فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
24 - 120
مسئلہ ۶۰: از بڑوئچ ملک مالوہ علاقہ دربار ٹونک مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۳۰ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ کلو بی بی مورث اعلٰی نے بذریعہ ہبہ نامہ اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ میر جعفر علی داماد خود کے قبضہ میں دے دی اور مسماۃ بگو بی بی دختر کلو بی بی مورث اعلی سے مسماۃ کنیز بانو ایک لڑکی از نطفہ میر جعفر علی پیدا ہوئی اور وہ مسمی نجیب شاہ کے عقد میں دی گئی اور بحیات میر جعفر علی وکلو بی بی مورث اعلٰی کے بگو بی بی وکنیز بانو لاولد ہر دونوں کاا نتقال ہوگیا، میر جعفر علی حیات رہے ان کی دوسری زوجہ مسماۃ حاکم بی بی سے دولڑکی کنیز فاطمہ وکنیز صغرٰی از نطفہ میر جعفر علی پیدا ہوئیں اور بذریعہ اس ہبہ نامہ کے کہ جو کلو بی بی نے بنام میر جعفر علی کیا تھا جائداد موہوبہ ومقبوضہ میر جعفر علی پر کہ جس کو عرصہ ۵۵ سال کا ہوا بلکہ زائد قابض ومتصرف ہیں اور بموجب اسی ہبہ نامہ کے احکام منظوری ریاست شرع شریف یعنی مفتی محکمہ قضا سے استخلاصہ صادر ہوئی کہ ہبہ نامہ نوشہ کلو بی بی موسومہ میر جعفر علی صحیح ودرست ہے بموجب اس کے قبضہ کنیز فاطمہ وکنیز صغرٰی دختران میر جعفر علی موحوم کارہے۔ اب بعد مرور عرصہ مذکور کے مسمی امام شاہ برادر نجیب شاہ نے کہ نجیب شاہ شوہر کنیز بانو دختر میر جعفر علی مرحوم کا ہے عدالت شرع شریف میں دعوٰی دائر کیا کہ مسماۃ کنیز بانو نواسی کلو بی بی مورث اعلٰی میرے بھائی نجیب شاہ کے عقد میں تھی اسی وجہ سے جائداد متروکہ میر جعفر علی کے جو کلو بی بی سے بذریعہ ہبہ نامہ ان کے قبضہ میں ہے مجھ کو ملنا چاہئے دختران میر جعفر علی کا قبضہ نسخ فرمایا جائے، پس اندریں صورت جائداد موہوبہ کلو بی بی بنام میر جعفرعلی عند الشرع کس کو پہنچ سکتی ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
وہ جائداد بذریعہ ہبہ صحیحہ تامہ ملک جعفر علی ہوگئی کلو بی بی یا اس کے ورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا امام شاہ کا دعوٰی محض باطل ونامسموع ہے،
عالمگیریہ میں ہے :
اماحکمہا فثبوت الملک للموہوب لہ ۱؎۔
لیکن اس کا حکم یہ ہے کہ موہوب لہ کے لئے ملکیت کا فائدہ دیتاہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۴)
اسی میں ہے :
اما العوارض المانعۃ من الرجوع فمنہا موت الواہب کذا فی البدائع ۲؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رجوع سے موانع میں ایک یہ ہے کہ واہب فوت ہوجائے، جیسا کہ بدائع میں ہے اھ ملخصا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۶)
مسئلہ ۶۱: از بیجناتھ پارہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ پارہ ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ایک عورت نے انتقال کیا اور ایک لڑکا چھوڑااس کے خاوند نے جب دوسرے نکاح کاقصد کیا تو عورت متوفیہ کی ماں مانع ہوئی کہ پہلے میری بیٹی کا مہر دے دو بعد میں نکاح کرو چنانچہ اس شخص نے بروقت نکاح اپنے لڑکے کے نام جائداد لکھ دی یا صرف اقرار ہی کیا اور بیان کیا کہ آئندہ جو کچھ از نقد یا جائداد حاصل کروں گا وہ اس عورت اور اس کی اولاد کاحق ہوگا، اس شخص نے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہونے کے بعد انتقال کیا اور اس عورت ثانی نے بھی انتقال کیا اب ایک لڑکا پہلی بی بی کا ہے جس کے قبضہ میں کُل جائداد ہے اور ایک لڑکا اور ایک لڑکی دوسری بی بی سے ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہے، یہ اولاد ثانی اس ورثہ سے جو پہلے لڑکے کے تصرفات میں ہے کچھ پاسکتے ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
تمامی ہبہ کے لئے واہب کا موہوب لہ کو شے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔ او رپسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے کل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اٰخرہا (یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ ت) پس صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط ومعانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلا دیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملک ہوگئی دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہا، اور اگر ہبہ نہ تھا نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گا، یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگر چہ پسر نے بعد موت پدرقبضہ کاملہ کرلیا ہو تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملک پدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے
فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الھبۃ کما فی الدرالمختار ۱؎
(کیونکہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
مسئلہ ۶۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک جائداد قابل قسمت بشرکت اور تین شخصوں کے روپے سے خرید کرکے بلا تقسیم اپنی زوجہ کے نام لکھا دی اور اس کی زندگی تک وہ جائداد منقسم نہ ہوئی اب بعد وفات اس کی مالک اس جائداد کی فقط زوجہ مذکورہ ہے یا مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر تقسیم ہوجائیگی۔ بینوا توجروا
الجواب
صورت مسئولہ میں وہ جائداد مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر منقسم ہوجائے گی اور صرف زوجہ مذکورہ اس کی مالک نہیں ہوسکتی کہ یہ نام لکھا دینا ہبہ جائداد صالح قسمت کا بلا تقسیم صحیح ونافذ نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۳: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک ملک دو بیٹوں پر منقسم تھی، ایک پٹی ہندہ اور ایک اس کے پسر زید کی تھی، ہندہ نے زید پسر اور اس کے ایک بیٹا کہ سامنے فوت ہوا تھا دو پوتے اور دو پوتیاں چھوڑ کر انتقال کیا زید نے ہندہ کی بیٹی میں صرف اپنے بھتیجے عمرو کے نام جس کی عمر قریب ۲۳، ۲۴ سال کی تھی لکھوادیا مگر اب تک اسے قبضہ نہ دیا، دونوں پٹیاں زید کے قبضہ میں ہیں۔ وہ پٹی بھتیجے کو دینا نہیں چاہتا، اس صورت میں ترکہ ہندہ مکان وملک وغیرہ کا مالک کون ہے اور پوتے پوتیوں کو بھی اس میں کچھ حق ہے یانہیں؟ اور عمرو اس نام لکھوادینے سے اس پٹی کا مالک ہوگیا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وادائے دیون ونفاذ وصایا کل متروکہ ہندہ کامالک صرف اس کا بیٹا زید ہے اور نام لکھا دینا اگرچہ دلیل تملیک ہے اور یہ تملیک ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتا، نہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملک حاصل ہو ایسی (عہ)کہ زید نے اپنے بھتیجے کوقبضہ نہ دلادیا وہ پٹی بھی بدستور زید کی ملک ہے عمرو اس سےجبرا نہیں لے سکتا،
عہ: اصل میں اسی طرح ہے شاید قلم ناسخ سے لفظ'' ایسی'' کے بعد ''صورت میں'' چھوٹ گیا ۱۲
ہدایہ میں ہے :
القبض لابدمنہ لثبوت الملک لانہ عقد تبرع وفی الاثبات الملک قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وھو التسلیم فلا یصح ولان القبض تصرف فی ملک الواہب اذ ملکہ قبل القبض باق ۱؎ اھ قلت ومن ھٰھنا ظہران امتناعہ عن التسلیم (عہ) لیس فی شیئ من الرجوع فان الرجوع فیہ بعد القبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ۔
ہبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لئے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا، دوسری وجہ یہ ہے قبضہ دینے سے قبل واہب کی ملکیت ابھی باقی ہے تو قبضہ سے قبل اس کی ملکیت میں تصرف لازم آئے گا اھ، میں کہتاہوں، یہاں سے واضح ہوگیا کہ واہب کا قبضہ نہ دینا ہبہ سے رجوع نہ کہلائے گا کیونکہ ہبہ میں رجوع قبضہ دینے کے بعد ہوسکتاہے اس سے قبل تو ہبہ تام نہیں ہوا۔ (ت) اور اب اگر عمرو بغیر اجازت زید کے خود قبضہ کرلے گا اصلا بکارآمد نہ ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: فی الاصل بیاض بین لفظ التسلیم ولفظ فی شیئ ولفظ ''کان'' مرقوم بین فان الرجوع ۱۲
یہاں اصل میں لفظ ''تسلیم'' اور لفظ ''فی شیئ'' کے درمیان بیاض ہے اور لفظ ''فان الرجوع کے درمیان ''کان'' لکھا ہوا ہے۔ ۱۲ ۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الھبۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۲۔ ۲۸۱)
مسئلہ ۶۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں زید وہندہ دونوں حیات ، ان کے تین بیٹے: احمد و محمد و حامد۔ احمد مختار عام، محمد روزگار پیشہ، حامد نابالغ۔ محمد سرمایہ روزگار اپنا معرفت زید وہندہ بالاشتراک صرف کرتارہا زید نے منجملہ اپنی جائداد کے ایک اراضی افتادہ واسطے تعمیر مکان کے محمد کو دے دی اس نے منجملہ اپنے سرمایہ روزگارکے جو اس کے پاس جمع تھا اور اپنی زوجہ اور ماموں سے کچھ روپیہ اور چوب قرض لے کر مکان پختہ تعمیر کرایا او ریوم تعمیر سے آج تک اس پر قابض ہے اور کسی قدر چوب متفرقہ تعمیر ہذا زید منجملہ تین باغات مملوکہ اپنے کے ایک قطعہ باغ ازروئے تقسیم بلالحاظ کم وبیش محمد کو دیں کہ وہ صرف تعمیر ہوئےعندالضرورت واسطے انجام تعمیر مکان مذکورہ معرفت زید کسی قدر روپیہ قرض لیا گیا کہ محمد نے بعدتعمیر اپنے سرمایہ روزگار سے زید کو دے دیا اب زید چاہتاہے کہ مکان مذکور احمد ومحمد وحامد سب کو تقسیم کردے یہ فعل اس کا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
تعمیر مکان کے لئے زمین دینا ہبہ نہیں، اگر زید نے زمین دیتے وقت کوئی لفظ ایسا جو شرعا مفید ہبہ ہو نہ کہا تو صرف عاریت اور زمین بدستور ملک زید ہے اسے اختیار جسے چاہے تقسیم کردے ہاں عمارت کسی پر تقسیم نہیں ہوسکتی کہ وہ خاص ملک محمد ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاطمہ نے کہ زید کی خالہ ہے ایک باغ زید کو ہبہ کیا اور قابض کرادیا، آیا یہ ہبہ صحیح اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا یانہیں؟ اور فاطمہ اب اسے واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
بر تقدیر وجود سائر شرائط ہبہ اگر فاطمہ نے باغ سے اپنا قبضہ بالکل اٹھالیا اور زید کو قابض کرادیا تو ہبہ صحیح ہے اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا اور فاطمہ کو اس وجہ سے کہ وہ زید کی خالہ ہے رجوع ہبہ سے صحیح نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گورنمنٹ انگریزی نے زید کے دیہات جاگیر ضبط کرکے کچھ روپیہ سالانہ مقرر کردیا کہ بعد انتقال زید حسب فرائض منقسم ہوتا رہا منجملہ اس کے ستاسی روپیہ سالانہ ہندہ پاتی تھی، اس نے اپنے انتقال سے ۲۵ دن پہلے اپنا روزینہ اپنے نواسے کو ہبہ کیاا ور بنام موہوب لہ اس کے منتقل ہوجانے کی درخواست دی، ہندہ کا بھتیجا یعنی اس کے چچا زاد بھائی کا بیٹا کہ اس کے سوا او ر کوئی وارث نہیں، اس روپیہ کا دعوٰی کررہا ہے، آیا اس صورت میں وہ ہبہ صحیح ونافذ اور بھتیجا کا دعوٰی باطل وناجائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ باطل وبے اثر اور برادر زادہ دہندہ کا دعوٰی صحیح ومعتبر ، اولا اس ہبہ کا یہ محصل کہ وہاں سے جو روزینہ جب جب آوے ا س کا مالک موہوب لہ ہے، اور وہ روزینہ ہندہ بالفعل موجود نہیں۔ اورہبہ معدوم وباطل ہے۔ (جواب نامکمل ملا)