Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
19 - 120
بلکہ اس قدر تو بالاجماع ثابت ہے کہ اس قسم کے ھبہ میں خود واھب او ر اس کے بعد ورثہ کو اختیاررجوع رہتاہے اگر چہ موہوب لہ کا قبضہ ہوگیا ہو اگرچہ ھبہ زوجہ یا ذورحم محرم کے نام ہو باوجود یہ کہ زوجیت و رحم موانع رجوع سے ہیں،
فی الخیریۃ اجمع الکل علی ان للواھب استردادہا من الموہو لہ ولوکان ذراحم محرم من الواھب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکمایکون اللواھب الرجوع فیہا یکون الوارثۃ بعد موتہ ۱؎ اھ ملتقطا،
فتاوٰی خیریہ میں ہےکہ اس پر اس کا اجماع ہےکہ واھب کو موہوب لہ،سے واپس لینے کا حق ہے اگرچہ وہ واھب کاذی رحم محرم ہو، اور جس طرح واھب کو رجوع کا حق ہے ایسے ہی اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو حق ہے اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ         کتاب الھبہ        دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۱۱۲)
اور اگر صورت مستفسرہ میں شیوع نہ بھی پایا جائے (جیسا کہ محمود کا لفظ ''خالصا بمن مقرر شدہ'' اور لفظ ''موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا'' اس کا ایہام کرتاہے) تاہم ھبہ محض ناتمام ہے اوررشیدہ کی ملک اس میں ہرگز ثابت نہ ہوگی کہ ان دستاویزوں کی عبارت خود صریح نص ہےکہ محمود نے رشیدہ کو جائداد پر قبضہ نہ دلایا بلکہ صراحۃ قبضہ دینے سے انکار کیا حیث قال چوں وہیوٹ ومختاری آں الی قولہ ہمیں طور از آمدنی مملوکہ اہل خانہ خود الخ'' اور ھبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار تتم الھبۃ بالقبض الکامل ۲؎ اھ۔
  درمختار میں ہے مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے اھ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الھبہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)
یہاں تک کہ اگر ھبہ صحیحہ میں واھب بے قبضہ دئے مرجائے تو ھبہ باطل ہوتا ہے اور فرائض اللہ پر تقسیم پاتی ہے۔
فی موانع الرجوع من شرح التنویر والمیم (عہ) موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبل بطل ۳؎۔
شرح تنویر الابصارمیں ، رجوع سے موانع، میں ذکر کیا ''م'' فریقین میں سے سونپ دینے کے بعد کسی کی موت ہو اور موت اس سے پہلے ہو تو پھر باطل ہے۔ (ت)
عہ:  اشارۃ فی قول صاحب التنویر ''دمع خزفہ۔ عبدالمنان۔
 (۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار   کتاب الھبہ     مطبع مجتبائی دہلی   ۲ /۱۶۱)
غرض جہاں تک نگاہ کی جائے اس عقد کے لئے کوئی وجہ صحت نہیں، نہ جائداد کا ھبہ ٹھیک آتا ہے نہ توفیر کا، نہ وصیت نہ کوئی صورت ، پھر محمود کے یہ الفاظ '' کہ منمقر ووارثانم را'' الخ کیا کام دے سکتے ہیں، آخر جس بنا پر اس نے یہ الفاظ لکھے تھے جب راسا وہی منعدم ہے تو یہ جواس پر مبنی تھے خود منعدم ہوگئے، بھلا یہ عقد تو شرعا کچھ اصل ہی نہیں رکھتا خاص ھبہ صحیحہ میں شرع مطہر کا حکم ہے کہ جب تک موہوب لہ کاقبضہ نہ ہوجائے واھب کو ہر وقت نہ دینے کا اختیار ہے اور اس پر قبضہ دلانے کا جبرنہیں ہوسکتا،
لانہ متبرع والمتبرع لاجبر علیہ فی الدرالمختار صح الرجوع فیہا بعدالقبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ ۱؎ اھ ای والرجوع انما یکون عن شیئ وقع وتم وقبل(عہ) التمام دفع لارفع۔
کیونکہ وہ متبرع (بھلائی کے طور پر مفت دینے والا ) ہے اور متبرع پر جبر نہیں ہوسکتا۔ درمختارمیں ہے ھبہ میں قبضہ دینے کے بعد رجوع صحیح ہے جبکہ قبضہ سے قبل توھبہ تام ہی نہیں ہے اھ یعنی شیئ کے وقوع اور تام ہونے کے بعد رجوع ہوتاہے جبکہ تام ہونے سے قبل دفاع ہوتاہے رفع نہیں ہوتا۔ (ت)
عہ : لیس فی الاصل الواو قبل قبل ولابدمنہ ۱۲ عبدالمنان
(اصل میں قبل سے پہلے واؤ نہیں ہے حالانکہ یہاں واؤ ضروری ہے)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار  کتاب الھبہ باب الرجوع فی الھبہ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۱)
اور کوئی شخص اپنی کسی تحریر خواہ تقریر سے احکام شرع مطہر کو نہیں بدل سکتا۔

دیکھو جہاں موانع نہ ہوں تو شرع نے واجب کو بعد قبضہ بھی رجوع کا اختیار دیا اگر چہ وہ ہزار بار کہے میں نے اپنا حق رجوع ساقط کیا، مجھے رجوع کا اختیار نہ رہا اگر رجوع کروں تو نامقبول ہو کچھ مسموع نہیں۔ اور حق رجوع بدستور باقی۔
فی فتاوٰی الامام قاضیخان رجل وھب لرجل شیئا ثم قال الواھب اسقطت حقی فی الرجوع لایسقط حقہ ۲؎ اھ ومثلہ فی البزازیۃ وغیرھا۔
امام قاضی خان کے فتاوٰی میں ہے ایک شخص دوسرے کو ھبہ کرکے کہے میں نے اس سے رجوع کا ساقط کردیا ہے تو اس کا یہ حق ساقط نہ ہوگا اھ اور اسی طرح بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضیخاں        کتاب الھبہ فصل فی الرجوع فی الھبہ    مطبع نولکشور لکھنؤ    ۴/ ۷۰۴)
اور جب اس کے کہنے سے خود اُس کا حق زائل نہیں ہوتا تو ورثہ کو نزاع ودعوٰی سے کون مانع ہوسکتاہے
فان الرجل اقدر علی نفسہ منہ علی غیرہٖ کما لایخفی
(کیونکہ دوسرے کی نسبت انسان کو اپنی ذات پر قدرت زیادہ ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت)

بالجملہ صورت مستفسرہ میں خلاصہ حکم یہ ہے کہ محمود وحمیدہ کی یہ سب دستاویزیں محض لغو ومہمل و بیکار ہیں اور اس کا غذ کانام شرع میں کچھ نہیں کہ جب شرعا یہ کوئی عقد ہی نہ ہوا تو اس کا نام کیا رکھا جائے اور رشیدہ اور اس کی اولاد کو ان تحریرات کی رو سے مطلق کسی طرح کا استحقاق نہ اصل جائداد میں حاصل ہوا نہ زر تو فیر میں، نہ انھیں دعوٰی کرنا شرعا جائز بلکہ حرام وممنوع، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter