Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
13 - 120
1کتاب الامانات

(امانت کا بیان)
مسئلہ ۲۸: ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمد یعقوب خاں کے مبلغ چھ روپے نیاز احمد کے ذمہ عرصہ کے چاہئے تھے، نیاز احمد کے پاس یعقوب خاں نے مبلغ بیس روپے دیکھ کر مبلغ چھ روپے اپنے لے لئے، نیاز احمد نے کہا کہ یہ روپے میرے نہیں ہیں عنایت اللہ کے ہیں، یہ کہنا نیاز احمد کا یعقوب خاں نے کچھ نہ سنا، روپے اپنے لے لئے، پھر عنایت اللہ یعقوب خان کے پاس آئے کہ روپے میرے تھے واپس کردو، یعقوب خان نے جواب دیا کہ میں نے نیاز احمد سے روپے لئے ہیں تم نیاز احمد سے طلب کرو مجھ سے کیا واسطہ ، پس موافق شرع شریف کے یعقوب خاں کو روپے لینا جائز ہوئے یانہیں اور عنایت اللہ اپنے روپے کا نیاز احمد سے تقاضا کرے یا یعقوب خان سے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: اگر یعقوب خاں کو معلوم تھا یاثابت ہوگیا تھا کہ فی الواقع یہ روپے نیاز احمد کے نہیں دوسرے شخص کے ہیں، تو لینا ناجائز وگناہ ہوا، ورنہ قبضہ دلیل ملک ہے، اور دائن جب مدیون کا مال اپنے حق کی جنس سے پائے او روہ دین از قبیل قرض یا معجل یا اجل گزشتہ ہو تو ہرطرح لے لینے کا اختیار رکھتاہے۔
وذالک بالاجماع وانما النزاع فی خلاف الجنس کما فی الدرالمختار۱؎ وغیرہ ۔
یہ بالاجماع ہے اور اختلاف صرف جنس کے خلاف میں ہے جیسا کہ درمختا روغیرہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الحجر         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۹۵)
رہا عنایت اللہ کا مطالبہ، اگر نیاز احمد نے یعقوب خاں کو خود روپے نہ دئے بلکہ یعقوب خاں نے بالجبر چھین لئے تونیاز احمد سے مطالبہ نہیں یعقوب خان سے ہے
فانہ امین ولا ضمان علی الامین الا بالتعدی ولا تعدی من المقہور المغلوب
 (کیونکہ یہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں ہوتا ماسوائے تعدی کے جبکہ مجبور ومغلوب تعدی کرنے والا نہیں ہوتا۔ ت) اور اگر یعقوب خاں کے مانگنے پر یا زبانی اصرار  پر دے دئے اگر چہ کتناہی اصرار کیا ہو یا یعقوب خاں نے چھیننے چاہے یہ اگر چاہتا تو بچا لیتا مگر نہ بچائے بلکہ دے دئے تو نیاز احمد ویعقوب خاں دونوں ضامن ہیں عنایت اللہ جس سے چاہے مطالبہ کرے
فان الثانی غاصب بالاخذ والاول بالدفع وترک الحفظ
 (کیونکہ دوسرا لینے کی بناء پر غاصب اور پہلو دینے اور حفاظت نہ کرنے پر ۔ ت) واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: از کٹھور ضلع سورت اسٹیشن سائن مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایھا العلماء العظام والفقہاء الکرام زادکم اﷲ تعالٰی  تعظیما و تکریما لدیہ
(اے علماء کرام اور فقہاء عظام! اللہ تعالٰی آپ کو اپنے دربار میں زیادہ تعظیم وتکریم دے، آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت)اس صورت میں کہ مثلا ''زید کو ہندہ نے پانچ گنی فروخت کرنے کو دیں، زید نے وہ گنی لے کر اپنے پیسے کی تھیلی میں کہ چہار آنیاں اور دو آنیاں جس میں رکھی تھیں کپڑے میں باندھ کر رکھ دئے اور ہنوز ان گنیوں کو فروخت کرنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید مذکور کہتاہے کہ ایک شخص کو روپیہ دینے کو تھیلی مذکو رمیں نے صندوق سے نکال کر بالکل خالی کردی اور اُلٹ دی اورشخص مذکور کو روپیہ دے کر اس خالی تھیلی کو اسی صندوق میں ڈال دیا اور صندوق کو بند کرکے میں دوسرے کام میں مشغول ہوگیا اور ان گنیوں کا میں نے کچھ خیال نہ کیا،اور میں باہر صندوق کے ان کو بھول گیا۔ جب بعد چند روز کے ہندہ مجھ سے وہ گنیاں یا اس کے روپے طلب کرنے کو آئی تو میں نے تلاش گنیوں کی کی لیکن اب وہ گنیاں مجھے نہیں پاتی ہیں، اور مجھے نہیں یاد ہے کہ وہ گنیاں باہر رہ گئیں یا او رکوئی اٹھا لے گیا یا میرے کم خیالی سے اس روپیہ طلب کرنے والے کو دے دی، یہ مقولہ زید مذکور وکیل کا ہے، لہذا صورت مذکورہ مسئولۃ الصدر میں گنیاں مؤکلہ ہندہ مذکورہ کی جائینگی یا وکیل زید مذکور کے ذمہ ضمانت دینی لازم آئے گی،
بینوا بیانا شافیا تو جروا اجرکم اللہ اجراوافیا
( شافی بیان فرماؤ، اپنا اجر کامل اللہ تعالٰی سے پاؤ۔ ت)
الجواب: صورت مستفسرہ میں زید پر ضمان لازم ہے کہ ضائع ہونا اس کی تقصیر سے ہے،
فی الہندیۃ رجل دفع الی دلال ثوبا لیبیعہ ثم قال الدلال نسیت ولا ادری فی ای حانوت وضعت یکون ضامنا کذا فی فتاوٰی  قاضیخان ولو قال وضعت بین یدی فی داری ثم قمت ونسیتھا فضاعت ینظر ان کانت الودیعۃ مالا یحفظ فی عرصۃ الدار ولا تعد حرزالہ کصرۃ الدراہم و الذہب ونحوہما یضمن والا فلا کذا فی محیط السرخسی ۱؎ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
ہندیہ میں ہے ایک شخص نے دلال کو فروخت کرنے کے لئے کپڑا دیابعدمیں دلال نے کہہ دیا کہ میں بھول گیا مجھے یادنہیں کہ میں نے وہ کپڑا کس دکان میں رکھا ہے تودلال ضامن ہوگا، فتاوٰی قاضی خاں میں یونہی ہے، اور اگر دلال نے یوں کہا کہ میں نے کپڑا اپنے گھر اپنی نگرانی میں رکھا پھر میں چلا گیا اور بھول گیا تو ضائع ہوگیا تو غور کیا جائے گا کہ وہ امانت ایسی ہے جس کی حفاظت کہا جاسکتاہے ، مثلا دراہم کی تھیلی اور سونے اور اس کی مثل چیز، تو ضامن ہوگا ورنہ نہیں، جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے، اھ ملخصا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎فتاوٰی  ہندیۃ        کتاب الودیعۃ الباب الرابع    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۴۳۔ ۳۴۲)
مسئلہ ۳۰:  از کمپ بریلی لال کرتی مرسلہ شیخ کریم بخش صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک نوٹ بکر کو اس غرض سے دیا کہ اس کا روپیہ اپنے آقا کی دکان سے لے کر بھیج دینا اور بکر سے کوئی اُجرت کسی قسم کی نہیں ٹھہری تھی اور وہ نوٹ راستہ میں گر کر گم گیا ہے تو روپیہ اس کا بکر کے ذمہ ہوگا یا نہیں؟ اور نیز آقا سے اس کا تعلق ہے یا نہیں؟ فقط
الجواب: آقا سے اس کا کچھ تعلق نہیں، نہ بکر پرتاوان آسکتاہے جبکہ اس نے اپنی بے احتیاطی سے نہ گمایا ہو
کما ھو معلوم من حکم الامین
(جیسا کہ امین کے حکم سے معلوم ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: مسئولہ کرامت خاں بریلی    غرہ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے زید سے کچھ زیور عاریت لئے اور وہ زیورات گم ہوگئے اب وہ اس کے بدلے میں بخوشی نیا زیور بنادینا چاہتے ہیں۔ وہ لینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب

جبکہ وہ زیور بغیر اس شخص کے تقصیر کے گم ہوگئے تو اس کے بدلے میں اس سے کچھ لینا ہی ناجائزو تاوان ہے اور ناجائز بات میں کسی کی خوشی وناخوشی کو دخل نہیں۔ بہت لوگ سو دبخوشی دیتے ہیں، پھر کیا اس کا لینا حلال ہوجائے گا۔
اتاخذونہ بہتانا واثما مبینا ۱؎ o لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۲؎o
کیا جھوٹ اور گناہ سے لیتے ہو، آپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ (ت)
 (۱؎ (لقرآن الکریم    ۴ /۲۰) 	(۲؎ القرآن الکریم    ۲/ ۱۸۸)
لہذا علماء فرماتے ہیں اگر باہم شرط اقرارپائی ہو کہ جاتا رہا تو تاوان دیں گے تو یہ شرط بھی مردود و باطل ہے۔ 

درمختا رمیں ہے:
لاتضمن بالہلاک من غیر تعد وشرط الضمان باطل ۳؎ واﷲ سبحانہ وتعالٰی  اعلم۔
تعدی کے بغیر ہلاک پرضامن نہ ہوں گے اور ضمان کی شرط باطل ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی  اعلم۔ (ت)
 (۳؎ درمختار  کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی  ۲ /۱۵۶)
Flag Counter