فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
18 - 120
مسئلہ ۴۸ : از بڑودہ مرسلہ جناب نواب سید نور الدین حسن خاں بہادر ۱۳۰۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حمیدہ نے اپنے بیٹے محمود بن حمید کی شادی رشیدہ بنت سعید سے کی اور ۲۷ محرم الحرام ۱۲۷۸ھ کو محمود کی طرف سے بدعوی ولایت ایک دستاویز میں جائداد اور موروثی محمود کا تملیک نامہ بنام رشیدہ مع دیگر چند شروط لکھ دیا، جب محمود بالغ ہوا ۲۵ ذیقعدہ ۱۲۸۵ھ کو اس نے دستاویز نوشۃ حمیدہ کی تسلیم وقبول کے ساتھ از سر نو ایک وثیقہ اُنھیں شروط پر متضمن تحریر کیا جس کے عنوان میں خلاصہ عبارت یہ ہے :
''اقرار صحیح شعی می تمایم بریں معنی کہ والدہ ماجدہ عقد بمن بارشیدہ بنت سعید بستہ ودستاویز از طرف منمقروکالۃ نوشتہ داد وراں حین بحد بلوغ نہ رسیدہ بودم اکنوں دستاویز مذکوررا مسلم و قبول داشتہ باز اصالۃ شروط چند نوشتہ میدہم''۔
میں صحیح شرعی اقرار کرتاہوں کہ میری والدہ ماجدہ نے میرا نکاح رشیدہ بنت سعید سے کیا اور مجھ مقر کی طرف سے وکالۃ انھوں نے ایک دستاویز لکھ کردی جبکہ میں ابھی بلوغ کی حد کو نہ پہنچا تھا ، اب اس دستاویز مذکورہ کو تسلیم اور قبول کرتاہوں نیز اصالۃ چند شرائط لکھ کر دے رہاہوں۔ (ت)
پھر شرط میں خلاصہ مضمون ان الفاظ سے ہے:
'' از آمدنی موضع پوناگاؤں وغیرہ واقع بندرسورت بعداخراج سہم شرعی والدہ صاحبہ کہ ثمن است باقی انچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم باندازہ مبلغ پنچ ہزارروپیہ بمن می رسد مالکش مسماۃ رشیدہ مع اولاد بطنا بعد بطن است از روز عقد نکاح از آمدن حصہ موروثیم مسماۃ مذکورہ درقبض وتصرف خود درآردودراں من مقرو وارثانم رادعوٰی وحقے نیست و نماندہ است''۔
سُورت بندرگاہ میں واقع موضع پوناگاؤں وغیرہ کی آمدنی سے اپنی والدہ کے شرعی حصہ جو کہ آٹھواں ہے کو نکال کر باقی اپنے موروثی جاگیر کے حصہ مبلغ پانچ ہزار اندازاً جو مجھے آتا ہے اس کی مالک مسماۃ رشیدہ مع اولادبطن در بطن ہے میرے موروثی حصہ کی آمدن پر مسماۃ مذکورہ نکاح کے روز سے قابض اور متصرف ہے اور اس میں مجھ مقر اور میرے ورثاء کا کوئی دعوٰی اور حق نہیں ہے اور نہ باقی ہے۔ (ت)
بعدہ، یکم جولائی ۱۸۶۹ء کو اسی شرط کی توثیق وتاکید کے لئے دوسری تحریر جداگانہ لکھی جس کی تلخیص ان کلمات سے ہے:
''از شرائط مذکورہ ایں یک شرط علیحدہ نوشتہ میدہم کہ دردیہات جاگیر موروثی محدودہ ذیل کہ شرعا از ترکہ پدری خالصا بہ منمقر رسیدہ منجملہ آں مبلغ چہار ہزار روپیہ منمقراہل خانہ خود مسماۃ رشیدہ بنت سعد را بطوع ورغبت بلااکراہ واجبار بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل علی سبیل الدوام والاستمرار ملک گردانیدم چوں وہیوٹ ومختاری آں از قدیم الایام بقبضہ من است وحصہ داراں دیگر کہ دریں جاگیر شریک اند باوشاں زر نقد موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا ہموارہ می رسانم ہمیں طور اند آمدنی مملوکہ واہل خانہ خود مثل دیگر حصہ داراں بہ اہل خناہ موصوفہ واولادش ہمیشہ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ مذکورہ دروصول حؓق خود کہ معین ومقرر کردہ شود فتورے وتہاونے بیند پس اوشاں را اختیار کل ست بہ نہجیکہ خواہندہ از منمقر حق خود بگیرند ومسماۃ مذکورہ رادر صورت زر مذکور اختیارکلی ست منمقرووارثانم رادرآں حقے ودخلے ودعوی و نزاعے نیست ونماندہ ایں چند کلمہ بطریق اقرار نامہ و وثیقہ وتملیک نامہ نوشتہ شد کہ عند الحاجۃ سند باشد۔
مذکورہ شرائط میں سے ایک علیحدہ شرط لکھ کر دے رہاہوں کہ دیہات میں موروثی جاگیر جس کی حدود ذیل ہیں میں سے جو مجھے شرعی طور پر والد کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہے اس میں سے مبلغ چار ہزار روپیہ کا میں مقر اپنے اہل خانہ مسماۃ رشیدہ بنت سعید کو اپنی خوشی اور رغبت سے بلاجبر واکراہ بطن دربطن نسلا بعد نسل دائمی اور استمرار کے طور پر مالک بناتاہوں جس طرح قدیم ایام سے اپنے کھاتہ اور مختاری جو میرے قبضہ میں ہے اور اس جاگیر میں دیگر حصہ دار شریک حضرات کو مساوی نقد زر کے موافق حصہ پہنچاتاہوں اسی طرح اپنی مملوکہ اور اپنے اہل خانہ کے دوسرے حصہ داروں کی طرح موصوفہ اہل خانہ اور اس کی اولاد کو ہمیشہ بلاعذر وتکرار حصہ پہنچاتارہوں گا اگر من مقر کی طر ف سے معین ومقرر حصہ کی وصولی میں مسماۃ مذکورہ کوئی کوتاہی اور سستی دیکھے تو اس پر اس کو کلی اختیار ہوگا کہ جس طرح چاہے مجھ مقر سے اپنا حق وصول کرے اور مسماۃ مذکورہ کو زرمذکور کے صرف میں کلی اختیار ہے من مقر اور میرے ورثاء کو اس میں کوئی دخل،حق، دعوٰی اور نزاع نہیں ہے اور نہ ہوگا۔ یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ وثیقہ اورتملیک نامہ لکھا ہے کہ عندالضرورت سند رہے (ت)
اور یہ جائداد جس کا ان دستاویزوں میں تذکرہ ہے محمود ودیگر ورثائے حمیدہ میں مشترکہ وغیرہ منقسم ہے اب شرع مطہر سے استفسار ہےکہ یہ تحریرات شرعامقبول ہوبکار آمد ہے یانہیں اور ان کی رو سے رشیدہ اس جائداد یا اس کی آمدنی کی مالک ہوئی یا نہیں اور یہ عقد کہ محمود سے بہ تکرار واقع ہوا بدیں لحاظ کہ اس کی والدہ نے جائداد موروثی کا تملیک نامہ لکھا تھا اور اس نے اسے منظور ومسلم رکھا اور خود اس کی تحریروں کے بعض الفاظ سے رشیدہ کوخاص حصہ جاگیر کامالک کرنا نکلتا ہے (اصل رقبہ دیہات کی تملیک ہے یا بلحاظ دیگر
الفاظ تحریر اول وتصریحات تحریر دوم) صرف آمدنی وزر توفیر کا دینا اور عطا کرنا ہے اور اس عقد کو ھبہ کہا جائیگا اور اسی کے شرائط اس کی صحت میں درکار ہوں گے (یا اس خیال سے کہ محمود نے صرف رشیدہ ہی کو مالک نہ کیا بلکہ بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل اس کی اولاد کے نام بھی تملیک کی) وصیت قرار پائے گا وبہر تقدیر شرعا صحیح رہے گا یا باطل۔ اگر باطل ٹھہرے تو محمود کے یہ الفاظ (کہ من مقرو وارثانم رادرآں دخلے وحقے ونزاعے نیست ونماندہ) اس کے یا اس کے ورثہ کے حق کو زائل کریں گے یانہیں؟ اور ان تحریرات کا شرعا کیا نام ہے؟ ھبہ نامہ یا اقرار نامہ یا تملیک یا کچھ اور؟ بینوا توجروا
الجواب
اللہم ھدایۃ الحق والصواب ان انت العزیز الوہاب،
یہ توظاہرہے کہ ابتداءً حمیدہ والدہ محمود ہ کا بنام رشیدہ جائداد محمود نابالغ کا تملیک نامہ لکھ دینا کوئی شے نہ تھا کہ نہ ماں دربارہ مالی ولی نہ خود ولی تھی کہ باپ کو مال صغیر سے ایک ذرہ کسی کو ڈالنے کااختیار نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ دون الام فی المال اھ ۱؎ ملخصا۔ وفیہ من الھبۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولو بعوض لانہا تبرع ابتداءً۲؎ اھ ۔
درمختار میں ہے کہ مال میں نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے ماں نہیں ہے اھ ملخصا، اور اسی میں ھبہ کے متعلق ہے والدہ کو حق نہیں کہ وہ بچے کے مال سے کوئی چیز ہبہ کرے خواہ بالعوض کیوں نہ ہو کیونکہ ھبہ ابتداء تبرع ہوتاہے۔ اھ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳)
(۲؎درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰)
تو وہ عقد محض باطل واقع ہوا یہاں تک کہ خود محمود کے بعد بلوغ جائز ومسلم رکھنے سے بھی اس کی اصلاح ممکن نہیں،
لانہ عقد فضولی صدر ولامجیز، فی حجر العقود الدریۃ عن جامع الفصولین لو طلق الصبی امرأتہ اووھب مالہ اوعقد عقدا ممالو فعلہ ولیہ فی صباء لم یجز علیہ فہذہ کلہا باطلۃ، وان اجازہا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لا مجیز لہا وقت العقد فلم تتوقف علی الاجازۃ الااذاکان لفظ اجازتہ بعد البلوغ مایصلح لابتداء العقد فیصح ابتداء لااجازۃ کقولہ اوقعت ذٰلک الطلاق فیقع لانہ یصلح للابتداء ۱؎ اھ ملتقطا۔
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جس کا جائز کرنے والا کوئی نہیں، اور عقود الدریۃ کے باب الحجر میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر بچہ بیوی کو طلاق دے یا کوئی ھبہ کرے یا کوئی ایساعقد کرے کہ اگر وہ عقد اس کا ولی اس کے بچپن میں کرتا تو بچے پر لاگو نہ ہوتا، تو بچے کے یہ تمام امور باطل ہیں۔ اور بلوغ کے بعد اگر وہ ان امور کو جائز کرے تو بھی جائز نہ ہوں گےکیونکہ عقد کے وقت ان کو جائز کرنے والا کوئی نہ تھا لہذا وہ اجازت پر موقوف نہ ہوئے، ہاں اگر بلوغ کے بعد ایسے لفظ سے جائز کرے جس سے ابتداء عقد ہوسکے تو ابتداء عقد کے طور پر یہ صحیح ہوجائے گی تاہم اجازت نہ کہیں گے، مثلا بلوغ کے بعد یوں کہے میں نے وہ طلاق واقع کی۔ تو طلاق اب ہوگئی کیونکہ یہ لفظ ابتدائے طلاق کی صلاحیت رکھتا ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الحجر حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب قندہار ۲ /۱۶۶)
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ محمود کا بعد بلوغ دستاویز نوشتہ حمیدہ کو مسلم مقبول رکھنا بھی محض مہمل و بے سود اور شرعا نامقبول ومردود، اب اس نے جو خودابتداء دوبار تملیک نامہ لکھا وہ عبارتیں صراحۃ نص ہیں کہ محمود نے صرف زر آمدنی وتوفیر رشیدہ کو دینا چاہا اصل رقبہ جائداد کی ھبہ وتملیک کا ان میں کہیں ذکر نہیں، تحریر اول میں کہ ایک جگہ یہ لفظ واقع ہوا ''آنچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم بمن میرسد مالکش رشیدہ است'' وہاں بھی حصہ سے مراد صرف حصہ توفیر ہے کہ اس سے پہلے تصریحا لفظ آمدنی مذکور اوریہاں بھی باندازہ مبلغ پنچ ہزار روپیہ کا لفظ اسی طرف ناظر، اور یہ عقد وصیت تو کس طرح نہیں ہوسکتا کہ وصیت میں فی الحال مالک نہیں کیا جاتا۔
لانہا تملیک مضاف الی ما بعد الموت کما فی التنویروغیرھا ۲؎۔
کیونکہ یہ تملیک مابعد الموت کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسا کہ تنویر الابصارمیں وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷)
اور عبارات زید صریح ہیں کہ رشیدہ فی الحال مالک ٹھہرائی گئی کما لایخفٰی (جیساکہ پوشیدہ نہیں ۔ ت) نہ یہ ممکن کہ بلحاظ لفظ نسلا بعد نسل جو لوگ نسل رشیدہ سے بعد کو پیداہوں ان کے حق میں وصیت قرار دی جائے کہ وہ وقت عقد معدوم تھی اور معدوم کے لئے وصیت باطل،
درمختارمیں ہے اس کی شرائط میں ہے کہ وصیت کرنے والا اس تملیک کا اہل ہو، اور وصیت کے وقت جس کے لئے وصیت کی ہے وہ زندہ ہو اھ ملخصا(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷)
تو لاجرم ھبہ ہی ہوگا، او ریوں ھبہ کرنا کہ اس گاؤں کی آمدنی جو ہواکرے گی میں نے تجھے ھبہ کی، شرعا صحیح نہیں،
فی الفتاوی الخیریۃ بہذا عُلِمَ عدم صحۃ ھبۃ ماسیتحصل من محصول القریتین بالاولٰی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یملکہ وھذا ظاہر اھ ۲؎۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس کو دونوں قریوں سے حاصل کرے گا اس کا ھبہ صحیح نہیں کیونکہ ھبہ کرنے والا ابھی تک خود اس پرقابض نہیں تو دوسرے کو کیسے مالک بنائےگا، یہ ظاہر بات ہے۔ اھ (ت)
(۲؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الھبہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۱۱)
اوراگر بالفرض اصل جائداد ہی کا ھبہ ہوتا جب بھی نراباطل تھا کہ وہ جائداد حسب بیان سائل مشاع وغیر منقسم ہے اور اسی طرح (عہ) مشیر ہے محمود کا وہ بیان کہ
چوں وہیوٹ ومختاری آں ازقدیم الایام بقبضہ من است اھ
کہ پٹے بانٹ کے بعد تو ہر ایک شریک حصہ کا مختار ہوجاتاہے اورھبہ مشاع مذھب صحیح پر محض باطل،
عہ: فی الاصل ھکذا واظنہ اسی طرف، بدر۔
فی الفتاوٰی الخیریۃ (سئل) فی رجل وھب ابنالہ بالغانصف مایملک (اجاب) الھبۃ باطلۃ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالٰی قال فی مشتمل الاحکام نقلا عن تتمۃ الفتاوی، ان ھبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح انتہی ۱؎ اھ۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے بالغ بیٹے کو اپنی نصف ملکیت ھبہ کی ہے تو جواب دیا کہ یہ ھبہ باطل ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اور مشتمل الاحکام میں انہوں نے تمتۃ الفتاوٰی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ غیر منقسم حصہ کا ھبہ باطل ہے اور یہی صحیح ہے انتہی اھ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۱۳)
اسی لئے اگر موہوب لہ، اسی حالت سے قبضہ بھی پالے تاہم وہ اس کا مالک نہیں ہوجاتا نہ اس کے تصرفات اس میں رواہوں اور واھب کے تصرف سراسر نافذ رہتے ہیں،
کما صرح بہ فی تنویر الابصار مغنی المستفتی والفتاوی التاجیۃ والمبتغی والجوھرۃ والبحرالرائق ونقلہ الامام الزیلعی ۲؎ عن الامام الہمام ابی جعفر الطحاوی و الامام فخر الملۃ والدین قاضیخان والامام ابن رستم وفی نور العین عن الوجیز نص علیہ محمد فی المبسوط وھو قول ابی یوسف ومذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی القہستانی ھو الصحیح، وعن المضمرات ھوالمختار وکذا صححہ فی العمادیۃ ۳؎، قال فی ردالمحتار فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد رحمہ اﷲ تعالٰی ورووہ عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ظہر انہ الذی علیہ العمل ۴؎الخ وتمامہ فیہ۔
جیساکہ اس کی تصریح تنویر الابصار، مغنی المستفتی فتاوٰی تاجیہ، المتبغی، جوہرہ اوربحرالرائق میں ہے اور اس کو امام زیلعی نے امام ہمام ابو جعفر طحطاوی اور امام فخر الملۃ والدین قاضیخان اور امام ابن رستم سے نقل کیا، اور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے مبسوط میں اس پر نص فرمائی ہے اوریہی امام ابویوسف کا قول اورامام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی کا مذھب ہے اور قہستانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اورمضمرات میں اس کا مختار ہونا منقول ہے اور ایسے ہی عمادیہ میں اس کی تصحیح کی ہے، ردالمحتارمیں فرمایا جہاں تک میرا علم ہے یہ ظاہر الروایۃ ہے اور بیشک اس پر امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے نص فرمائی ہے اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے اس کو روایت کیا ہے توظاہر ہوا کہ اسی پر عمل ہے الخ اس کا مکمل بیان ردالمحتارمیں ہے۔ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۵ /۹۴)
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ نور العین کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)