Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
119 - 120
اور بالفرض اگر وہ جانتا بھی اور بالقصد تکاسل کرتا۔ جب بھی روپے کا الزام اس پر آنے کے کوئی معنی نہ تھے کہ وہ نہ سبب ہے نہ مباشر، 

قاعدہ شرعیہ تو یہ ہے کہ :
اذا اجتمع السبب والمباشر اضیف الحکم الی الباشر
۔ جب سبب اور اتکاب کرنیوالے میں معاملہ دائر ہو تو حکم ارتکاب والے کی طرف منسوب ہوگا (ت)

دوسرا قاعدہ ہے:
تخلل فعل الفاعل المختار یقطع النسبۃ۔
مختار کا فع حائل ہوجائے تو نسبت منقطع ہوجاتی ہے۔ (ت)

تو بکرکے روپیہ جانے کی کوئی وجہ نہیں روپے زید کے گئے، رہا چندہ زید اس میں متبرع تھا،
لاجبر علی المتبرع
(مفت میں دینے والے پر جبر نہیں ہوتا۔ ت) تو اس سے بھی مطالبہ نہیں ہوسکتا، نہ اس میں اس کا کوئی قصور ہے کہ اس نے تو چیک لکھ دیا تھا اور اگرنہ بھی لکھتا اور وعدہ کرکے پھر جاتا جب بھی شرعا بُرا تھا، مگر جبر کا اختیار کسی کونہ تھا،   اشباہ میں ہے: لاجبر علی الوفاء بالوعد ۳؎۔ وعدہ کے وفا پر جبرنہیں ہوسکتا۔ (ت)
 (۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب الحظروا لاباحۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۱۱۰)

(العقود الدریۃ   بحوالہ  لاشباہ والنظائر مسائل وفوائد من الحظر الخ ارگ بازار قندھار افغانستان      ۲/ ۳۵۳)
ہاں اگر زید اپنی طر ف سے دوبارہ دے تو یہ اس کا تطوع ہے۔
ومن تطوع خیر فان اﷲ شاکرعلیم ۱؎۔
جو شخص مفت میں بھلائی کرے تو اللہ تعالٰی قبول فرمانے ا ور جاننے والا ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۲/ ۱۵۸)
مسئلہ ۲۸۰: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل ۱۶ شوال ۱۳۳۳ھ یوم شنبہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ہندو کامال مسلمان زبردستی کھاسکتا ہے یانہیں؟
الجواب: زبردستی مال کھانے والے ایک دن بڑا گھر دیکھتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۱ تا ۲۸۳: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید نور اللہ محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ

(۱) زید کا ایک بیٹا جواب بالغ ذی عقل صاحب نصیب تھا، وہ جب مرا تو تجارت بند ہوگئی اور کچھ جائداد دونوں کے کسب سے تھی اب باقی ہے۔ زید کی اب دو زوجہ ہیں، ایک قدیم کفو کی، دوسری جدید غیر کفو کی، زید نے بعوض مہر دو مکان زوجہ کفو کے نام حسب قانون لکھے اور ایک مکان اپنے بیٹے بکر کے نام لکھے،لیکن کل جائداد پر قابض اور ماحصل سے تمتع زوجہ غیر کفو اور اس کی اولادرہی، جبر ا وقہرا، پس یہ قبضہ وتمتع شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

(۲) زوجہ کفو کی دو لڑکیاں ہیں، پس اپنے نام کی جائداد برضائے زوج خود یعنی زیدکے،بذریعہ عدالت لڑکیوں کے نام کردی ہے، بذریعہ عدالت رجسٹری شدہ کاغذ موجود ہے۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ قبضہ کرکے اس سے منتفع ہوں، لیکن زید اور اس کی زوجہ غیرکفو اور اس کی اولاد فسد پرآمادہ ہیں، اور قبضہ نہیں دیتے اور کسی کی نصیحت نہیں مانتے، پس یہ امران کو شرعاکیا زیباہے۔ اوراس فعل کا کیاحکم ہے؟

(۳) کیا شرعا ان کو اس جائدادمیں کچھ حق ہے یا شرعا ول ظالم اور یہ فعل فسق ہے؟ فقط
الجواب

(۱) مال غیر سے بے رضا غیر تمتع اور اس پر مخالفانہ قبضہ حرام وحرام خوری ہے۔ قال اﷲ تعالٰی
لاتاکلوا موالکم بینکم بالباطل ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم  ۲/ ۱۸۸)
 (۲) یہ فعل بھی ظالم اور ظلم کی جزا نار۔

(۳) شرعا زید (عہ) کا اس میں کچھ حق نہیں اوریہ فعل ضرور ظلم وفسق ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ:  اصل میں یونہی ہے۔ سوال کی روشنی میں ''زید'' کے بجائے ''ان کا'' ہونا چاہئے۔
مسئلہ ۲۸۴: از پیلی بھیت محلہ شیر محمد نمبر مکان ۱۵۴، مسئولہ حبیب احمد بروز یکشنبہ ۸ ۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص بقال کے یہاں ملازم ہے۔ اورپوری تنخواہ نہ دے، تو وہ اس سے چھپا کر اس کے مال سے یعنی جو اس کے یعنی بقال کا تعلق ہو خود لے لے یعنی بنیے بقال اہل ہنود کا مال چھپا کر مسلمان ملازم کوکھانا رواہے یانہیں؟
الجواب: تنخواہ پوری نہ دینے کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ جس قدر قرارپائی ہے اس سے کم دیتاہے۔ اس صورت میں جتنی کم رہتی ہے اتنی مقدار تک اس کے مال سے بے اس کی اجازت کے لے سکتاہے۔ مثلا دس روپیہ تنخواہ ٹھہرے ہیں اور اس نے کسی مہینے میں ظلما پانچ روپے کاٹ لئے تویہ پانچ روپےکی قدر اس کے مال سے لے سکتاہے کہ یہ اس کا حق ہے۔

دوسرے یہ کہ تنخواہ جتنی ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں دیتا۔ مثلا وہ کام دس روپے ماہواری کے قابل تھا، او ر اس نے اسے حاجتمند پاکر وباکر پانچ روپے ماہوار نوکر رکھا اور اس نے قبول کرلیا تو اب نہیں لے سکتا کہ اتنے سے زیادہ میں اس کا حق نہیں، اور مال جو اس کی سپردگی میں ہے امانت ہے اور بذریعہ عقدا جارہ اِس کا اُس کا معاہدہ ہوچکاہے اور امانت میں خیانت اور معاہدہ میں غدرکسی کے ساتھ جائز نہیں ۔
قال اﷲ تعالٰی یا یھاالذی اٰمنوا اوفوا بالعقود ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۵/ ۱)
Flag Counter