| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶: از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم بروز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۲۴ھ (۱) شیئ مشترکہ کو کہ ہر ایک شریک استعمال کرتا ہے تو بروقت ٹوٹنے یاضائع ہونے کے اس شیئ کا تاوان کس پر ہوگا؟ (۲) زید نے بکر کا مال ناجائز طریق مثلا غصب یا چوری یا خیانت یا ظلم سے لے لیا تو کیا بکر کو جائز ہے کہ جب زید کے مال پر قابو پائے، تو بمقدار اپنے مال کے اس کے مال میں سے بلا رضامندی زید کے لے لے۔ بینوا توجروا
الجواب (۱) اگر بلاتعدی ٹوٹی یا ضائع ہوئی تو کسی پرنہیں، اوراگر ایک شریک نے قصدا توڑا دیا ضائع کردیا تو دوسروں کے حصوں کا تاوان دے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) اپنے حق تک لینا جائز ہے کہ وہ زید کا مال نہیں اس کا ہے۔ اصل مذہب میں جنس مال کی اجازت ہے۔ مثلا سوروپے اس کے اس نے ظلما لے لئے اسے اس کے روپے نہوں(عہ) اور فتوٰی اس پر ہے۔ کہ اپنے حق کی جنس نہ ملے تو غیر جنس سے بھی مقدا رحق تک لے سکتا ہے۔
لان الضمان ضمان العقود ولیس الضمان ضمان الحقوق کما فصلہ فی ردالمحتار
(کیونکہ یہ ضمان عقود والا ہے حقوق والا ضمان نہیں جیساکہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اصل میں ایسے ہی ہے لیکن شاید یہ عبارت اس طرح ہو''اسے اس کے روپے ہی لینے ہوں گے'' عبدالمنان اعظمی
مسئلہ ۲۸۷: مسئولہ نواب نثار احمدخاں صاحب بازار صندل خاں بریلی بروز یکشنبہ ۹ شوال ۱۳۳۴ھ امام مسجد سابق جو بغداد شریف وغیرہ کہہ کر باہر شہر کے گیا ہو تو اس کے اسباب کوحجرہ مسجد سے بلااجازت لے کر جس کو چاہے اور اپنے صرف میں لائے بلارائے اہل محلہ کے، پس صرف کرنیوالے پر کیاحکم شرع ہے۔ فقط
الجواب: اسباب اگر اس کی ملک ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں اگر چہ اہل محلہ کی رائے سے ہوں، اور اگر مسجد کا مال ہے کہ امام کے صرف میں رہتا تھا تو جس لئے وقف تھا اسی میں صرف ہوسکتاہے اپنے صرف میں لانا یاجسے چاہے دے دینا اب بھی حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸ تا ۲۹۲: از علی گڑھ محلہ بالائے قلعہ مسئولہ محمد عبدالمجید معرفت عبدالرحیم وکیل یکشنبہ ۲۶ شوال ۱۳۳۴ھ (۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قوم کو ضرورتا قومی چندہ یومیہ جمع کرکے ایک چاہ بنانے کا شوق ہوا اور کل قوم نے یومیہ چندہ متفق ہو کر جمع کرنا شروع کیا، اس چندہ میں امیر وغریب سب شریک تھے، تقریبا دو سوروپیہ ہوجانے پر قوم نے ایک برادری کے شخص کو معتبر سمجھ کر وہ رقم امانۃ اس کے سپرد کردی، اوریومیہ چندہ بدستور جاری رکھا، اور اس سے کہہ دیا کہ جب یہ رقوم چاہ بنانے کے قابل ہوجائے گی تو تم سے یہ روپیہ لے کر چاہ بنایا جائے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد اس امانت دار نے بغیر مشورہ قوم کے اپنی رائے سے ضرورت والے، لوگوں کو وہ روپیہ قرض بلا سود قوم ہی کے لوگوں کو دینا شروع کرکے انھیں مقروض آدمیوں کو اپنا طرفدار بنالیا، جب قوم کو یہ حال معلوم ہوا تو اکثر نے چندہ دینا بندکردیا، اور قوم کے اعتراض پر امین نے یہ جواب دیاکہ میں نے اس روپیہ کانام خزانہ بیت المال رکھ دیاہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ روپیہ جو قوم نے ایک خاص کام یعنی چاہ بنانے کے لئے جمع کیا تھا، اب اس امانتدار نے بلارضامندی ورائے قوم کے خزانہ بیت المال بنالیا ہے۔ یہ فعل اس کا شرعا درست ہے یانہیں اور اس کا نام خزانہ بیت المال رکھنا حدیث سے ثابت ہے یانہیں؟ (۲) اب وہ امین قرض روپیہ حیثیت داروں کو دیتاہے غریب لوگوں کو نہیں دیتا، اور دیتاہے تو کسی امیر کی ضمانت پر، اکثر توغریبوں کو یہ جواب دیتاہے کہ تم کو دے کر واپس کہاں سے لیں گے کیا شرعا یہ درست ہے کہ خزانہ بیت المال جو عام چندہ ہے اس میں سوائے امیروں کے غریبوں کوقرض نہ دیا جائے؟ (۳) جو شخص روپیہ قرض لینے کی غرض سے چندہ دے اور پھر قرض بھی لے،تو یہ چندہ دینے والا مستحق ثواب ہے یانہیں؟ مثلا ایک شخص کچھ روپیہ قرض لیتاہے۔ جب تک قرض لیا ہو اور روپیہ ادانہ ہو تب تک وہ چندہ دیتاہے بعدکو بند کردیتاہے۔ (۴) قوم امانت دار سے حساب روپیہ کا مانگتی ہے، اب وہ امین حساب پیش نہیں کرتا کیا شرعا اس پر حساب پیش کرنا ضروری ہے یانہیں؟ (۵) جو لوگ روپیہ قرض نہیں لیتے اور اس امانت دار کی رائے کے شریک نہیں ہوتے ان سے وہ امین یہ کہتاہے کہ تم اس بیت المال کے خلاف نہیں ہوبلکہ کلام پاک کے خلاف ہو، کیا خزانہ بیت المال کایہ طریقہ ہے، اس صورت سے کلام پاک سے ثابت ہے؟ فقط
الجواب: یہ فعل اس کا حرام ہے اور اس کا یہ نام حدیث سے ثابت نہیں بلکہ شیطانی وسوسہ کی ایجاد ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ غرض یہ ساری کاروائی حرام ہے۔ اسے کلام اللہ کے خلاف کہنا شیطنت ہے۔ او ر وہ جو قرض ادا ہونے تک چندہ دیتاہے وہ معنی سود ہے۔ او ر یہ شخص امانت دار نہیں غاصب ہے اور اس کے ذمہ تفہیم حساب لازم نہیں، بلکہ جس قدر جمع تھا سب کا واپس دینا اس پر فرض ہے اور اگر ا س پر اس نے کچھ نفع حاصل کیاہو تو وہ اس پر حرام ہے، یا تو انھیں اہل چندہ کو واپس دے جن کے روپے سے نفع حاصل کیاہے۔ او ریہی بہترہے، ورنہ جتنا مال نفع لیا ہے فقراء پر تصدق کرے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۳: از کلکتہ شہر ۲۵ شعبان ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کتب فروش نے میرے ملک میں آکے بطور نذرانہ کے ایک جلد کلام اللہ پیش کیا، اور چند کتب اور بھی، عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ جس نے نذرانہ دیاہے وہ ایک دوسرے شخص کی دکان پر ملازم ہ۔ اور ان کتابوں کا وہ مالک نہیں ہے۔ بغیر حکم اپنے مالک کے وہ کتابیں دی ہیں، اس صورت کوہم کو کیا لازم ہے۔ کتابوں کو اس شخص کو واپس کردوں یا مالک کتاب کو دے دوں، مگر اس صورت میں رسوائی کا خیال ہے۔ اور ممکن ہے کہ اپنی تنخواہ میں حساب کرلیاہوں۔ مگر مجھے کیا حکم شرعا ہے؟
الجواب:وہ کتابیں اپنے پا س نہ رکھی جائیں کیف وقیل۔ نہ مالک دکان کودی جائیں کہ کتب فروش کے غصب یاسرقہ پر یقین نہ ہوا، اور مسلمان کا حال حتی الامکان صلاح پر حمل کرنا واجب، بلکہ اسی کتب فروش کو واپس کردی جائیں کہ اگر واقع میں اس کی تھیں فبہا، ورنہ اسے دینے سے بری الذمہ ہوگیا، درمختارمیں ہے :
ردغاصب الغاصب المغصوب علی الغاصب الاول یبرأ عن ضمانہ ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ غاصب سے غصب کرنے والے نے مغصوب کو پہلے غاصب پر واپس کردیا تو اس سے ضمان ساقط ہوجائیگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷)
مسئلہ ۲۹۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض موسم میں زید کا مکان قیام گاہ مرد مان ہر شہر ودیار ہوتاہے۔ دور دور سے لوگ آتے اور اس کے مکان کی کوٹھری میں اقامت کرتے ہیں، جوشخص جس میں ٹھہرتاہے اسے زید وہ مکان سپرد کردیتاہے۔ کہ اس میں رہے اور اپنا مال واسباب رکھے اور اس کی حفاظت کرے، انھیں لوگوں میں عمرو نے بھی ایک مسکن میں قیام کیا اور حسب دستور وہ مسکن زید نے اسے سپرد کردیا، اوربنظر خیر خواہ عمرو کو اگاہ کردیا کہ اس موسم میں لکھو کھاآدمی آتے ہیں ، اپنے مال کی خوب نگرانی کرو، عمرو باوجود اس اطلاع کے ایک دن اس مسکن کو تنہا بے قفل چھوڑ کر باہر گیا، جب آیا ا س کا مال چوری ہوگیا تھااس صورت میں شرعا عمرو زید سے تاوان لے سکتاہے یانہیں؟
الجواب: شرعا جب تک کسی شخص پر سرقہ کاثبوت کافی نہ پہنچے اس پر نادیدہ حکم روانہیں، خصوصا جبکہ اس کی حفاظت بھی ذمہ زید نہ تھی، اور ایسا مجمع عام اور اس میں خود عمرو کی یہ بے احتیاطی پس اس صور ت میں ہر گز عمرو کو زید پر دعوٰی نہیں پہنچتا۔ اور اس سے مطالبہ تاوان صریح مخالفت شرع ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ نوٹ : انیسویں جلد کتاب الغصب پر ختم ہوئی،بیسویں جلد کا آغاز کتاب الشفعہ سے ہوگا۔