Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
28 - 120
مسئلہ ۷۴: نوٹ: اصل میں سوال منقول نہیں ۱۲

الجواب:  ہبہ مرض الموت میں جب غیر وارث کے نام ہو تو قطعا صحیح وجائز ہے اور وہ حقیقۃ ہبہ ہی قرار پائے گا اور اسی کے شرائط اس میں معتبر ہوں گے نہ یہ کہ دراصل وصیت ٹھہرجائے۔
فی ردالمحتار عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضیخاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما ۱؎ اھ وفیہ ایضا عن تبیین الامام الزیلعی حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لاحیققۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت وھذہ التصرفات منجزۃ فی الحال ۲؎ اھ۔
     ردالمحتار میں طحطاوی سے انہوں نے مکی سے انہوں نے امام قاضیخان وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ مریض کا ہبہ کرنا حقیقتا ہبہ ہے اور حکما وصیت ہے اھ اور اسی میں تبیین الحقائق امام زیلعی سے ہے کہ اس کاحکم وصیت والا ہے کہ تہائی حصہ میں نافذ ہوگا، اور حقیقتا وصیت نہیں کیونکہ وصیت کا نفاذ موت کے بعد ہوتاہے اور ہبہ کے تصرفات فورا نافذہوجاتے ہیں۔ اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۳۵)

(۲؎ردالمحتار     کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۳۵)
اور ہبہ کے لئے حیات واہب میں موہوب لہ کا قبضہ ہونا ضرور ہے ورنہ باطل ہوجاتاہے
فی الدرالمختار ان(عہ) موت احد العاقدین قبل التسلیم مبطل للھبۃ ۳؎۔
درمختار میں ہے کہ قبضہ دینے سے قبل فریقین میں سے ایک کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔ (ت)
عہ:  فی الاصل بیاض لکنا نقلنا ھذہ العبارۃ اعتمادا علی داب المصنف فی نقل ھذہ العبارۃ فی مثل ھذا المقام۔
اصل میں بیاض ہے لیکن ہم نے اس جیسے مقام میں اس عبارت کو نقل کرنے میں مصنف کے طریقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس عبارت کو نقل کیا ہے۔ (ت)
(۳؎درمختار  کتاب الھبۃ  باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی   ۲ /۱۶۱)
مگر صورت مسئولہ میں جبکہ موہوب لہما نابالغ ہیں تو ان کے باپ کا قبضہ بعینہٖ ان کا قبضہ ہے۔
فی الدرالمختار ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھوا حداربعۃ الاب ثم وصیہ ۱؎ الخ۔
  درمختار میں ہے اگر نابالغ کو اجنبی شخص ہبہ کرے تو اس کے ولی کے قبضہ سے تام ہوجاتاہے اور چار ولیوں میں سے ایک باپ پھر وصی ہے الخ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الھبۃ         باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۰)
اور پیش از ہبہ فرزند ہندہ جواز جانب ہندہ ان دیہات ودکانات پر قبضہ رکھتا تھا اسی قبضہ کا باقی ہونا اس قبضہ ہبہ کے لئے کافی ہے۔
لان کل واحد قبض امانۃ فکانا من جنس واحد وفی الدرالمختار الاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاٰخر اھ ۲؎ وفی ردالمحتار قولہ عن الاٰخر کما اذا کان عندہ ودیعۃ فاعارھا صاحبہا لہ فان کلامنہما قبض امانۃ فناب احدہما عن الاٰخراھ ۳؎۔
کیونکہ ان سب پر قبضۃ بطور امانت ہے تو ایک جنس کا ہوا اور درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ جب دونوں قبضے ایک جنس ہوں تو ایک دوسرے کے قائم مقام ہوجاتاہے اھ اور ردالمحتار میں ہے اس کا قول کہ دوسرے کے قائم مقام ہوتاہے جیسے پہلے اس کے پاس بطور امانت تھا پھر اس نے عاریۃ لیا، تو دونوں ایک جیسی امانت کے طوپر ہیں،تو یہ  ایک دوسرے کے قائم مقام ہوئے۔ (ت)
 (۲؎درمختار     کتاب الھبۃ        باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۶۰)

(۳؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        باب الرجوع فی الھبۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت       ۴ /۵۱۲)
از سرنو قبضہ جداگانہ حاصل کرنے کی حاجت نہیں۔
فی تنویر الابصار ملک بلاقبض جدید لوالموھوب فی یدالموھوب لہ ۴؎ اھ۔ تنویر الابصار میں ہے ہبہ شدہ چیز موہوب لہ کے قبضہ میں پہلے ہو تو جدید قبضہ کے بغیر مالک ہوجائے گا اھ (ت)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الھبۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۰)
البتہ یہ ہبہ مرض الموت میں ہونے کی وجہ سے اس بات میں حکم وصیت پیدا کرگیا کہ بلااجازت ورثہ فقط ایک ثلث میں نافذ ہوگا۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ فیعتبر من الثلث ۱؎ اھ۔
تنویر الابصار میں ہے اس کا ہبہ وصیت کی طرح ہے لہذا تہائی حصہ میں معتبر ہوگا اھ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۲۷)
اور اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ اگر موصی پر کوئی فرض نہیں تو اس کے کل اشیائے متروکہ منقولہ وغیر منقولہ کو ملا کر ان سب کا ثلث نکالیں گے اور اگر کچھ قرض ہے قلیل خواہ کثیر کتنا ہی ہو تو اسے مجرا دے کر باقی تمام متروکہ کا ثلث نکالیں گے اس مقدار سے موصی کی ساری وصیتیں نافذ کریں گے پس اگر یہ مقدار اور وصایابرابر ہوں فبہا، اور اگر یہ زائد اور وصایا کم ہوں جب بھی ہر موصیٰ لہ کو پورا پورا بقدر ادائے وصیت کے دیں گے نہ یہ کہ(عہ) ثلث کامل انہیں دے دیں گے اگرچہ ان کی وصیتیں کم سے ہی پوری ہوجائیں وھذا واضح جدا (یہ بہت واضح ہے۔ ت)
عہ:  خط کشیدہ عبارت اندازے سے درست کی گئی ۱۲ عبدالمنان
اور اگر وصیتیں زائد اور مقدار ثلث کم ہوں تو بلااجازت ورثہ تہائی سے زیادہ انہیں نہ دیا جائے گا بلکہ اسی قدر کو تمام موصیٰ لہم پر بحساب ان کے وصایا کے حصہ رسد تقسیم کردیں گے۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ ویزاحم اصحاب الوصایا فی الضرب ۲؎ الخ ملخصا فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار ای الموھوب لہ یضرب فی الثلث مع اصحاب الوصایا فان وفی بالثلث بالجمیع والا تخاصموا فیہ ویعتبر فی القسمۃ قدرمالکل من الثلث  ۳؎ اھ ملخصا، قلت ومما قررت ظہرلک المجیب الاول اخطا فی ایجاب القبض الجدید الموصیٰ لہما بثلث المال مطلقا واما المجیب الثانی فقد اخطا خطأ من وجوہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویر الابصار میں ہے ہبہ وصیت کی طرح ہے، تو وہ نفاذ میں وصیت والے دوسرے حضرات کے لحاظ سے ہوگا الخ ملخصا، اور درمختارپرطحطاوی کے حاشیہ میں ہے یعنی موہوب لہ دوسرے اصحاب وصایا کے ساتھ تہائی حصہ میں شریک ہوگا اگر وہ سب وصیت والے اور موہوب لہ تہائی حصہ میں پورا ہوجائیں تو بہتر ، ورنہ تہائی میں ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے اور تہائی میں سے ہر ایک اپنا حصہ کے مطابق تقسیم پائیگا اھ ملخصا، میں کہتاہوں میں نے جو تقریر کی ہے اس سے ظاہر ہوا کہ پہلے مجیب نے جدید قبضہ کو واجب کرنے میں خطا کی ہے کہ دونوں تہائی حصہ والوں کے لئے مطلقا یہ بات کہہ دی لیکن دوسرے مجیب نے بہت سی خطائیں کی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (ت)
 (۲؎درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۲۷)

(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الوصایا  باب الفن فی المرض        دارالمعرفۃ بیروت    ۴ /۳۲۹)
Flag Counter