Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
12 - 120
قال ش وھذا اذا لم یغلب التعارف بین التجار فی مثلہ کمافی التاتارخانیۃ اھ ۱؎ ثم ذکر عنہا مااذا دفع الی رجل الفا بالنصف ثم الفا اخری کذلک فخلط المضارب المالین ۲؎ وفصل صورھا واحکامہا وھی ستۃ عشروجہا قد بسطہا فی الھندیۃ عن المحیط باوضح لما (عہ) نا۔
شامی نے فرمایا یہ جب ہے کہ وہاں تجار کا غالب عرف ایسا نہ ہو جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے اھ پھر علامہ شامی نے تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے کہاکہ ایک شخص نے کسی کو نصف نفع کی شرط پر ہزار بطور مضاربت دیا پھر ایک اور ہزار اسی شر ط پر دیا تو مضارب نے ان دونوں مالو ں کو خلط کردیا ، یہاں انہوں نے صورتوں اور ان کے احکام کی تفصیل بیان کی اور یہ سولہ وجوہ ہیں جن کو ہندیہ نے محیط کے حوالے سے مبسوط طوپر بیان کیا اور ہمارے بیان کردہ سے زیادہ واضح ہے ۔
عہ: فی الاصل ھکذا لعلہ مما بیناہ۔
اصل میں اسی طرح ہے غالبا یہ لفظ مما بیناہ ہے (ت)
 (۱؎ و ۲؎ ردالمحتار    کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/۴۸۵)
اقول: واستخرجت لہا ضابطۃ ھی ان الخلط اذا وقع علی مال لہ فیہ اذن ولو عرفا او ربح فیہ خاصۃ اولا ربح فی شیئ من مالی المضاربۃ لم یضمنہ والا ضمن تمت الضابطۃ ای اذا وقع علی مالیس لہ فیہ اذن ولاربح یختص بہ ولا عدم ربح یعمہما بان ربح فی المال الاخر خاصۃ اوفیہما معا فانہ یضمنہ فان کان کلا المالین علی الوجہ الاول لم یضمن شیئا منہما او علی الثانی ضمنہما معا او احدھما علی الاول و الاخر علی الثانی لم یضمن الاول وضمن الاخر، ھذا اذا خلط احد مالی زید بالاخر فکیف اذا خلط بمال نفسہ وفی البحر لیس لہ ان یخلط مال المضاربۃ بمالہ و لامال غیرہ الا ان یقول لہ اعمل برأیک ۱؎ اھ ، وقال بعد ثلثۃ اوراق انما لایضمن لان رب المال قال لہ اعمل برأیک فیملک الخلط بخلاف مااذا لم یقل فانہ لایکون شریکا بل یضمن کالغاصب ۲؎ اھ،
میں کہتاہوں میں نے اس کے لئے ایک ضابطہ بنایا ہے وہ یہ کہ اگر خلط اس مال میں کیا جس میں یہ اجازت تھی اگر چہ عرفا ہو یا خاص طورپر اس مال میں ہی نفع ہوا یا مضاربت کے دونوں مالوں میں کوئی نفع نہ ہو تو ضامن نہ ہوگا ورنہ ضامن ہوگا، ضابطہ مکمل ہوا ور نہ ضامن ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ خلط ایسے مال میں کیا جس میں یہ اجازت نہ تھی اور نہ ہی اس مال سے مختص نفع تھا اور نہ ہی دونوں مالوں کو شامل نفع ہو بلکہ یوں ہو کہ دوسرے مال سے مختص نفع ہو یا دونوں کو شامل نفع ہو توضامن ہوگا،ا ور اگر دونوں مال پہلی وجہ والے یعنی عدم ضمان والی صورت پرتھے تو دونوں کا کوئی ضمان نہیں یا دونوں دوسری وجہ پر تھے تو دونوں کا ضامن ہوگا، یا ایک مال پہلی وجہ پر اور دوسرا دوسری وجہ پر تھا تو پہلے میں ضامن نہ ہوگا، دوسرے میں ضامن ہوگا، یہ تمام صورتیں زید کے دونوں مالوں کو آپس میں خلط کرنے میں ہیں تو مضارب کے اپنے ذاتی مال کو اس میں خلط کرنے سے کیونکر نہ ہوں، بحر میں ہے مضارب کو جائز نہیں کہ مضاربۃ کے مال کو اپنے مال یا غیر کے مال سے خلط کرے الایہ کہ اس کو ''جوچاہے کر'' کہہ کر عام اجازت دی گئی ہو اھ، اور تین ورق کے بعد فرمایا کہ ضامن نہ ہوگا کیونکہ رب المال نے اسے کہہ کر رکھا ہے کہ ''جو چاہے کر'' تو وہ خلط کامالک ہوگا بخلاف جب یہ نہ کہا تو پھر خلط سے شریک نہ بنے گا بلکہ غاصب کی طرح ضامن ہوگا، اھ،
 (۱؎ بحرالرائق    کتاب المضاربۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷/ ۶۵۔ ۲۶۴)

(۲؎بحرالرائق  کتاب المضاربۃ      باب المضارب یضارب     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷/ ۲۷۱)
وفی الہدایۃ مایفعلہ المضارب انواع، نوع لایملکہ بمطلق العقد ویملکہ اذا قال لہ اعمل برأیک مثل خلط مال المضاربۃ بمالہ اومال غیرہ ۳؎ اھ (باختصار) وفیہا انتظم قولہ اعمل برأیک الخلط فلا یضمنہ ۴؎ اھ (باختصار) وفی العنایۃ اعمل برأیک یتناول الخلط فصار شریکاً فلم یکن غاصبا فلا یضمن ۱؎ اھ (ملخصا) وثمہ قال فی الخانیۃ لیس لہ ان یخلط مال المضاربۃ بمالہ اومال غیرہ و لوکان رب المال قال لہ اعمل فیہ برأیک کان لہ ان یخلط ۲؎ اھ (ملخصا) وفیہا لو لم یقل اعمل برأیک الا ان معاملۃ التجار فی تلک البلاد ان المضاربین یخلطون المال و لاینہا ھم  رب المال قالوا ان غلب التعارف بینہم فی مثلہ نرجو ان لایضمن وتکون المضاربۃ بینہما علی العرف ۳؎ اھ ۔
ہدایہ میں ہے کہ مضارب کی کارروائی مختلف اقسام پر ہےبعض وہ جن کاعقد کے مطلق ہونے سےمالک بن جاناہے اور بعض وہ کہ ''جو چاہے کر'' کہنے سے ان کا مالک بن جاتاہے مثلا مضاربت کے مال کو اپنے یاغیر کے مال میں خلط کرنا اھ، اور ہدایہ میں ہی ہے کہ مالک کا ''جو چاہے کر'' کہنا خلط کو شامل ہے لہذا ضامن نہ ہوگا اھ (ملخصا) اور عنایہ میں ہے ''جو چاہے کر'' خلط کو شامل ہے تو خلط کرنے پر شریک بن جائیگا غاصب نہ ہوگا تو ضمان نہ دے گا اھ (ملخصا) اور خانیہ کے اسی مقام پر فرمایا مضارب کو اختیار نہیں کہ وہ مضاربہ کے مال کو اپنے یا غیر کے مال میں خلط کرے، اور اگر رب المال نے اسے ''جو چاہے کر'' کہہ دیا تھا تو اس کوخلط کا اختیار ہوگا اھ (ملخصا) اور اسی میں ہے اگر مالک نے ''جو چاہے کر'' نہ کہا ہو مگر اس علاقہ کے تجار کامعاملہ یوں ہے کہ مضاربت والے لوگ مال کو خلط کرتے ہیں اس کے باوجود رب المال لوگ ان پر اعتراض نہیں کرتے۔ فقہاء کرام نے فرمایا اگر اس معاملہ میں عرف غالب ہوچکا ہے تو ہمیں امید ہے کہ مضارب ضامن نہ ہوگا اورعرف کے مطابق مضاربت دونوں میں باقی رہے گی اھ۔
 (۳؎ الہدایۃ    کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۲۶۵)

(۴؎الہدایۃ    کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۲۶۸)

(۱؂ العنایۃ علی ھامش فتح القدیر     کتاب المضاربۃ  فصل فیما یفعلہ المضارب   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر   ۷/ ۴۴۳)

(۲؎و ۳؂فتاوٰی قاضی خاں    کتاب المضاربۃ  فصل فیما یجوز للمضارب        نولکشور لکھنؤ        ۴ / ۳۷۔۶۳۶)
وفیہا وفی وجیز الکردری واللفظ لہا۔ رجل دفع الی غیرہ مالا مضاربۃ ثم ان المضارب شارک رجلا اخر بدراہم من غیر مال المضاربۃ ثم اشتری المضارب وشریکہ عصیرا من شرکتہما ثم جاء المضارب بدقیق من المضاربۃ فاتخذ منہ ومن العصیر فلا یج(عہ) قال ان اتخذ الفلایج باذن الشریک ینظر الی قیمۃ الدقیق قبل ان تتخذ منہ الفؤلا یج والی قیمۃ العصیر فما اصاب حصۃ الدقیق فہو علی المضاربۃ وما اصاب حصۃ العصیر فہو بین المضارب وبین الشریک لکن ہذا اذا کان رب المال قال لہ اعمل فیہ برأیک فان لم یکن قال ذٰلک وفعل المضارب ذٰلک بغیر اذن الشریک فالفلایج تکون للمضارب وھو ضامن مثل الدقیق لرب المال ومثل حصۃ الشریک من العصیر للشریک فان کان رب المال اذن لہ فی ذٰلک والشریک لم یاذن فالفلایج تکون للمضاربۃ والمضارب ضامن حصۃ شریکہ من العصیر وان کان الشریک اذن لہ بذٰلک ورب المال لم یاذن لہ فالفلایج تکون بینہ وبین الشریک وھو ضامن لرب المال مثل الدقیق ۱؎ اھ فلا ادری مافیہا من قولہ المضارب اذا سافر بمال المضاربۃ ومال نفسہ توزع النفقۃ علی المالین سواء خلط المالین اولم یخلط اوقال لہ رب المال اعمل فیہ برأیک اولم یقل لہ ذٰلک والسفر ومادون السفر فی ذلک سواء اذاکان لایبیت فی اھلہ ۲؎ اھ لانہ ھذا حکم المضاربۃ واذاخلط بغیر اذن ضمن، والضمان والمضاربۃ لایجتمعان کما فی البزازیۃ۱؎ من نوع فی ھلاک مالہا فلیحرر وبقیۃ الاحکام واضحۃ دائرۃ فی الکتب کالخیریۃ والہندیۃ وغیرھما وذکرت غیر مرۃ فی فتاوٰنا۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔
خانیہ اور وجیز کردری میں ہے جبکہ عبارت خانیہ کی ہے کہ ایک شخص نے کسی کو مضاربۃ پر مال دیا پھر مضارب نے دوسرے شخص کو اس کے کچھ دراہم لے کر شریک بنالیا جبکہ یہ دراہم مضاربۃ میں شامل نہیں کئے پھر مضارب او راس کے ہم شریک نے اپنی شراکت کے مال سے جوس خریدا پھر مضارب مضاربت کے مال سے آٹا لایا اور آٹے او ر جوس سے پیڑے بنائے تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر یہ پیڑے شریک کی اجازت سے بنے تو پیڑے بنانے سے قبل آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا اور یوں جوس کی قمیت کا بھی اندازہ کیا جائے تو جتنا حصہ آٹے کا بنے وہ مضاربہ ہوگا جو حصہ جو س کا ہے وہ مضارب اور اس کے شریک کا ہوگا، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب رب المال نے مضارب کو ''جو چاہے کر'' کہا ہو اور اگر اس نے یہ نہ کہا ہو اور مضارب نے یہ کارروائی اس کی اجازت کے بغیر کی ہو تو اس صورت میں پیڑے مضارب کے ہوں گے اور وہ آٹے کی مثل رب المال کا ضامن ہوگا، اور جوس کے حصہ کا شریک کو ضمان دے گا اور اگر رب المال کی اجازت تھی اور شریک کی اجازت نہ تھی تو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ کے برابر شریک کو ضمان دے گا، اور اجازت کا معاملہ بالعکس ہو تو پیڑے مضارب اور اس کے شریک کے ہوں گے اور آٹے برابر رب المال کو ضمان دیگا اھ، اورخانیہ میں جو یہ ہےکہ مضارب جب مضاربۃ اور ذاتی مال کے ہمراہ سفرکرےگا تو نفقہ دونوں مالوں پر منقسم ہوگاخواہ دونوں مالوں کوخلط کیایانہ کیا،رب المال نے اس کو '' جو چاہے کر'' کہا ہو یا نہ کہا ہو، حد سفر ہویاکم ہو جب وہ رات کو واپس گھر نہ لوٹ سکتا ہو ، الخ۔ یہ میری سمجھ سے بالاہے کیونکہ یہ حکم تو مضاربت کا ہے حالانکہ اگر رب المال کی اجازت کے بغیر خلط کیا ہو تو ضامن ہوتاہے جبکہ ضمان اور مضاربت اپنے حال پر جمع نہیں ہو سکتے جیسا کہ بزازیہ میں مضاربت کے مال کی ہلاکت کی نوعیت کے بیان میں ہے، اس کی تحقیق ہونی چاہئے، اور باقی احکام واضح ہیں اور کتب فقہ خیریہ ، ہندیہ وغیرہما میں مذکور ہیں اور متعدد بار میں نے ان کو اپنے فتاوٰی میں ذکر کیاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب        نولکشور لکھنؤ        ۴ /۶۳۷)

(۲؎فتاوٰی قاضی خاں    کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب        نولکشور لکھنؤ        ۴ /۶۳۸)

(۱؎ فتاوٰی  بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی  ہندیۃ     کتاب المضاربۃ الفصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۸۳)
عہ:  الذی فی البزازیۃ فلا تج بالتاء الفوقانیۃ وذکر فیہا مانصہ اعطاہ الفا وقال اعمل برأیک ثم اشتری المضارب مع شریکہ عصیرا علی الشرکۃ فاتخذ المضارب من دقیق المضاربۃ و العصیرا لمشترک فلا تج باذن الشریک فالفلا تج علی المضاربۃ وضمن المضارب لشریکہ قیمۃ العصیر ما یخصہ ۱؎ الخ وکتبت علیہ مانصہ اقول ھذا سبق قلم وانما ھو حکم مااذا فعل باذن رب المال دون الشریک کما سیذکرہ بقولہ وان یاذن رب المال لاالشریک فالفلاتج علی المضاربۃ ویضمن حصۃ العصیر لشریکہ ۲؎ الخ اما حکم ھٰذا فما ذکر فی الخانیۃ انہ ینظر الی قیمۃ الدقیق الخ ۱۲ منہ غفرلہ۔
بزازیہ میں جو مذکور ہے وہ فلا تج (ت کے ساتھ ہے اور انہوں نے جو ذکر کیا عبارت یہ ہے مالک نے مضارب کو ہزار دے کر کہا '' جوچاہے کر'' پھر مضارب نے اپنے شریک سے مل کر جوس خریدا شراکت کے طور پر ، تو مضارب نے مضاربہ کا آٹا اور شراکت کا جوس ملا کر شریک کی اجازت سے پیڑے بنائے، تو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور مضارب جوس کی قیمت کے برابر شریک کو ضمان دے گا الخ، او رمیں نے اس پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں یہ قلم کی سبقت ہے حالانکہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب مضارب نے یہ کارروائی رب المال کی اجازت اور شریک کی اجازت کے بغیر کی ہو جیسا کہ وہ خود اس کو قریب ہی ذکر کریں گے اپنے اس قول میں، کہ اگر رب المال نے اجازت دی اور شریک نے نہ دی تو پیڑے مضاربہ میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ میں برابر شریک کو ضمان دے گا الخ ، لیکن اس مذکور صورت کاحکم وہ ہے جو خانیہ نے ذکر کیا ہے کہ آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا الخ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎و ۲؂  فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی  ہندیۃ    کتاب المضاربۃ    الفصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۸۶)
مسئلہ ۲۷: از بازار جام تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد سعید صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شرکت کرنا اس طرح سے روزگار میں کہ زید نے عمرو کو سو روپے دئے اورکہا کہ اس سے جو چاہو روزگار ، جو چاہو کر، یا فلاں، لیکن مجھ کو دس روپے تم فیصدی دینا، یا یوں کہا کہ جو تیری طبیعت میں آئے وہ دینا یا آنہ روپیہ کا نفع تعین کردیا، آیاعمرو کو بیشی ہو کہ کمی، خالد کہتاہے کہ تعین کرنا سود ہے۔ فقط
الجواب: یہ کہ جو طیبعت میں آئے دینا، ناجائز ہے کہ تعین نہ ہوا اور یہ کہ دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینا، اگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپے اس کو تجارت کے لئے دئے ہیں ان پر فیصدی دس یا فی روپیہ ایک آنہ مانگتا ہے توحرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے سواں یا سولھواں حصہ دینا، تو یہ حلال ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter