Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
27 - 120
مسئلہ ۷۲: چہ مے فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین صورت کہ مسماۃ ہندہ بحضور گواہان از زید خود گفت کہ من تمام مہر خویش بشما بخشیدم زید قبول ساخت بعد ازاں زید از ہندہ زوجہ خویش گفت کہ انچہ شے من است بشمابخشیدم ودادم ہندہ گفت کہ من گرفتم جملہ شاہدان کلام طرفین مذکورہ شنیدہ رفتند وکدام کاغذ از جانب ہندہ وزید تحریر نہ گشت بعدہ زید بگذاشتن عمرو برادر خود وہندہ زوجہ متروکہ مشترکہ فیما بین خواہرزادہ وبرادر زادہ وبیوہ برادر خوردوبرادر حقیقی مذکور فوت ساخت زاں بعد ہندہ فوت شد اوپس مرگ خود وخواہر ودو برادر، گزاشت پس دادن زید شے خویش مشترکہ رابمسماۃ ہندہ زوجہ عندالشرع صحیح است یا نہ وبخشیدین مہر ہندہ بمسمی زید شوہر صحیح یا غیر صحیح وترکہ زیدبرکدام کس بموجب فرائض ہبہ تقسیم خواہد شد وترکہ ہندہ برکدام کدام، تقسیم خواہدشد،بینوا توجروا
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسماۃ ہندہ نے گواہوں کی موجودگی میں اپنے خاوند زید کو کہا، میں تمھیں اپنا تمام مہر بخشتی ہوں، زید نے یہ بات قبول کرلی، اس کے بعد زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کہا کہ جو کچھ میرا حق ہے میں تمھیں بخش دیتاہوں۔ اس کے جواب میں ہندہ نے کہا میں نے لے لیا ، تمام گواہوں نے فریقین کا یہ کلام سنا اور چلے گئے، اور زید اورہندہ کی طرف سے کوئی تحریر نہ ہوئی، اس کے بعد زید فوت ہوا اور اس نے اپنے پیچھے اپنا بھائی عمرو اور ہندہ بیوی چھوڑے اور جو ترکہ چھوڑا وہ برادر زادہ خواہر زادہ، چھوٹے بھائی کی بیوہ اور بھائی حقیقی مذکور میں مشترکہ تھا پھر اس کے بعد ہندہ فوت ہوگئی اس نے اپنے پیچھے دوبہنیں اور دو بھائی چھوڑے، تو کیا زید کا اپنا مشترکہ مال اپنی بیوہ ہندہ کو دینا شرعا صحیح ہے یانہیں اور کیا ہندہ کا اپنے شوہر زید کو اپنا مہر بخش دینا صحیح ہے یانہیں، اورزید کا ترکہ کن لوگوں میں بطور وارثت تقسیم ہوگا اور ہندہ کا ترکہ کن کن پر تقسیم ہوگا بینوا توجروا (ت)
الجواب

شرع مطہر ما اسلامیان رزقنا اﷲ اتباعہ ہچ عقدے وفسخے راموقوف بہ تحریر نداشتہ است پس ہندہ کہ مہر خود رابزید بخشید در صحت ونفاذ ایں سخنے نیست تنہا ایجاب ہندہ اینجا بسندمی بود اگر زید رد نہ کردے فکیف کہ تنصیص برقبول نمود فی تنویر الابصار ہبۃ الدین ممن علیہ الدین وابراءہ عنہ یتم من غیر قبول ۱؎۔
ہم مسلمانوں کی شریعت مطہرہ (اللہ تعالٰی ہمیں اس کی اتباع نصیب فرمائے) نے کوئی عقد یا فسخ تحریر پر موقوف نہ چھوڑا، پس ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیا، اس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہو، تو جب زید نے قبول کرنے کی تصریح کردی تو کیا شُبہ ہوسکتاہے ، تنویر الابصار میں کہ جس پر دین ہو اس کو دین ہبہ کرنا اور بری کردینا قبول کے بغیر تام ہوجاتاہے
 (۱؎درمختار    کتاب الہۃ فصل فی مسائل متفرقہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۵)
وہبہ زید دراملاک مشاعہ مشترکہ غیر منقسمہ کہ زید بے آنکہ آنہا راتقسیم وافراز کردہ بقبض ہندہ سپار دہ مرو، وہندہ برانہا دست نیافت باطل شدو ہبہ ہیچ وجہ ہندہ رااختیار تملک آنہا نماند فی الدرالمختار فی ذکر موانع الرجوع والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۱؎۔
اور زید نے اپنا مشترکہ مشاع مال بغیر تقسیم کئے اور جُدا کئے ہبہ کیا اور جداشدہ ہندہ کے قبضہ میں نہ آیا، اور وہ فوت ہوگیا، لہذا وہ ہبہ باطل ہوا  اور کسی صورت میں ہندہ کی ملکیت اس پر ثابت نہ ہوئی، درمختار میں رجوع کے موانع میں مذکور ہے ''میم'' سے مراد قبضہ ہوجانے کے بعد فریقین میں سے ایک کا فوت ہوجانا اوراگر قبضہ سے پہلے فوت ہو تو ہبہ باطل ہوگا۔
(۱؎ درمختار     کتاب الھبۃ    باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
ودرعالمگیریہ از کتاب الاصل می آورد اذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت ۲؎ سائل از ہمیں قدرمے پر سداماتمام حکم و حق انصاف دریں جا آنست کہ زید ہبہ اش رابرہمیں اشیائے مشاعہ مقصورنگزاشتہ بود بلکہ ہر انچہ ازان دے باشد ہمہ را ہبہ نمود وایں چنیں ہبہ شرعا رواست وبعد قبضہ تام ونافذ ومفید ملک شد فی الخانیۃ لوقال جمیع مالی اوجمیع مااملک لفلان فہو ہبۃ لایجوز الا بالتسلیم ۳؎ ،
اور عالمگیری میں مبسوط کے حوالہ سے مذکو رہے جب ہبہ کرنیوالا قبضہ دینے سے قبل فوت ہوجائے ہبہ باطل ہوجاتاہے، سائل کا سوال اسی قدر تھا، لیکن مکمل حکم اور پوراانصاف اس میں یوں ہے کہ زید نے اپنا ہبہ صرف مشترکہ مشاع تک محدود نہ رکھا بلکہ اس نے اپنی ہر چیز کو ہبہ میں شامل کردیا جبکہ ایسا ہبہ شرعا جائز ہے اور قبضہ دینے پر تام اور نافذ ہوکر مفید ملک ہوجاتا ہے، خانیہ میں ہے اگر کسی نے کہا میرا تمام مال یا جس چیز کا میں مالک ہوں وہ فلاں کے لئے ہے تو ہبہ ہوگا جو صرف قبضہ دینے پر جائز ہوگا،
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الھبۃ    الباب العاشر        نوانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۰۰)

(۳؎ فتاوٰی قاضیخاں    کتاب الاقرار    نولکشور لکھنؤ        ۴ /۶۱۶)
وعادت آنچناں ست کہ چیز از املاک خالصہ شوہر مانند نقود عروض لباس واثاث وزیور وظروف وغیرہا امتعہ ورقمش از جانب شوہر بدست زناں برسبیل ودیعت یا اباحت می باشد ودرہمچوں مقام اگر ہبہ واقع شود حاجت بقبض جدید نمی افتد فان قبض الودیعۃ و الاباحۃ کل واحد منہما قبض غیر مضمون وکذٰلک قبض الھبۃ فینوب احدہما عن الاخر من دون حاجۃ الی قبض جدید قال فی التنویر وشرحہ الدر وملک بالقبول بلاقبض جدید لو الموھوب فی یدالموہوب لہ ولو بقبض اوامانۃ لانہ ح عامل لنفسہ والاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاخر واذا تغایر اناب الاعلی عن الادنٰی ۱؎ ،
اور عادتاً شوہر کی طرف سے بیوی کے پاس امانت یا اباحت کے طور پر بیوی کے پاس بہت سا سامان مثلا نقد، لباس، اثاثہ، زیور، برتن،وغیرہا ہوتاہے۔ ایسی صورت میں اگر خاوند ان چیزوں کا ہبہ بیوی کو کرے تو بیوی کو جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امانت اور اباحت کا قبضہ غیر مضمون ہوتاہے اور ہبہ کا قبضہ بھی ایسا ہے تو یہ قبضہ ایک دوسرے کے قائم مقام ہوجاتا ہے جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہوتی، تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے کہ صرف قبول کرنے سے مالک ہوجائے گا جدید قبضہ کی ضرورت نہ ہو گی جب وہ چیز پہلے ہی موہوب لہ کے قبضہ میں ہو اگرچہ وہ قبضہ بطورقابض یا امانت ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس میں اس نے خود اپنے لئے عمل کرناہے اور قاعدہ یہ ہے کہ دونوں قبضے ہم جنس ہوں یا ایک قوی اور ایک ادنی ہو ، تو ہم جنس ایک دوسرے اور اقوی ادنٰی کے قائم مقام ہوجاتاہے،
  (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۰)
پس ازیں قسم اشیاء ہر چہ کہ بدست ہندہ بود بمجرد ایجاب و قبول از دائرہ ملک زید بحوزہ تملک ہندہ انتقال نمود ہمچنیں اگر زید درحیات خودش چیزے بقبض کامل ہندہ داد یاہندہ باذن او خواہ درمجلس ہبہ بلااذن وے بر چیزے قبضہ تامہ کردآنہمہ مملوک ہندہ گردید وانچہ مطلقا بے قبض مشاع باشد خواہ مفرز در آنہا ہبہ باطل شد کما ثبت من انہا لا تفید الملک الا بالقبض وتبطل بموت احد ہما قبل التسلیم وگمان بزند کہ چوں عقد واحد دربعض معقود علیہ کہ اشیائے غیر مقبوضہ است بود بطلان گرفت درباقی نیز از حلہ صحت عاری وعاطل باشد زیراکہ ہبہ ہمچو بیع نیست وبشرط فاسد فساد نمی پزیرد فی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ومنہا الھبۃ وھی لاتبطل بالشرط الفاسد فلا یتعدی الی الجائز ۱؎ اھ متروکہ  زید بر تقدیم عدم موانع ارث ووارث آخر وتقدیم مقدم کالدین و الوصیۃ برچار سہم انقسام یافتہ سہمے بزن وسہ برادر مے رسد وترکہ ہندہ از موہوبہ زید و حصہ ترکہ زید وغیرہا انچہ کہ شرعا ملک ہندہ قرار یابد بشرائط مذکورہ شش پارہ شد پنج (عہ) برادر دوبخش وبہر خواہر بخشے خواہد رسید، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
پس ازیں قسم اشیاء جوہندہ کے قبضہ میں اس وقت تھیں وہ سب محض ایجاب وقبول کرلینے پر زید کی ملکیت سے نکل کر ہندہ کی ملکیت ہوگئیں اور یونہی وہ چیزیں جن کا زید نے اپنی زندگی میں ہندہ کو مکمل قبضہ دے دیا خود ہندہ نے اس کی اجازت سے مجلس ہبہ یا اس کے بعد جس چیز کو قبضہ میں مکمل لے لیا بلکہ بلااجازت بھی قبضہ سے وہ مالک ہوگئی لیکن وہ مال مشاع غیر منقسم خواہ منقسم ہو قبضہ نہ دیا ہو ان سب میں ہبہ باطل ہوگیا جیسا کہ ثابت ہے کہ ہبہ قبضہ کے بغیر مفید ملک نہیں ہوتا اور قبضہ دینے سے قبل ایک فریق کے فوت ہوجانے سے باطل ہوجاتاہے۔ اور یہ خیال کرنا کہ ایک عقد کی بعض غیر مقبوضہ اشیاء میں ہبہ باطل ہوجانے پر تمام اشیاء میں باطل ہوجائے گا یہ گمان درست نہیں ہے کیونکہ ہبہ بیع کی طرح نہیں ہے کہ فاسد شرط سے فاسد ہوجائے، الاشباہ میں ایک قاعدہ مذکور ہے کہ حلال وحرام جمع ہوجائیں تو حرام کو غلبہ ہوتاہے اور ان میں سے ایک ہبہ ہے کہ یہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا لہذا فاسد شرط جائز پر اثراندازنہ ہوگی اھ باقی رہا معاملہ ورثاء میں تقسیم کا وراثت سے موانع نہ ہونے، دوسرا وارث بھی نہ ہونے کی صور ت میں اور پیشگی حق مثلا قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد زید کا ترکہ چارحصو ں میں منقسم ہوگا، ایک حصہ بیوی کو، باقی تین حصے بھائی کوملیں گے، اور ہندہ کا ترکہ جو کہ زید کا ہبہ کردہ اس کے قبضہ میں آیا اور جو اس کو زید کی وارثت میں ملا وغیرہ جو بھی اس کی ملکیت شرعی طور پر ہے وہ بھی مذکورشرائط سے چھ حصوں میں منقسم ہوگا دو دو حصے فی بھائی اور ایک ایک حصہ فی بہن ملے گا، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
عہ:  قد زل قلم الناسخ الصواب بہر برادرو بخش وبہر خواہر بخشے خواہد رسید ۱۲ عبدالمنان
(۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدہ الثانیہ        ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۴۹)
مسئلہ ۷۳: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ایک دستاویز میں ابومحمد وفاطمہ کا اپنی ایک جائداد مشترکہ بنام اپنے تین بیٹوں احمد وحامد بالغان ومحمود نابالغ کے اس طور پر لکھا کہ نصف جائداد بنام احمد پسر کبیر کے جو فضل دینی میں اور اولاد سے زائد ہے اورنصف باقی بنام حامدو محمود کے ابومحمد نے وفات پائی، فاطمہ زندہ ہے ان کا ان امور میں شریک ہونا اور دستاویز لکھوانا اور اس تقسیم متفاوت پر راضی ہونا یقینا ثابت ہے، اسی طرح حامد بالغ کا بھی اپنے برادر کلاں احمد کی ترجیح پر راضی ہونا یقینی، آیا ایسی صورت میں بعد انتقال ابومحمد کے صرف اس وجہ پر بیٹوں کے دینے میں باہم فرق کیا گیا اگر وہ خود دیتا تو برابر دیتا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ یہ فعل ابومحمد کا نہیں یا اس نے دستاویز نہ لکھوائی یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھا یا اس کا فعل مانا بھی جائے تو اس بنا پر گمان کرسکیں کہ اس کی عقل میں اختلال تھا ورنہ تفاوت نہ کرتا یا ایسا نہیں ہے۔ اور اولاد میں کسی کو بوجہ فضل دینی کے ترجیح دی جائے تو شرعا جائز، اور یہ تصرف نافذ ہے۔ یا اس خیال سے کہ بعض اولاد نابالغ ہیں یا کیا معلوم بقیہ اولاد سے آیندہ کوئی اور شخص فضل میں زیادہ ہوجائے اجازت نہ دیں گے۔ بینوا توجروا
الجواب

نفاذ کے لئے تو اگر کوئی شخص غیر محجور اپنی ساری جائداد ایک ہی بیٹے کو دے دے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے تو یہ تصرف بھی قطعا صحیح ونافذ ہے اگرچہ عنداللہ گنہگارہوگا گناہگاری کو عدم نفاذ تصرف سے کچھ علاقہ نہیں ، 

 درمختار میں ہے:
ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۱؎۔
اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۰)
اورا گر فضل دینی کے سبب بعض اولاد کو ترجیح دی جائے تو یہ بلاکراہت جائز  ہے اس میں عنداللہ بھی کچھ مواخذہ نہیں،
فی الخانیۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وان کانا سواء یکرہ ۲؎۔
خانیہ میں ہےکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سےمروی ہےاگر اس کو دینی فضیلت حاصل ہو تو اس کو زیادہ دینے میں حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں پھر ایک کو زائد دینا مکروہ ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ہبۃ الوالد لوالدہ نولکشور لکھنؤ    ۴ /۷۰۵)
عالمگیریہ میں ہے :
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلا باس بہ ان یفضلہ علی غیرہ کذا فی الملتقط ۱؎۔
اگر کوئی بیٹا علم دین میں مشغول ہونے کی وجہ سے کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں سے زائد دینے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاویٰ ہندیۃ        الباب السادس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۹۱)
اور جب یہ تفاوت شرعا جائز ہے اور صورت مسئولہ میں جس بیٹے کو ترجیح دی گئی حسب بیان سائل فضل دینی میں زیادہ ہے تو اس بنا پر کیونکر گمان ہوسکتاہے کہ وہ فعل ابو محمد کا نہ تھا یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھا، یا تھا تو اس کی عقل میں کچھ اختلال تھا ہم بتصریح علماء نقل کرآئے کہ تمام اولاد کو محروم کرکے کل مال ایک کو دے دینا بھی صحیح ونافذ ہے پھر جب شرع ایسے مکروہ تصرف کو جس میں عنداللہ مواخذہ ہے صحیح وتمام مانتی ہے اور اس قسم کے خیالات کو گنجائش نہیں دیتی تو یہ تصرف جس میں کسی طرح حرج شرعی نہں کیونکر مورد ان خیال کا ہوسکتاہے اسی طرح یہ احتمال بھی کہ ممکن ہے کہ آئندہ بعض اولاد باقیں سے کوئی شخص فضل دینی میں اس پر بڑھ جائے تو اس وقت اس کے فضل پر خیال کرکے کیونکر اسے ترجیح دیں ہرگز ٹھیک نہیں کہ شرع مطہر حالت موجودہ پر حکم دیتی ہے آخر علم غیب خدا کو ہے ایسے ہی خطرات کو جگہ دی جائے تو علماء کے اس حکم کا کوئی محل نہ ملے کہ جب اس مسئلہ پر عمل کرکے ایک ولد کو زیادہ دینا چاہیں فورا یہ احتمال قائم ہوسکتاہے کہ کیا معلوم آئندہ باقین میں سے اس سے کوئی بڑھ جائے، علماء نے کہ ترجیح افضل کی اجازت دی ہے حکم مطابق رکھا ہے کسی کے بلوغ وعدم بلوغ کی قید نہیں لگائی ہرگز کوئی شخص کسی ایک کتاب میں بھی نہیں دکھا سکتا کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب بقیہ اولاد میں کوئی بالغ ہو اور وجہ اس کی نہایت ظاہر کہ حیات مورث میں ورثاء اس کی جائداد کے مالک نہیں ہوجاتے جو ایک کو زیادہ دینا نابالغ کے مال میں تصرف ٹھہرے ہر شخص اپنی صحت میں اپنے مال کامختار ہے اگر کسی اجنبی کو دے دے تو کون ہاتھ روک سکتاہے علی الخصوص فاطمہ کا کہ زندہ وموجود ہے اس تفاوت پر راضی ہونا بالکل ایسے خیالات کو دفع کرتاہے کہ یہی علت بعینہٖ وہاں موجود ہے اب کیا یہ گمان کرسکتے ہیں کہ فاطمہ اس فعل پر راضی نہیں یا راضی ہے تو اس کی عقل میں کچھ اختلال ہے، اور جب یہاں ایسا خیال نہیں کرسکتے اور باوجود یہ کہ ماؤں کو اولاد صغر کی محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے وہ اس تفاوت پر بوجہ احمد کے فضل دینی کے صریح رضامند ہے تو ابومحمد کی رضا مندی بدرجہ اولیٰ قابل تسلیم ہوسکتی ہے اور حامد پسر بالغ کا اپنے برادر کلاں کی ترجیح پر رضامند ہونا اور زیادہ مؤید کہ وہ توخاص معاملہ اس کی ذات کا تھا، جب اس نے اپنے بھائی کے فضل دینی کا خیال کیا تو اگر باپ تفاوت کرے تو کون سا محل تعجب ہوسکتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter