Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
17 - 120
کتاب الھبۃ

(ھبہ کا بیان)
مسئلہ ۴۶: از ریاست رامپور محلہ موتی خان مرسلہ طوطا رام    ۲۷ شوال ۱۳۳۶ھ

زید نے اپنی کل جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنے بھتیجے کے نام تملیک کراکر اس کو مالک وقابض کرایہ اور دستاویز میں لکھ دیا کہ جائداد تملیک شدہ کو میں نے اپنی ملکیت سے خارج کردیا اور مجھے میرے کسی وارث کو اس میں دعوٰی نہ رہا، جس وقت زید نے یہ دستاویز لکھی تھی اس وقت سے اس کے مرنے کے وقت تک زید کی کوئی اولاد نہ ذکور یا اناث موجود نہ تھی بس چار بھتیجے اور ایک نواسہ تھا اب بعد وفات زید نواسہ دعوٰی کرتاہے کہ دستاویز تملیک نامہ کے ذریعہ سے جو جائداد زید نے ایک بھتیجےکے نام منتقل کی تھی وہ قابل جواز ونفاذ کے نہیں اور وہ جائداد مندجہ دستاویز تملیک نامہ ملکیت زید قرار دی جائے اور متروکہ قائم ہوکر اس میں وراثت جاری کی جائے۔ دوسرا فریق کہتاہےکہ جب زید اپنی زندگی میں اس کو بذریعہ دستاویز تملیک منتقل کرگیا اور لکھ گیا کہ اس میں میری ملکیت باقی نہیں رہی تو وہ زید کی ملکیت قرار پاکر اس کا متروکہ قائم نہیں ہوگا نہ اس میں وراثت جاری ہوگی، شریعت اسلام کے بموجب ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ بینوا توجروا
الجواب

تملیک عین بلاوعوض ھبہ ہے اور ھبہ بعد قبضہ تام پھر بعدموت احدالعاقدین مطلقا لازم اگرچہ موہوب لہ اجنبی ہو اور بھتیجے کے نام تو فی الحال لازم، لہذا وہ جائداد بشرط قبضہ نامہ ملک موہوب لہ ہے۔ وارثان واھب کا اس پر دعوٰی باطل ہے۔
ولنارسالۃ فی تحقیق ھذا المرام سمیناھا "فتح الملیک فی حکم التملیک" من اختلج فی صدرہ شئی فلیطا لعہا۔
اس مقصد کی تحقیق میں ہمارا ایک رسالہ ہے اس کانام ہم نے "فتح الملیک فی حکم التملیک" رکھا ہے۔ اس مسئلہ میں کسی کو شبہ ہو تو وہ اس رسالے کا مطالعہ کرے۔ (ت)

تنویر الابصار میں ہے :
الھبۃ ھی تملیک العین مجانا ۱؎۔
ھبہ مفت میں عین چیز کا کسی کو مالک بنانا ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الھبۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۸)
اسی میں ہے  :
وتتم بالقبض ۲؎
 (اور قبضہ دینے پر تام ہوجاتاہے۔ ت)
 (۲؎درمختار شرح تنویر الابصار  کتاب الھبۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۵۹)
اسی میں ہے :
ویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین والقرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ ولو ذمیا اومستامنا یرجع ۳۔ (باختصار)۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ھبہ کے دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کی موت او ر قرابت ہونا، ھبہ میں رجوع (واپسی لینے) کے لئے مانع ہے۔ تواگر اپنے ذی محرم کو ھبہ کیا اگر چہ وہ محرم ذمی یا مستامن ہو تو رجوع نہ کرسکے گا (باختصار)۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎درمختار شرح تنویر الابصار        کتاب الھبۃ  باب الرجوع فی الھبہ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۶۳۔ ۱۶۱)
مسئلہ ۴۷: از مارہرہ منورہ مرسلہ سیدنا سید ابوالحسن نوری میاں صاحب دامت برکاتہم ۱۲۹۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مالک اصلی نے اپنے پسر عمرو کو دو باغ دئے پھر بعد چند روز کے عمرو سے واپس لے کر بکر اور خالد پسر وعمرو کو دئے یعنی پہلے خانہ ملکیت دفترحاکم میں نام عمرو کا قائم کرایا اور عمرو باذن واھب اس پر قابض ہو اور محاصل اس کا لیتا رہا اور احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتا رہا پھر عمرو سے واپس کرکے یعنی عمرو کا خانہ ملکیت دفترحاکم سے علیحدہ کراکے بکر اور خالد کانام اس خانہ میں قائم کرایا او روہ باغ دونوں کو عطا کئے اور عمرو نے جو یہ فعل اس کی غیبت میں ہوا تھا وقت اپنی حاضری کے بطوع ورغبت جائز رکھا اور کچھ تعرض نہ کیا مگر اس کے محاصل پر عمرو بدستور متصرف رہا اور تمتع ہر نوع کا ان باغات سے اٹھاتا رہا، اور بکر وخالد نے بربنا اس انبساط واتحاد کے کہ انہیں عمرو کے ساتھ تھا اس امر کا تعرض عمرو سے نہ کیا اور پٹہ جات ان باغات کے بکر اورخالد کے نام سے ہوتے رہے ، گاہے بکر پٹہ کردیتاہے  گا ہے خالد، گاہے دونوں کی طرف سے عمرو بقلم خود لکھ دیتا ہے، گاہے عمرو خود اپنے نام سے لکھ دیتاتھا، ان امور میں کبھی کوئی ایک دوسرے سے معترض نہ ہوتا، اور اسی طرح مختلف طور سے رسیدات پٹہ داروں کو بابت زرا قساط محاصل ملاکرتے تھے، اگر چہ زر اقساط صرف عمرو تحصیل کرتا اور اسی کے تصرف میں آتا، پھر بعد چند روز وقت بندوبست حال جو منجانب حکام ہوا بدستور خانہ ملکیت دفتر حاکم میں نام بکر وخالد قائم رہا یعنی انہیں دونوں کے نام سے زید مالک اصلی نے وہ بات دفتر بندوبست میں قائم کرائے اور اس امر کو عمرو نے بھی پھر بدستور جائز رکھا بلکہ خود تصدیق بھی دفتر میں اس امر کی کردی کہ بکر وخالد ان باغات کے مالک ہیں مگر پھر بھی محاصل باغات وہی عمرو بدستور قدیم پاتا رہا اور باغات اسی کے زیر تصرف رہے اور بکر وخالد نے اسی اتحاد ویکجہتی کے سبب سے کوئی اعتراض پھر بھی اس امر پر نہیں کیا اور نہ معترض ہوئے، اور گاہے گاہے محاصل ایک باغ کاخالد بھی لیتا رہا اور گاہ گاہ ایک باغ میں خود بھی زراعت بطور شیر کرلیتا تھا مگر بکر نے کبھی نہ محاصل پایا اور نہ کھبی زراعت بطور شیر کی بلکہ خود ہی کبھی قصد بھی نہ کیا اور اگر اس امر کا کبھی ذکر بھی آیا تو عمرو نے جواب دیا مالک تم ہو مگر تمھیں چنداں حاجت نہیں ہے اور میرا خرچ زائد ہے اور معاش کم ، یہ محاصل میری ہی تصرف میں رہنے دو، بکر نے اسے یکجہتی کی بنا پر منظور رکھا پھر بعد چند مدت کے بکر نے محاصل نصفی ان باغات کا لینا چاہا اور عمرو سے تعرض کیا تو عمرو مانع آیا غرض کہ بعد گفتگوئے بسیار عمرو نے یہ استدعا کی کہ بکر نصف سے ثلث لے لے یعنی کل میں جو نصف اس کا ہے اس میں وہ ثلث پر اقتصار کرے اور باقی اپنے طور پر خالد کے لئے چھوڑ دے، بکر نے بغرض قطع نزاع اپنے حق سے اس قدر نقصان گوارا کیا اور عمرو سے کہا ہم دونوں یعنی بکر و خالد کہ مالک باغات ہیں آپس میں فیصلہ کرلیں گے، چنانچہ اس امر پر باہم رضامند ہوکر تصفیہ ہوگیا یعنی درمیان بکر وخالد کے یہ صلح باستدعائے عمرو واقع ہوئی کہ ایک ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد فرزند عمرو کو چھوڑ دے، چنانچہ اس صلح کا اقرار نامہ بکر وخالد کی طرف سے بہ ثبت گواہی عمرو بنام ایک حکم ثالث کے تحریر ہوا اور ثالث نے بموجب اقرار نامہ فریقین فیصلہ لکھ دیا کہ ایک ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد اور اسے بموجب سوالات داخل خارج حکام وقت کے یہاں گزر گئے اور بربنائے اس صلح کے فصل ربیع وخریف گزشتہ کا ایک ثلث بکر نے پایا، ہنوز معاملہ داخل خارج ختم ہوا تھا کہ پھر بعد چند روز کے عمرو مع خالد کے پسر اپنے کے اس سے اعراض کرکے بکر کو اخذ محاصل ثلث سے مانع آئے اور دربارہ داخل خارج کے عمرو نے سوال دے دیا کہ مالک اصل میں ہوں ہمیشہ سے محاصل پاتا رہا ہوں بکر کوئی چیز نہیں ہے اور خالد نام میراخانہ ملکیت میں بجائے دونوں کے داخل ہوجائے اور اپنے بیٹے خالد کو راضی کرکے اس سے سوال دلادیا کہ واقع میں عمرو مالک ہے میں برائے نام ہوں چنانہ حکام وقت نے نام دونوں کا خانہ ملکیت سے اپنے دفتر میں سے خارج کرکے نام عمرو کا قائم کردیا، پس اس صورت میں بکر کا یہ سوال ہے کہ آیا حق میرا قائم رہا یا نہ رہا، اور اگر رہا تو کس حساب سے ؟ آیا نصفی بموجب عطائے قدیم زید مورث اصلی یا ثلث بموجب صلح حال کے یا دونوں صورت کا حق نہ رہا۔ بینوا توجروا
الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب، جبکہ حضرت مالک اصلی نے وہ باغ عمرو کو عطا فرما ددئے تھے اور عمرو نے ان پرقبضہ کامل پایا تھا کہ احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتے اور اس کی تحصیل وتشخیص فرماتے رہے تو وہ باغ ملک مالک اصلی سے نکل کر ملک عمرو میں آئے اور اب مالک حقیقی عمرو قرار پائے بعدہ، جب غیبت عمرو میں مالک اول نے نام عمرو خانہ ملکیت سے خارج کرکے نام بکر وخالد داخل فرمایاا ور وہ باغ انہیں عطا فرمادیئے تو یہ ھبہ ھبہ ملک غیر ٹھہرا اور اجازت عمرو پر موقوف رہا، پھر جب عمرو نے بعد حضور اس امرکو بطوع ورغبت جائز رکھا ھبہ اگرچہ صحیح ہوگیا ہو مگر اس کے تمامی، اور بکر وخالد کے ثبوت ملک محل کلام ہے اگر ھبہ ان دونوں حضرات کو مشاعا تھا یعنی ہر باغ دونوں صاحبوں کو مشترکہ عطا فرمایا گیا جب تو ناتمامی ھبہ وعدم ثبوت ملک موہوب لہا ظاہر ہے کہ واھب حقیقی یعنی عمرو نے اب تک تقسیم کرکے مجوزا ممیزاً تسلیم نہ کی۔
فی تنویر الابصار وتتم بالقبض فی یدہ محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم فان قسمہ و سلمہ صح اھ ملخصا، وقلت وھبۃ المشاع قیل فاسدۃ فیثبت بہا الملک للموھب لہ اذا قبضہ کذلک شائعا لکن ملکا خبیثا واجب الرد قائما والضمان ھالکا وبہ افتی البعض، والحق انہ لایثبت بہا الملک اصلاما لم یسلم مقسوما ھوالصحیح المعتمد کما حققہ فی ردالمحتار وبہ افتی الجم الغفیر وھو ظاہر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ فعلیہ التعویل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویر الابصار میں ہے ھبہ ایسے قبضہ سے تام ہوتاہے جو تقسیم ہوکر محفوظ ہوجائے، اور غیر منقسم جس کی تقسیم کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر منقسیم ہے جس کی تقسیم کرنی ہو وہ قبضہ سے تام نہ ہوگا ہاں اگر اس کی تقسیم کردی اور قبضہ میں دے دیا تو صحیح ہے اھ ملخصاً، میں کہتاہوں مشاع یعنی غیر منقسم کا ھبہ بعض کے نزدیک فاسدہ ہے لہذا اس پر قبضہ سے موہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجائیگی جبکہ اس نے اسی مشاعی حالت میں قبضہ کیا ہو تاہم یہ ملکیت خبیثہ ہوگی موجود رہنے کی صورت میں واجب الرد اور ہلاک ہونے کی صورت میں قابل ضمان ہوگی، اسی قول پر بعض نے فتوٰی دیا ہے جبکہ حق یہ ہے اس پر قبضہ سے ملکیت ہر گز ثابت نہ ہوگی جب تک اس کو تقسیم کرکے نہ دیا جائے یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تحقیق فرمائی اور اسی پر جم غفیر نے فتوٰی دیا ہے اور ہمارے تینوں ائمہ کرام سے یہی ظاہر الروایت ہے تو اسی پر اعتماد ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار   کتاب الھبۃ   مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۹)
اور اگر ایک ایک باغ ہر موہوب لہ کو جدا گانہ دیا گیا تھا تاہم اس قدر تقریر سوال سے ظاہر کہ جس طرح وہ باغ اس ھبہ سے پہلے قبض وتصرف عمرو میں تھے یونہی بعد ھبہ رہے اور آج تک عمرو نے اپنا ہاتھ ان پر سے نہ اٹھایا اور کسی دن بکروخالد کے قبضہ میں تسلیم نہ کیا اگر چہ رسید وپٹہ جات گاہے بکر وخالد بھی اپنی طرف سے تحریر فرمایا کرتے رہے ہوں کہ جب تک عمرو کا رفع ید اور قبضہ حضرات موہو ب لہما میں تسلیم ثابت نہ ہو ھبہ ہر گز تمام اورتملک موہوب لہما ثابت نہیں ہوسکتا۔
فی الہندیۃ ومنہا ان یکون الموہوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۱؎ انتھی ومثلہ فی الہدایۃ وغیرھا۔
ہندیہ میں ہے ایک صورت ان میں سے یہ ہے کہ موہوب کسی کے قبضہ میں ہو تو اس پر موہوب لہ کی ملکیت نہ ہوگی جب تک قبضہ نہ کرلے اھ، اس کی مثل ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الھبہ الباب الاول        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۷۴)
مانا کہ کسی وقت حضرات موہوب لہما یا ان میں سے ایک کا وضع یہ ثابت بھی ہوجائے مگر عمرو کا رفع یدہرگز پایہ ثبوت تک نہیں پہنچتا، اور یہ شرط اول ہے۔
الاتری لو وھب داراوسلمہا حتی وضع الموھوب لہ یدہ علیہاوکانت الدار مشغولۃ یمتاع الواھب لم تتم الھبۃ لعدم الرتفاع ید الواھب فلم یکمل القبض وفی ردالمختار ان کان الموھوب مشغولا بحق الواھب لم یجز کما اذا ووھب السرج علی الدابۃ لان استعمال السرج انما یکون للدابۃ فکانت للواھب علیہ یدمستعملۃ فتوجب نقصانا فی القبض ۱؎۔
آپ دیکھیں کہ اگر مکان ھبہ کیا اور سونپ بھی دیا اورموہوب لہ نے قبضہ میں لے لیا حالانکہ مکان ابھی واھب کے سامان میں مشغول ہے تو ھبہ تام نہ ہوگا کیونکہ واھب کا قبضہ ابھی ختم نہیں ہوا، تو موہوب لہ کا قبضہ تام نہ ہوا، ردالمحتار میں ہے اگر موہوب ابھی واھب کے حق میں مشغول ہے تو جائز ہوگا مثلا کوئی شخص گھوڑے پر لگی کاٹھی کسی کو ھبہ کرے کیونکہ کاٹھی کا استعمال جانور پر ہوتاہے تو واھب کا ابھی قبضہ باقی اور زیر استعمال ہے تو اس سے قبضہ میں ابھی نقص باقی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الھبۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۵۱۷)
بالجملہ عمرو جب تک اپنا قبضہ بالکلیہ اٹھا کر موہوب لہما کو قبض کامل نہ کرادے ھبہ ہرگز تمام نہ ہوگا اور موہوب ملک عمرو سے باہر نہ آئے گا، اسی طرح عمرو کا متعدد پیرایوں میں ملکیت بکرو خالد کا اقرار دیانۃ کچھ مفید نہیں کہ یہ اقرار صرف بربنائے ھبہ ہے کما لایخفٰی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ ت) اوربہ سبب ناتمامی یہ ھبہ شرعا مثبت ملک نہ ہوا تو عنداللہ اقرار غلط کہ شرعا وجہ صحت نہیں رکھتا اثبات ملک کے لئے کافی نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار لواقر کاذبالم یحل لہ لان الاقرار لیس سبب للملک نعم لوسلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ ۲؎۔ بزازیۃ اھ، فی حاشیۃ الطحطاویۃ قولہ لم یحل لہ ای لایجوز لہ اخذہ جبرادیانۃ کاقرارہ لامرأتہ بجمیع مافی منزلہ ولیس لہا علیہ شیئ ۳؎ انتھی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے اگر مالک کسی کے لئے ھبہ کا جھوٹااقرار کرے تو مقرلہ کے لئے وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ اقرار دوسرے کی ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر بعد میں اپنی رضا سے اس کو قبضہ دے دے تو یہ نیا ھبہ ہوگا، یہی وجہ قابل اعتبار ہے بزازیہ حاشیہ طحطاوی میں ہے ماتن کا قول ''مقرلہ کے لئے حلال نہیں'' یعنی اس کو دیانۃ جبرا قبضہ کا حق نہیں ہے۔ جیسے کوئی شخص گھر کے تمام سامان کو بیوی کے حق میں اقرار کرے حالانکہ بیوی کا کوئی حق خاوند کے ذمہ نہیں ہے، اھ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الاقرار     مطبع مجتبائی دہلی        ۳ /۱۳۰)

(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الاقرار     دارالمعرفۃ بیروت        ۳ /۳۲۷)
Flag Counter