں قبضہ کی ضرورت نہیں ہے تو آپ دیکھیں کہ اگر وہ غیر کے لئے اپنے نصف مکان کا مشاع کے طور پر اقرار کرے تو صحیح ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے تو یہ صرف اس لئے کہ اس میں خبر کا شبہ ہے حالانکہ اگر اس کو انشاء کہا جائے تو صحیح نہ ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے حالانکہ مذکور اقرار کی صحت اس شخص کے ہاں مسلمہ ہے اور پہلے گزرا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ اقرار کرے کہ میرا تمام مال یا جس چیز کا میں مالک ہوں وہ فلاں کی ہے تمام متون اور شروح میں اس اقرار کو ہبہ قرار دیا ہے اس کو اقرار نہیں کہا، تو اس میں قبضہ دینا ضروری ہے بخلاف اقرار کے اھ تو اس مسئلہ نے فائدہ ظاہر کیا کہ اقرار میں لام تملیک کے لئے ہے جو ہبہ کا فائدہ دیتاہے اور تسلیم کو شرط بناتا ہے اور اقرار بنانے کی صورت میں تسلیم کا واجب نہ ہونا اس وجہ سے ہوا کہ من وجہ خبر ہے اس لئے نہیں کہ اقرار ایک عقد ہے جس میں تسلیم وقبضہ دینا ضروری نہیں ہے اس میں نکتہ یہ ہے تملیک کاعنوان بیع اور ہبہ دونوں کو شامل ہے، توجب اس نے یہ اقرارکیا کہ ''درختوں پر پھل کا مالک بنایا'' تو اس کو بیع کی طرف پھیرا جائے گا تاکہ اس کو اپنے اقرار میں ماخوذ کیا جائے اور کلام کو حتی الامکان صحیح بنایا جائے بخلاف اس صورت کے کہ وہ ہبہ کا اقرار کرے تو اس کا کلام درست نہ ہوگا کیونکہ وہ پھل اس کے درختوں کے ساتھ مشغول ہے اور اسی طرح ہر وہ چیز جس کے متعلق وہ یہ اقرار کرے کہ میں نے اس کا فلاں کو مالک بنایا اور قبضہ اور مشغول ہونے نہ ہونے کا ذکر نہ ہو تو یہ اقرار قبول کر لیا جائے گا کیونکہ تملیک کا اقرار اس بات کا اعتراف ہے کہ میں نے یہ چیز اپنی ملکیت سے نکال کر مقرلہ کی ملکیت میں دے دی اور تبرعات میں یہ معاملہ اس وقت تک تام اور درست نہیں ہوتا جب تک قبضہ مقرلہ کے لئے نہ مانا جائے تو لازما یہ اقرار ہبہ مع قبضہ ماننا ہوگا بخلاف جبکہ وہ ہبہ کا اقرار کرے اور یوں کہے میں نے یہ چیز اس کو ہبہ کی ہے اور تملیک کا لفظ کہا یہ تو اقرار قبضہ کو مستلز م نہیں کیونکہ واہب کی طرف سے ہبہ کے صدور کو یہ لازم نہیں تو ہبہ کے اقرار سے موہوب لہ کے لئے ملکیت ثابت نہ ہوگی، تملیک اور ہبہ کے اقراروں میں یہ فرق ہے نہ یہ کہ تملیک میں قبضہ کی ضرورت نہیں جیسے اس نے گمان کرلیا، اگر یہ اس دلیل کو ذکر نہ کرتا تو ہم یقین کرلیتے کہ نقل اور فتوٰی مشائخ کی طرف غلط منسوب ہے لیکن مسئلہ اقرار سے اس کے استدلال نے واضح کردیا کہ خطأ اس کے فہم کی ہے جبکہ نقل اور فتوٰی صحیح ہے حالانکہ ہم پہلے نصوص کے ذریعہ واضح کرچکے ہیں کہ یہاں تملیک سے مرادہ ہبہ ہے جبکہ یہ ناقل بھی اپنے کلام کی ابتداء میں اعتراف کرچکا ہے کہ تملیک ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور وہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو جب یہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو پھر تسلیم کے بغیر کیسے جائز ہوگی، پھر انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ اختلاف یہ بیان کیا کہ اگر کوئی یوں کہے''میں نے تجھے اس چیز کا مالک بنایا'' تو یہ ہبہ ہوگا یا سرے سے کلام صحیح نہ ہوگا اور ہبہ نہ ہوگا کیونکہ تملیک ہبہ سے عام ہے جیسا کہ ہم ردالمحتار سے بھی ثابت کرچکے ہیں تو اب انہوں نے فتوٰی ظاہر کردیا کہ یہ مطلقا صحیح ہے خواہ قبضہ بھی نہ ہو، تویہ عجائب سے عجیب پرہے،
 (۱؎ الہدایۃ    کتاب الھبۃ        مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۲۸۱)

 (۱؎ درمختار    کتاب الاقرار    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۰)

(۲؎درمختار    کتاب الاقرار    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۱)
وقد اسمحناک نص التتمہ وجامع الفصولین والخیر الرملی و العقود الدریۃ ان المحضر المکتوب فیہ ملکہ تملیکا صحیحا فاسد غیر مقبول لان وجہ التملیک فیہ مجہول ومن قبلہ قبلہ حملالہ علی الھبۃ و الاٰن صار مقبولا لان عقد جدید، مخترع لم یعہد فی شرع ولا عرف ومن ھٰھنا عرف ان قولہ موت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق ۱؎ خرق الاجماع الناطق بان موت احد المتعاقدین قبل التسلیم مبطل فالحق ان ھذا النقل المجہول غیر المعقول مما لایحل الاعتماد علیہ بل لایسوغ الالتفات الیہ وباﷲ العصمۃ والتوفیق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہم نے آپ کو تتمہ کی نص اور جامع الفصولین، خیر الدین رملی اور عقود الدریہ سے بتایا کہ وہ محضر نامہ جس میں لکھا تھا '' اس کا صحیح تملیک کے ساتھ اس کو مالک بنایا'' کہ یہ تحریر فاسد ہے اور غیر مقبول ہے کیونکہ اس میں تملیک کی وجہ مجہول ہے اور جس نے اس تحریر کو مقبول مانا تو اس نے اس کو ہبہ پر محمول کرکے مانا ہے اور اب انہوں نے اس کو مقبول مانا تو اس لئے کہ یہ جدید اور من گھڑت عقد ہے جس کا شرع اور عرف میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ طحطاوی کا کہنا کہ مقرکی موت بمنزلہ تسلیم ہے بالاتفاق یہ بالکل اجماع کے منافی بات ہے کیونکہ تسلیم سے قبل بالاجماع فریقین میں سے ایک کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے تو ثابت ہوا اکہ یہ نقل مجہول غیر معقول ہے جس پر اعتماد جائز نہیں، بلکہ یہ التفات کے قابل بھی نہیں، تو توفیق اور حفاظت اللہ تعالٰی سے ہی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقہ    دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۴۰۹)
Flag Counter