| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۵۲: ۴ ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ایک بھائی حقیقی اور تین حقیقی بھتیجوں کو ایک مکان ہبہ بلاعوض کیا اور بیعنامہ رجسٹری کراکر ان کے حوالے کیا جس کو عرصہ دس بارہ برس کا گزر گیا کہ یوم ہبہ سے وہ ہرطرح اب تک اس پر قابض اور دخیل ہیں اور مرمت اور شکست وریخت وغیرہ سب انہیں کے اختیار اور ہاتھ سے ہوتے رہے اور اس درمیان تین بھتیجوں میں سے دو نے قضا کی ان کی جگہ ان کی اولاد خورد سال اور ان کی بیویاں قائم وقابض ہوئیں، اب زید ہبہ کو فسخ کیا چاہتاہے تو اب اس کو واپس لینے کا اختیار حاصل ہے یانہیں؟ بینوا۔
الجواب اگر زید نے وہ مکان تقسیم کرکے ہر موہوب لہ کو ایک محدود ومعین وممتاز ٹکڑے پر جداجدا قبضہ کاملکہ کرادیا تھا یا وہ مکان کوئی چھوٹی سی دکان یا کوٹھری تھا کہ قابلیت تقسیم نہ رکھتا تھا یا چاروں موہوب او وقت ہبہ فقیر تھے (اور فقر کے معنی بالغوں کے لئے یہ ہیں کہ مال بقدر نصاب کے خود مالک نہ ہوں اگرچہ ان کے والدین غنی یعنی مالک نصاب ہوں اور نابالغ کے فقر میں یہ بھی شرط ہے کہ اس کا غنی باپ زندہ موجود نہ ہو، اگر ماں غنیہ ہوکر بچہ اپنے باپ کی زندگی میں اس کے غنا سے غنی قرار پاتاہے یہاں تک کہ اسے زکوٰۃ وصدقہ واجبہ دینا روانہیں اورماں کے غنا سے غنی نہیں ٹھہرتا) ان صورتوں میں وہ ہبہ قطعا صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگیا جس میں رجوع کا زید کو ہر گز اختیار نہیں کہ موہوب لہم فقیر ہیں تو ہبہ صدقہ ہے اور صدقہ میں رجوع نہیں۔ ورنہ وہ سب واہب کے ذی رحم محرم ہیں اور ایسی قرابت میں ہبہ سے رجوع ناجائز، خصوصا بھتیجوں کے حصہ میں تو رجوع سے ایک اور مانع بھی پیش آیا یعنی موہوب لہم کا مرجانا کہ جواز رجوع کے لئے زندگی عاقدین میں شرط ہے۔
فی الدرالمختار تتم الھبۃ بالقبنض الکامل فی محوز مقسوم ومشاع لا یبقی منتفعا بہ بعد ان یقسم کبیت وحمام صغیرین لانہا لاتتم بالقبض فیما یقسم لعدم تصور القبض الکامل فان قسمہ وسلمہ صح لزوال المانع وھب اثنان داراً لواحد صح وبعکسہٖ لا لشیوع فیما یحتمل القسمۃ واذا تصدق بعشرۃ دراھم اووھبھا الفقیرین صح لان الھبۃ للفقیر صدقہ والصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالٰی وہو واحد فلا شیوع، ویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم والقرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نیسا لایرجع ۱؎ اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن المضمرات لوقال وھبت منکما ھذہ الدار والموہوب لہما فقیران صحت الھبۃ بالاجماع اھ ۲؎، وفی مختصر القدوری لایصح الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض اھ ۳؎۔
درمختار میں ہے کامل قبضہ سے ہبہ تام ہوتاہے اس میں جو تقسیم ہوکر محفوظ چیز اور ایسی غیر منقسم چیز جو تقسیم ہوکر محفوظ اور قابل اتنفاع نہ رہے جیسے چھوٹا کمرہ اور چھوٹا حمام، کیونکہ قابل تقسیم چیز میں قبضہ تام نہیں ہوتا اس لئے کہ کامل قبضہ متصور نہیں ہوسکتا، ہاں اگر قابل تقسیم کو تقسیم کرکے سونپا تو صحیح ہے کیونکہ مانع زائل ہوگیا دو حضرات نے ایک مکان ایک شخص کو ہبہ کیا تو صحیح ہے۔اگر عکس ہو یعنی ایک نے دو کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ قابل تقسیم غیر منقسم ہوا ،اور اگر دس درہم صدقہ کئے یا دو فقیروں کو ہبہ کئے صحیح ہے کیونکہ فقیر کو ہبہ بھی صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اللہ تعالٰی کے لئے ہوتاہے اور وہ ایک ہی ذات ہے، تو غیر منقسم ہونا نہ پایا گیا، اور فریقین سے ایک کا سونپ دینے کے بعد فوت ہوجا نا اور قرابت رجوع کے لئے مانع ہے تو اگر اپنے کسی نسبی ذی رحم محرم کو ہبہ کیا تو رجوع نہ کرے گا اھ ملتقطا، اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے مضمرات کے حوالہ سے منقول ہے اگر کہا کہ میں تم دونوں کو یہ مکان ہبہ کرتاہوں حالانکہ موہوب لہ دونوں فقیر ہیں تو ہبہ صحیح ہے بالاجماع اھ اور مختصر القدوری میں ہے قبضہ کے بعد صدقہ میں رجوع صحیح نہیں اھ۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۱۵۹ تا ۱۶۳) (۲؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۴) (۳؎ مختصر القدوری کتاب الھبۃ مطبع مجیدی کانپور ص۱۵۷)
اور اگروہ مکان بڑا یعنی قابل تقسیم تھا اور زید نے مشاعا چاروں کو ہبہ کیا اور تقسیم کرکے خاص خاص معین حصوں پر جدا جدا قابض نہ کردیا اور موہوب لہم سب یا بعض اس وقت غنی بمعنی مذکور تھے (یعنی ان میں کوئی بذات خود مالک نصاب تھا یا ان میں کسی نابالغ کا باپ مالک نصاب زندہ موجود تھا) تو رجوع وواپسی درکنار یہ ہبہ صحیح ومعتمد وظاہر الروایۃ پر سرے سے مفید ملک واقع نہ ہوا مکان بدستور ملک زید پر باقی ہے جس میں موہوب لہم خواہ ان کے ورثہ کا کوئی حق نہیں ان پر لازم ہے کہ سارامکان زید کو واپس دیں اور زید قطعا اختیار رکھتاہے کہ جس وقت چاہے بے ان کی رضامندی کے بطور خود قبضہ کرلے جس سے نہ ان کی قرابت منع کرسکے نہ بعض عاقدین کا مرجاناکہ مکان ان کی ملک میں ایا ہی نہ تھا جو شرائط رجوع دیکھےجائیں بلکہ بعض علماء کو ہبہ مشاع کو فاسد اور بعد قبضہ ناقصہ مفید ملک خبیث مانتے ہیں ان کے نزدیک بھی اس کا رد واجب، اور واہب کو ہمیشہ اختیار رجوع رہتاہے جس سے قرابت خواہ موت احدالعاقدین وغیرہما کوئی مانع اصلا منع نہیں کرسکتا۔ بہرحال اس صور ت میں ان لوگوں کا قبضہ اگرچہ سالہاسال ہے محض ناجائز وبے اثر اکہ تقادم مدت سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے :
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ کالدار والارض ولوصدق الوارث علی صدورھا من المورث ولاتفید الملک فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی ولوسلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی و قاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ وذکر عصام انہا تفید الملک وبہ اخذ بعد المشائخ انتہی، ومع فادتہا للملک عندھذا البعض اجمع الکل علی ان اللواھب استرداد ھا من الموھوب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکما یکون للواہب الرجوع فیہا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونہا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاک ۱؎ اھ ملخصا۔
قابل تقسیم چیز کا مشاعی طورپر (غیر منقسم) ہبہ صحیح نہیں، جیسے مکان اور زمین اگر چہ موروث کے مرنے کے بعد اس کے وراث تصدیق بھی کردیں کہ مورث نے یہ ہبہ کیا تھا، اور ظاہر الروایۃ میں یہ ہبہ مفید ملک ہیں ہے، امام زیلعی نے فرمایا اگر بطور شیوع ہبہ کیا تو موہوب لہ مالک نہ ہوگا حتی کہ اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا تو وہ مضمون بنے گا جبکہ واہب تصرف کرے تو نافذ ہوگا یہ طحاوی اور قاضیخاں نے ذکر کیا ہے، ابن رستم سے یہی منقول ہے جبکہ عصام نے ذکر کیا کہ مفید ملک ہوگا، اسی کو بعض نے لیا ہے اھ، ان بعض حضرات کے مفید ملک ہونے کے باوجود سب کا اس پر اتفاق ہےکہ اگر واہب واپس لینا چاہےتو لےسکتاہے اگرچہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہو، اور جس طرح خود واہب رجوع کرسکتاہے اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء بھی رجوع کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ قابل رد ہے اور ہلاک ہوجائے تو اس کا ضمان دیا جائے گا اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الہبہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۱۲)
قہستانی میں ہے:
وکمالا یمنع الرجوع فی الھبۃ الفاسدۃ القرابۃ فکذا غیرھا من الموانع ۱؎ اھ، جس طرح قرابت فاسدہ ہبہ کو واپس لینے میں مانع نہیں اسی طرح دیگر امور بھی مانع نہیں اھ،
(۱؎ جامع الرموز )
اقول: فقد ظہر الجواب اذا کانوا جمیعا اغنیاء وکذا اذا کان بعضہم غنیا والبعض فیقر لان الشیوع انما لایعمل فی الصدقۃ اذا تصدق بالکل فقیرین اوفقراء لکون المراد بالکل ح ھو وجہ الواحد الاحد الفرد جل جلالہ کما مرعن الدرالمختار ۲؎۔ امااذاکان بعضہ ھبۃ لغنی فلم یکن المراد بکلہ وجہہ تعالی فتحقق المعنی المانع عن افادۃ الملک الاتری الی ماصرح بہ فی تنویر الابصار وشرحہ الدرالمختار من ان الصدقۃ کالھبۃ بجامع التبرع وح لاتصح غیرمقبوضۃ ولا فی مشاع یقسم ۳؎ اھ
اقول: (میں کہتاہوں) تو جواب واضح ہوگیا کہ صدقہ کی صورت میں سب غنی ہوں یا بعض غنی اور بعض فقیر ہوں تو رجوع صحیح نہیں ہے کیونکہ شیوع صدقہ میں موثر نہیں اسی لئے جب کل دو یا کئی فقیروں پر صدقہ کیا تو صحیح ہے کیونکہ صدقہ واحد احد جل جلالہ کے لئے ہوتاہے جیسا کہ درمختار سے گزرا اور اگراس کُل کا بعض حصہ کسی غنی کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ اب کل اللہ وحدہ کے لئے نہ ہوا تو صحیح معتمد مذہب کے مطابق مفید ملک ہونے سے مانع پایا گیا۔ آپ نے دیکھا تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار نے جوتصریح کی کہ صدقہ ہبہ کی طرح تبرع کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے تو مفید ملک نہ ہونے کی صور ت میں غیر مقبوض اور قابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ صحیح نہ ہوگا اھ،
(۲؎ درمختار کتاب البہۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱) (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۶)
قال فی البحر فان قلت تقدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المراد ھھنا من المشاع ان یہب بعضہ لواحد فقط فح ھو مشاع یحتمل القسمۃ بخلاف الفقیرین فانہ لا شیوع کما تقدم ۱؎ اھ فما نحن فیہ عین (عہ) تلک الصورۃ المصرح ببطلانہا اعنی التصدق بالبعض وابقاء البعض علی ملک نفسہ فان الھبۃ فی حصۃ الاغنیاء لما لم تفد شیئا للشیوع بقیت تلک الحصۃ علی ملک الواہب فلم یکن الا تصدقا بالبعض وابقاء، للبعض الباقی فلم یصح ای لم یفد ملکا للفقیر ایضا وبہ تبین ان لیس ھذا رجوعا فی الصدقۃ حتی لاتجوز بعد القبض فان الرجوع انما ھو بعد ثبوت الملک للفقیر وھھنا لاملک فلا رجوع فلا منع ھکذا ینبغی التحقیق اذا ساعد التوفیق۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بحر میں فرمایا اگر اعتراض ہوکہ پہلے یہ گزرا کہ قابل تقسیم غیر منقسم چیز کا صدقہ دوفقیروں کو جائز ہے جو اس عبارت میں بیان کیا کہ دس دراہم دو فقیروں کو جائز ہے تو میں جواب دیتاہوں کہ یہاں مشاع سے مرادیہ ہے کہ ایک چیز کا بعض ایک کو دیا جائے تو یہ مشاع قابل تقسیم ہے بخلاف جب دو فقیروں کو ہبہ کیا جائے تو شیوع نہ ہوگا، جیساکہ گزرا ہے اھ تو ہماری زیر بحث صورت بعینہٖ یہی ہے۔ جس کے بطلان کی تصریح ہے یعنی ایک چیز کے بعض کہ صدقہ کرنا اور بعض کو اپنی ذاتی ملک میں رکھنا کیونکہ اغنیاء کے حصے کا ہبہ جب شیوع کی وجہ سے مفید ملک نہ ہوا تو وہ حصہ واہب کی اپنی ملک میں رہا تو یہ صرف بعض کا صدقہ اور بعض کا اپنی ملک میں باقی رکھنا ہوا تو صحیح نہ ہوگا، یعنی فقیر کی ملکیت کے لئے بھی مفید نہ ہوا تو واضح ہوگیا کہ مذکورہ صورت میں صدقہ میں رجوع نہ بنا حتی کہ بعدقبضہ بھی ناجا ئز ہے،اور رجوع تب ہوتا کہ فقیرکی ملکیت پہلے ثابت ہوتی جبکہ یہاں فقیر کی ملکیت ثابت نہ ہوئی، تو ملک نہیں ہوئی تو رجوع بھی نہ ہوا تو ممنوع صورت نہ ہوئی، جب تو فیق ساتھ دے تو تحقیق یوں چاہئے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
عہ: ثم رأیت بحمد اﷲ تعالٰی نفس الجزئیۃ فی العقود الدریۃ حیث قال وجہ صحتہا اذا کانت لفقیرین ماصرحوا بہ من ان الصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالٰی وھو واحد فلا شیوع والا فقد صرحوا فی المتون ایضا بان الصدقۃ کالھبۃ لاتصف فی مشاع یقسم ای بان انہ لووھب دارہ مثلا التی تحتمل القسمۃ من غنیین لایصح للشیوع خلافالھما لو تصدق بہا علی فقیرین یصح اتفاقا لما مرولووھب نصفہا لواحد وتصدق بہ علی فقیر واحد لم یصح لتحقق الشیوع ۲؎ اھ ھکذا ھو بالواؤ فی و تصدق فی النسخۃ المطبوعۃ ببولاق مصر ۱۲۷۳ من الھجرۃ المطہرۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
عہ : پھر میں نے بحمد اللہ تعالٰی بعینہٖ یہ جزئیہ العقود الدریۃ میں دیکھا جہاں انہوں نے فرمایا، اس کی صحت دو فقیروں کی صورت میں ان کی تصریح کے مطابق یہ ہے کہ صدقہ سے اللہ تعالٰی کی رضا مطلوب ہے اور وہ ذات واحد احد ہے توشیوع نہ ہوا، ورنہ تو خود فقہائے نے متون میں تصریح فرمائی ہے کہ صدقہ ہبہ کی طرح قابل تقسیم شیوع میں صحیح نہیں کہ ایک چیز کا بعض حصہ ایک کو صدقہ کرے، الحاصل اگر ایک مکان جو قابل تقسیم ہے دو غنی حضرات کوہبہ کیا تو شیوع کی وجہ سے صحیح نہیں، اس میں صاحبین کا اختلاف ہے، جبکہ یہ مکان دو فقیروں کو صدقہ کیا تو بالاجماع جائز ہے جسیا کہ گزراہے، اوراگراس مکان کا بعض غیر منقسم حصہ ایک فقیر کوصدقہ دیا اور بعض حصہ دوسرے ایک کو ہبہ کیا تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ شیوع پایا گیا،( بولاق مصر کے مطبوعہ ۱۲۷۳ھ کے نسخے میں ''وتصدق'' ہے، تصدق سے قبل واؤ ہے (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ بحرالرائق کتاب الھبۃ فصل بمنزلہ مسائل شتی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۹۷) (۲؎ العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۷)