Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
29 - 120
بسم اللہ الرحمن الرحیم

فتح الملیک فی حکم التملیک (۱۳۰۸ھ)

(بادشاہ کا اظہار تملیک کے حکم میں)
مسئلہ ۷۵:  نزدیک علمائے حنفیہ ایدھم اللہ تعالٰی کے ہبہ وتملیک میں کیا فرق ہے اور جو احکام ہبہ مشاع اور ہبہ مرض الموت اور ہبہ غیر مقبوض کے ہیں وہی بحالت ہائے مذکورہ تملیک سے بھی متعلق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان کیجئے اجر پائیے۔ ت)
الجواب: اصل وضع میں تملیک ہبہ سے عام ہے کہ وہ تملیک اعیان ومنافع وبعوض وبے عوض ومنجز و مضاف للموت سب کو شامل ہے جس کی رو سے بیع وہبہ واجارہ واعارہ ووصایا سب اس کے تحت میں داخل ہیں اورہبہ خاص تملیک عین بلاعوض کانام ہے۔
فی الدرالمختار الھبۃ تملیک العین مجانا ۱؎ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے ہبہ مفت میں کسی چیز کا مالک بنانا ہے اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۸ )
مگر عرف میں ان لفظوں سے کہ میں نے ایک شے کا تجھے مالک کیا، یا اس چیز کے تجھے تملیک کی ظاہراہبہ ہی متبادر ہوتاہے حتی کہ امام اجل شمس الائمہ رخسی رحمہ اللہ تعالٰی نے محیط میں اسے ان الفاظ سے گنا جو بحسب وضع افادہ ہبہ کرتے ہیں۔ 

فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
اما الالفاظ التی تقع وبہا الھبۃ فانواع ثلثۃ نوع تقع بہ الھبۃ وضعا ونوع تقع بہ الھبۃ کنایۃ وعرفا ونوع یحتمل الھبۃ والعاریۃ مستویا اما الاول فکقولہ وھبت ھذا الشیئ لک اوملکتہ منک ۱؎ الخ۔
لیکن جن الفاظ سے ہبہ ہوتاہے وہ تین قسم ہیں۔ ایک قسم وہ ہیں جن سے ہبہ کا وقوع وضعا ہوتاہے اور ایک قسم وہ ہے جن سے کنایۃ اور عرفا ہبہ ہوتاہے اور ایک قسم وہ جن سے ہبہ اور عاریۃ دونوں مساوی طور پر واقع ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کی مثال ''میں نے یہ چیز تجھے ہبہ کی'' یا یہ کہنا'' میں نے تجھے اس کامالک بنایا'' الخ (ت)
 (۱؂ فتاوٰی ہندیۃ        کتاب الھبۃ        الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۵)
ولہذا کلمات علماء میں اکثر جگہ تملیک سے ہبہ پر استدلال پایا جاتاہے
مع ظہور ان الاستدلال بالعام علی الخاص باطل لجواز وجودہ فی ضمن فرد اٰخر
 (باوجود ظاہر ہونے کہ عام سے خاص پر استدلال باطل ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ عام کا وجود کسی دوسرے میں پایا جائے۔ ت) 

امام علامہ فقیہ النفس قاضی خان فرماتے ہیں :
رجل غرس کرما ولہ ابن صغری فقال جعلتہ لابنی فلان یکون ھبۃ لان الجعل عبارۃ عن التملیک ۲؎۔
ایک شخص نے انگور کے پودے لگائے اس کا نابالغ بیٹا ہے، تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے فلاں بیٹے کے لئے کیا تو ہبہ ہوگا کیونکہ بنانا اور کرنا تملیک کا معنی ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضیخاں    کتاب الھبۃ      الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۶۹۷)
اسی میں ہے :
ان قال جعلتہ باسم ابنی یکون ھبۃ ظاھرا لان الناس یریدون بہذا التملیک والھبۃ ۳؎۔
کسی نے کہا میں نے یہ بیٹے کے نام سے بنایا تو ظاہرا یہ ہبہ ہوگا، کیونکہ لوگ اس سے تملیک اور ہبہ مراد لیتے ہیں۔ (ت)
 (۳؎فتاوٰی قاضیخاں   کتاب الھبۃ    الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۶۹۷)
اور علامہ بیری شارح اشباہ والنظائر فرماتے ہیں :
فی خزانۃ الفتاوٰی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الا بن یکون للاب الا ان دلت دلالۃ التملیک ۱؎۔
خزانۃ الفتاوٰی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا اور بیٹے نے اس میں تصرف کیا تو یہ مال باپ کا ہوگا الایہ کہ کوئی دلالت تملیک پر پائی جائے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ بیری    کتاب الھبۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۰۸)
محقق شامی فرماتے ہیں:
قلت فقد اذادان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک ۲؎ اھ۔
میں کہتاہوں کہ اس عبارت نے فائدہ دیا کہ اس میں ایجاب وقبول شر ط نہیں بلکہ تملیک پر دلالت کرنے والے قرائن کافی ہوتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار بحوالہ بیری    کتاب الھبۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۰۸)
فقیہ علامہ نوازل میں تصریح فرماتے ہیں جو لفظ تملیک رقبہ پر دال وہہبہ ہے۔
فی الدرالمختار اللفظ ان انبأ عن تملک الرقبۃ فھبۃ اوالمنافع فعاریۃ اواحتمل اعتبر النیۃ، نوازل ۳؎۔
درمختار میں ہے اگر الفاظ غلام پر تملک کی خبر دیں توہبہ ہوگا، اگر الفاظ منافع پر دال ہوں تو عاریۃ ہوگا اور لفظ محتمل فیہ ہو تو قائل کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ نوازل (ت)
(۳؎ درمختار   کتاب الھبۃ     مطبع مجتبائی دہلی        ۲/۱۵۹)
درباب افتا جابجا علامہ خیر الملۃ والدین رملی وغیرہ علماء رحمہم اللہ تعالٰی نے سوال تملیک پر ہبہ کا جواب عطا فرمایا اور اس پر مشاع وغیرہ کے وہی احکام جاری کئے اور تملیک نامہ کو صریحا ہبہ نامہ ٹھہرایا، 

فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
سئل فیما اذا ملک زوجتہ نصف جمل و نصف بقرۃ ونصف غراس زیتون تملیکا شرعیا بایجاب منہ وقبول منہا و قبضت الزوجۃ وتسلمت ثم مات الزوج ویرید وارثہ ان یجعل المملکات میراثابینہ وبین الزوجۃ اجاب ھی ملک للزوجۃ بالتملیک علی الوجہ المذکور وھبۃ المشاع الذی لایحتمل القسمۃ صحیحۃ والجمل والبقرۃ مما لایمکن قسمۃ الواحد منہا فصحت فیہا الھبۃ المذکورۃ ۱؎ اھ ملتقطا۔
ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو نصف اونٹ، نصف بیل، نصف باغ زیتون کا شرعی تملیک کے طور پر مالک بنائے باقاعدہ ایجاب و قبول ہو اور بیوی قبضہ کرلے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے اور ورثاء چاہیں کہ ان تمام تملیک بنائی ہوئی چیزوں کوبیوی سمیت تمام ورثاء کے لئے وراثت بنالیں، تو جواب دیا کہ مذکورہ تملیک کی بنا پر بیوی کو ملک ہیں جبکہ ناقابل تقسیم مشاع کا ہبہ صحیح ہوتا ہے اور اونٹ اور بیل قابل تقسیم نہیں ہیں۔ تو ان کا ہبہ صحیح ہوا۔ اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ  کتاب الھبۃ    دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۱۰)
اسی میں ہے:
سئل فی رجل اشہد علی نفسہ انہ ملک اولاد ابنہ وسماھم فی حجۃ جمیع الستۃ قراریط فی الدارین الفلانیتین اجاب الحنفی لایری جواز الھبۃ المشاع ۲؎ اھ ملخصا۔
ان سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنے پوتوں کو مالک بنایا اور فلاں دو مکانوں میں چھ قراریط سب کی حجت میں پوتوں کا نام لیا، تو جواب دیا کہ حنفی حضرات قابل تقسیم مشاع کا ہبہ جائز نہیں مانتے اھ ملخصا (ت)
(۲؎فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ  دارالمعرفۃ بیروت     ۲ /۱۱۲)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فیما اذا کان لزید ابنان واملاک تقبل القسمۃ وحصۃ فی مشاع تقبل القسمۃ فملک جمیع ذٰلک من ابنیہ المذکورین سویۃ بینہما من غیر قسمۃ وکتب ذٰلک صک ویرید زید الرجوع عن التملیک فہل لہ ذٰلک الجواب نعم ھبۃ واحد من اثننین لایصح اھ ۳؎ بالالتقاط۔
ان سے سوال ہوا کہ زید کے دو بیٹے ہیں اور کچھ املاک قابل تقسیم ہیں اور ایک مشاع چیز میں اس کا حصہ بھی ہے تو اپنی ملکیت ان تمام چیزوں کا دونوں بیٹوں کو مالک بنادیا جبکہ دونوں کو مساوی طور پر بغیر تقسیم حصہ دار بنایا اور رسید بھی لکھ دی اور اب زید اس ہبہ سے رجوع کرنا چاہتاہے تو کیا اسے یہ حق ہے، الجواب ہاں حق ہے کیونکہ ایک کا دو حضرات کو ہبہ مشترکہ بغیر تقسیم صحیح نہیں اھ ملتقطا (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ   کتاب الھبۃ    ارگ بازار قندہار افغانستان    ۲ /۹۵)
لیکن محل غور اس قدر ہے کہ مسئلہ خاص جزء میں ظاہرا کلمات علماء مختلف سے نظر آتے ہیں بعض نے وہی تصریح فرمائی کہ عقد تملیک عین ہبہ ہے اور بعض بنظر عموم لفظ تعیین ہبہ کے لئے قرینہ کی حاجت اور در صورت انعدام قرینہ تملیک کو ناجائز وغیر صحیح مانتے ہیں،
فی ردالمحتار لو قال ملکتک ھذا لثوب مثلا فان قامت قرینۃ علی الھبۃ صحت والا فلا لان التملیک اعم منہا لصدقہ علی المبیع والوصیۃ والا جارۃ وغیرھا انظر ما کتبناہ فی اٰخرالھبۃ الحامدیۃ وفی الاکازروفی انہا ھبۃ ۱؎ اھ
ردالمحتار میں ہے اگر کہا میں نے تجھے اس کپڑے کا مالک بنایا، مثلا اگر ہبہ پر قرینہ ہو تو صحیح ہے ورنہ نہیں، کیونکہ تملیک ہبہ سے عام ہے اس لئے کہ تملیک مبیع، وصیت، اجارہ وغیرہ پر بھی صادق آتی ہے۔ ہم نے حامدیہ میں ہبہ کے آخر میں جو لکھا ہے اسے دیکھو اور زرونی میں ہے کہ یہ ہبہ ہے اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۹)
Flag Counter