فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
14 - 120
مسئلہ ۳۲: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ کسی شخص نے کسی شخص کو کہا کہ تم مجھ کو پچاس روپیہ کی ہُنڈی منگا دو، انہوں نے اقرار کیا کہ میں منگا دوں گا، اس نے جاکر ان کے ملازم کو پچاس روپیہ دے دیا، ان کے ملازم نے یہ کہا کہ ہنڈی اس وقت نہیں ملی صبح کو لادوں گا، اس نے کہا کہ اچھا روپیہ تمھارے پاس رہے، اس نے کہا کہ میں نہیں رکھ سکتا ہوں کیونکہ دکان کا کچھ اعتبار نہیں۔ اس نے جواب دیاکہ میں نہیں لے سکتاہوں کیونکہ میں جن کے واسطے ہُنڈی منگاتاہوں ان کا نام دفتر میں لکھ چکا۔ اس نے یعنی ملازم نے جاکر اپنے مالک کو روپیہ سپرد کردیا کہ میں صبح کہ ہنڈی لادوں گا مالک نے اپنے روپیہ کی صندوقچی میں وہ روپیہ رکھ دیا اور اس صندوقچی کو کھلا چھوڑ کر دکان بند کرکے چلا گیا۔ رات دکان قفل بے شکستہ کھلاپایا اور روپیہ جاتا رہا اور کسی چیز میں نقصان نہیں پہنچاا ور رات کو پہرہ والا پھر تا تھا انہوں نے دیکھا کہ دکان کا قفل کھلا ہوا ہے، اس نے چوکیدار سے دریافت کیا کہ اس دکان کا مالک کون ہے اور اس کا گھر کہاں پر ہے۔ ان کا گھر دور ہونے کی وجہ سے چوکیدار نے ملازم کا گھر بتادیا پہرہ والا نے ملازم سے کہا کہ تمھاری دکان کا قفل کھلا ہے، اس نے کہا کہ میں تو دکان بند کرکے آیا تھا۔ غرض کہ وہ ملازم پہرہ والا کے ساتھ آیا اور پہرہ والا نے پوچھا کہ کچھ مال وغیرہ تو نہیں گیا۔ پھر اس نے دکان بند کرنا چاہا، پہرہ والا نے منع کیا کہ جب تک کوتوالی میں یہ احوال نہ لکھا لو بند نہ کرو، اس نے کرتوالی میں بھی لکھوا دیا کہ دکان بے نقصان کھلا ہوا پایا اورصبح انہوں نے کہا کہ روپیہ جاتا رہا اور اکثر دکان کا ایسا اتفاق ہوا کہ دکان بند رہا روپیہ جاتا رہا اور اسی روز کی صبح کو مالک دکان نے دوملازموں کو موقوف کیا، ایک ان میں روپیہ لے جانے والا تھا اور دوسرا اور کوئی تھا، بعد اس کے ہُنڈی کے روپیہ والے کو نہ ملازم نے اطلاع دی نہ مالک نے، کوئی بیس روز کے عرصہ کے بعد یہ عذر پیش کیا کہ روپیہ جاتا رہا اب اس صورت پر ازروئے شرع شریف کے روپیہ اس سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
صورت مستفسرہ میں وہ روپیہ ملازم پر عائد ہوتاہے اس سے تاوان لیا جاسکتاہے کہ جب اس نے اس شب صراحۃً کہا کہ کچھ نہیں گیا تو یہ اقرار ہوا کہ زرامانت موجود ہے پھر بعد کو یہ دعوٰی کہ اس وقت روپیہ جا چکا تھا اگلے قول کا صریح خلاف ہے جو ہرگز مسموع نہ ہوگا۔ اور اگر اس کے بعد جانے کا دعوٰی کرے جب بھی اس پر تاوان لازم ہے کہ جب زر امانت اس وقت تک موجود تھا رات کے وقت ایسی حالت میں کہ بازار بند ہے، کھلی دکان چھوڑ کر کوتوالی کو چلاجانا حفاظت میں تقصیر ہے، ہاں اگر اس کا یہ بیان ہو کہ اس وقت تک روپیہ نہ گیا تھا اوروہ جب کوتوالی لکھوانے کے لئے گیا تو دکان کا مالک یا او رکوئی محافظ جو اس کا اورملازم کا اجنبی نہ ہو بیٹھا رہا حفاظت کرتا رہا پھر اس نے دکان بند کردی اور اس کے بعد صبح تک میں کسی وقت جاتا رہا تو تاوان نہ آتا۔
فی الہندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا طلب الودیعۃ فقال اطلبہا غدا ثم قال فی الغدضاعت فانہ یسئل ان قال ضاعت قبل قولہ اطلبہا غدا یضمن وان قال ضاعت بعدہ لا للتناقض فی الاول دون الثانی ۱؎، وفیہا من التتارخانیۃ قال لفلان عندی الف درہم ودیعۃ ثم قال بعد ذلک قد ضاعت قبل اقراری فہو ضامن ولو قال کانت لہ عندی الف درہم وضاع فالقول قولہ ولاضمان ۲؎، وفی العقود الدریۃ عن الخلاصۃ والبزازیۃ یلزمہ الضمان للتناقض لان قولہ اطلبہا غدا اقرار منہ انہا ماضاعت فاذا قال ضاعت کان تناقضا ۳؎ ۔
ہندیہ میں فصول العمادیۃ کے حوالہ سے ہے جب مالک نے اپنی امانت طلب کی تو رکھنے والے نے کہا کل لینا، پھر کل کو کہا وہ ضائع ہوگئی ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ کب وہ ضائع ہوگئی ہے، اگر کہے میرے جواب کا کل لے جانا سے پہلے ضائع ہوئی، تو ضامن ہوگا، اوراگر کہے اس سے بعد ضائع ہوئی تو ضامن نہ ہوگا کیونکہ پہلی صور ت میں تناقض ہے اور دووسری صورت میں نہیں ہے اور اسی میں تاتارخانیہ سے ہے کہ اس نے کہا میرے پاس فلاں کے ہزار درہم امانت ہیں پھر اس کے بعد کہتا ہے وہ ضائع ہوگئے اور میرے اقرار سے قبل ضائع ہوئے تو وہ ضامن ہوگا اور اگریوں کہا کہ فلاں کے میرے پاس ہزار امانت تھے جو ضائع ہوگئے تو اس کی بات مان لی جائےگی اور ضمان نہ ہوگا ، عقود الدریہ میں خلاصہ اور بزازیہ سے منقول ہے کہ تناقض کی صورت میں ضمان ہوگا کیونکہ اس کا کہنا مجھ سے کل لے لینا، یہ ضائع نہ ہونے کا اقرار ہے تو اب کہنا ضائع ہوگئے،دونوں باتوں میں تناقص ہے،
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۵۲)
(۲؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۵۶)
(۳؎ العقود الدریۃ کتاب الودیعۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۴)
وفی الہندیۃ عن الخانیۃ اذا سرقت الودیعۃ من دار المودع وباب الدار مفتوح والمودع غائب عن الدار قال محمد بن سلمۃ رحمہ اﷲ تعالٰی کان ضامنا و قال ابونصر رحمہ اﷲ تعالٰی اذا لم یکن اغلق الباب فسرق منہ الودیعۃ لایضمن یعنی اذا کان فی الدارحافظ ۴؎۔ وفیہا عن التاتارخانیۃ عن النہایۃ استحفظ المودع الودیعۃ فی بیتہ بغیرہ بان ترک الودیعۃ والغیر فی بیتہ وخرج ھو بنفسہ ضمن اھ واﷲ سبحانہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور ہندیۃ میں خانیہ سے منقول ہے کہ جب مودع (جس کے پاس امانت رکھی) کے گھر سے امانت چوری ہوگئی درانحالیکہ دروازہ کُھلا رہا اور مودع غائب تھا تو محمد بن سلمہ رحمہ اللہ تعالٰی کا قول یہ ہے کہ وہ ضامن ہوگا اور ابونصر رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ جب دروازہ کھلا رہتا ہو تو چوری ہونے پر ضامن نہ ہوگا، یعنی اس صورت میں کہ گھر پر محافظ موجود رہتا ہو، اور اسی میں تاتارخانیہ سے بحوالہ نہایہ منقول ہے کہ گھر میں امانت کی حفاظت کے لئے دوسرے کو مقرر کیا اور پھر امانت اس کے سپرد کرکے خود چلاگیا تو ضامن ہوگا اھ، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ ا لباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۴)
(۵؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۱)
مسئلہ ۳۳: ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بتقریب نیاز جناب پیران پیر غوث الاعظم دستگیر علیہ السلام عمرو سے دیگ کرایہ پر لی۔ وہ دیگ اسی شب کو زید کے مکان سے چوری ہوگئی، اب عمرو اس کی قیمت مانگتا ہے، بموجب حکم شرع شریف زید کو اس کی قیمت واجب الادا ہے یانہیں؟ زید نے چوری جانے کے دیگ کی اطلاع سرکارمیں کردی اور اس کی تحقیقات بھی ہوئی لیکن ابھی تک دیگ نہیں ملی، فقط
الجواب
اگر زید نے دیگ حفاظت کے مکان میں رکھی ہے جہاں وہ اپنے برتن وغیرہ رکھتا ہے تو اس پر الزام نہیں اور اس سے تاوان لینا جرم ہے۔ ہاں اگر بے خیالی بے پروائی کی ہو غیر محفوظ مکان میں رکھی باہر چھوڑی ہو، تو اس صورت میں زید کو ضرور اس کی قیمت دینی آئے گی، اور ''علیہ السلام'' لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلٰوۃ والسلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالاً جائز نہیں۔ حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا چاہئے ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: از بدایوں مسئولہ سید حسین علی صاحب بدایونی ۱۵ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ فقیر سیدحسین کا جمع کیا ہوا پاس حاجی ذاکر علی صاحب کے موجود ہے جو بغرض اخراجات حج بیت اللہ شریف وبصورت بقائے حیات بنا برخورد ونوش بھائی مولوی سید اشفاق علی حقیقی چچا اہلیہ سیدحسین مذکور بایں بیان جمع کیا گیا ہے کہ بھائی صاحب موصوف کو کسی قسم کی تاحیات تکلیف نہ ہو اگر ضرورت ہوگی تو میں سید حسین اور بھیجوں گا اور حسب بیان حاجی ذاکر علی صاحب کے سید حسین نے حاجی صاحب سے کہا کہ اگر خدا نخواستہ سید اشفاق علی ممدوح کاا نتقال ہوجائے اور زر مجتمعہ مذکور سے کچھ بچ رہے تو بچا ہوا روپیہ سید حسین مذکور کو دیا جائے، اس کے بعد سید اشفاق علی صاحب بہ ہمراہی حاجی ذاکر علی صاحب حج بیت اللہ شریف کو تشریف لے گئے اور تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب موصوف کے حاجی ذاکر علی صاحب اسی رقم مجتمعہ سے کرتے رہے بقضائے الہٰی بعد ادائے حج شریف
بتاریخ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ بھائی سید اشفاق علی صاحب موصوف کا انتقال ہوگیا، مرحوم کی تجہیز وتکفین و تدفین میں بھی جو کچھ صرف ہوا وہ بھی رقم مجتمعہ مذکور سے ہوا اس کے بعد حبہ حبہ اخراجات سید اشفاق علی صاحب مرحوم از یوم روانگی ہندوستان تایوم تدفین سید اشفاق علی صاحب مجرا ہوکر پاس حاجی ذاکر علی صاحب حسب تحریرو بیان حاجی صاحب موصوف مبلغ چار سو پچیس روپے دو آنے باقی بچے وہ بھائی سید لیاقت علی صاحب نے واسطے دینے سید حسین مذکور کے حاجی صاحب موصوف سے طلب کئے، حاجی ذاکر علی صاحب نے فرمایا کہ یہ روپیہ مجھ کو سوائے سید حسین کسی کو نہیں دینا چاہئے وہ مجھ سے کہہ گئے ہیں سوائے میرے کسی کونہ دیجئے گا میں ذاکر علی سوائے سید حسین مذکور کے کسی کونہیں دوں گا، اس گفتگو میں کچھ طول ہوا کہ مولوی عزیز بخش صاحب بدایونی جنہوں نے بذریعہ ہجرت سکونت متصل مکہ معظمہ میں کرلی ہے فرمایا جھگڑا ہر گز مت کرو میں بھی بدایون کا رہنے والا ہوں اور اب یہاں رہتاہوں بدایونی کی سخت ذلت ہوگی، نزاع تو صرف اس بات پر ہے کہ روپیہ سید حسین نے جمع کیا اور ان کو ملنا چاہئے سو آپ سید لیاقت علی صاحب اطمینان فرمائے، ابھی حاجی ذاکر علی صاحب کا مال فروخت نہیں ہوا جس وقت حاجی صاحب ممدوح کا مال فروخت ہوگیا میں عزیز بخش ذمہ دار ہوتاہوں اور آپ سید لیاقت علی صاحب سے وعدہ کرتاہوں کہ یہ مبلغ چار سو پچیس روپے دوآنے سید حسین مذکور کے نام سے دہلی والوں کی دکان پر جو یہاں ہے جمع کرادوں گا، ہندوستان میں یہ روپیہ سید حسین مذکور کو مل جائے گا، چنانچہ مطمئن ہوکر بھائی سید لیاقت علی صاحب مکہ معظمہ سے بشوق دیدار روضہ مبارک حضور سرور کائنات علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات روانہ مدینہ منورہ ہوگئے اور جو تحریر حضور والا کے پاس مرسلہ حاجی ذاکر علی صاحب موصوف معرفت حاجی عبدالرزاق صاحب آئی اس میں تحریر تھا کہ سید حسین مذکو رکے جمع کیے ہوئے روپے میں سے بعد تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب ذمہ حاجی ذاکر علی کے پاس (اماصہ عہ/۲ ) بچا ہے اور جمع ہے تحریر ہذا کی صداقت میں حاجی لیاقت علی شہادت دیتاہوں کہ میں نے اپنا نام شروع تحریر میں بھی لکھ دیا ہے فقط راقم سید حسین قادری، دستخط گواہ بیان تحریر ہذا سید لیاقت علی ۱۰ شعبان ۱۳۳۰ھ
الجواب
اگر بیان مذکور واقعی ہے تو اس روپیہ کا مستحق سوائے سید حسین کے کوئی نہیں ہے، وارثان سید اشفاق علی کا اس میں کچھ حق نہیں، حاجی ذاکر علی امین پر فرض ہے کہ بقیہ چارسو پچیس روپیہ دو آنہ تمام وکمال سید حسین کو ادا کرے،ظاہر ہے کہ صورت مذکور ہ میں یہ روپیہ سید حسین نے سید اشفاق علی کو قرض نہ دیا کہ بحال انتقال بقیہ کو واپسی کو کہا تھا۔ قرض ہوتا تو بہر حال تمام وکمال واپس ہونا لازم ہوتا لاجرم یہ روپیہ ایک امر خیر میں اعانت کے لئے دیا جس طرح مصارف خیر کے چندے ہوتے ہیں ایسی حالت میں وہ روپیہ ملک مالک پر رہتاہے اور اس کی اجازت سے اسی مصرف خیر میں صرف ہوتاہے یہاں تک کہ اگر کچھ باقی بچے تو اسے واپس دینا یا اس کی اجازت ورضا سے کسی اور مصرف میں صرف کرنا لازم ہوتاہے۔
فتاوٰی قاضی خاں پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
رجل مات فی مسجد قوم فقام احدہم وجمع الدراہم ففضل من ذلک شیئ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ ۱؎۔
اگر کسی قوم کی مسجد میں مسافر فوت ہوگیا اور ایک شخص نے اس کے کفن کے چندہ سے کچھ دراہم جمع کئے اور کچھ بچ گئے تو اس کو معلوم ہے کہ بچے ہوئے دراہم فلاں کا چندہ ہے تو اس کو واپس کردے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلٰوۃ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۱)
درمختارمیں ہے :
ان فضل شیئ رد للمتصدق ۲؎۔
اگر بچ جائیں تو جس کا چندہ ہواسے واپس کرے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱)
بلکہ جو کچھ سید اشفاق علی کی موت وتجہیز وتکفین میں صرف کیا اس کا بھی ضمان حاجی ذاکر علی پر لازم ہے کہ سید حسین نے صرف حیات سید اشفاق علی تک اجازت دی اور باقی کی واپسی کو کہا تھا بلکہ مولوی عزیز بخش کا جواب کہ حاجی ذاکر علی کا مال بک جائے تو دیں گے دلالت کر رہا ہے کہ وہ مال حاجی مذکور نے خرچ کردیا جس کی نسبت بیان سائل ہے کہ بمبئی میں اس کا کُل مال حاجی ذاکر علی نے خرید لیا پھر اپنے پاس سے مصارف سید اشفاق علی میں صرف کیا اگر واقعہ یہ ہے جب تو سارا زر ضمانت جس قدر سپرد کیا تھا سب کا تاوان حاجی ذاکر علی پر حسین کے کے لئے لازم ہے پورا واپس دے اور جو کچھ مصارف حیات ووفات سید اشفاق علی میں اٹھایا وہ حاجی ذاکر علی صاحب کا تبرع واحسان تھا جس کے عوض وہ کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتا،
عالمگیری میںہے:
رجل جمع ما لا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد فانفق من تلک الدراہم فی حاجتہ ثم رد بدلہا فی نفقۃ المسجد لایسعہ ان یفعل ذٰلک فان فعل فان عرف صاحب ذٰلک المال رد علیہ اوسألہ تجدید الاذن فیہ (الی قولہ) لکن ہذا یجب ان یکون فی رفع الوبال اما الضمان فواجب کذا فی الذخیرۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ایک شخص نے لوگوں سے چندہ جمع کیا تاکہ مسجد تعمیر کی جائے تو اس نے چندہ کی کچھ رقم اپنی ضرورت میں خرچ کرلی اور اس کے بدلے رقم چندہ میں دے دی تویہ جائز نہیں۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ رقم دینے والے کو واپس کرے اگر اس کا علم ہو یا پھر اس سے دوبارہ مسجد میں صرف کی اجازت لے، اس کے آخرمیں فرمایا لیکن یہ مذکور حکم گناہ کے وبال کو ختم کرنے کے لئے ہے تاہم ضمان تو وہ اس پر بہر صورت واجب ہے۔ یوں ذخیرہ میں ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثالث عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۸۰)
مسئلہ ۳۵: مستفسرہ مظہر حسین بہاری پور بریلی رزدوشنبہ ۲۲ رجب ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ کے پاس مبلغ پچیس عدد اشرفی بطور امانت کے رکھ دی تھی، بعد چند روز کے جب اس سے وہ اشرفی طلب کی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں میں جاکر لادوں گی، یہ کہہ کر لینے کو گئی، جب اپنی ماں کے مکان سے واپس آئی تو کہا کہ میری والدہ نے کہا کہ وہ اشرفیاں تیرے باپ نے مجھ سے لے کر تیرے بھائی کے مقدمہ میں صرف کردی ہیں اوریہ کہا ہے کہ بہت جلدی ان کی فکر کردی جائے گی اطمینان رکھو، پھر دوبارہ چند روز کے بعد لینے کو گئی تو پندرہ یوم کے بعد واپس آئی تو جو زیور کہ خود پہنے ہوئے تھی اور اس کے خاوند کا بنوایا ہوا تھا قریب دو سورپے کے وہ ہیں وہ اپنے والدین میں چھوڑ آئی ، جب اس سے دریافت کیا کہ تو نے زیور کس کو دیا، تو کہا کہ ایک عورت قرابت کی ہے اور وہ شادی میں گئی ہے مجھ سے مانگ کر لے گئی، اس کے خاوند نے اس سے کہا کہ تو نے بلااجازت میری اپنا زیور بھی دے دیا اور اشرفیاں بھی دے دیں اور اکثر کام تومیری بلااجازت کرتی ہے تو میرے کام کی نہیں میں تم کو طلاق دیتاہوں یہ کہہ کر طلاق دے دی اور وہ عورت اپنے والدین میں مع اپنے اسباب کے چلی گئی تو اب وہ اشرفیاں کا روپیہ اور وہ زیور خاوند اس کا کس سے پاسکتاہے ، آیا اس عورت یا اس کی ماں سے؟ بینوا توجروا
الجواب
زیور کا مطالبہ خاص عورت سے ہے اس کی ماں سے تعلق نہیں۔ اشرفیوں کے بارے میں سائل نے بیان کیا کہ جب عورت سے مانگیں تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں اس پر زید ناراض ہوا کہ کیوں بے اجازت اسے دیں اور ماں باپ کے پاس دوسرے کی امانت رکھ دینے میں اکثر علماء کا اختلاف ہے،
فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی خلاصہ وغیرہما میں اس کا جواز اس شرط پر ہے کہ وہ اور یہ ایک ہی ساتھ رہتے ہوں ورنہ نہیں۔ عالمگیریہ میں ہے :
امانت کی حفاظت کے معاملہ میں والدین اجنبی کے حکم میں ہیں جب تک کہ وہ اس کی عیال میں نہ ہوں عیال میں ہونا شرط ہے۔ یوں خلاصہ میں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۴/ ۳۳۹)
اسی میں ہے :
وتفسیر من فی عیالہ فی ھذا الحکم ان یساکن معہ سواء کان فی نفقتہ اولا کذا فی الفتاوٰی الصغرٰی وھکذا فی فتاوی قاضی خاں ۲؎۔
اس حکم میں عیال کی تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ سکونت پذیر ہوں اس کے نفقہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں فتاوٰی صغرٰی اور فتاوٰی قاضیخان میں ایسے ہی ہے۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۳۹)
اور علامہ مقدسی نے فتوٰی اس پر نقل کیا کہ اس کا ساتھ رہنا شرط نہیں۔
ردالمحتارمیں ہے :
اس میں یعنی مقدسی میں ہے والدین کے معاملہ میں ان کا اس کی عیال میں ہونا شرط نہیں ہے۔ اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الایداع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۵۱)
مگر حقیقت امر یہ ہے کہ یہ امین جس کے پاس امانت رکھی اس کا اس مال کی نسبت قابل اطمینان ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے فقط اس امین کے ذاتی مال پر امین ہونا کافی نہیں کہ یہ امر باختلاف مالک مال بدلتا ہے مثلا اکثر زنان زمانہ اپنی دختر کے مال میں ضرور قابل وثوق ہیں مگر اس سے داماد کے مال پر اطمینان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ بارہا ماں بیٹی دونوں اس کے تلف میں ہم زبان ہوجاتی ہیں۔
ہندیہ میں ہے :
للمودع ان یدفع الودیعۃ الی من کان فی عیالہ کان المدفوع الیہ زوجتہ او ولدہ او والدیہ اذالم یکن متہما یخاف منہ علی الودیعۃ ھکذا فی فتاوٰی قاضیخاں ۱؎۔
مودع کو جائز ہے کہ امانت اپنے عیال کو سپر د کردے اور عیال میں سے بیوی یا اولاد یا والدین ہوں بشرطیکہ ان کے پاس امانت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ فتاوٰی قاضیخاں میں یوں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاویٰ ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۳۹)
لہذا عورت کا یہ فعل کہ اشرفیاں اپنی ماں کو دے آنا بتاتی ہے مسلم نہ ہوگا۔ عورت پر اشرفیوں کا تاوان ہے اگر معلوم ہو کہ واقعی اپنی ماں کو دے آئی تھی اور ماں نے اس کے باپ کو دیں اس نے مقدمہ میں صرف کیں، گو زید کو اختیار ہے کہ عورت یا اس کی ماں یا اس کے باپ جس سے چاہے اس کا تاوان لے۔
لانہما کغاصب الغاصب فللمالک ان یضمن من شاء، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ وہ دونوں غاصب کے غاصب کی طرح ہیں تو مالک کو اختیار ہے جس کو چاہے ضامن بنائے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)