فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
26 - 120
مسئلہ ۶۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو عرصہ دس بارہ سال سے عارضہ دمہ کا تھاکبھی شدت ہوجاتی کبھی کم ہوجاتا، سوا اس کے کوئی اور مرض نہ تھا، نہ زید صاحب فراش ہوا بلکہ مثل تندرستوں کے چلتا پھرتا، اسی حالت میں اس نے کل جائداد اپنی ہندہ اپنی زوجہ کو بعوض اس کے مہر کے بحالت ثبات ہوش وحواس کے ہبہ کی اور بغیر قابض کرائے دوسرے روز انتقال کیا، اس صورت میں یہ ہبہ صحیح ونافذ ہوگا یا نہیں۔ اور ایسی ہبہ میں قبضہ مشروط ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
مرض موت کی تفسیر میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک صاحب فراش ہونا ضرور، تجرید میں اسی مذہب کو معتمد قرار دیا اور مختار یہ ہے کہ اس مرض کا قاتل ہونا چاہئے کہ مبتلا اس کا غالبا نہ بچتا ہو جب تک خوف موت غالب رہے مرض موت ہے اگرچہ مثل تندرستوں کے چلے پھرے،
فی الدرالمختار مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجرید، بزازیۃ، والمختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش، قہستانی عن ہبۃ الذخیرۃ ۱؎۔
درمختار میں مرض الموت کی تفسیر میں فرمایا گیا (کہ موت سے قبل) اپنی ضروری بنیادی حوائج کے لئے گھر سے نکل نہ سکے، تجرید میں اسی پر اعتماد کیا ہے، بزازیہ، قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ مختاریہ ہے کوئی بھی ایسا عارضہ جس سے غالبا موت واقع ہوجاتی ہو اگر چہ صاحب فراش نہ ہوا ہو۔ (ت)
(۱؎درمختار کتا ب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۰)
صورت مسئولہ میں جبکہ زید صاحب فراش نہ تھا اور دمہ مرض قاتلہ سے نہیں بلکہ غالب اس میں سلامت ہے تو یہ مرض اس کا باتفاق تفسیرین مرض موت نہ قرارپائے گا علی الخصوص جبکہ اسے عرصہ دس بارہ برس کا گزر چکا تھا۔
فی الدرالمختار وھبۃ مقعد ومفلوج واشل ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف موتہ منہ والا تطل وخیف موتہ فمن ثلثہ لانہا امراض مزمنۃ لاقاتلۃ ۲؎ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ جڑا ہوا ہو، مفلوج ہو، شَل ہو، اور مرض سل والا ہو تویہ امراض ایک سال طویل ہوں اور موت کا اندیشہ نہ ہو توان کا ہبہ کیا ہوا ان کے کل مال سے ادا ہوگا اور اگریہ امراض طویل نہ ہوں موت کا اندیشہ ہوتو اس حال میں ان کا ہبہ تہائی مال سے ادا ہوگا کیونکہ یہ امراض لا چار کرتے ہیں فوری مہلک نہیں ہیں۔ (ت)
(۲؎درمختار کتا ب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۰)
پس یہ ہبہ بلا شبہ صحیح ونافذ ہوگا اور قبضہ نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ ہبہ بالعوض حقیقۃ بیع ہے اور بیع میں قبضہ غیر مشروط،
فی الدرالمختار لو قال وھبتک بکذا فہو بیع ابتداء وانتہاء ۳؎ اھ۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر کسی نے ہبہ کرتے ہوئے کہا فلاں چیز کے عوض تجھے ہبہ کیا تو اول آخر وہ بیع قرار پائے گا اھ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴)
مسئلہ ۶۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان جو بلا شرکت غیرے اس کا مملوک تھا اپنے پسر نابالغ کو ہبہ کیا اور شرط لگائی کہ اپنی زندگی تک اس مکان میں بطور مالکانہ سکونت رکھوں گا اور بلوغ پسر تک اس کی مرمت میرے ذمہ رہے گی اور اس مضمون کا ہبہ نامہ لکھ دیا۔ آیا اس صورت میں ہبہ تمام و کامل ہوگیا یا بوجہ اس کے کہ زید نے مکان خالی نہ کیا اور سکونت ومرمت کی شرطیں لگائیں فاسد و ناجائز رہا ۔ بینوا توجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح ونافذ تام وکامل ہوگیا زید کا اصلا حق مالکانہ اس میں نہ رہا، پسر زید مالک مستقل ہوگیا۔ یہاں تک کہ خود بھی اب اس ہبہ کے نقص وابطال پر قادر نہیں فان البنوۃ من موانع الرجوع (عہ) (کیونکہ بیٹا ہونا موانع رجوع سے شمار ہوتاہے) اور زید کا مکان خالی نہ کرنا کچھ مضر نہیں کہ باپ اپنے پسر نابالغ کو جو ہبہ کرے وہ صرف ایجاب سے تمام ہوجاتاہے باپ کا قبضہ بعینہٖ پسر کا قبضہ قرار پاتاہے سکونت پدر تمامی ہبہ کے منافی نہیں ہوتی۔
عہ: لفظ ''رجوع'' اندازہ سے بنایا گیا اصل میں بیاض ہے۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقد (ای الایجاب فقط) لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۱؎ اھ ملتقطا۔
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے جس کو نابالغ پر ولایت حاصل ہے تو اس کا بچے کو عقد ہبہ ہی ہبہ کو تام کردیتاہے یعنی صرف ایجاب ہی کافی ہے کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کی نیابت سے ہے۔ اورقاعدہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایک شخص ہی فریقین کے قائم ہوسکتاہے اس میں اس کا ایجاب ہی کافی ہے۔ اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰)
(ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۲)
درمختار میں اشباہ سے ہے :
ھبۃ المشغول لاتجوز الا اذا وھب الاب لطفلہ ۱؎۔
کسی مشغول چیز کا ہبہ صحیح نہیں الایہ کہ باپ نابالغ بچے کو ہبہ کرے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
اور سکونت ومرمت کی شرطیں اگرچہ بیجاہیں مگر ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرطیں فاسد و بے اثر ٹھہرتی ہیں۔
درمختار میں ہے :
وحکمہا انہا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فہبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح وتبطل الشرط ۲؎ اھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہبہ کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا لہذا غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گا، صحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی اھ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸)
مسئلہ ۷۰: (نوٹ : اصل میں بیاض ہے، سوال دستیاب نہ ہوسکا)
الجواب
صورت مسئولہ میں اگر قبضہ مال موہوب پر قبل موت واہب کے ہوگیا تو ہبہ تمام ہے مگر ثلث مال میں صحیح ہوگا کہ ہبہ مرض موت میں ہوا پس ثلث مال موہوب لہا کو ملے گا اور دو ثلث ورثہ کو، اور اگر قبضہ بعد موت واہب کے ہوا تو ہبہ باطل ہے کل مال ورثہ واہب کو ملے گا۔
قال فی العالمگیریۃ قال فی الاصل ولاتجوز ہبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت فجازت من الثلث واذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت ۳؎۔
عالمگیری میں فرمایا کہ مبسوط میں ہے کہ مریض کا ہبہ اور اس کا صدقہ جائز نہیں الایہ کہ موہوب لہ کو وہ قبضہ دے دے، اگرقبضہ دیا تو تہائی مال سے شمار ہوگا اور اگر یہ واہب مریض قبضہ دینے سے قبل فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائیگا (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰)
پھرا گر زوجیت موہوب لہا کی ثابت ہوگئی تو وہ اور زوجہ اولٰی ثمن حق ورثہ میں خواہ دو ثلث ہو یا کل شریک ہیں ورنہ (عہ) ثمن بتمامہ زوجہ اولٰی کا ہے اور مابقی اس کی اولاد کا اور موہوب لہا کو وارثوں کے حصہ میں سے کچھ نہ ملے گا البتہ بر تقدیر ثبوت ہبہ ثلث مال بوجہ ہبہ کے لے گی، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: فی الاصل ''ورثہ'' وھوزلۃ من قلم الناسخ ۱۲۔
مسئلہ ۷۱: از مراد آباد ۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو دختر اور دو پسر ہیں وہ چاہتاہے کہ اپنا مال اپنی زندگی میں بحالت صحت نفس ان چاروں کو عطا کرے۔ آیا برابر تقسیم کرے یا بطور فرائض
للذکر مثل حظ الانثیین ۱؎
(مرد کودو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ ت) بینوا توجروا
(۱؎القرآن الکریم ۴ /۱۱)
الجواب
صورت مستفسرہ میں مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے، یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور
للذکر مثل حظ الانثین ۲؎
(مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ ت) دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترک اولٰی ہے۔
( ۲؎ القرآن الکریم ۴ /۱۱)
ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے :
الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ہو قول محمد ۳؎۔
فتوٰی امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینا، مرد کو دو اور عورت کو ایک ، تین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا مذہب ہے (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۳)
بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔ (ت)
(۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارلمعرفۃ بیروت ۳ /۴۰۰)
بالجملہ
خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولٰی تسویہ، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باک نہیں۔
علامہ طحطاوی نے فرمایا:
یکرہ ذٰلک عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والنہدیۃ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین ۱؎ الخ۔
درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے الخ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۲۹۹)