فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
15 - 120
مسئلہ ۳۶: مرسلہ عبدالرحیم وابوالفضل محمد مظہر از ضلع ہگلی وانمباڑی ۶ شعبان ۱۳۳۳ھ روز شنبہ
ایک شخص نے زید کو دو سورپے دئے کہ اس کا سونا خرید کر زیور بنوادینا، اس نے سونا خرید کر جیب میں رکھا، سنار کو دینے جارہا تھا کہ جیب سے نکل گیا یا کسی نے جیب کترلی تویہ نقصان کس کا ہوا۔
الجواب
وہ شخص امین ہے جبکہ اس نے حفظ میں قصور نہ کیا اور جاتارہا اس پر تاوان نہیں۔ ہاں اگر اس نے غفلت کی مثلا جیب پھٹی ہوئی تھی اس میں سے نکل جانے کا احتمال تھا اس نے ڈال لیا اور وہ نکل گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے
لانہ متعدوالمتعدی ضامن
(کیونکہ یہ تعدی کرنیوالا ہوا اور تعدی کرنیوالا ضامن ہوتاہے) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷: از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب روز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کافر مرگیا اور کوئی وارث قریب و بعید نہ چھوڑا اور مسلمان اس کا مدیون قرض ادا کرنا چاہتا ہے اب وہ کس کو دے کیونکہ اگرا س کی طرف سے صدقہ کرتاہے تو اس کو آخرت میں ملنے کی امید نہیں اور اگر اس کے مذھب کے مطابق مندر میں اس کی طرف سے صرف کردے یا مندر کے پجاری کو دے دے تو کفر کی اعانت ہوتی ہے۔ تو اب اس قرض سے کیونکر سبکدوش ہو؟
الجواب : جبکہ اس کی نیت ادا کی تھی اور اس نے اپنی طرف سے کوئی عذر نہ کیا اور اس مال کا کوئی مستحق نہ رہا تو فقرائے مسلمین اس کے مستحق ہیں، اوریہ بایں معنی نہ ہوگا کہ کافر کی طرف سے تصدق کیا جائے یہ تو حرام ہے اور اگر اسے اجر وثواب سمجھے تو کفرہے بلکہ اس معنی پر زوردیا جائے گا کہ کافر مرگیا اور وارث کوئی نہیں اور موت قاطع ملک ہے اور خلافت نہیں کہ اس کی طرف منتقل ہو تو اب یہ محض لاوارثی مال رہ گیا جو خالص ملک خدا ہے لہذا فقراء کو دیا جائے گا یا مساجد یا مصارف دینیہ میں صرف کیا جائے اور اگر فقیر ہے تو اگیا (عہ)فیصل ہوگیا۔ واللہ تعالی اعلم۔
عہ: اصل میں اسی طرح ہے لیکن سیاق عبارت سے اندازہ ہوتاہے کہ عبارت یہ ہوگی کہ ''اگر وہ خود فقیر ہے تو اپنے مصرف میں لاسکتاہے۔
مسئلہ ۳۸: مسئولہ حافظ تعین صاحب ملوکپور بریلی روز یک شنبہ ۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس اس کی بھاوج ہندہ نے دوہزار روپیہ جمع کردیا ہے زید دس روپے ماہوار اپنی بھاوج وہندہ کو دیتاہے زید نے کئی مرتبہ ہندہ سے اجازت چاہی کہ روپیہ تجارت میں لگا دے مگر ہندہ نے اس وجہ سے کہ تجارت میں روپیہ لگا دینے سے ہر وقت نہیں مل سکتا ہے اجازت نہ دی، زید نے یہ روپیہ تجارت ہی میں لگا دیا ہے مگر ہندہ اپنا روپیہ جس وقت طلب کرے زید دے سکتاہے نفع زیادہ ہونے کی حالت میں دس روپے کے علاوہ بھی زید دیتا رہتا ہے مگرکبھی حساب کرکے روپیہ نہیں دیا۔ زید کا قصد ہے اگراس کی بھاوج اپنا روپیہ لے لے تب بھی کچھ خدمت کرنے کا ہے ،ایسی حالت میں یہ دس روپیہ ماہوار کیا سو دہوگا؟ اگر سود ہوگا تو بچنے کی کیا صورت ہے؟ فقط
الجواب
جبکہ ہندہ نے تجارت کی اجازت نہ دی تو یہ مضاربت نہیں ہوسکتی۔ ہندہ نے اپنا روپیہ اس کے پاس جمع کیا تھا تو یہ قرض نہ تھا ودیعت تھا اس وقت تک زید اگر بطور خود اسے کچھ دیتا رہا تو وہ نہ قرض کا نفع تھا نہ کسی عقد معاوضہ میں زیادتی ، لہذا سود نہیں ہوسکتا تھا بلکہ زید کی طرف سے ایک تبرع واحسان تھا، اب کہ زید نے بلااجازت ہندہ اسے تجارت میں لگا دیا تو زید غاصب ہوگیا اس پر تاوان آیا اب وہ ہندہ کا مدیون ہوا اگرچہ اس دین کی وجہ سے دیتاہے تو دینا اور لینا حرام اور سود ہے۔ اور اگرتصریح کردے کہ اس کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ایک خدمت کرتاہے اور اگر روپیہ ادابھی ہوجائے گا تب بھی کرتا رہے گا تو سود نہیں مگر احتیاط اولٰی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۹: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ اسلامیہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۶ صفر ۱۳۳۵ھ
روپیہ مدرسہ اسلامیہ کا اگر کسی مسلمان سیٹھ کے یہاں پر امانت اس کے کاغذات میں جمع کردیا جائے اور وہ رقم بشمول اس کے دیگر کے صرف میں آگئی مگر کاغذات میں امانت ہی جمع ہے اور جب اس کے محافظ اس رقم کو طلب کریں تو فورا دے سکتاہے تو ایسا استعمال رقم مذکورہ میں سیٹھ مذکور پر شریعت میں کوئی گناہ تو نہیں ہے یا کہ اس رقم کو وہ سیٹھ علیحدہ شمار کرکے رکھ چھوڑے۔ بینوا توجروا
الجواب
زر امانت میں اس کو تصرف حرام ہے۔ یہ ان مواضع میں ہے جن میں دراہم ودنانیر متعین ہوتے ہیں اس کو جائز نہیں کہ اس روپے کے بدلے دوسرا روپیہ رکھ دے اگر چہ بعینہٖ ویسا ہی ہو اگر کرے گا امین نہ رہے گا اور تاوان دینا آئے گا
والمسئلۃ منصوص علیہ فی الدرالمختار وکثیر من الاسفار
(یہ مسئلہ درمختاراور بہت سی کتابوں میں منصوص ہے۔ ت) مہتممان انجمن نے اگر صراحۃ بھی اجازت دے دی ہو کہ تم جب چاہنا صرف کرلینا پھر اس کا عوض دے دینا، جب بھی نہ سیٹھ کوتصرف جائز نہ مہتمموں کو اجازت دینے کی اجازت تو مہتمم مالک نہیں۔ اور قرض تبرع ہے اور غیر مالک کو تبرع کااختیار نہیں، ہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیں ، اس حالت میں جب سیٹھ تصرف کرے گا روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا جو عندالطلب دینا آئے گا اگرچہ کوئی میعاد مقرر کردی ہو۔
فان التاجیل فی القرض باطل کما فی الدرالمختار ۱؎ وغیرہ۔
کیونکہ قرض میں ادائیگی کی مدت مقرر کرنا باطل ہے۔ جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع والثمن مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۹)
مسئلہ ۴۰: از جبلپور چھاؤنی مرسلہ عبدالوحید خان صاحب اسسٹنٹ ماسٹر اسکول لیس نائک نمبر ۳۴۳ پلاٹون نمبر ۸ کمپنی بی پلٹن (۲ /۹۱) ۶ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو چند قطعات نوٹ پانچ پانچ روپیہ کے اور دس دس روپیہ کے بطور امانت کے رکھنے کو دئے اور یہ بھی اجازت دے دی کہ تو اس امانت میں سے حسب ضرورت اپنی خرچ کرسکتاہے لیکن آئندہ ماہ میں یہ سب امانت مجھ کو واپس دینا ہوگی بکر نے وہ سب نوٹ اپنی جیب میں رکھ لئے حالانکہ سوائے اس امانت کے بکر کی جیب میں کچھ نوٹ یا نقدی بالکل نہیں تھی بکر بموجب اجازت زید کے ڈاکخانہ کو واسطے کرنے منی آرڈر اپنے مکان کو گیا اور اسی امانتی نوٹوں میں سے منی آرڈر اپنے مکان کو کیا، وہاں پر آدمیوں کا اژدحام زیادہ تھا یقینا کسی چور نے ایک نوٹ دس روپیہ والا جیب سے نکال کیا کیونکہ اسی وقت ڈاکخانہ پر ہی حساب کرنے سے معلوم ہوگیا کہ نوٹ چوری گیا، ایسی حالت میں بکر نوٹ مسروقہ کا تاوان کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ اور زید بکر سے لینے کا مستحق ہے یانہیں؟ حالانکہ زید کو بھی یقین ہے کہ نوٹ ضرورچوری گیا۔
الجواب
وہ روپیہ امانت تھا۔اور زید نے بکر کو وقت حاجت صرف کرنے کی اجازت دی تھی تو جس قدر کااس نے منی آرڈر اپنے گھر کو بھیجا وہ امانت سے نکل کر قرض ہوگیا اور جتنے نوٹ باقی رہے وہ بدستور امانت رہے ان میں سے جو نوٹ جاتا رہا اگر بکر کی بے احتیاطی سے گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے ورنہ ہر گز نہیں۔
مسئلہ ۴۱: ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکو ایک ضرورت سے بانکی پور جانا ہے۔ ۹ ربیع الاول شریف کو گیا سے اس کے پاس ایک شخص آیا اور ایک خط دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ گریڈیہہ میں ۱۰، اا ریبع الاول کو وعظ و میلاد کا جلسہ ہے،متعدد علماء کے پاس خطوط گئے ہیں مگر کسی کے آنے کی امید نہیں، آپ ضرور تشریف لائے ورنہ ہماری سخت ذلت ہوگی، زید نے عذر کیا کہ مجھے مجبوری ہے میں جس کا نوکر ہوں وہ یہاں نہیں ہیں بغیر ان کی اجازت کےمیں نہیں جاسکتا۔ اس پر عمرو نے رائے دی کہ وہ تو کوئی دورجگہ نہیں ہے۔ یہ صاحب وہاں جاکر اجازت لاسکتے ہیں۔ چنانچہ وہ شخص وہاں گیا اور اجازت لے آیا۔ (عہ/) وہاں جانے آنے کاکرایہ یکہ کا ہوا، اس کے بعد ۹ بجے شب کی گاڑی سے دونوں روانہ ہوکر گیا پہنچے (عہ۸/) سہسرام سے گیا تک کرایہ ہوا۔ جب وہ شخص اجازت لینے کے لئے گیا تو زید نے ٹائم ٹیبل دیکھا معلوم ہوا کہ یہاں سے گریڈیہہ جانے کے لئے تین راستہ ہے۔ ایک براہ کیول۔ دوم براہ بانکی پور، سوم براہ آسنسول، زید نے خیال کیا کہ اچھاموقع ہے اسی ضمن میں بانکی پور ہوتے چلیں گے، گیا سے ۹ بجے دن کو ایک گاڑی چھوٹتی ہے جو براہ کیول ۸ بج کر ۴۴ منٹ شب کو گریڈیہہ پہنچتی ہے۔ زید نے گیا میں یہ رائے قائم کی اگرا س گاڑی سےجاتاہوں تو ۹ بجے شب کو پہنچوں گا اس وقت میں تکان سفر کی وجہ سے آج تقریر نہ کرسکوں گا سوا اس کے کہ جو کچھ کہنا ہوکل کہوں مجھے ضرورت بانکی پور کی بھی ہے بہترہے کہ اس وقت ۷ بجے روانہ ہوجاؤں اور بانکی پور پہنچ کردن بھر ٹھہروں پھر شب کی گاڑی سے روانہ ہوکر صبح گریڈیہہ پہنچوں پھر خیال کیا کہ شب کی گاڑی سے روانگی میں وہاں ۵ بجے صبح کو گاڑی پہنچے گی وہ وقت تکلیف کا ہے لوگ اسٹیشن تک آئیں یانہ آئیں بہترہےکہ بانکی پور سے صبح کی گاڑی سے روانہ ہوں تاکہ وہاں ایک بچے پہنچتاہوں۔ چنانچہ اسی مضمون کا تار ۱۲ کا وہاں دینے کو کہہ دیا کہ زید کل ایک بچے پہنچے گا اس کے بعد صبح ۷بجے زید بانکی پور روانہ ہوا (عہ عہ۱۵./) اس کو سفرخرچ دیا گیا اس کا مصم قصد تھا کہ حسب قراداد میں صبح کو ضرور روانہ ہوجاؤں گا مگر ایک ضرورت کی وجہ سے نہ جاسکا پھر بھی قصد کیا کہ ۱۰ بجے دن کو ایک گاڑی جاتی ہے اس سے جائیں جو وہاں ۸ بج کر ۲۴ منٹ کوپہنچے گی مگر جس کے یہاں جانا تھا نہ اس کا محلہ معلوم نہ نام ہی معلوم ہے۔ تار کے اعتماد اور استقبال کے خیال پر زید نے یہ دریافت نہ کیا تھا ، اب سخت پریشان ہوا کہ کیا کروں کہ اب آگے جانا مفت میں پریشانی اٹھانا ہے یا اگر منزل مقصود تک رسائی ہوگی تو تھکا ہوا ہوں تقریر نہ کرسکوں گا مفت میں بلانے والے کا روپیہ صرف کرنا ہے اسی ہیص بیص میں اس گاڑی کا وقت بھی نکل گیا اس لئے وہ واپس سہسرام آگیا اس (عہ عہ ۱۵./ )میں سے (صہ ۲/) گیا سے بانکی پور اور بانکی پور سے سہسرام تک صرف ہوا اب سوال یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں زید کو کس قدر روپیہ واپس کرنا ہوگا (لعہ ۱۳./ )جو بچا ہے یاپورے (عہ عہ۱۵./) یا (عہ _۴ــ./) جس میں کل خرچ اجازت لینے والے کا یکہ وتار وٹکٹ تاسہسرام تاگیا وقلی کی اجرت ہے او رجو کچھ واپس دے گا اس کی فیس منی آرڈر کس پر ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب
بانکی پور سے سہسرام تک واپسی میں جو صرف ہوا وہ ضرور ذمہ زید ہے کہ روپیہ اسے جس سفر کے لئے دیا گیا یہ وہ سفر نہیں بلکہ اس کا نقض ہے۔ او رموضع مقصود کی راہ معہور میں اگر بانکی پور نہیں پڑتا بلکہ اس میں پھر اور صرف زائد ہے جسے زید نے گیا سے اپنی حاجت کے لئے اختیار کیا توقدر زیادت کا واپس دینا تو ہوگا ہی، اوراظہر یہ ہے کہ گیا سے بانکی پور تک کا کل کرایہ واپس دے کر یہ سفر اس کا اپنی غرض کے لئے تھا۔
ففی الدرالمختار من متفرقات البیوع المرأۃ اذا کفنت بلااذن الورثۃکفن مثلہ رجعت فی الترکۃ ولوا کثر لاترجع بشیئ قال رحمہ اﷲ تعالٰی ول قیل ترجع بقیمۃ کفن المثل لایبعد اھ ۱ وفی وجیز الکردری لاترجع وان قیل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ ۲؎ اھ،
تو درمختارکے متفرقات البیوع میں ہے ،بیوی نے ورثاء کی اجازت کے بغیر خاوند کو کفن دیا اور وہ کفن بازاری قیمت کے مساوی تھا تو ترکہ سے اس کی قیمت واپس لے سکے گی، اور اگر بازاری قیمت سے زائد کیا تو کچھ بھی واپس نہ لے سکے گی، اور اللہ تعالی ان پر حم فرمائے انہوں نے فرمایا اگر کہا جائے کہ مثلی قیمت میں رجوع کرسکتی ہے تو بعید نہ ہوگا ، اھ، اور وجیز الکردری میں ہے کہ زائد قیمت کی صورت میں رجوع نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مثلی قیمت تک رجوع کرسکتاہے تو اس کی وجہ ہوسکتی ہے اھ ،
(۱؎درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۲)
(۲؎فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیہ کتاب الوصایا الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۹)
وفی الخلاصۃ لاترجع بقدر کفن المثل ایضا فان قال قائل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ اھ ۳؎ وفی وصایا التنویر والدر لو زاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحنیئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم والوالجیۃ ۴؎ اھ
اور خلاصہ میں ہے کہ مثلی کفن تک بھی رجوع نہیں کرسکتی اور اگر کوئی یہ کہے کہ مثلی کفن تک رجوع کرسکتی ہے تو اس کی وجہ ہے اھ، اور تنویر الابصار اور درمختارکے وصایا کے بیان میں ہے کہ اگر وصی نے کفن کی تعداد میں زیادتی کی تو زائد کا ضامن ہوگا اور یہ عدد مثلی کفن کی قیمت میں خریدہوا تو خرید ا س کی ہوگی اور اس وقت اس کی خرید میں یتیم کا جتنا مال خرچ ہو اس کا ضامن ہوگا، والوالجیہ اھ۔
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل الرابع مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴ /۲۳۶)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار باب الوصی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۸)
وفی العقود الدریۃ فی معین المفتی اذا زادفی عدد الکفن ضمن الزیادۃ فان زاد فی قیمۃ الکفن ضمن الکل کذا فی السراجیۃ قلت وقد عللہ بانہ اذا زادنی القیمۃ یکون مشتریا لنفسہ وھو ضامن لمال المیت اھ نھج النجاۃ من الوصایا، ووجہ کونہ مشتریا لنفسہ ان الوصی اذا زاد فی القیمۃ صار متعدیافی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون مشتریا لنفسہ متبرعا فی تکفینہ بخلاف ما اذا زادفی عدد الکفن فانہ یضمن الزیادۃ فقط لانھا متمیزۃ ۱؎۔
اور عقود الدریہ میں ہے کہ معین المفتی میں فرمایا اگر کفن کے عدد میں زیادتی کی ہو تو صرف زیادتی کا ضامن ہوگا اور اگر قیمت زائد دی ہو تو کل قیمت کا ضامن ہوگا، ایسے ہی سراجیہ میں ہے،میں کہتاہوں اس کی علت انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ قیمت جب زائد دی تو وہ خریدار اپنے لئے ہوا اور میت کے مال کا ضامن ہوا، اھ نہج النجاۃ من الوصایا۔ اس کے ذاتی خریدار بننے کی وجہ یہ ہے کہ وصی نے جب قیمت زائد دی تو اس مقدارمیں وہ متعدی ہوا جبکہ اس مقدار کا قیمت میں امتیاز نہیں تو تمام قیمت اس کی ذاتی خریداری میں صرف ہوئی، او ریہ کفن اس کی طر ف سے بطور تبرع ہوگا بخلاف کہ جب عدد میں زیادتی کرے تو صرف زائد عدد کا ضامن ہوگا کیونکہ یہ زائد ممتاز ہے۔ (ت)
(۱؎ العقود الدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۲۷)
واپسی کے یکوں اور قُلیوں کا کرایہ زید پر ہے۔ یونہی گیا سے بانکی پور جانے میں جو یکہ اسٹیشن تک آیا اسٹیشن سے بانکی پور تک گیا یا قلی کو دیا ہو کہ یہ اس کا اپنا ذاتی سفر ہے سہسرام سے گیا تک جانا جبکہ موضع مقصود تک جانے میں بحرحال تھا اور اس تک وہ موضع مقصود کی نیت سے گیا اور ضرورت جومانع سفر وموجب رجو ع ہوئی صحیح ضرورت و مجبوری تھی تو اتنا کرایہ واپس نہ دے گا ریل ، یکہ ،قلی ،کسی کا کہ یہاں تک ان کے اذن سے ان کے کام میں صرف ہوا۔ اور اگر اپنا کوئی کام پیش آیا جو قطع سفر کے لئے عذر شرعی نہ ہوسکتا ہو اس کے لئے چھوڑ دیا تو اس کے مناسب کوئی جزئیہ اس وقت خیال میں نہیں اور ظاہریہ کہ اب بھی سہسرام سے گیا تک کا کرایہ واپس کرنا نہ ہوگا کہ جس وقت صرف ہوا جائز طور پر ہوا اور وہ اجیر نہ تھا کہ کام نہ ہونے سے اجرت نہ پائےکہ اتمام سفر اس پر واجب نہ تھا تو قطع جائز سے وہ صرف کو جائز واقع ہوا ناجائزو مضمون نہ ہوجائے گا، یکہ جس پر بلانے والا اجازت لینے گیا اور تارکہ اس نے دیا اگرچہ زید کے کہنے سے دیا، یہ زید پر نہیں، جتنا روپیہ واپس کرنا ہو اس کی فیس منی آرڈر اسی روپیہ سے دے کر وہ اس کے ہاتھ میں امانت ہے اور رد امانت کو مؤنت امین پر نہیں۔
عالمگیریہ میں ہے :
مؤنۃ ردالودیعۃ علی المالک لا علی المودع کذا فی السراجیۃ ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
امانت واپس کرنے کا خرچہ مالک پر ہے نہ کہ مودع پر، سراجیہ میں یوں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۶۲)