| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر ) |
مسئلہ ۲۷۷: مرسلہ شیخ حاجی عبدالعزیز صاحب ۲۲ رجب ۱۳۲۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کی دیوار میں تیس برس سے ایک طاق عمرو کے غسل خانہ کا تھا، زید نے جس وقت اپنے مکان کی دیوار کھودی تو عمرو کا تیس برس کا طاق بند کردیا، باجود منت و سماجت بسیار کے بھی نہ مانا، دیگر یہ کہ عمروکے غسل خانہ کے دو کڑی کے زید کی دیوار میں اور چار پائخانہ کی کڑیوں کے ٹکڑے زید مذکور کی دیوار میں رکھے ہوئے ہیں۔ غدر کے قبل کے ہیں، زید نے بارہا ان کو دیکھا ہے۔ کیونکہ ایام قربانی زید مذکور کا کئی گھنٹہ اس مکان میں قیام رہتاہے۔ زید نے ہمیشہ ان ٹکڑوں کو دیکھا ہے مگر کبھی کچھ نہیں کہا، اور اب ان کو نکلوادینے کو کہتاہے۔ دیگریہ کہ جس وہ طاق بند کیا تھا اس وقت یہ چیزیں بھی اگر نارضامندی تھی نکلوادیتا، عمرو نے ایک خام مکان خرید کر تعمیر کرانا چاہا اور دیواریں کھدوائیں تو زید کی طرف کی دیوار میں دو الماریاں اور ایک آتش خانہ نمودار ہوا، بلکہ دیوار بھی بڑھی ہوئی ہے۔ عمرو نے جب زید سے کہا کہ اس کو درست کرادو، تو زید نے جواب دیا کہ تمھاری پائخانہ کے ٹکڑے جو ہمارے دیوار میں رکھے ہیں نکلوادوتو ہم بھی الماریاں بند کرادیں گے، اس صورت میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
الجواب: الماریاں اور آتش خانہ جو زید نے بے اجازت مالک بنایا ہے اس کا بند کردینا اس پر فورا لازم ہے۔ اور اگر ثابت ہو کہ دیوار اس کی زمین میں بڑھالی ہے تو اتنی دیوار گراکر زمین خالی کردینی لازم ہے۔ رہیں عمرو کی کڑیاں (عہ) اور طاق۔ تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار میں باجازت مالک بطور عاریت تھے، نہ کسی حق لازم سے، اور زید کا اب تک سکوت وہ بھی عاریت پر راضی ہونا تھا، اور عاریت کی چیز کا ہر وقت واپس لینے کا اختیار ہے۔ اب کہ زید راضی نہیں عمرو پر بھی لازم ہے کہ کڑیاں نکال لے، مگر ایک کا دوسرے پر ٹالنا کہ تم یہ کردو توہم یوں کریں ، جائز نہیں، کہ ظلم فورا دورکرنا فرض ہے۔ دونوں معا دوسرے کی ملک خالی کردیں،
عالمگریہ میں ہے:
البائع یؤمر برفع خشب علی حائط المبیعۃ ولو کان الخشب لاجنبی بحق لازم بملک واجارۃ فہو عیب لانہ لیس لہ ان یمنعہ، وان کان باجازۃ لاخیار لہ لانہ لیس بلازم کذا فی تاتارخانیۃ ۱؎ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مبیع کی دیوار پر سے کڑیاں اتارنے کا حکم بائع کو دیا جائے گا اور اگر وہ کڑیاں اجنبی کی ملکیت یا اجارہ پر ہوں تو یہ عیب شمار ہوگا کیونکہ اس میں اس کو منع کا حق نہیں اور اگر اجازت سے ہوں تو اس کو اختیار نہیں کیونکہ وہ لازم نہیں۔ تاتارخانیہ میں یوں ہے اھ مختصرا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ)
عہ: لفظ ''کڑیاں'' اصل میں نہیں ہے شاید قلم ناسخ سے چھوٹ گیاہے۔ عبدالمنان اعظمی
مسئلہ ۲۷۸: از بریلی محلہ شاہ آباد مرسلہ حکیم نذیر الدین صاحب ۹ ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک جائداد غاصبانہ طریقہ سے حاصل کی اور تخمینا پچاس سال تک اس کی آمدنی کو تصرف کرتا رہا، اور اس میں سے قریب نصف جائداد کے فروخت کردی، زید فوت ہوگیا اور اس نے جائداد بقیہ مغصوبہ کے چھوڑی، اور ورثاء غاصب صرف جائداد مغصوبہ موجودہ کو ورثاء حقدار کو دیتے ہیں،جوجائداد فروخت ہوچکی اور نیز محاصل کل جائداد کا دینے سے منکر ہیں، حالانکہ غاصب نے جادائد کثیر المالیت اس تعداد کی چھوڑی ہےکہ اس سے مطالبہ جائداد مغصوبہ کا اداہو کر جائدا د کثیر المالیت ورثائے غاصب کے لئے باقی رہتی ہے ایسی حالت میں حقدار جائداد مغصوبہ کو ورثان غاصب سے بمقابلہ جائداد یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائداد مغصوبہ موجودہ اور بیع شدہ اور اس کے محاصل کو جس طرح اس کا حصول ممکن ہو حاصل کرلے۔ اور بحالت ہونے جائداد غاصب کے اس کے ورثاء پریہ لازم ہے کہ وہ حقوق مذکورہ بالا کو ادا کردیں یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: فی الواقع وہ جائداد زید نے جس سے غصب کی تھی اسے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس قدر جائداد اس میں سے موجود ہے اسے بعینہٖ واپس لیں، اور جو زید نے بیع کردی اس کی قیمت جتنی روزغصب تھی دیگر جائداد مملوکہ زید سے جس طرح ممکن ہو وصول کریں، اور اگر وہ جائداد دیہات یا کرائے پر چلانے کے مکان دکان تھے کہ اصل مالک نے اس لئے بنائے یا خریدے، اور زید نے اس سے غصب کرلئے تو جائداد باقیماندہ کے محاصل آج تک کے اور جائداد بیع شدہ کے محاصل اس دن تک جب تک وہ زید کے پاس رہی جائداد مملوک زید سے وصول کریں، ور ثائے زید پر ان تمام حقوق کا ترکہ زید سے ادا کرنا لازم ہے اور ممانعت کرنا حرام ۔ نیز مالک اور اس کے وارث چاہیں تو یہ بھی کرسکتے ہیں کہ جائداد موجود میں تو وہی کاروائی کریں، اور جائداد بیع شدہ کے محاصل کا بشرط مذکور روز قبضہ زید تک ترکہ زید سے تاوان لیں، اور اس کی قیمت کا تاوان اور روز قبضہ مشتری سے آج تک اس کے محاصل کا تاوان مشتری سے وصول کریں، مشتری نے جو قیمت زید کو دی تھی ترکہ زید سے وصول کرے،
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
لوباعہ الغاصب وسلمسہ فالمالک بالخیار ان شاء ضمن الغاصب، وجاز بیعہ والثمن لہ۔ وان ضمن المشتری رجع علی الغاصب وبطل البیع ولا یرجع بما ضمن وان باع ولم یسلم لایضمن کذا فی الوجیز للکردری ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اگر غاصب نے اسے فروخت کر کے سونپ دیا تو مالک کو اختیار ہے چاہے غاصب سے ضمان لے اب غاصب فروخت کردے رقم اس کی ہوگی اور اگر مالک نے مشتری کو ضامن بنایا تو وہ غاصب سے وصول کرے اور بیع باطل ہوجائیگی اور غاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اوراگرغاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اور اگر غاصب نے فروخت کیا مگر ابھی قبضہ نہ دیا تو ضامن نہ ہوگا۔ وجیز کردری میں یوں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الغصب الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۴۸)
مسئلہ ۲۷۹: مسئولہ حافظ محمد سعید صاحب از قصبہ راندیر ضلع سورت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایہا العلماء العظام والفقہام الکرام زادکم اﷲ تعالٰی تعظیما لدیہ
(تمہارا کیا ارشادہے اے علماء عظام وفقہاء کرام اللہ تعالٰی کے ہاں تمہاری فضیلت وتعظیم زیادہ ہو۔ ت) اس صورت میں زید تاجر نے بلقانی چندہ میں مثلا ایک سو روپیہ لکھ دئے، اور جب اس چندہ وصول کرنیوالے سکتر نے زید سے روپے چندہ کے وصول کرنے کو گیا، تو زید نے چندہ وصول کرنے والے بکرنام کوکہاکہ میرے روپے فلاں بینک میں جمع ہیں میں تم کو یہ چیک یعنی حکم بینک پر لکھ دیتاہوں تم بینک سے روپیہ وصول کرلو، اور تم چاہو تو میں میرے نزدیک سے نقددوں، اس کے جواب میں بکر نام کے سکتر نے کہا کہ چیک دو، زیدنے بموجب طلب کرنے کے بکرکو بینک (کہ مسمی پیپل بینک ہے) اس پر حکم یعنی چیک لکھ دیا، مگر بکرمذکور نے روپے وصول کرنے پیپل بینک سے تکاسل اور غفلت کی، اور اندازہ چوبیس روز کے اس چیک کو اپنے پاس بکر نے ڈال رکھے، اس درمیان میں زید نے دوسری چیک اپنے کام کی بینک کو دی ہے وہ برابر بینک والے روپیہ ادا کردئے ہیں، اوریہ بھی بکر تکاسل اور کاہلی نہ کرتا۔ اور بینک میں چیک روانہ کرکے طلب کرتا تو ضرور ریہ روپیہ وصول ہوتے، چونکہ زید کے روپیہ جمع تھے اور اب وہ بینک دیوالیہ بن گئے۔ اور وہ روپے جاتے رہے۔ اور بکر کو تکاسل اس قدر نہ کرتا تو یہ روپے ضائع نہ ہوتے۔ لہذا صورت مذکورہ میں یہ روپیہ کس کے ذمہ پرآتے ہیں اور کس کے یہ روپے گئے زید کے یا بکر کے، یا چندہ بلقان کے؟ بینوا توجروا
الجواب: دیوالیہ بننا بینک والےکا ظلم ہے، بکر پر اس کا کچھ الزام نہیں آسکتا ،
لا تزر واززرۃ وزراخری ۱؎
(کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۶۴)
اور چوبیس روز کے تساہل میں بھی اس پر الزام نہیں، وہ کیاجانتا تھا کہ اتنی مدت میں بینک دیوالیہ ہوجائے گا
وماکنا للغیب حٰفظِین ۲؎
(ہم غائب پر حفاظت کرنے والے نہیں۔ ت)
(۲؎القرآن الکریم ۱۲/ ۸۱)