Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
16 - 120
مسئلہ ۴۲: خادم نعمت خاکی  بوڑاہا ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کسی سے ہم نے کوئی چیز لی کہ لاؤ ہم بطور امانت رکھیں گے اور پھر بعد کو دے دیں گے اس میں سے کچھ غائب ہوگئی اور وہ شخص دینے والا طلب بھی نہیں کرتا ہے اب اس کے لئے قیامت میں نہ دینے پر جوابدہ ہوں گے یانہیں؟ ہاں اس شے پر اس کا پتہ نشان مرقوم ہے۔
الجواب

اگر اس کی بے احتیاطی سے اس میں سے کچھ غائب ہوگیا تو اس پر اس کا تاوان لازم ہے بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگااور اگر اس نے پوری احتیاط کی اور وہ شے کُل یا بعض جاتی رہی تو اس پر الزام نہیں بلکہ اس کا تاوان لینا حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از شہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کی شے گم ہوجائے تو اس چیز کے دام لینا چاہئے یانہیں؟
الجواب

اگر وہ شیئ اس کے پاس امانت تھی اور اس نے پوری احتیاط کی اور اتفاقا گم ہوگئی تو اس کا تاوان لینا حرام ہے۔ اور اس کی بے احتیاطی سے گم ہوئی تو جائز ہے ، اور اگر امانت محض نہ تھی مثلا کوئی چیز خریدنی چاہی اور مول چکا کر اسے دکھانے کے لئےلے گیا اور وہ گم ہوگئی اس کے دام دے گاا گر چہ بے احتیاطی نہ کی ہو۔واللہ تعالٰی اعلم
کتاب العاریۃ

(عاریت کا بیان)
مسئلہ ۴۴: 

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک زمین بکر سے مول لی اور اسی زمین میں سے کچھ بکر کی باقی رہی، ایک مکان زید کی زمین میں برضامندی زید کے بکر نے بنالیا جو زمین باقی رہی وہ صحن بکر کا ہے، جب زید نے اپنی زمین کو طلب کیا تو بکر قیمت دیتاہے زمین نہیں دیتا ہے زید اس کے مکان کی قیمت دینے پر امادہ ہے اور پنچ بھی چاہتے ہیں کہ زمین کی قیمت زید کو دلادی جائے۔ اس مسئلہ کی بابت عرض کیا جاتاہے زید اپنی زمین لینا چاہتاہے قیمت نہیں لینا چاہتا۔ بینوا توجروا
الجواب

صور ت مذکورہ میں زید پر جبر نہیں ہوسکتا کہ وہ خواہی نخواہی اپنی زمین بیچ ڈالے اور قیمت لے لے پنچ اگر اس کا جبراس پر کریں گے خلاف شرع اور ظلم ہوگا بلکہ حکم یہی ہے کہ زید کی زمین کو دے دی جائے، رہا وہ مکان کہ بکر نے برضائے زید زمین زید میں بنایا اگر اس کے عملہ اکھیڑ لینے میں زمین زید کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا تو بکر کو مجبور کیا جائے گا کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے اور زید کی زمین خالی کردے یا زید راضی ہو تو اپنا عملہ اس کے ہاتھ بیچ ڈالے اور اگر عملہ اکھیڑنے میں زمین کو ضرر پہنچے گا تو زید کو اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے نقصان پرراضی ہو کر بکر کو جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ کر زمین خالی کردے یانہ چاہے تو عملہ خود لے لےاور اس کی جو قیمت بازار کے بھاؤ سے اکھڑنے کی حالت میں ہوتی ہو وہ بکر کو دے دے، جس حالت میں عملہ اکھڑوا دیا جائے جو نقصان اس اکھیڑنے سے عملے کو پہنچے زید پر اس کا کچھ تاوان نہیں مگر اس حالت میں کہ زید نے ایک مدت معین تک مکان بنانے کی اجازت دی ہو اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے اکھڑوانا چاہے تو عملے کا نقصان دے گا۔ 

ہدایہ میں ہے :
اذا استعار ارضا لیبنی فیہا اولیغرس جاز وللمعیران یرجع فیہا و یکلفہ قلع البناء والغرس ثم ان لم یکن وقت العاریۃ فلا ضمان علیہ وان وقت ورجع قبل الوقت صح رجوعہ ویکرہ و ضمن المعیر مانقص البناء والغرس بالقلع وذکر الحاکم الشہیدانہ یضممن رب الارض للمستعیر قیمۃ غرسہ وبنائہ و یکونان لہ الاان یشاء المستعیر ان یرفعہما ولا یضمنہ قیمتہما فیکون لہ ذٰلک لانہ ملکہ، قالوا اذا کان فی القلع ضرر بالارض فالخیار الی رب الارض لانہ صاحب الاصل ۱؎ اھ باختصار۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب تعمیر یا پودے لگانے کے لئے زمین عاریۃ لی تو جائز ہے تو عاریۃ دینے والے مالک کو واپس لینے کا اختیار ہوگا اور عمارت اور پودے کی مدت مقرر نہ کی ہو تو مالک پرکوئی ضمان نہ ہوگا اور اگر وقت مقرر کیا تھا اور وقت سے پہلے اس نے رجوع کیا تو رجوع صحیح ہے اورمکروہ ہے اور مکان و درخت اکھاڑنے کے نقصان کا ضامن ہوگا اور حاکم الشہید نے ذکر فرمایا کہ زمین کا مالک اس صور ت میں مستعیر کی عمارت اور درختوں کی قیمت کا ضامن ہوگا اوریہ اس کی ملکیت قرار پائیں گے ہاں اگر مستعیر خود رکھنا چاہے تو اکھاڑلے اور زمین والے کو ضامن نہ بنائے تو ایسا کرسکتاہے کیونکہ وہ خود نقصان کا ذمہ دار بنا ہے فقہاء کرام نے فرمایا اگر ان کے اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو پھر اختیار زمین والے کو ہوگا کیونکہ وہ اصل کا مالک ہے، اھ، مختصرا۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ    کتاب العاریۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۰۔ ۲۷۹)
مسئلہ ۴۵: ازشہر محلہ بہاری پور مرسلہ رضا علی صاحب ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک چادر جو منگنی لی تھی یعنی بطور عاریت

چند روز کے لئے لی تھی اس کو زید نے بعد انقضائے مدت عاریت ایک امین آدمی کے ہاتھ چادرمذکور کو اصل مالک کے پاس بھجوادیا بعدکو معلوم ہوا کہ وہ چادر جو زید نے آمین کے ہاتھ بھجوادی تھی اصل مالک کو نہیں ملی اس پر زید نے امین اول سے پوچھا وہ چادر اصل مالک کو کیوں نہیں ملی، امین نے جواب دیا کہ میں اصل مالک کے مکان پر دے آیا ہوں اصل املک تو مجھ کونہ ملا تھا اس کے مکان کے اندر سے ایک لڑکا چھوٹا نکلا تب میں نے اس سے اصل مالک کو پوچھ کر کہ گھرمیں ہے۔ اس کے ہاتھ وہ چادر بھجوادی ہے اس بیان پر مالک نے اپنے لڑکوں کو آمین کے روبرو پیش کیا کہ ان لڑکوں میں کس لڑکےکو دیا، میں نے سب لڑکوں کو دیکھ کر یہ کہا کلہ ان میں وہ لڑکا نہیں ہے جس کو میں نے چادر دی ہے اصل مالک تو کہتاہے کہ چادرمیرے پاس نہیں پہنچی، اور امین کہتاہےکہ چادر میں دے آیا،او رامین کے پاس اس امر کا ثبوت محض ایک طالب علم بالغ کی شہادت ہے، اس صورت میں دریافت طلب امریہ ہےکہ چادر کا شرعی فیصلہ کیا ہے یعنی اس کا تاوان امین پر ہے یا زید پر جس نے چادر عاریت لی تھی یا کسی پر نہیں۔ مالک کو صبر کرنا چاہئے۔
الجواب

شخص متوسط جبکہ ایک چھوٹے لڑکے کو چادر دے آیا جسے یہ بھی نہ جانا کہ مالک چادر کا بیٹا ہے، نوکرہے، اسی گھرمیں رہتابھی ہے ، یا دوسرے جگہ سے آیا ہوا ، یا راہ چلتاہے، تو بیشک چادر ضائع کرنے کا اس پرالزام ہے، اور اس پر بہرحال تاوان لازم۔ اگر وہ چادر اشیائے نفیسہ میں سے تھی جب تو ضاہر کہ ایسی چیز خاص مالک کے ہاتھ دینے سے صحیح واپسی ہوتی ہے۔ 

تنویر الابصار میں ہے :
ان ردالمستعیر الدایۃ مع عبدہ او اجیرہ مشاھرۃ او مع عبدربہا اواجیرہ برئ بخلاف نفیس ۱؎۔ (ملخصا)
اگر مستعیر نے جانور اپنے غلام یا ماہانہ اجیرکے ہاتھ واپس کیا یا مالک کے غلام اور اجیر کے ہاتھ واپس دیا تو بَری ہوگا بخلاف کسی نفیس چیز کے ۔ (ملخصا) (ت)
(۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار   کتاب العادیۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۵۷)
اور اگر ایسی نہ بھی تھی توغیر نفیس اشیاء کی واپسی بھی اس وقت معتبر ہے کہ اس کے غلام یا نوکر یا اہل وعیال میں سے کسی کو دے یا اس کے گھر میں حفاظت کی جگہ رکھ دے ناواقف انجان صغیر السن کو دے دینا کسی عاریت میں متعارف نہیں، 

غایۃ البیان میں ہے :
قال الحاکم الشہید فی الکافی ردالمستعیر الدابۃ فلم یجد صاحبھافربطہا فی دارصاحبھا الی معلقہا فضاعت قال ھو ضامن لہا فی القیاس ولکن استحسن ان الا اضمنہ، الی ھذا لفظ الحاکم و وجہ القیاس انہ لم یوجد الرد الی المالک وجہ الاستحسان انہ اتی بالتسلیم للمعتادبہ بین الناس لان الناس یستعیرون الدواب فیردونہا الی اصطبل المالک، والجیران یستعیرون الۃ البیوت ویردونہا الی دار صاحبہا ویسلمونہا الی من فیہ دون صاحب الدار فلو ردالی المالک کان المالک ایضا یحفظھابھذا المکان فقد اسقط عند  المستعیر(عہ) کلفۃ زائدۃ، فترک القیاس بالعاد ولہذا قال مشائخنا لوکانت العاریۃ عقد الجوھر لم یجز ان یردہا الا الی المعیر لان العادۃ لم تجربطرحہ فی الدار ولادفعہ الی الغلام ۱؎۔
حاکم الشہید نے کافی میں فرمایا: مستعیر نے جانور واپس کیا تو مالک کو وہاں نہ پاکر حویلی میں کُھرلی پر باندھ دیا تو ضائع ہوگیا تو انہوں نے فرمایا قیاس میں توضامن ہوگا ولیکن میں استحسان کرتے ہوئے ضامن نہ بناؤں گا، یہاں تک  حاکم کے الفاظ ہیں، قیاس کی وجہ یہ ہے کہ مالک کو جانور واپس نہیں پہنچا، اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عادت کے اعتبارسے واپس کردیا ہے کیوں کہ لوگوں میں عادت  ہے کہ جانوروں کو عاریۃ لے جاتے ہیں اور واپس مالک کے اصطبل میں چھوڑ جاتے ہں اور پڑوسی حضرات گھر کے آلات مانگ کر لے جاتے ہیں اور مالک کے گھر واپس چھوڑ جاتے ہیں اور مالک کاغیر جو بھی گھر میں ہو اس کو دے جاتے ہیں اور اگر مالک کو دیا جائے تو بھی اسی مکان میں حفاظت کے طورپر رکھتاہے تو گھر میں واپس کرنے پر مستعیر نے مالک کو مزید تکلیف سے بچایا، توحاکم شہیدنے قیاس کو عادت کی وجہ سے ترک کردیا، اس لئے ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر عاریہ جواہر کا ہارہو تو پھر مالک کے بغیر کسی اور کو واپسی جائز نہیں کیونکہ ایسی چیز کے متعلق گھر میں چھوڑ جانے یا غلام کو دی جانے کی عادت جاری نہیں ہے۔ (ت)
عہ:  فی الاصل ھکذا اوظنہ عنہ (اصل میں اسی طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ ''عنہ'' ہے۔ ت)
 (۱؎غایۃ البیان)
اسی میں ہے :
وذٰلک لان العبد صالح للفظ (عہ)کالمربوط اذا ردھا الی المربط لایضمن کذا ھذا بخلاف مااذردھا الی ارض لان الارض لیست بصالحۃ للحفظ ۱؎۔
یہ اس لئے کہ غلام حفاظت کا اہل ہےجیسا کہ اصطبل ہے تو جب اصطبل میں باندھ جائے تو ضیاع پر ضامن نہ ہوگا اور یہاں بھی ایسے ہے بخلاف جب اس کی زمین پر چھوڑ جائے کیونکہ زمین حفاظت کی اہل نہیں ہے۔ (ت)
عہ:  فی الاصل ھکذا واظنہ للحفظ
 (اصل میں اس طرح ہے اورمیرے گمان کے مطابق لفظ ''للحفظ'' ہے۔ ت)
 (۱؎غایۃ البیان)
رہا زید ، اگر یہ متوسط اس کا نوکر یا اس کی عیال میں تھا اور اس نے ایسی بے احتیاطی کو اسی سے نہ کہہ دیا تھا کہ مالک یا اس کامعتمد ملے نہ ملے کوئی بھی پاؤ پھینک کر چلے آنا بلکہ یہ بے احتیاطی اس متوسط نے خود کی تو زید پرکوئی تاوان نہیں اور اگر ختم مدت عاریت کے بعد اجنبی کے ہاتھی بھیجی تو بیشک یہ بھی زیر مطالبہ تاوان ہے یونہی اگر اس کے کہے سے وہ بے احتیاطی ہوئی اگر چہ وہ متوسط اس کا بیٹا یانوکر ہی ہو ، ان دونوں صورتوں میں مالک چادر کو اختیار ہے چاہے زید سے تاوان لے چاہے اس متوسط سے،   تنویر الابصار میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
بخلاف الردمع الاجنبی بان کانت العاریۃ موقتۃ فمضمت مدتہا ثم بعثہا مع الاجنبی۲؎
بخلاف جبکہ اجنبی کے ہاتھ واپس کرے اس طرح کہ عاریۃ مقرر وقت کے لئے ہو تو وقت گزرجانے پر عاریہ کو اجنبی کے ہاتھ بھیج دے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار         کتاب العاریۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۵۷)
ہندیہ میں ہے :
ستورے عاریت خواست وکس فرستاد تا ازنزد معیر بیارد مامورستور رادر راہ برنشت وھلک یضمن المأمور ولایرجع علی الامراذا لم یکین مامور امن جہتہ وھذا اذا کانت تنقاد من غیر رکوب فان کانت لانتقاد الا بالرکروب لایضمن کما فی الفصول العمادیۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کچھ پردے کسی سے مانگے او ریہ ایک شخص کو مالک کے پاس پردے لینے بھیج دیا تو اس شخص نے پردے راستہ میں رکھ دئے تو وہ ضائع ہوگئے تو مامور شخص ضامن ہوگا اور وہ ضمان میں آمر پر رجوع نہ کرے گا جبکہ مستعیر کی طرف سے یہ راستہ میں رکھنے پر مامور نہ تھا یہ صورت وہ ہے کہ پردوں کو اٹھانے میں سواری کی ضرورت نہ ہو، اگر وہ ایسے ہیں کہ سواری کے بغیر منتقل نہیں ہوسکتے تو پھر مامور شخص ضامن نہ ہوگا، فصول العمادیہ میں یوں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الودیعۃ الباب الخامس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۶۷)
Flag Counter