فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
25 - 120
مسئلہ ۶۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید کے تین بیٹے، عمرو، بکر، خالد، بکر نے ایک اراضی افتادہ مقبوضہ مملوکہ زید میں حسب اجازت زید اپنے سرمایہ روزگار سے ایک مکان پختہ تعمیرکرایا اور کچھ روپیہ اپنی زوجہ اورماموں سے قرض لے کر لگا یا کسی قدروپیہ بطور قرض زید نے بھی دیا کہ بکر نے اسے ادا کردیا، اگر زید مکان معمرہ بکرکو عمر و و خالد پر ہی تقسیم کرنا چاہے تو بکر مستحق پانے سرمایہ ذاتی اور اس روپیہ کے جو اس نے اپنی زوجہ اور ماموں سے قرض لے کر لگایا ہے عمرو وخالد سے ہے یا نہیں اور وہ اراضی ہبہ ہوئی تھی یا نہیں؟ اور اگر ہبہ تھی تو زید کا رجوع تعمیر مکان وقبضہ بکر کے بعد صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
مسئلہ ۶۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید کے تین بیٹے، عمرو، بکر، خالد، بکر نے ایک اراضی افتادہ مقبوضہ مملوکہ زید میں حسب اجازت زید اپنے سرمایہ روزگار سے ایک مکان پختہ تعمیرکرایا اور کچھ روپیہ اپنی زوجہ اورماموں سے قرض لے کر لگا یا کسی قدروپیہ بطور قرض زید نے بھی دیا کہ بکر نے اسے ادا کردیا، اگر زید مکان معمرہ بکرکو عمر و و خالد پر ہی تقسیم کرنا چاہے تو بکر مستحق پانے سرمایہ ذاتی اور اس روپیہ کے جو اس نے اپنی زوجہ اور ماموں سے قرض لے کر لگایا ہے عمرو وخالد سے ہے یا نہیں اور وہ اراضی ہبہ ہوئی تھی یا نہیں؟ اور اگر ہبہ تھی تو زید کا رجوع تعمیر مکان وقبضہ بکر کے بعد صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب
باپ کا اپنے بیٹے کو ایک زمین افتادہ تعمیر مکان کے لئے بتادینا تنہا مثبت ہبہ نہیں تاوقتیکہ اس کے ساتھ الفاظ ہبہ سے کوئی لفظ نہ پایا جائے مثلا یہ زمین نے تجھے دے دی یا ہبہ کی یا تمھیں اس کا مالک کیا یا یہ زمین تیری ہے
وامثال ذٰلک مما یدل علی تملیک العین بلاعوض
(اس کی مثل اور الفاظ جو بغیر عوض تملیک پر دلالت کریں۔ ت) پس اگر ان الفاظ سے کوئی لفظ پایا گیا تو بیشک صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح وتام ولازم ہوگیا زید کو رجوع کااختیار نہیں۔ نہ وہ اس مکان کو عمرو وخالد پر تقسیم کرسکتاہے ورنہ بعد اجازت تعمیر سے صرف عاریت ثابت ہوگی زمین بدستور مملوک زید ہے بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اور جب وہ اسی کی مملوک ہے تو نفس زمین میں اسے ہر طرح کے تصرف مالکانہ کا اختیار ہے جسے چاہے دے سکتاہے جو چاہے کرسکتاہے اور جبکہ بکر کسب ومعاش مستقل رکھتا تھا تو جو عمارت اس نے اپنے زر خالص سے بنائی اس کا وہی مالک ہے زید کا اس میں کچھ حق ملک نہیں صورت سوال کہ زید کا کچھ روپیہ بغرض تعمیر بکر کو قرض دینا پھر اس سے وصول کرنا نص صریح ہے کہ زید بھی اس عمارت کے مملوک بکر ہونے پر متفق ہے۔
فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ من الوقف عند قولہ کل من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لما لکھا اھ ومسئلۃ العمارۃ کثیرۃ ذکرہا فی الفصول العمادیۃ و الفصولین وغیرہا وعبارۃ المحشی بعد قولہ ویکون کالمستعیر فیکلف قلعہ متی شاء انتہی ۱؎۔
العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگیا اور گویا باپ سے زمین عاریۃً لینے والا ہوا، الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ کے وقف میں اس قول سے ہے جس نے غیر کی زمین میں تعمیر کی تو وہ زمین کے مالک کے اختیار میں ہوگی اھ جبکہ عمارت کا مسئلہ کثیر الوقوع ہے، فصول عمادیہ وفصولین وغیرہما میں مذکور ہے اور ماتن کے قول یکون ''کالمستعیر'' گویا عاریۃ لینے والا ہوا، کے بعد محشی کی یہ عبارت ہے تو اس بیٹے کو مکان اکھاڑ لینے کا مکلف بنائے گا جب مالک چاہے اھ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب العادیۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/۸۸)
فتاوٰی علامہ خیر الدین میں ہے :
سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا، اجاب ھی للابن حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ واما قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لہما شیئ ثم اجتمع لہما مال یکون کلہ للاب اذا کان الابن فی عیالہ فہو مشروط کما یعلم من عبارتہم بشروط منہا اتحاد الصنعۃ ۱؎ الخ اھ ملتقطا۔
ان سے بالغ شادی شدہ وعیال والے بیٹے کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا پنا مستقل کام وکسب ہے جس سے اس نے کثیر مال حاصل کیا (تو وہ خود مالک ہوگا) انہوں نے جواب میں فرمایا، ہاں یہ اموال بیٹے کے ہیں کیونکہ اپنا مستقل کام وکسب ہے لیکن ہمارے علماء کا یہ ارشاد ہے باپ اور بیٹا دونوں ایک صنعت میں مل کام کرتے ہیں اور ابتداء میں ان دونوں کا کوئی مال نہ تھا پھر دونوں مالدار ہوگئے تو تمام مال باپ کا قرارپائے گا یہ اس صورت میں ہے جب بیٹا اپنے باپ کی عیال میں شامل ہو یہ شرط فقہاء کی عبارت میں معلوم شدہ ہے جہاں انہوں نے فرمایا ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ صنعت میں اتحاد ہو، الخ، اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۵۸)
پس اس صورت میں زمین زید کی اور عمارت بکر کی زید کو اختیار ہے جس وقت چاہے بکر پر جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے جائے اور زمین خالی کردے
کما مرمن العقود عن العلامۃ السید الحموی من قولہ یکلف قلعہ متی شاء ۲؎۔
جیسا کہ عقود میں علامہ سید حموی سے منقول گزرا، اس کا یہ قول کہ مالک جب چاہے اس کو اکھاڑ نے کا مکلف بنائے گا۔ (ت)
(۲؎ العقود الدریۃ کتاب العاریۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۸۸)
اور اگر قلع بنا سے زمین کو کوئی ضرر فاحش نہ پہنچے توبکر خود بھی اپنا عملہ اکھیڑ لینے کا اختیار رکھتاہے اگرچہ زید نہ کہے،
فی حاشیۃ الطحطاویۃ عن شرح الکنز الزیلعی ایتہما طلب القلع اجیب ۳؎۔
طحطاوی کے حاشیہ میں کنز الدقائق کی شرح امام زیلعی سے منقول ہے کہ جب بھی اکھاڑنے کا مطالبہ کرے تو ماننا ہوگا۔ (ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ درالمعرفۃ بیروت ۳/ ۳۸۸)
اور ان دونوں صورتوں میں یعنی زید جبرا اکھڑوادے یا بکر خود اکھیڑ لے جائے زید کو عملہ کی قیمت یا اکھیڑنے سے جو اس میں نقصان آئے اس کا تاوان کچھ نہ دینا پڑے گا۔
فی الہندیۃ عن البدائع اذا استعار من اٰخرارضا لیبنی فیہا اویغرس فیہا ثم بداللمالک ان یخرجہ فلہ ذٰلک سواء کانت العاریۃ مطلقۃ اوموقتۃ غیر انہا ان کانت مطلقۃ لہ ان یجبر المستعیر علی قلع الغرس ونقض البناء واذا قلع ونقض لایضمن المعیر شیئا من قیمۃ الغرس البناء ۱؎ اھ۔
ہندیہ میں بدائع سے منقول ہے جب کسی سے زمین عاریۃ لی تاکہ اس پر عمارت بنائے یا پودے لگائے تو بعد میں مالک کو زمین خالی کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ خالی کراسکتاہے خواہ عاریۃ مطلقہ ہو یا مقررہ وقت کے لئے ہو،ہاں اگر مطلقہ ہو تو مالک کو جبرامکان اور درخت اکھاڑنے کا حق ہے اگر عمارت اور درخت اکھاڑدئے تو مالک پر کوئی ضمان نہ ہوگا اھ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۰)
طحطاوی میں ہے :
ولایضمن مانقص من البناء والغرس لعدم الغرور عند عدم التوقیت افادہ الزیلعی ۲؎۔
عاریۃ دینے والا مالک عمارت او ر درختوں کے نقصان کا ضامن ہوگا، کیونکہ مقررہ وقت تک عاریۃ نہ ہونے کی وجہ سے عمارت اور درخت باقی رکھنے کا جواز نہیں امام زیلعی نے یہ افادہ فرمایا ہے۔ (ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۸)
اور اگر بکر چاہے کہ میں عملہ برقرار رہنے دوں اور زید مجھے قیمت دے دے تو یہ امررضامندی زید پر موقوف رہے گا اس پر بکر کو جبر نہیں پہنچتا۔
فی الہندیۃ فان طلب المستعیران یضمن المعیر قیمۃ البناء والغرس مقلوعا فانہ لایجبر علی ذٰلک ویکلفہ علی القلع ۳؎۔
ہندیہ میں ہے اگر مستعیر چاہے کہ مالک عمارت اور درختوں کے ملبے کی قیمت برابر ضمان دے تو اس پر مالک کو مجبور نہیں کیا جاسکتا اس کو بہر حال عمارت اور درخت اکھاڑنے ہوں گے۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب العاریۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۰)
اور اگر قلع بناسے زمین کو ضرر بین پہنچے تو بکر خود اختیار قلع نہیں رکھتا بلکہ اب اختیار زید کو ہے چاہے اپنے نقصان زمین پر راضی ہو اور بکر پر جبر کرے کہ عملہ اکھیڑلے جائے یاعملہ کو اپنی ملک کرلے اور بکر کو بنائے مقلوعہ کی قیمت دے یعنی یہ عملہ اگر اکھیڑ کر بیچا جائے تو اس حالت میں خریدار اس کے کیا دام لگائیں گے، اسی قدر حوالہ زید کرے باقی زید کی لاگت کا کچھ اعتبار نہیں، نہ وہ زوجہ اور ماموں کےاس قرض کا مطالبہ زید خواہ عمرو وخالد سے کرسکتاہے کہ مدیون یہ ہے نہ وہ۔
فی تنویر الابصار لو اعار ارضا للبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعہما الا اذا کان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین ۱؎۔
تنویر الابصارمیں ہے اگر عمارت اور درخت لگانے کے لئے زمین عاریۃ دی تو صحیح ہے اور اس کو جب چاہے واپس لینے کا حق ہے اور وہ مستعیر کو اکھاڑنے کا پابند بناسکے گا ہاں اگر عمارت ودرخت اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو دونوں باہمی رضامندی سے ملبہ کی قیمت پر زمین پر ان کو باقی رکھ سکتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۶)
طحطاوی میں ہے :
وان رضی رب الارض بالنقص قلعہما ولا یجبر علی الضمان ۲؎ اھ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر مالک زمین کے نقصان پر راضی ہے تو مستعیر کو اکھاڑنے ہوں گے، مالک کو ملبہ کی قیمت برابر ضمان پر مجبورنہیں کیا جاسکتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۸)