فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
117 - 120
مسئلہ ۲۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ور اس نے مال تجارتی اور دیگر جائداد زر خریداپنی بشراکت اپنے بردار حقیقی عبدالرحیم کے چھوڑی اور اس مال میں سے نفع جائداد سے کرایہ تخمینا بارہ سال کے عبدالرحیم حاصل کرتا ہے۔ اور دوسرا مال اورجائداد موروثی جو والدین سے پایا وہ بھی چھوڑا، اب مال اپنا زر خریداور جائداد موروثی کس طرح پر تقسیم ہوگا۔ وارث اپنے چھوڑے، ایک زوجہ، دوبھائی، ایک بھتیجا اور دو ہمشیریں اور تین بیٹیاں اپنی، اور قرضہ عبدالغفور فوت شدہ نے بشراکت عبدالرحیم کے دین مہر اپنی زوجہ دینا چھوڑا، اب اس میں سے کون ساقرضہ ادا کیا جائے گا۔ اور ازروئے شرع شریف کے وہ مال کس طرح پر تقسیم ہوگا؟
الجواب : حسب شرائط فرائض عبدالغفور کا جو کچھ ترکہ ہے خواہ موروثی، خواہ خرید کردہ۔ ا س سب سے عبدالغفور پرجو کچھ دین ہے تقسیم ترکہ سے پہلے اسے ادا کریں۔ دین مہر زوجہ اور دوسرا قرضہ جو عبدالرحیم کی شرکت میں تھا سب برابر ہے، اگر چہ جائداد اس میں مہر وقرضہ کے مجموعہ سے کم یابرابر ہو، تو سب ترکہ مہروقرض میں حصہ رسد دیا جائے،خواہ کسی وارث کو وراثۃ کچھ نہ ملے۔ اوراگر ترکہ زیادہ ہے تو مہر و قرض میں جس قدرواجب ہے تمام وکمال اداکرکے،اس کے بعدجو بچے اس کی تہائی سے عبدالغفور کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کی جائے، باقی کے ۱۴۴ (ایک سو چوالیس) حصے ہوکر اٹھارہ سہم زوجہ اور تئیس تئیس سہم ہردختر، اور دس دس سہم ہر برادر، اور پانچ پانچ سہم ہر خواہر کودیں، اور بھتیجا کچھ نہ پائے گا۔ اوربعد موت عبدالغفور جو نفع مال مشترک سے عبدالرحیم نے حاصل کیا اسے چاہئے کہ عبدالغفور کےحصہ کا نفع اس میں سے اپنے حصہ یعنی بہتر ۷۲ حصوں سے پانچ حصے نکال کر باقی دیگر ورثاء عبدالغفور کو دے دے،
لانہ حصلہ بوجہ خبیث وکان علیہ اخراجہ، اماصدقۃ اوردا علی المالک، وھوا لافضل کما فی الخیریۃ والہندیۃ وغیرھما۔
کیونکہ اس نے خبیث طریقہ سے حاصل کیاہے، اس پر اپنی ملکیت سے باہر کرنا لازم ہے یا صدقہ کرے یا مالک کو واپس کرے اور یہ افضل ہے جیسا کہ خیریہ میں اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اس صورت میں کہ مہر وقرض مل کر جملہ ترک عبدالغفور سے زائد یا برابر نہ ہو،
لان الدین اذا لم یستغرق ینتقل الملک الی الورثۃ
(کیونکہ اگرمیت کا قرضہ ترکہ پر حاوی نہ ہو تو ورثاء کی ملک ہوگا۔ ت)اور اگر زائد یا برابر تھا تو جو نفع حصہ عبدالغفور سے حاصل کیا ہے تمام وکمال فقیروں پر صدقہ کردینا اس پر واجب ہے نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا۔
لان الدین المستغرق یمنع ملک الورثۃ کما فی الاشباہ ۱؎۔ وحق الدائن فی المالیۃ فلا مالک یرد علیہ فتعین التصدق وجوبا۔
کیونکہ ترکہ پر اگر قرض حاوی ہو تو ورثاء کی ملک نہ ہوگا۔ جیسا کہ الاشباہ میں ہے اور مالیت پر قرض خواہ کا حق ہے تو اس کا کوئی مالک نہیں ہے جس پرواپس کیاجائے لہذا لازما صدقہ کرنا متعین ہوگا۔ (ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۴)
رہا وہ کرایہ جو جائداد مشترکہ سے عبدالرحیم نے بعد موت عبدالغفور حاصل کیا، اس کی نسبت سائل کا بیان ہے کہ وہ جائداد ایک زمین ہے جسے دونوں بھائیوں نے شرکت میں خریدا کہ اس میں کچھ مکان بنوائے یاکرایہ پر چلوائے خاص کر ایہ پر دینے کی نیت نہ تھی، او ر وہ زمین حیات عبدالغفور میں کبھی پڑی رہتی کبھی اس کا کوئی ٹکڑا کرایہ پر رہتا
فلم تدخل فی المعد للا ستغلال
( تووہ زمین اجارہ کے لئے تیار میں نہ داخل ہوئی۔ ت) تینوں بیٹیوں میں موت عبدالغفور کے وقت ایک جوان تھی دوسری دس برس کی، تیسری دو برس کی، تو اگر مہرو قرض سب ملک کر تمام متروکہ سے کم مقدار پر تھے تویہ مشترک زمین کہ بعد عبدالغفور کے عبدالرحیم نے خاص اپنے قبضہ مالکانہ میں رکھی او رکرایہ پر چلائی، موت عبدالغفور سے اس وقت کہ یہ دونوں نابالغہ لڑکیاں بالغہ ہوگئیں، ان کے حصہ کا کرایہ جوبازار بھاؤ سے ہو ان دونوں کو دینا واجب ہے چاہے عبدالرحیم نے کم کرائے پر اٹھائی ہو یا زیادہ پر ڈال رکھی ہو۔ مثلا دونوں لڑکیاں چودہ چودرہ برس کی عمر میں بالغہ ہوئی ہوں، تو پہلی لڑکی کے حصے کا چارسال کاکرایہ اوردوسری کے حصے کا بارہ برس کا کرایہ عبدالرحیم پر واجب ہے۔ وعلٰی ہذ القیاس۔
درمختارمیں ہے:
منافع الغصب استوفاہا اوعطلہا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم وعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریک ۱؎ اھ مختصرا۔
غصب کے منافع حاصل ہوں یا معطل چھوڑے ہوں تو تین صورتوں کے علاوہ ان کا ضمان نہ ہوگا تین صورتیں یہ ہیں؟ مغصوبہ چیز وقف ہو یایتیم کا مال ہو تو بااعتماد قول کے مطابق شریک پر بھی مثلی اُجرت لازم ہوگی اھ مختصراً (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الغصب فصل مسائل آخر مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۸)
اور باقی جو وارثوں کے حصص کا کرایہ دار سے حاصل کیا ہو جس صور ت میں مہر وقرض متروکہ سے کم ہوں، تو زمین میں سارے حصہ عبدالغفور پر جوکرایہ عبدالرحیم نے وصول کیا ہوسب فقیروں کودینا لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے باغوائے نفس امارہ ایک دستاویز اس مضمون کی کہ جو مکان اس کی والدہ ہندہ کاہے اس کو دونابرابرحصوں میں بطور خود بلااطلاع ورثاء جائز کے اس طرح تقسیم کیا کہ چھوٹے بھائی عمرو کے واسطے چوتھائی سےکم، او ربڑے بھائی زید یعنی اپنے واسطے تین چوتھائی سے زائد اور خفیہ طور سے اپنی والدہ ہندہ کوکاغذ مذکور اس طرح پڑھ کر سنادیا کہ مکان مملوکہ ومقبوضہ تمھارا، میں نے دو برابر حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔ چنانچہ ایسے ہی باور کرادیا، پھر کہا کہ اس پر عدالت میں چل کر خفیہ طور سے رجسٹری کرادو۔ ہندہ نےکہا کہ اس کی خبر میرے چھوٹے لڑکے عمرو کو تو کردو، تو کہا کہ تم میرے اعتبار پر اس کی رجسٹری کرادو اطلاع کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اس پر ہندہ نے قطعی انکارکردیا لہذا دستاویزنامکمل اور بلا دستخطی رہی جبکہ عمرو کویہ معلوم ہواتو اس نے اس کی شکایت اپنی والدہ ہندہ سے کی، ہندہ نے کہا کہ مجھے تو دو برابر حصوں میں بانٹنا باور کرایا ہے۔ بربناء اس ناخوشی وتحکم کے ہندہ نے زید سے اس دیور کو جو زید کے بلا رضامندی فریق ثانی کے بطور خود قائم کرلی منہدم کرنے کو کہا، تو زید نے اپنی روباہ بازیوں سے اسے ٹالا اور ایک کرایہ نامہ اپنے نام سے فریق ثانی کی حق تلفی کے واسطے لکھ کر اس میں کرایہ دار بسایا،اس کے روکنے کے واسطے جبکہ عمرو نے زید کو تنبیہ تحریری کی تو اس کو خیال میں نہ لایا بلکہ اپنی بد معاملگی اور دغابازی پر اب تک مصر ہے۔ اور نہ مکان مذکور کانصف کرایہ دیتا ہے۔ نہ کرایہ نامہ میں شکرت کرتاہے۔ نہ دیوار منہدم کراتاہے۔ بلکہ ہر طریقہ سے فریق ثانی کی حق تلفی پر آمادہ ہے۔ اور کوئی شرعی فہمائش کسی کی اس کو بوجو طمع نفسانی کے مفید نہیں ہوتی، دیگر یہ کہ یہ شخص وعظ بھی کہتاہے حالانکہ اس کی تحصیل علم قطعی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی، نہ کسی مستند معتبراستاد سےکبھی پڑھا۔ نہ فقہ، نہ تفسیر، نہ حدیث ، بلکہ صرف اردو کی چند کتابوں کے ذریعہ سے وعظ گوئی کرتاہے،تو شرع شریف ایسے شخص کی نسبت کیا حکم فرماتی ہے؟ آیا اس کا ایمان سالم رہا یا نہیں؟ آیا تقسیم مذکور جائز ہوئی یا نہیں؟ مسلمانوں کو اس سےکیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟ اسے وعظ کہنا چاہئے یانہیں؟ اسکی شہادت معتبر ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: وہ تقسیم باطل محض ہے۔ اور زید سخت ظالم، فاسق، فاجر، مرتکب کبائر، مستحق عذاب نار و غضب جبار ہے۔ مسلمانوں کو اس سے وہی برتاؤ چاہئے جو ظالموں موذیوں سے چاہئے۔قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعدا لذکری مع القوم الظلمین ۱؎۔اللہ تعالٰی نے فرمایا: اگر تجھے شیطان بھُلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۷)
اسے وعظ کہنا حرام ہے۔ اس کا وعظ سننا جائز نہیں۔ وہ اگر ایک کوڑی کے معاملہ پر ہزار بار شہادت دے شرعا مردود ہے۔ جو اس کی گواہی قبول کرے گا گنہ گار ہوگا۔ یہ سب اس بناء پر ہے جو سائل نے اظہار کیا، اور واقع کا علم عالم الغیب جل وعلا کو ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵ : مرسلہ بخش اللہ ساکن بریلی محلہ گندہ نالہ مورخہ یکم جمادی الاٰخری ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ دو مکان دوشخصوں کے خرید کردہ ہیں، ایک شخص کی خریداری قریب پچیس تیس سال کی، اور دوسرے شخص کی خریداری قریب دس سال کے ہے، جس شخص کا مکان خریدا ہوا قریب پچیس سال کے ہے اس کی کڑیاں دوسرے شخص کی دیوار پر رکھی ہے۔ اب وہ یہ کہتا ہے کہ میری دیوار پر سے کڑیاں علیحدہ کرلو، یہ کہتا ہے کہ میں نے اسی حیثیت سے خریداہے۔ اس کا بیان یہ ہے اور اس شخص کا گمان ہے کہ اس نے خود بعد خریدنے مکان کے یہ کڑیاں رکھوائی ہیں، ایسی حالت میں مستحق ہٹوانے کاہے یانہیں؟
الجواب: سائل نے بیان کیاکہ اس شخص کو اقرار ہے کہ یہ دیوار جس پرمیری کڑہیاں رکھی ہیں میری نہیں، اس صورت میں اسے کڑیاں رکھنے کا کوئی حق نہیں، اگر غصبا رکھی ہیں جب تو ظاہراور اگر سابق کے مالک کی اجازت سے رکھی تھیں تو اس کی اجازت اس کی ملک ختم ہونے سے ختم ہوگئی، اب بے اجازت مالک اس کا اختیار نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ، دو مکان دو دیواریں ملی ہوئی ہےں ایک خام ایک پختہ تھی، اس نے اپنی دیوار میں الماری لگائی ہوئی تھی۔ اس میں سے کچھ خام دیوار میں سے کٹی ۔ قریب( ۰۱/) گرہ کے لیکن الک دیوار کو نہیں معلوم ہوا، اب اس نے اس مکان کو فروخت کیا، ایسی حالت میں خریدار مواخذہ دار کس کا ہے۔ یعنی مالک قبل کا ہے یا مالک مال کاحصہ ہے۔
الجواب: پہلے مالک سابق کا مواخذہ تھا، اب مالک حال کا، یا تو اس کی رضامندی سے اس قدر زمین کی قیمت اس کو دے دے یا یہ(۰۱/) گرہ زمین کا ٹکڑا خالی کردے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس لعرق ظالم حق ۱؎
(ظالم کا دخل حق نہیں ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ سنن ابی داؤد باب احیاء الموات آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱)
(جامع الترمذی ابواب الاحکام باب احیاء ارض الموات امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۶)
(السنن الکبرٰی کتاب الغصب دارصادر بیروت ۶/ ۹۹)