Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
22 - 120
مسئلہ ۵۳: ۲۵ رجب ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک مکان خرید کر اپنی دختر دہندہ عاقلہ بالغہ کو ہبہ کامل مع قبضہ کردیا، زید خود دوسرے مکان میں رہتا تھا اس مکان موہوب میں ہندہ ہبہ سالہا سال سے رہا کی اور اور رہتی ہے مگر زید نے اس ہبہ کی کوئی دستاویز نہ لکھی، ہاں کل عزیز اور چند ورثاء اور تمام اہل محلہ اس ہبہ سے اگاہ ہیں اور گواہی دینے کو موجود ہیں اس صورت میں وہ ہبہ تمام وکامل ہوگیا یا نہیں اور مکان ہندہ دختر زید ہے یا ملک زید قرارپاکر اس کے ترکہ میں تقسیم ہوگا۔ بینوا توجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں وہ مکان خالص ملک ہندہ دختر زید ہے جس میں زید کا اصلا کوئی استحقاق نہیں۔ نہ وہ زید کا ترکہ قرار پاسکے کہ شریعت مطہرہ میں ہبہ وغیرہ تمام عقود صرف زبان سے ہیں تحریر کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے بغیر کسی عقد کو ناتمام وغیر مکمل تصور کیا جائے

فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ میں ہے :
اما اشترط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلا زم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذٰلک شرعا والزیادۃ لایحتاج الیہا ۱؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
لیکن شرط لگانا کہ اشٹام لکھا جائے اور رجسٹروں میں درج کیا تو شرعا یہ ضروری نہیں، اور شرعی وضع کے خلاف ہے کیونکہ اکیلا لفظ ہی اس کی صحت کے لئے کافی ہے اور زیادہ کی ضرورت نہیں اھ ملخصا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب الوقف    دارلمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۱۶)
مسئلہ ۵۴: شعبان ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صور ت میں کہ زید نے ایک اراضی اپنے بیٹے کے نام خریدی، بعد ایک مدت کے وہ زمین ایک طبیب کوہبہ کی پسر زید اصل مالک زمین نے کہ عاقل بالغ تھا اس فعل کو جائز رکھا اور کہا مجھے منظور ہے چنانچہ وہ طبیب ایک مدت تک برضائے واہب ومالک اس زمین پر قابض ودخیل رہا، اب بعد انتقال زید وپسر زید نبیرہ زید اس زمین کو واپس لینا چاہتا ہے، آیا وہ اسے واپس لے سکتاہے ؟ اور اس واپس لینے کا اسے شرعا اختیار ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں اگرچہ زید کا ہبہ ہبہ فضولی تھا مگر جب اصل مالک نے اس کی اجازت دی اور موہوب لہ نے برضائے مالک قبضہ پالیا تو وہ زمین اس طبیب کی ملک تام ہوگئی اب کہ مالک نے انتقال کیا اصلا حق رجوع کسی کو نہ رہا نبیرہ زید کا ارادہ واپسی محض مہمل ہے اسے خواہ کسی کو اس زمین کو واپس لینے کااصلا اختیار نہیں ۔ 

درمختارمیں ہے :
باب موانع الرجوع یجمعہا حروف دمع خزفۃ والمیم موت احد المتعاقدین اھ ۲؎ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رجوع سے موانع کویہ حروف جامع ہیں دمع خزقہ، اور ''م'' سے مراد عاقدین میں سے ایک کی موت ہے اھ ملخصا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
مسئلہ ۵۵: ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعد انتقال مورث اعلٰی کے ترکہ مشترکہ سے جزوعمرو کو زبانی دیا یا بخشا یاکل حصہ خالد اور ولید کو بذریعہ تحریر ہبہ کیا اور جز ویا کل غیر منقسم پر قبضہ دیا ، بعد اس کے دیگر شرکاء اور زید میں بابت ترکہ مشترکہ غیر منقسم مورث اعلٰی کے نزاع ہوکر تقسیم جائداد ہوئی، زید مذکور نے ازروئے تقسیم اپنا وہ حصہ کہ جس کا جزو یاکل ہبہ کر چکا تھا پایا اس کُل کو بیع کردیا صورت مذکورہ بالا میں دہندگی اور بخشندگی اور ہبہ زبانی وتحریر ی جائز اور قابل نفاذ ہے یانہیں؟ بیان کرو تم اجر پاؤتم
الجواب

شے مشترکہ صالح تقسیم کا ہبہ قبل تقسیم ہر گز صحیح نہیں اور اگر یوں ہی مشاعا یعنی بے تقسیم موہوب لہ کو قبضہ بھی دے دیا جائے تاہم وہ شیئ بدستور ملک واہب پر رہتی ہے موہوب لہ کا اصلا کوئی استحقاق اس میں ثابت نہیں ہوتا، نہ وہ ہر گز بذریعہ ہبہ اس کا مالک ہوسکے جب تک واہب تقسیم کرکے خاص جزء موہوب معین محدود وممتاز جداگانہ پر قبضہ کاملہ نہ دے، یہاں تک کہ ایسے قبضہ ناقصہ کے بعد بھی اگر موہوب لہ اس شیئ میں بیع وغیرہ کوئی تصرف کرے محض باطل وناقابل نفاذ ہے اور واہب کے سب تصرفات جیسے قبل ہبہ نافذ تھے اب بھی بدستور تام ونافذ ہیں۔ یہی حق وصحیح معتمد ہے اور اسی پر تعویل واعتماد لازم، پھر یہ شیوع چاہے یوں ہو کہ سرے سے خود واہب کی جائداد میں ایک حصہ غیر منقسم کا مالک ہے یہی حصہ کل یا بعض قبل تقسیم ہبہ کیا یا یہ تو اس کل چیز کا مالک تھا مگر ہبہ اس میں سے ایک جز وغیر منقسم کا کیا یا ہبہ بھی کل کا کیا مگر دو شخصوں کو دیا اور ہر موہوب لہ کا حصہ جداوممتاز کرکے قبضہ نہ دلایا، تینوں صورتوں کا وہی حکم ہے کہ ہبہ محض ناتمام اور ایسے قبضہ کے بعد بھی موہوب لہ کو اصلا ملک حاصل نہیں، 

تنویر الابصارمیں ہے :
تتم الہبہ بالقبض فی محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم ولولشریکہ فان قسمہ وسلمہ صح و لوسلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذتصرفہ فیہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
مقسوم محفوظ اور ناقابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ قبضہ سے تام ہوتاہے جبکہ مشاع قابل تقسیم ہوتو اگرچہ شریک کو ہی ہبہ کیا وہ صحیح نہ ہوگا، ہاں اگر تقسیم کردیا اورقبضہ دے دیا تو صحیح ہوگا، اور مشاع کو ہی سونپ دیا تو موہوب لہ مالک نہ ہوگا لہذا اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا اھ ملتقطا(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار        کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)
اسی میں ہے :
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا۔ ۱؎
اگر دو حضرات نے ایک مکان ایک ہی شخص کو ہبہ کیا صحیح ہے اگر عکس کیا تو صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار        کتاب الھبۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
قال فی مشتمل الاحکام نقلا عن تتمۃ الفتاوی ان ہبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح ۲؎۔
مشتمل الاحکام میں تتمۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ مشاع چیز کا ہبہ باطل ہے، یہی صحیح ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی خیریہ          کتاب الھبۃ      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۱۱۳)
ردالمحتار میں ہے :
ولو سلمہ شائعا قال فی الفتاوی الخیریۃ لا تفید الملک فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرف فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی وقاضیخان وروی عن ابن رستم مثلہ وافتی بہ فی الحامدیۃ والتاجیۃ وبہ جزم فی الجوہرۃ والبحر ونقل عن المتبغی انہ لو باعہ الموھوب لہ یصح وفی نورالعین عن الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض ولا یثبت الملک فیہا الاعند اداء العوض ، نص علیہ محمد فی المبسوط وھو قال ابی یوسف وذکر قبلہ ہبۃ المشاع فیما یقسم لا تفید الملک عند ابی حنیفۃ وفی القہستانی ھو المختار کما فی المضمرات وہو الصحیح فحیث علمت انہ ظاہر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظہرانہ الذی علیہ العمل ونص فی الاصل انہ لووہب نصف دارہ عن اٰخروسلمہا الیہ فباعہا الموھوب لہ لم یجزدل انہ لایملک حیث ابطل البیع بعد القبض ونص فی الفتاوٰی انہ ھوالمختار ۱؎ اھ ملخصا۔
اگر مشاع کا قبضہ دیا خیریہ میں فرمایا کہ وہ ظاہر الروایۃ میں مفید ملک نہ ہوگا، امام زیلعی نے فرمایا، اگر مشاع پر قبضہ دیا تو موہوب لہ مالک نہ بنے گا، لہذا اس کا تصرف بھی صحیح نہ ہوگا اگر کیا تو ضمان دے گا، اس میں واہب کا تصرف نافذ رہے گا، یہ طحاوی اور قاضیخان نے ذکر کیا ہے اور ابن قاسم سے ایسی ہی روایت ہے اور اسی پر حامدیہ اور تاجیہ میں فتوٰی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم فرمایا ہے، اور المتبغٰی سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ نے اس کو فروخت کیا تو جائز نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ فاسدہبہ پر قبضہ باعث ضمان ہوگا اس پر موہوب لہ کی ملکیت عوض ادا کئے بغیر ثابت نہ ہوگی اس پر امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے۔ اور یہی امام ابویوسف کا قول ہے، اس سے قبل ذکر فرمایا کہ مشاع جو قابل تقسیم ہو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک وہ مفید ملک نہ ہوگا اور قہستانی میں فرمایا یہی مختار ہے جیسا کہ مضمرات میں ہے یہی صحیح ہے اور میرے علم کے مطابق یہ ظاہر الروایۃ ہے اور اس پر امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کی نص ہے اسی کو انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، تو واضح ہوا کہ اسی پر عمل ہے، اور مبسوط میں نص فرمائی ہے کہ اگر کسی کو نصف مکان ہبہ کیا اور سونپ دیا اور موہوب لہ نے اسے فروخت کردیا تو یہ کارروائی جائز ہوگی یہ کلام دال ہے کہ موہوب لہ اس کا مالک نہ ہو ا کیونکہ انہوں نے قبضہ کے باوجود بیع کو باطل کہا ہے، اور فتاوٰی میں منصوص ہے کہ یہی مختار ہے اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار     کتاب الھبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۱۱)
صورت مستفسرہ میں زید نے جو اپنے حصہ کا ایک جز عمرو کو دیا یاخالد وولید کو کل حصہ ہبہ کیا دونوں حالتوں میں یہ نہ صرف ایک وجہ سے مشاع بلکہ ہر طرح مشاع درمشاع تھا عمرو کو دینے میں یوں کہ اصل حصہ زید ہی ہنوز مشاع تھا پھر اس مشاع میں کا ایک جز غیر منقسم عمرو کو بخشا اور خالد وولید کے نام ہبہ میں یوں کہ ایک تو اصل حصہ مشاع دوسرے دوشخصوں کو بے تقسیم دینا، پس بہرحال حکم یہی ہے کہ یہ سب ہبہ تحریری ہوں خواہ زبانی محض باطل وبے اثر ہوئے اور عمرو وخالد وولید کو کوئی استحقاق اس موہوب میں نہ ملااور بیع کہ زیدنے کی  بے تامل صحیح ونافذ وتام وکامل ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی نصف جائداد کا اپنے پسر متوفی کی زوجہ کو اپنی حیات وصحت میں مالک کردیا اور وہ جائداد جب ہی منقسم ہوگئی کہ بہو نے حیات زید میں اس پرقبضہ کاملہ پالیا اور بعد زید بھی بدستور پچاس برس بلکہ زائد تک اس پر قابض رہی اب عورت نے اپنا بھائی چھوڑ کر انتقال کیا زید کے دوسرے پسر کی اولاد اس جائداد میں دعوٰی کرتے ہیں اس صورت میں دعوٰی ان کا قابل سماعت ہے یا وہ صرف حق وارثان عورت ہے اور اولاد پسر زید کا اس میں کچھ حق نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب

صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالک مستقل بہو ہوگئی وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہا، نہ ان کا دعوٰی مسموع ہوسکتا ہے، وہ صرف حق وارثان عورت ہے
فان التملیک ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ تملیک بطور بیع ہو تو ظاہر ہے اور اگر بطور ہبہ ہو تو تقسیم اورقبضہ دینے سے تام ہوگیا اور موت سے لازم ہوگیا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter