فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
20 - 120
مسئلہ ۴۹: ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے بحالت نوکری سرکاری اپنے بیٹے بکر کے نام جو کہ اس وقت محض نابالغ تھا اپنے روپیہ سے کچھ جائداد خریدی اور کچھ جائداد اپنی بی بی منکوحہ کے نام خریدی اور اس وقت ایک بیٹی بابالغ بھی تھی اس کے نام نہیں خریدی پھر زید کے ایک اور لڑکا پیدا ہوا اس کے نام بھی کچھ جائداد خریدی مگر وہ لڑکا بحالت نابالغی ہی میں فوت ہوگیا جب اس فوت شدہ لڑکے کے نابالغ کی جائداد کے کرایہ دار کو بیدخل عدالت سے زید نے کرایا تو عدالت میں زید نے بیان کیا کہ جائداد میری ہے اور میرے روپیہ سے خریدی گئی ہے لڑکے کا نام اسم فرض تھا، جب زید نوکری سے علیحدہ ہوکر اپنے مکان پر رہا تو اس وقت زید کی دو اور لڑکیاں بھی نابالغ تھیں ان کے نام بھی جائداد نہیں خریدی اس وقت اپنے نام جائداد خریدی اور کچھ بیٹے بکر کے نام سے بھی (جوکہ اس وقت قریب بلوغیت کے تھا) خریدی مگر زید کل جائداد کی آمدنی جو اپنے نام اور بکر کے نام اور بیٹے متوفی کے نام اور اپنی بی بی کے نام تھی از خود وصول کرتا تھا اور اپنے تحت اوراختیار میں رکھتا تھا کسی کو اس میں مداخلت نہ تھی اور زید کی زندگی میں بکرکو جو کہ اس وقت بالغ تھا یہ اختیار نہ تھا کہ جائداد یا جائدادکی آمدنی سے کچھ کسی صرف روٹی کپڑے سے جیسا کہ دنیا میں باپ بیٹوںکو کھلاتے ہیں کھاتے اور پہنتے گو زید نے بکر کی شادی بھی کردی تھی مگر اس حالت میں بھی بکر کو آمدنی جائداد سے کچھ سروکار نہ تھا جو جائداد بکر کے نام سے خریدی تھی اس کے نالشات کی پیروی میں بکر ہمراہ زید کے جایا کرتا تھا کہ بکر کے نام سے ہوتی تھی چنانچہ زید کی زندگی میں حالت مذکورہ بالا رہی، جب زید نے وفات پائی تو اس وقت یہ کل جائداد اور اسباب اور نقدی بکر اور والدہ بکر کے پاس رہی اور بکر تحصیل آمدنی کرنے لگا، جب والدہ بکر نے بھی انتقال کیا تو سب جائداد وجنس ونقد بکر کے ہاتھ آئی اس وقت سے آج تک بکر قابض ومتصرف ہے، بکر نے اب کل جائداد کی آمدنی کی توفیر اور اس روپیہ سے جو کہ زید چھوڑ کر مرا اور جائداد اپنے نام اور اپنے دوبیٹوں کے نام خریدی، اب اگر تقسیم جائداد کی ہو اور بہنیں اپنا حصہ طلب کریں تو ازروئے شرع شریف آیا کل جائداد میں سے جو کہ بکر کے نام پہلے تھی اور اب بکر نے زید کے روپیہ اور کُل جائداد کی آمدنی کی توفیر سے اپنے نام اور اپنے بیٹے کے نام سے خریدی تھی حصہ مل سکتاہے یا صرف اُس جائداد میں سے جو کہ زی کے نام اور زید کی بی بی کے نام اور عمرو متوفی کے نام تھی مل سکتاہے ، لہذا التماس ہے کہ فتوٰی بموجب حکم خدا اور رسول دیا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
الجواب
اللھم ھدایۃ الحق والصواب، وہ جائداد کہ زید نابالغ بیٹے بکر کے نام بدفعات اپنے روپیہ سے خریدی خاص ملک بکر کی ہے جس میں دیگر وارثان زید کا اصلا کچھ حق نہیں،
عقودا لدریہ فی تنقیح الحامدیہ میں ہے : فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملیک الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ ۱؎ اھ مافی العقود اقول: فشراء الاب باسم الولد یقع رأسا للولد لان الاب یملک ذٰلک فالولد ملک العقار ابتداءً والاب متبرع باداء الثمن حیث لم یظہر قصد الرجوع۔
ذخیرہ اور تجنیس میں ہے، عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی زمین اپنے مال سے خریدی تو یہ خریداری ماں کی اپنی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کی مالک نہیں، تو یہ زمین بیٹےکی ہوگی کیونکہ ماں نے اسے ھبہ کیا ہے عقود الدریہ کی عبارت ختم ہوئی، اقول: (میں کہتاہوں) تو باپ کی ایسی خریداری ابتداء سے بیٹے کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ہی ہوگی کیونکہ باپ کو نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کا اختیار ہے اور باپ رقم کی ادائیگی میں بیٹے کے حق میں متبرع ہوگاکیونکہ اس نے رجوع کااظہار نہیں کیا۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۳۷)
اور جائداد کا تاحیات زید قبضہ بکر میں نہ آنا کچھ مضر نہیں کہ اول تو زید کی ملک بربنائے ھبہ نہیں بلکہ بربنائے خرید پدر ہے کما علمت اٰنفا (جیسا کہ تونے ابھی جانا۔ ت) اور ملک بذریعہ شراء قبضہ پر موقوف نہیں اور بالفرض ھبہ ہی ٹھہرائے تو قبضہ پدر بعینہٖ قبضہ پسر نابالغ ہے،
مجمع الانہر میں ہے :
ھبۃ الاب لطفلہ تتم بالعقد لانہ فی قبض الاب فینوب عن قبض الصغیر لانہ ولیہ ۱؎۔
نابالغ بچے کے لئے باپ کا ھبہ صرف عقد سے ہی تام ہوجا تاہے کیونکہ وہ ھبہ باپ کے قبضہ میں بیٹے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہےکیونکہ یہ اس کا ولی ہے۔ (ت)
(۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الھبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۵۷)
اورآمدنی جائداد سے بکر کو سروکار نہ ہونا بھی ملک بکر کے منافی نہیں نابالغ کی خود اپنی جائداد خاص غیر عطائے پدرہوتی ہے تو اس پر اور اس کی آمدنی پر بھی باپ ہی کا تصرف واختیار ہوتا نابالغ کو اس سے بھی کچھ سروکار نہ ہوتا اور بعد بلوغ بھی عام طورپر دیکھا جاتاہے کہ جو جائدادیں لوگ اپنے بیٹوں کو لکھ دیتے اور تکمیل ھبہ کے لئے بھی قبضہ کرادیتے ہیں بلکہ در پردہ بیع صحیح شرعی وھبہ ثمن تملیک بلاعوض کی تکمیل کرتے ہیں ان پر بھی تاحیات آباء ان مالکان واقعی کا کچھ اختیار اور باپ کی دست نگری کے ساتھ روٹی کپڑے کے سوا کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا اور اتفاقا جو حیات پدر میں اپنا مستقل اختیار رکھنا چاہتاہے بدوضع وآوارہ ناسعادت مند گنا جاتاہے، نظیر اس کی اس کا عکس ہے کہ جب بیٹے لائق وہوشیار وقابل کار ہوتے اور باپ اپنا فارغ البال رہنا چاہتے ہیں تمام املاک پدر قبضہ وتصرف ابناء میں رہتے ہیں۔ مالکوں کو روٹی کپڑے کے سوا کچھ تعلق نہیں ہوتا جبکہ اس سے بیٹوں کا مالک ہونا لازم نہیں آتا اس سے باپ کا مالک ہونا ہی سمجھا جائے گا بلکہ بدرجہ اولٰی کہ بیٹوں کا قبضہ نہ ہونا توکراہت قلبی سے بھی ہوسکتاہے کہ دل میں قبضہ پدر سے راضی نہ ہو مگر لحاظ کے باعث مانع نہیں آتےخصوصا نابالغ کہ اس کی رضا بھی کوئی شے نہیں بخلاف آباء کہ ان کی املاک پر تصرفات ابناء ان کی رضاہی سے ہوتے ہیں باوجود اس کے یہ قبضہ واختیار وتصرف واقتدار دلیل ملک نہیں ہوتا،
کما فی الخیریۃ وفی القنیۃ فع (ای فتاوٰی العصر للامام علی السندی) عن (ای الامام عمر النسفی) امراوالادہ ان یقسموا ارضہ التی فی ناحیۃ کذا بینہم ففعلوا لایثبت الملک لہم، ظم (ای الامام ظہیر الدین المرغینانی) مثلہ بخ (ای الامام بکر خواہر زادہ) قال لولدہ تصرف ھذہ الارض فاخذ یتصرفہا لاتصیر ملکالہ ۱؎۔
(۱؎ القینۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الھبہ باب فی الفاظ التی ضیعقد بہاالھبہ کلکتہ بھارت ص۲۱۴)
یوہیں زید کا جائداد عمرو پسر دوم کی نسبت اس کی مرگ کے بعد یہ ظاہر کرنا کہ جائداد میری ہے میرے روپیہ سے خریدی گئی، عمرو کانام فرضی تھا کچھ مضرت نہیں کرتا کہ اول تو یہ صرف اس کا زبانی دعوٰی تھا ملک عمرو شرعا ثابت ہوئی صرف اس کے اسم فرضی بتانے سےکیونکر زائل ہوسکتی تھی، نہ اس کے روپیہ سے خریدا جانا اس کے ملک پر دلیل تھا جبکہ صراحۃ اس نے پسر نابالغ کے نام خریدی،
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۲؎.
باپ کے مال سے خریداری کرنے سے لازم نہیں کہ وہ مبیع باپ کی ملک ہو۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۱۹)
اور بالفرض ہوبھی تو اس سے بکر کا نام بھی فرض ہونالازم نہیں۔ تو بلاوجہ دلیل شرعی سے کیونکہ عدول ہوسکتاہے، پس لاجرم یہ جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام خریدیں ہر گز محل توریث نہیں۔ اسی طرح وہ بھی جو بکر نے اپنے یا اپنے نابالغ بیٹوں کے نام مول لیں اگرچہ قیمت زر مشترک سے ادا کی ہو،
فان الشراء متی وجد نفاذا علی عاقد نفذ کما فی الھدایۃ والدرالمختار ۳؎ وغیرھا من الاسفار۔
کیونکہ خریداری جب خریدار پر نافذ ہوتو وہ نافذ ہی قرار پائے گی، جیسا کہ ہدایہ، درمختار وغیرہما کتب میں ہے۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الوکالۃ فصل لا یعقد وکیل البیع الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۹)
خیریہ میں ہے :
لاتثبت الدار للاب بقول الا بن اشتریتھا من مال ابی ۴؎۔
بیٹے کے یہ کہنے سے کہ میں نے یہ گھر باپ کے مال سے خریدا ہے، باپ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔ (ت)
(۴؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۹)
غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترک سے دیا گیا تو باقی ورثاء کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائداد کا کوئی پارہ ان کی ملک ٹھہرے،
ردالمحتار میں ہے :
ما اشتراہ احدہم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائۃ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک ۱؎۔
ان میں سے جو بھی اپنی ذات کے لئے خریدے گا وہ اسی کی ہوگی، اور اس کے شرکاء حضرات اتنے ثمن کا اس کو ضامن بنائیں بشرطیکہ اس نے مشترکہ مال سے ادائیگی کی ہو۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۳۸)
پس ثابت ہوا کہ زید نے جو نقد روپیہ چھوڑا یا زید عمرو وزوجہ زید کے نام جو جائدادیں تھیں پس وہی متروکہ زید وزوجہ زید ہیں باقی جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام یا بکر نے خود اپنے نام یا اپنے بیٹوں کے نام خریدیں ملک بکر وپسران بکر ہیں جن میں باقی ورثہ زید کا کوئی حق نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ جائداد موروثی اور خود خرید مقبوضہ مملوکہ اپنے کے بنظر حق تلفی دیگر ورثاء شرعی کے نصف جائداد بطریق ساز اور مصلحت وقت اپنی زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ کے نام تاحین حیات اس کے ھبہ کردی اور اختیار انتقال اور قبضہ جائداد موہوبہ پر موہوب الیہا کونہ دیا اور تحصیل وتشخیص ومصارف ضروری وغیر ضروری اپنے اختیار میں رکھی اور یہ شرط ھبہ نامہ میں لکھی کہ بالعوض حق الخدمت یہ جائداد ھبہ کی جاتی ہے تاحین حیات اپنے موہوب الیہا مالک اس جائدا کی گردانی جائے اس کے بعد دختر متوفیہ کی اولاد کہ محجوب الارث ہے مالک ہوگی اور وہ شیعہ مذھب ہے، بعد تملیک ھبہ نامہ کے زید نے ایک جزء موہوبہ کا بیع کرڈالا اور بقیہ موہوبہ کو بشمول جز منجملہ نصف جائداد وغیرہ موہوبہ کے اپنی اور زوجہ مدخولہ کی طرف سے اس نواسہ شیعہ محجوب الارث کے نام بلاکسی استحقاق ھبہ مکر رکیا اور تاحین حیات اپنے خود قابض ومتصرف رہا اور مرگیا، ایسی صورت میں یہ ھبہ شرعا جائز ہے یاناجائز؟
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں ھبہ محض باطل وبے اثر ہیں اور جائداد میں اس عورت خواہ نواسے کا کوئی استحقاق بذریعہ ھبہ نہیں بلکہ تمام وکمال وہ جائداد خاص متروکہ زید قرار پاکر بحکم فرائض اس کے وارثوں پر تقسیم کی جائے گی یہاں بطلان ھبہ کے لئے اگر اور کوئی وجہ نہ ہو تو اسی قدر بس ہے کہ حیات واھب میں قبضہ نہ ملا،
عالمگیریہ میں ہے :
لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۱؎۔قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۴)
درمختارمیں ہے :
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
''م'' فریقین میں سےکسی ایک کی سونپ دینے کے بعد موت ہو اور سونپنے سے پہلے ہو تو ھبہ باطل ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
مسئلہ ۵۱: ۳ ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ! بعد تسلیم نیاز کے گزارش ہے اگر زید نے عمرو کو کوئی چیز ھبہ بلا عوض کی اور اس کو دس بارہ برس کا عرصہ بھی گزر گیا وہ جب سے قابض ودخیل ہے تو زید اس کو واپس کرسکتاہے یا نہیں؟ فقط راقم خاکسار عزیز اللہ
الجواب
اگر وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بیٹا ، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، بھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے، نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا، نہ اب تک موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے، نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تک باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حُسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ جب تک وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملک میں باقی وقائم اور واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سوبرس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہے بایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اخیتار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگا، پھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح ہوجائے گی لیکن گناہ ہرطرح ہوگا کہ دے کر پھیرناشرعا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتاقے کرکے چاٹ لیتاہے
(اللہ تعالٰی کی پناہ، اور یہ تمام مسائل درمختار وغیرہ کتب میں بسط سے مذکور ہیں۔ ت)
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہےحضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: العائد فی ھبتہ کالقلب یعود فی قیئہٖ لیس لنا مثل السوء ۱؎، رویاہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ہبہ دے کر رجوع کرنے والا اپنی قے میں عود کرنے والے کتے کی طرح ہے۔بُری مثال ہمارے شایان شان نہیں، دونوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع من الھبۃ امین کمپنی کراچی ۱ /۱۵۵)
(صحیح البخاری کتاب الھبۃ ۱ /۳۵۷ و کتاب الحیل ۲ /۱۰۳۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)
(صحیح مسلم کتاب الھبات باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶)
سنن اربعہ میں ہے حضور اقدس سید العالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
مثل الذی یعطی العطیۃ ثم یرجع فیہا کمثل الکلب أکل حتی اذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ ۲؎، رواہ عن ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم وصححہ الترمذی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر پھر اس میں رجوع کرتاہے اس کتے کی طرح ہے جو سیر ہوکر کھاتا ہے پھر سیر ہوجانے پر قے کرتاہے اور قے میں رجوع کرتاہے یعنی چاٹتا ہے۔ انہوں نے اس کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم نے روایت کیا اور ترمذی نے اس کی تصحیح کی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب الرجوع فی الھبۃ آفتا ب عالم پریس لاہور ۲ /۱۴۳)
(سنن النسائی کتاب الھبۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۶)
(سنن ابن ماجہ ابواب الھبات باب الرجوع فی الھبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۴)
(جامع الترمذی ابواب الولاء والھبۃ باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع فی الھبۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۳۵)