Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۹(کتاب الوکالہ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربہ، کتاب الامانات، کتاب العاریہ، کتاب الہبہ، کتاب الاجارہ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر )
116 - 120
مسئلہ ۲۷۰: از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجاں موضع پہمرا مرسلہ مولوی اسمعیل صاحب ۱۴ شوال ۱۳۲۱ھ

چہ می فرمایندعلمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چندپسران خود یعنی خالد وبکر وغیرہ واموال منقولہ وغیر منقولہ راگزاشتہ از سرائے فانی بدارباقی رحلت فرمود، اکنوں از خالد اموال مذکورہ پدر متوفی خود رابزور بازو و حسب فرائض اللہ تقسیم مستقیم نانمودہ وبکر وغیرہ ندادہ۔ بقبضہ تصرف خود آوردن از قبیل غصب ست یانہ، وخود خوردن بل دیگراں را کہ خارج از ورثہ باشد خورانیدن، ومہمانی ایشاں نمودن، وخود میزبان گردیدن، وبجانب مستحقان اموال مقبوضہ وامتعہ موصوفہ التفات نہ کردن، ایں فعل شرعا صحیح است یانہ، و غاصب از اشیائے مغصوبہ ضیافت ومہمانی کردن ونیز مہمان وخورندگان رازاں خوردن شرعا نافذ است یانہ، واگر غاصب برفعل غصب اصرار کند وآں تعامل او معلوم می شود کہ غصب راغصب نہ فہمد بلکہ فعل غصب رانومے از حرفت وپیشہ شمرد، حسب شرع شریف بروجہ تعزیر واجب خواہد شد، بینو بسند الکتاب وتوجروا الی ملک الوہاب۔
علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مثلا زید نے اپنی وفات کے بعد منقولہ اور غیر منقولہ مال ترکہ چھوڑا اور ورثاء میں اپنے چند بیٹے خالد اور بکر وغیرہ چھوڑے، اب خالد نے بزور بازو اپنے مرحوم والد کے تمام مال پر قبضہ کرلیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق ورثاء میں تقسیم نہ کیااور بھائی بکرو غیرہ کو کچھ نہ دیابلکہ اپنے تصرف میں لایا، کیااس کی یہ کاروائی غصب ہے یانہیں اورخود کھانا بلکہ غیروارثوں ، مہمانوں کو میزبان کے طور پر کھانا اور مستحق حضرات کی طرف کوئی التفات نہ کرنا شرعا یہ فعل صحیح ہے یانہیں؟ اور غاصب کو مغصوبہ مال میں سے ضیافت کرنا نیز مہمانوں اور دیگر حضرات کو یہ کھاناشرعا جائز ہے یانہیں؟ اورغاصب اپنے غاصبانہ عمل پر اصرار کرے اور اس کو معمول کی کاروائی سمجھے اور غصب نہ سمجھے بلکہ غاصبانہ کاروائی کو وہ ہمیشہ بنالے تو کیا شرعا وہ تعزیر کا مستحق ہے کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور ملک الوہاب سے اجر پائیے۔ (ت)
الجواب: حرکت مذکورہ بالیقین غصب وحرام ست، قال اﷲ تعالٰی
لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ۱؎
وغاصب اگر از عین مغصوب کسے راہبہ کند یا ہدیہ دہدیا ضیافت خوراند یا باجرت وتنخواہ یا قیمت چیزے دہد، بہر صورت مردماں راگر فتن وخوردنش حرام ست وقد تناول الکل الاٰیۃ المتلوۃ کما لایخفی وباصرار بغصب جز زیادت در وبال عذاب واستحقاق نارجہنم چیزے فزوں نشود، و مجردایں تعامل دلیل بیش ازیں نباشد، آری اگر ثابت شود کہ غصب حرام شرعی راحلال می دارند، آنگاہ البتہ لزوم کفر ست بلکہ عندالتحقیق بلا شبہ کفر باشد لان المدار علی کون ماانکرہ من ضروریات الدین ولا شک ان حرمۃ الغصب من دون حیلۃ شرعیۃ کمن یرید اخذحقہ من المنکر ولاضرورۃ ملجئۃ تمکن فی المخمصۃ من ضروریات الدین وبعد ھذا لایتجہ الفرق بکون الحرمۃ لعینہٖ اولغیرہٖ، کما وقع عن بعض العلماء، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مذکورہ عمل یقینا غصب اورحرام ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ، اور غاصب اگر عین مغصوبہ چیز کسی کو دے یاہدیہ، ضیافت، اُجرت تنخواہ یا کسی چیز کی قیمت کے طورپر دے تو لوگوں کو لینا اورکھانا حرام ہے اور آیہ کریمہ مذکورہ ان تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے، اور غصب پر اصرار سے عذاب اور وبال اور استحقاق جہنم کے علاوہ کیا زائد ہوگااور اس کو معمول بنالینا اس سے زائد پر دلیل نہیں ہے ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے حرام کو حلال جانا تو اسی وقت لزوم کفر ہوگا بلکہ عندالتحقیق بلاشبہ کفر ہوگا کیونکہ کفر کا دارومدار ضروریات دین کے انکار پر ہے او راس میں شک نہیں کہ بغیر حیلہ شرعیہ مثلا کسی سے اپنے حق کے بدلے لینا جبکہ وہ منکر ہو اور بغیر ایسی ضرورت جو اس کو مخمصہ میں مبتلا کردے غصب کی حرمت ضروریات دین میں سے ہے تو ایسی صورت میں حرمت لعینہٖ او لغیرہ کافرق کام نہ دے گا جیساکہ بعض علماء سے یہ سرزد ہوا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم  ۲/ ۱۸۸)
مسئلہ ۲۷۱: چہ می فرمایند فہقائے دن وفضلائے شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چہارپسریعنی عمرو و خالد وبکر وہاشم واموال منقولہ وغیرمنقولہ را متروک داشتہ از سرائے فانی بسرائے باقی رحلت فرمود ، بعد ہ، خالد وبکر وہاشم ازاراضی پدر متوفی ہر یک حسب خرچ خوردپوش بگیرند، ومابقی نزد عمرو موجو است، امام از بہر اوشان قدر زائد است لکن عمر واز قد زائد اخراجات جمیع اراضی خود وبرادارں را انجام فی دہد، تاکہ جہت آں رادفتر سرکاری خوف وتلف برکل مال پیش نیابند، پس درایں صورت عمرو راغاصب وکافر خواندہ ومہمانی ودعوات خوردندوقبول نموند حسب شرع شریف صحیح است یانہ، ونیز زمین کہ عمرو از کسب خود خریداست باز بوقت قسمت صحیح خالد وغیرہ از شیئ مکسوب عمرو طلبیدن شرعا جائز است یانہ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایک شخص مثلازید فوت ہو ااس نے منقولہ وغیرہ منقولہ مال اور چار بیٹے عمرو، خالد، بکر اور ہاشم وارث چھوڑے، خالد بکر اور ہاشم نے اپنے مرحوم والد کی زمین سے خوراک ولباس کے اخراجات کے مطابق حصہ وصول کرلیا اور باقی جو کھ ہے وہ عمرو کے پاس موجود ہے تاہم دوسروں کی نسبت اس کے پاس زیادہ ہے لیکن اس زائد سے اپنی اور بھائیوں کی تمام زمین کے جملہ اخراجات پورے کرتاہے تاکہ سرکاری دفاتر سے ضرر رسانی کے خطرے کو پورے مال پر سے ختم کیا جائے۔ تو کیا اس صورت میں عمرو کو غاصب وکافر کہنا اور اس کی دعوت مہمانی کھانا اور قبول کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے یانہیں؟ نیز عمرو نے اپنی کمائی سے جو زمین خریدی ہے اس کو تقسیم سے الگ رکھنا صحیح ہے اور خالد وغیرہ کا عمرو کی کمائی کو طلب کرنا شرعا جائز ہے یانہیں؟ (ت)
الجواب : اگر عمرو برضائے دیگر ورثہ براں اراضی حصہ دیگر قابض ست، وخزانہ از جانب ایشاں می دہد، وہر چہ زیادت محاصل بودبعدل قسمت می کند، یا از منافع آناں رابقدر خورد پوش می دہد، وباقی رابرضائے آناں پیش خود جمع می دارد، دریں صورت عمرو ہر گز غاصب نیست لو جودالاذن من الملاک فی القبض وعدم تصرف باطل فی خراج الارض واگر نہ چنان ست بلکہ بے رضائے آناں برحصص آنا قبضہ کردہ است ودرحقوق آناں تصرفات بیجا برائے خود می کند، ضرور غاصب بود، واما کافر نیست لانہ لایخرج الانسان من الاسلام الاجحودما ادخلہ فیہ درصورت اولی دعوت زید قبول کردن بلادغدغہ رواست، ونیز درصورت ثانیہ اگر دعوت از مال خودش کند، واگر ازمال غصب میکند خوردن مغصوب روانیست، بلکہ در صورت ثانیہ چوں غاصب ومصر علی الغصب باشد با او اختلاط نشاید کرد، ودعوتش ازمال خودش ہم نباید خورد لیکون زجر الہ ولامۃ لہ۔ زمین کہ عمرو ا ز کسب خود خر یداست خالد وغیرہ رااز وحصہ خواستن روانیست، فان سہم الوراث فی المورث دون مملوک وارث اخر، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر عمرو باقی وارثوں کی رضامندی سے ان کے حصہ پر قابض ہے اوراخراجات سرکاری ان کی طرف سے ادا کرکے باقی آمدن کو مساوی تقسیم کرتاہے یا منافع میں سے ان کے خورد ونوش وپوش کے اخراجات ان کو دیتاہے اور باقیماندہ کو ان کی رضامندی سے اپنے پاس جمع رکھتاہے ا س صورت میں عمرو ہر گز غاصب نہیں ہے کیونکہ مالکوں کی طرف سے قبضہ کی اجازت ہے اور زمین کی آمدن میں کوئی باطل تصرف نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں بلکہ ان کی رضامندی کے بغیر ان کے حصوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے اور ان کے حقوق میں بے جا اپنی مداخلت کرتاہے تو ضرور غاصب ہے لیکن وہ کافر نہیں ہے کیونکہ جو چیز اسلام میں داخل کرتی ہے اسی کے انکار سے اسلام سے خارج ہوتاہے۔ اور پہلی صور ت میں اس کی دعوت قبول کرنا بلاشبہہ جائز ہے لیکن دوسری صور ت میں اگر اپنے مال سے دعوت کرے تو بھی قبول کرنا جائز ہے اوراگر مغصوبہ مال سے دعوت کرے تو وہ ناجائز ہے اور اگر دوسری صورت میں وہ غاصبانہ کاروائی پر اصرار کرے اس سے میل جول منع ہے اور اس کے اپنے مال کی دعوت بھی قبول نہیں کرنی چاہئے تاکہ اس کو زرجر وملامت ہوسکے عمرو کی اپنی کمائی سے خرید کردہ زمین سے خالدوغیرہ کو حصہ طلب کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وارث کا حصہ مورث کے مال میں ہے دوسرے وارث کی ملکیت میں نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۷۲: از مجیب نگر ڈاک خانہ مونڈا سواراں ضلع کھیری مرسلہ مجیب رحمان خاں ۴ شعبان ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور قاضیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا۔

عجلت تیاری میں غلطی سے ایک چٹائی مسجد کی بانی مسجد نے یہ سمجھ کر کہ ایک چٹائی ایسے تنگ وقت دستیاب نہ ہو سکے گی۔ اور مسجد میں دوسری چٹائی بجائے اس کے رکھ دی جائے گی، لے کرمیت کے تختوں پرجوقبر میں بچھائی گئی تھی اس لئے کہ مٹی قبر کی درازتختہ سے نہ چھنے، ڈال دی، اور وہ قبر میں کام آگئی، تو ایسی حالت میں ایسے شخص کے لئے جس نے میت معروضہ سے مسجد کی چٹائی ضرورت مذکورہ میں بحوالہ عجلت بکار مسطورہ اٹھائی، شرع شریف کا کیاحکم ہے؟ اور اس کا کفارہ کچھ ہوسکتاہے یاکیا؟ فقط
الجواب: وہ گنہ گار اور مجرم خاص حقیقی سرکار ہوا
،لغصبہ الوقف فلیس فی تاثمیہ وقف
 (اس کے وقف کو غصب کرنے میں گناہ میں کوئی شک نہیں ہے۔ ت) اس کا کفارہ صدق دل سے توبہ ہے،
ویتوب اﷲ علی من تاب
 (اللہ تعالٰی توبہ کر نے والے کی توبہ کو قبول فرماتاہے۔ ت) او رویسی ہی چٹائی یا اس سے بہتر مسجد میں ڈالنا ، اور وسعت رکھتاہے تو خدمت مسجد وحاجت روائی صلحاء ومساکین میں بقدر قدرت پاک نیت سے صرف کرے کہ اس کی خدمت پسندسرکارہو ،اور رحمت توجہ فرماکر گناہ دھودے،
   قال اﷲ تعالٰی ان الحسنٰت یذھبن السیئات ذٰلک ذکرٰی للذاکرین ۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم
                اللہ تعالٰی نے فرمایا: نیکیاں ختم کردیتی ہیں برائیوں کو ، یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کےلئے نصیحت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم  ۱۱/ ۱۴)
Flag Counter