Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
23 - 120
مسئلہ ۵۷: ۲۳ شعبان  المعظم ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ چودہ برس کا ہوا مسماۃ ہندہ نے انتقال کیا، اور بعد اپنے دو بیٹے نام کلاں کا زید اور نام ثانی بکر تھا، اور بکر کا خالد نام ایک لڑکا بعمر دس سال تھا چھوڑا، جائداد متروکہ ہندہ میں بموجب ادخال فوتی نامہ پٹواری دیہہ محکمہ نظامت میں بجائے ہندہ زید پسر اور بجائے بکر خالد پوتا کا نام درج ہولیا بکر نے بخیال مصلحت خاص بغرض حفظ جائداد کہ وہ مقروض تھا اور اپنا نام لکھوانے میں خوف تلف ہونے اس جائداد کا تھا اس وقت سکوت اختیار کیا اور کوئی لفظ تملیک نہ کہااورنہ تملیک منظور تھی نہ کوئی تحریر مثل ہبہ نامہ یا بیعنامہ (مثل دیگر جائداد کہ اپنے روپے سے خالد کو اور اس کی ماں کو بذریعہ خرید وہبہ کے لکھ چکا) اس حقیت کی کی، اور نہ اس وقت تک باجود بالغ ہونے کے خالد کواس جائداد پرقبضہ دیا بخلاف دیگر جائداد کے جو دینا منظور تھی اس پر قابض ودخیل کردیا اور اس حقیت میں بطور فرضی نام درج رہا بکر کارکن اور قابض متصرف مالکانہ اس حقیت کا اس وقت تک ہے، اب خالد یعنی پسر بکر اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتاہے اور بکر چاہتاہے کہ نام خالد کا محکمہ موصوف سے خارج ہوکر ترکہ مادری پر میرا نام درج ہو، لہذا بموجب شرع شریف بکر مستحق درج کرانے نام اپنے کا ہے یانہیں اور بموجودگی پسر کے پوتا کو ترکہ دادی پہنچتا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

محکمہ مال میں نام خالد کا اندراج جس کی بنا تحریر پٹواری پر تھی کوئی چیز نہیں کہ پٹواری خواہ

حکام مال ایک کے مال کا مالک دوسرے کو نہیں کرسکتے جبکہ جائداد ترکہ ہندہ والدہ بکر تھی بلاشبہہ زید وبکر بحکم وراثت اس کے مالک ہوئے اور خالد کو کوئی استحقاق ابتدائی نہ ملا کہ بیٹے کے ہوتے پوتے کا کچھ حق نہیں، اب جو حصہ ملک بکر ہوا دوسرا بے اس کے تملیک کے کیونکر اس کا مالک ہوسکتاہے،
فی ردالمحتار عن الکرمانی لان ملک الانسان لاینقل الی الغیر بدون تملیکہ ۱؎۔
ردالمحتار میں کرمانی سے منقول ہے کہ تملیک کئے بغیر کسی کی ملکیت دوسرے کو منتقل نہ ہوگی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۰۹)
اورتملیک کی یہاں دو ہی صورتیں متصور، یا تو مالک آپ انشاء وایجاب ہبہ کرے یا دوسرا شخص یعنی فضولی اس کی چیز کو ہبہ کرے اور یہ اس تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردے یہاں تک کہ جو کچھ بکر سے صادر ہوا وہ محض سکوت ہے، اور پر ظاہر کہ سکوت خود توکسی عقد کا ایجاب ہو نہیں سکتا کہ ایجاب کلام اول ہے اور سکوت ترک کلام، اوریہاں اسے اجازت قرار دینے کی بھی کوئی سبیل نہیں کہ اجازت کے لئے کوئی عقد فضولی ہونا تو درکار ہے جسے جائز کیا جائے اور بداہۃً واضح کہ صیغہ مال والوں کا خانہ ملکیت میں کسی کانام لکھنا کوئی انشائے ہبہ نہیں ہوتا وہ تو صرف ایک یادداشت مالکیت ثابتہ ہے، نہ احداث ملک جدید، تو یہاں سرے سے کوئی عقد فضولی پایا ہی نہ گیا کہ سکوت بکر کو اس کی اجازت قرار دیں قطع نظر اس سے کہ مجرد سکوت مطلقا دلیل اجازت ہو بھی سکتاہے یانہیں خصوصا وہ بھی ایسا کہ محض ایک مصلحت کی بناپر ہو ، پس ثابت ہوا کہ یہاں اصلا کوئی صورت تملیک متحقق نہ ہوئی اور حقیت بدستور بکر ہے، خالد کا دعوٰی اصلا قابل سماعت نہیں۔ پھر اس تقریر کی حاجت بھی اس حالت میں ہے کہ وفات ہندہ کے بعد زید وبکر کا حصہ جداجدا منقسم ہوگیا ہو اس کے بعد بجائے بکر حصہ  بکر میں نام خالد مندرج ہوا اور اگر قبل از تقسیم یونہی جائداد  متروکہ غیر منقسمہ میں اندراج نام خالد ہوا (جیسا کہ ظاہر یہی ہے کہ فوتی نامہ بعد فوت معاً داخل ہوتاہے نہ جب جائداد کا ورثہ میں پٹے بانٹ ہوجائے) جب تو خالد کے لئے ملک ثابت نہ ہونا کسی بیان کا محتاج ہی نہیں اگر چہ نہ پٹواری بلکہ خود بکر نے نہ بلحاظ مصلحت بلکہ خاص بقید تملیک ہی خالد کانام درج کرایا ہو کہ اس حالت میں یہ اگر ہوگا تو غایت درجہ ہبہ مشاع ہوگا اور ہبہ مشاع اصلا مفید ملک نہیں اگر چہ اپنے بیٹے کے لئے ہو جب تک واہب تقسیم کرکے موہوب لہ کو قبضہ کاملہ نہ دے یہاں کہ اب تک قبضہ نہ ہوا ملک خالد کے کوئی معنی نہیں۔
فتاوٰی خیریہ وعقود الدریہ میں ہے:
المشاع فیما یحتمل القسمۃ وھو ما یجبر القاضی فیہ الابی عن القسمۃ عند طلب الشریک لہا لا تفید الملک الموہوب لہ فی المختار مطلقا شریکا کان او غیرہ ابنا اوغیرہ ۱؎ الخ۔
قابل تقسیم مشاع یعنی قاضی شریک کے مطالبہ پر اس منکرکو تقسیم پر مجبور کرے تو مختار قول میں ایسا مشاع موہوب لہ کی ملک نہ بنے گا، یہ حکم عام ہے شریک ہویا غیر ہو، بیٹا ہو یا غیر ہو، الخ۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ    کتاب الہبہ        ارگ بازار قندہار افغانستان        ۲ /۹۱)
مجموعہ علامہ انقروی میں ہے :
فی المنتقی وھب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز مالم یقسمہ ویبین ماوھب لہ من فتاوی التمرتاشی فی اٰخر کتاب الھبۃ ۲؎ اھ، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
منتقی میں ہے اگر کسی نے اپنے نابالغ بیٹے کو نصف مکان ہبہ کیا تو تقسیم کرکے دیئے اور واضح کئے بغیر صحیح نہ ہوگا، یہ فتاوٰی تمر تاشی کی کتاب الہبہ کے آخر سے منقول ہے اھ،۔ واللہ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ فتاوٰی انقرویہ    کتاب الہبہ        دارالاشاعت العربیہ قندہار ارگ بازار افغانستان  ۲ /۲۸۴)
مسئلہ ۵۷: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے حالت مرض الموت میں اپنی جائداد یعنی ایک دکان اور ایک مکان اپنے پسرعمرو کو اور اس کی زوجہ کو نصف نصف ہبہ بلاتقسیم کردی اس وجہ سے کہ زوجین میں نااتفاقی رہتی تھی بعد کو عمرو مذکور تابمرگ پورا کرایہ دکان مذکور کا لیتا رہا اور تقسیم پر راضی نہ رہا اور اب عمرو نے وفات پائی ایک زوجہ اور ایک ہمشیر زادہ وارث چھوڑے اب ترکہ عمرو کا کیونکر تقسیم ہوگا یعنی دکان اورمکان پورا پورا عمرو کا سمجھا جائے گا یانصف نصف ؟ بینوا توجروا
الجواب

جبکہ زید نے مکان ودکان دوشخصوں کو نصف نصف ہبہ کئے اور تقسیم کرکے ہر ایک کو جدا جدا قبضہ نہ دلایا یہاں تک کہ مرگیا، تو مکان کا ہبہ تو یقینا باطل ہوا، یونہی دکان کا بھی ، اگر وہ بعد تقسیم قابل انتفاع ہو یعنی اتنی گنجائش رکھتی ہو کہ اس کے دو حصے جدا کردئے جائیں تو ہر حصہ تنہا بکار آمد رہے اس صورت میں وہ مکان ودکان ترکہ زید رہے اور بعد زید اگر اس کا کوئی وارث سوا عمرو کے نہ تھا تو بشرط تقدیم دین ووصیت وہ دونوں صرف عمرو کے ملک ہوئے زوجہ عمرو کا ان میں کچھ حق نہ تھا اب کہ عمرو مرا اگر اس کے وارث سے یہی دو شخص ہیں تو بعدا دائے مہر ودیگر دیون و انفاذ وصایا چار حصے کرکے ایک سہم زوجہ عمرو اور تین سہم ہمشیر زادہ عمرو کو دیں، اور اگر دکان ایسی کوتاہ وتنگ ہے کہ تقسیم کے بعد ہر حصہ جدا قابل انتفاع نہ رہے تومکان کاہبہ تو باطل تھا اس کی حالت تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی مگر دکان کا ہبہ ناجائز نہ ہوا، اب دیکھا جائے گا کہ زید نے اپنی حیات میں زوجہ عمرو کو اس دکان پر قبضہ کرادیا تھا یانہیں، اگر نہیں تو ہبہ پھر باطل ہوگیا۔
کما فی الدر المختار ان موت احد المتعاقدین قبل التسلیمات مبطل الہبۃ ۱؎ ملخصا۔
جیسا کہ درمختارمیں ہے کہ فریقین میں سے ایک کی موت قبضہ سے پہلے ہو تو وہ ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔ (ملخصا) (ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
اور اگر قبضہ کرادیا تھا تو اس نصف دکان کو اندازہ کیا جائے زید کا جس قدر ترکہ بعد ادائے دیون باقی رہا یہ نصف اس کل ترکہ کے ثلث سے زائد تونہیں۔ اگر زائد نہیں تو ہبہ نصف بنام زوجہ عمرو صحیح و تام ولازم ہوگیا۔ یہ نصف دکان خاص ملک زوجہ ہے اور نصف باقی ومکان ودیگر متروکات کا وہی حال ہے جو اوپر گزرا، اور اگر ثلث سے زائد ہے تو ازانجا کہ عمرو اس تقسیم پر راضی نہ تھا ثلث سے زائد کی مقدار میں ہبہ رد ہوگیا۔
فان الھبۃ فی مرض الموت فی حکم الوصیۃ من جہۃ التوقف علی اجازۃ الوارث فیما زاد علی الثلث وان لم تکن وصیۃ فی الحقیقۃ حتی بطلت فی المشاع وعند عدم القبض کما بینہ فی ردالمحتار ۲؎۔
کیونکہ مرض الموت میں تہائی ترکہ سے زائدہبہ کیا تو وہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہونے میں وصیت کے حکم میں ہے اگرچہ حقیقتاً وصیت نہ بھی ہو حتی کہ وہ مشاع ہونے اور قبضہ نہ ہونے پر باطل ہوجاتاہے جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان فرمایا ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتارکتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۴۳۵)
اس تقدیر پر صرف بقدر ثلث متروکہ کے جتنا حصہ اس نصف دکان کا ہو وہی ملک زوجہ از روئے ہبہ ہے باقی دکان ومکان وغیرہما بدستور سابق تقسیم ہوں گے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: از بنارس محلہ کندیگر ٹولہ شفاخانہ مسجد بی بی راجی مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاب ونیز از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب ۱۴ رجب المرجب ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہے علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اللہ تعالٰی الی یوم الدین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے تھے، عمرو، بکر،خالد، زید نے عمرو کے نام سے ایک مکان خریدکیا اور قبالہ وغیرہ امور متعلقہ بیع بھی سب اسی کے نام سے کئے، بعد اس کے عمرو اپنے باپ زیدا ور برادران خالد وبکر کی حیات میں قضا کرگیا تو اب عمرو کے بال بچے اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں اگر عمرو اس وقت نابالغ تھا تو ہر طرح وہ مکان ملک عمرو ہوگیا، عمرو کے ورثہ پر حسب فرائض شرعیہ منقسم ہوگا،
فانہ ان وجدت اضافۃ العقد الی عمرو وقع الشراء لہ والاب یملکہ فملکہ عمرو ابتداء والا وقع الشراء لزید ثم جعلہ باسم عمرو صار ہبۃ منہ بحکم العرف واستغنت عن القبض لان ہبۃ الاب لولدہ الصغیر تتم بمجرد الایجاب وفی الہندیۃ عن القنیۃ اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واہبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو قال اشتریت ھذالہ صار ملکا لہ ۱؎ اھ ملخصا،
کیونکہ اگر مکان کی خریداری عمرو کی طر ف منسوب کی گئی تھی تو عمرو کے لئے وہی ہوئی جبکہ باپ اس کارروائی کا مختارہے، تو اس مکان کا عمرو ابتداء مالک بنا ورنہ خریداری باپ زید کی ہوئی پھر اس نے عمرو بیٹے کے نام کی تویہ باپ کی طرف سے عرف کے لحاظ سے ہبہ ہوا اور اس ہبہ میں قبضہ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ نابالغ بیٹے کو ہبہ کردینے سے ہی تام ہوجاتاہے، ہندیہ میں قنیہ سے مروی ہے کسی نے کپڑا خرید کر نابالغ بیٹے کے لئے اسے کاٹ دیا تو وہ واہب بن گیا اور بیٹے کو سونپا گیا اگرچہ ابھی سلا یانہ ہو، اور اگر باپ کہہ دے کہ میں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے خریدا ہے توبیٹا مالک ہوگیا اھ ملخصا۔
(۱؎فتاوی ہندیہ      کتاب الہبہ الباب السادس   نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۳۹۲)
وفی احکام الصغار للعلامۃ الاستروشنی عن الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملک الشراء للولد وتکون الضعیۃ للولد لانہا تصیر واہبۃ والام تملک ذٰلک ویقع قبضہا عنہ ۱؎۔
اور علامہ استروشنی کے احکام الصغار میں ذخیرہ اورتجنیس سے منقول ہے عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے زمین خریدی تو یہ خریداری اس عورت کی اپنی ذات کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ملک ہوگی کیونکہ اس نے بیٹے کو ہبہ کردی جبکہ ماں کو یہ اختیار حاصل ہے توماں کا قبضہ بیٹے کے لئے ہوگا (ت)
 (۱؎ جامع احکام الصغارعلی ہامش جامع الفصولین     مسائل البیوع     اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۸۷)
اورا گر بالغ تھا تو زید مشتری اور بائع مکان کے باہم عقد بیع وشراء میں جو لفظ زبان پرآئے ان پر نظر کی جائے گی اگر ان میں عمرو کی طرف اضافت عقد تھی مثلا بائع نے کہا یہ مکان میں نے تیرے بیٹے عمرو کے ہاتھ بیچا زید نے کہا میں نے اس کے لئے خریدا یا اس کے جواب میں اتنا ہی کہا کہ میں نے خریدا یا زید نے کہا یہ مکان میں نے اپنے بیٹے عمرو کے لئے خرید کیا، بائع نے کہا میں نے عمرو کے ہاتھ بیچا، یا اسی قدر کہا کہ میں نے بیچا،

فان الاضافۃ فی احد الکلامین کافیۃ اذا لم یوجد فی الاخر خلافہا کما صححہ فی وجیز الکردری وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار خلافالما فہم العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی وصورۃ الخلاف ان تقع الاضافۃ فی احد الشطرین الی احد وفی الاخر کان قال اشتریت لفلان فقال بعت منک حیث یبطل العقد فی الاصح لانہ خاطب المشتری فردہ لغیرہ فلایکون جوابا فما بقی الابشرط واحد افادہ فی فروق الکرابیسی کمانقلہ عنہا فی البحر ۱؎۔
عقد کرنے والے فریقین میں سے ایک کے کلام میں اضافت ہو توکافی ہے بشرطیکہ دوسرے کاکلام اس کے منافی نہ ہو جیسا کہ وجیز کردری میں اس کی تصحیح ہے اور ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کی ہے جبکہ علامہ شامی کا فہم اس کے خلاف ہے حالانکہ خلاف کی صورت یہ ہے کہ ایجاب قبول میں سے ایک میں اضافت ایک کی طرف ہو اور دوسرے میں دوسرے شخص کی طرف اضافت ہو مثلا خریدار کہے میں نے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی تو اس کے جواب میں بائع یوں کہے یہ چیز میں نے تجھے فروخت کی، تو صحیح ترین قول میں یہ عقد باطل ہے کیونکہ بائع نے مشتری کوخطاب کرکے عقد دوسرے کی طرف پھیردیاتو مشتری کے ایجاب کے مطابق جواب نہ ہوا تو یہ عقد صرف ایک طرف ہوا، اس کا افادہ الکرابیسی کے فروق میں ہے۔ جیسا کہ اس کو وہاں سے بحر میں نقل کیا ۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب البیع    فصل فی بیع الفضولی    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۱۴۹)

(ردالمحتار     کتاب البیوع       فصل فی بیع الفضولی    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۷)
تو اس صورت میں یہ شرائے فضولی ہوا اور اجازت عمرو پر موقوف رہا، اگر اس نے اجازت دی مکان ابتداء ملک عمرو ہوا اور اسی کے ورثہ پر تقسیم ہوگا اور اگر پیش از اجازت مرگیا بیع با طل ہوکر مکان ملک بائع پر رہا۔
فی الدرالمختار لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلواضافہ توقف بزازیہ وغیرہا ۲؎ اھ مختصرا وفی البزازیۃ الصحیح وانہ اذا اضیف العقد فی احد الکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ ۳؎ اھ وفی الدر لاتجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ ۴؎ اھ۔
درمختار میں ہے اگر کسی نے غیر کے لئے خریدا تو خریدار پر نافذ ہوگی بشرطیکہ اس کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا اگر خریدکو غیر کی طرف منسوب کرتے ہوئے عقد کیا تو اس غیر کی اجازت پر عقد موقوف ہوگا، بزازیہ اھ مختصرا، اور بزازیہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جب فریقین میں سے کسی ایک کے کلام میں غیر کی طرف اضافت ہوگئی تو اس غیر کی اجازت پر موقوف ہوگا، اور درمختار میں ہے یہ موقوف عقد اس غیر کی موت کے بعد اس کے وراث کی اجازت سے جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کی موت سے یہ اختیار ختم ہوگیا اھ ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب البیوع       فصل فی بیع الفضولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱)

(۳؎ فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب البیوع الفصل العاشر نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۹۱)

(۴؎ درمختار    کتاب البیوع فصل فی الفضولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۲)
اور اگر لفظوں میں عمرو کی طرف اضافت نہ تھی اگر چہ قبالہ میں عمرو ہی کے ہاتھ بیچنا لکھا ہو
 (فان العبرۃ بما تلظ بہ لا بما کتباہ) کما نص علیہ فی الخیریۃ ۵؎۔
فریقین نے جو تلفظ کیا اس کا اعتبار ہوگا ان کے لکھے کا اعتبار نہ ہوگا جیسا کہ اس پر خیریہ میں نص کی ہے۔ (ت)
 (۵؎ فتاوٰی خیریہ    کتاب الوقف         دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۴۰۔ ۱۳۹)
تو یہ شراء زید کے لئے واقع اور زید ہی اس کا مالک ہوا اب بعد اس کے جبکہ تحریر قبالہ وغیرہا کارروائیاں بنام عمرو کرائیں تو یہ بحکم عرف شائع کی طرف سے عمرو کے لئے ہبہ ہوا،
فان مثل ھذا یدل دلالۃ واضحۃ علی التملیک وھی المثبتۃ للہبۃ فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک ۱؎ الخ فی احکام الصغاران المعتبر فی الباب التعارف وفی العرف یراد بہ البرو الصلۃ ۲؎۔ الخ۔
کیونکہ اس جیسی صورت کی تملیک پر واضح دلالت ہے اور اسی سے ہبہ کا ثبوت ہوتاہے، ردالمحتار میں ہے کہ ایجاب وقبول کا تلفظ ضروری نہیں بلکہ ایسے قرائن کا وجود کافی ہے جو تملیک پر دال ہو الخ۔ اوراحکام الصغار میں ہے کہ اس باب میں تعارف معتبر ہے اور عرف میں ہبہ سے بھلائی اور صلہ مراد ہوتاہے۔ الخ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۰۸)

(۲؎ جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۷۶)
پس اگر عمرو نے بربنائے ہبہ قبضہ کاملہ پالیا تھا تومکان ملک عمرو ہوگیا اس کے ورثہ پر تقسیم ہوگا ورنہ ملک زید پر باقی ہے وارثان عمرو کا اس میں کچھ حق نہیں۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ اتخذ لولدہ الصغیر ثوبا یملکہ وکذا الکبیر بالتسلیم ۳؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے نابالغ بیٹے کے لئے کپڑا لیا تو بیٹا مالک ہوجائے گا اور یوں بالغ کے لئے بشرطیکہ اس کو سونپ دیا ہوا ھ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار    کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۰۹)
Flag Counter